Connect with us

Today News

ڈیجیٹل ترقی کے لیے مضبوط سائبر سکیورٹی ناگزیر ہے: شزہ فاطمہ خواجہ

Published

on


وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل ترقی اور بیرونی سرمایہ کاری میں مکمل اعتماد پیدا کرنے کے لیے ملک میں سائبر سکیورٹی کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ 32 سے زائد سرکاری خدمات کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنا دیا گیا ہے اور موبائل ایپس کے ذریعے نادرا کی دستاویزات تک رسائی ممکن ہو رہی ہے۔

سائبر سیکیورٹی سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مزید ترقی اور سرمایہ کاری کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے قوانین، پالیسیوں اور نظام کو سائبر سکیورٹی کے لحاظ سے مزید مضبوط بنایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک پاکستان میں مضبوط سائبر سکیورٹی نظام قائم نہیں ہوگا اس وقت تک بیرونی سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع میں مکمل اعتماد پیدا نہیں ہو سکے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سائبر سکیورٹی صرف ٹیکنالوجی کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ہر شہری کی ذاتی شناخت، ذاتی سلامتی، گھروں اور خاندانوں کی حفاظت سے لے کر قومی سلامتی تک کے تمام پہلوؤں سے جڑی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے ڈیجیٹلائزیشن کی طرف بڑھ رہی ہے اور صحت کے شعبے میں بھی جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال سامنے آ رہا ہے۔ ان ٹیکنالوجیز کے ذریعے بیماریوں کے بہتر علاج کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، تاہم اس کے ساتھ ڈیٹا کے غلط استعمال کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔

شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ اگر کسی کے پاس آبادی کے جینیاتی ڈیٹا تک رسائی ہو تو اس کے غلط استعمال کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں، اسی لیے ڈیجیٹل دور میں سائبر سکیورٹی کو انتہائی مضبوط بنانا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سائبر سیکیورٹی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور اس حوالے سے سائبر سکیورٹی ایکٹ اور متعلقہ اداروں کو فعال بنانے پر بھی کام جاری ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ سائبر سیکیورٹی ایک انتہائی اہم شعبہ ہے جس میں مختلف مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے اور حکومت اس کے لیے خصوصی وسائل اور ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنا رہی ہے تاکہ پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت میں محفوظ اور مستحکم بنایا جا سکے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کفایت شعاری؛ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں بڑے اقدامات، گاڑیاں بند اور تنخواہوں میں کٹوتی

Published

on



اسلام آباد:

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ہدایت پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں وسیع پیمانے پر کفایت شعاری اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق  یہ اقدامات وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کی کفایت شعاری مہم کے تحت کیے گئے ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کفایت شعاری مہم کے تحت 70 فیصد سرکاری گاڑیاں بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ اراکین قومی اسمبلی کی 2 ماہ کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں 25 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔

اس کے علاوہ پارلیمانی وفود کے بیرون ملک دوروں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران یا وہ افسران جن کی ماہانہ تنخواہ 3 لاکھ روپے یا اس سے زائد ہے، ان کی 2 دن کی تنخواہ قومی خزانے میں جمع کرائی جائے گی۔ سیکرٹریٹ میں تمام خریداری فوری طور پر بند کر دی گئی ہے جبکہ صرف ناگزیر روزمرہ ضروریات کے لیے محدود خریداری کی اجازت دی گئی ہے۔

قومی اسمبلی اور کمیٹیوں کے اجلاس غروب آفتاب سے پہلے شیڈول کیے جائیں گے جبکہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں 80 فیصد عملہ گھر سے ورچوئل ڈیوٹی سر انجام دے گا۔

کفایت شعاری کو یقینی بنانے کے لیے گھر سے کام کرنے والے 80 فیصد ملازمین کو اضافی الاؤنس بھی نہیں دیے جائیں گے۔

قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس ورچوئل یا آن لائن طریقے سے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ قومی اسمبلی میں ہفتے میں 4 ورکنگ ڈیز ہوں گے۔ کفایت شعاری پالیسی کے تحت قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں کو محدود رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ بجلی کے استعمال میں 70 فیصد کمی کی جائے گی اور غیر ضروری لائٹس اور برقی آلات بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے کیفے ٹیریاز کے یوٹیلیٹی بلز میں بھی 70 فیصد بچت کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ روایتی اخراجات میں مزید کمی لانے کے لیے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں پیپر لیس ورکنگ اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

وفات پانے والے 42 لاکھ افراد کے شناختی کارڈ فعال نکلے، نادرا نے منسوخ کردیے

Published

on



قومی شناختی نظام کی مکمل درستی کے لیے نادرا نے اہم قدم اٹھالیا، سول رجسٹریشن ریکارڈ اور قومی شہری ڈیٹابیس کے درمیان مطابقت کا کام مکمل ہوگیا جس کے بعد 42 لاکھ ایسے شناختی کارڈ منسوخ کردیے گئے جن کے لواحقین نے کارڈ منسوخ نہیں کرایا تھا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سول رجسٹریشن نظام اور نادرا کے نظام میں مطابقت کے بعد مرنے والے افراد کے شناخت کارڈ منظر عام پر آئے جس پر نادرا آرڈیننس اور شناختی کارڈ رولز کے تحت اقدام اٹھاتے ہوئے 42 لاکھ شناختی کارڈ منسوخ کیے گئے، لواحقین نے صوبائی اداروں میں اندراج کرایا لیکن نادرا ریکارڈ اپ ڈیٹ نہیں کرایا تھا۔

نادرا کے مطابق نادرا کے حالیہ معاون اقدامات پر 30 لاکھ افراد کے لواحقین نے شناختی کارڈ منسوخ کرائے، 42 لاکھ شناختی کارڈز سول رجسٹریشن نظام میں وفات کے اندراج کے باوجود فعال رہے۔

شناختی کارڈ منسوخ نہ ہونے سے قومی اعدادوشمار عدم مطابقت کا شکار ہوتے ہیں، بعض اوقات غلطی یا بدنیتی سے بھی کوئی رشتہ دار شناختی کارڈ منسوخ کرا دیتے ہیں، غلطی سے شناختی کارڈ منسوخی پر نادرا سے رابطہ کر کے یونین کونسل کی معلومات لی جائے اور  یونین کونسل میں درستی کرائی جائے اور نادرا میں ریکارڈ اپ ڈیٹ کرایا جائے۔

نادرا کے مطابق ایک کروڑ 40 لاکھ بچوں کی پیدائش کا اندراج یونین کونسل میں ہو چکا ہے لیکن نادرا میں نہیں ہوا، نادرا ایسے بچوں کے والدین یا سرپرستوں کو یاددہانی کے ایس ایم ایس بھجوا رہا ہے، ایسے بچوں کے والدین جلد ازجلد نادرا سے ان کے ب فارم بنوائیں۔



Source link

Continue Reading

Today News

بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کیخلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس میں اہم پیشرفت

Published

on



اسلام آباد:

اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی درخواست پر سماعت سے قبل اہم پیش رفت سامنے آگئی۔

نیب نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی درخواستیں ناقابلِ سماعت قرار دینے کی متفرق درخواست دائر کردی۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ کیس میں سزا کیخلاف مرکزی اپیل سماعت کے لیے مقرر ہی نہیں ہوئی، سزا کیخلاف اپیل پر باضابطہ نوٹس ہی جاری نہیں ہوا، سزا معطلی کی درخواستیں ناقابل سماعت ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending