Today News
ڈیڈلائن سے قبل شہباز شریف کی جنگ بندی کی نئی تجویز؛ امریکا اور ایران کا ردعمل آگیا
وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیڈلائن کے آخری لمحات میں امریکی صدر سے دو ہفتوں کی توسیع اور اتنے ہی عرصے کے لیے ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے کی اپیل کی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران پاکستان کی اس تجویز کا مثبت جائزہ لے رہا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے امریکی ویب سائٹ ایکسکیوز سے گفتگو میں کہا کہ صدر ٹرمپ کو پاکستان کی اس تجویز سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور وہ اس پر جلد ردعمل دیں گے۔
امریکی اور ایرانی حکام کے مطابق موجودہ سفارتی کوششیں حوصلہ افزا ہیں اور اگر مزید وقت دیا جائے تو کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے امکانات موجود ہیں۔
Diplomatic efforts for peaceful settlement of the ongoing war in the Middle East are progressing steadily, strongly and powerfully with the potential to lead to substantive results in near future. To allow diplomacy to run its course, I earnestly request President Trump to extend…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) April 7, 2026
یاد رہے کہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپیل کی ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی ڈیڈ لائن میں دو ہفتے کی توسیع کی جائے۔
پاکستان کی تجویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اس دوران آبنائے ہرمز کو کھول دے تاکہ عالمی تجارت کا بہاؤ بحال ہو سکے جبکہ سفارتی کوششوں کو مکمل ہونے کا موقع ملے۔
Today News
اسحاق ڈار کے سعودی، مصری اور ترک وزرائے خارجہ سے اہم رابطے
اسلام آباد:
نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے مشرقِ وسطیٰ اور خطے کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں اہم سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی ہے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق محمد اسحاق ڈار اور سعودی وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان کے درمیان ہونے والی گفتگو میں خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے سفارتی اقدامات سے بھی آگاہ کیا اور مکالمے و سفارتکاری کے فروغ پر زور دیا۔
علاوہ ازیں محمد اسحاق ڈار نے مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مزید برآں ترک وزیرِ خارجہ حاقان فیدان سے بھی اہم رابطہ ہوا جس میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان خطے کی تازہ صورتحال پر مشاورت کی گئی۔
Today News
یو این کو تالا لگاکرٹرمپ کا مواخذہ کریں
گالیوں والی ٹویٹ ٹرمپ کی ناکامی اور فرسٹریشن کا اظہار ہے۔ کیا اس مینٹلٹی کا حامل صدر اپنی دھمکیوں پر عمل کرکے دنیا کو عالمی جنگ کے جہنّم میں جھونک دے گا یا مواخذے کا سامنا کرے گا؟ ایران کب تک تباہی برداشت کرسکے گا؟ پاکستان کی کوششوں سے جنگ بند ہوگی یا اس کی شدّت میں اضافہ ہوگا؟ ہر شخص اپنی زبان پر یہی سوالات لیے پھرتا ہے۔
علامہ اقبال کونسل کی میٹنگز میں کبھی کسی شعبے کے ماہر (expert)کو گفتگو کے لیے مدعو کرلیا جاتا ہے۔ پرسوں ماہانہ میٹنگ تھی جس میں معروف سفارت کار میڈم رفعت مسعود کو مدعو کیا گیا۔ موصوفہ ایران میں پاکستان کی سفیر بھی رہ چکی ہیں، فارسی روانی سے بولتی ہیں ، ایران اور ایرانی سوسائٹی کو بخوبی سمجھتی ہیں۔
انھوں نے حالیہ جنگ کے عوامل، ایران کی صلاحیّت اور اس خطے اور ملک پر جنگ کے اثرات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ سوال وجواب اور تبادلۂ خیالات کا سلسلہ بھی چلتا رہا۔ شرکاء میں اس بات پر اتفاق رائے تھا کہ امریکا کو ایران کے راہبر یا ان کی نیوکلیئر صلاحیت سے اتنا مسئلہ نہیں تھا، ان کا اصل ہدف ایران میں تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا ہے، جو صدر ٹرمپ کا وطیرہ بن چکا ہے۔
عالمی قبضہ گروپ کا یہ سرغنہ، جہاں کسی کمزور ملک میں انرجی کے ذخائر دیکھتا ہے، اس کی رال ٹپک پڑتی ہے اور وہ کوئی بے بنیاد اور بوگس جواز تراش کر اس پر چڑھ دوڑتا ہے۔ اِسی طرح امریکا نے صدام حسین پر WMD کا بے بنیاد الزام لگا کر عراق کو تباہ کیا، صدام حسین کو قتل کردیا اور عراق کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرلیا۔ یہی کام چنگیز خان اور ہلاکو خان کیا کرتے تھے اور اسی نظرئیے کا جھنڈا اٹھا کر ہٹلر پوری دنیا کو فتح کرنے کے لیے نکل کھڑا ہوا تھا، جس کے نتیجے میں کروڑوں انسان ہلاک ہوئے۔ بلاشبہ آج کے ہلاکو خان اور ہٹلر ٹرمپ اور نیتن یاہو ہیں، اس لیے وہ کسی عزت و تکریم کے مستحق نہیں۔ سفیر صاحبہ نے بتایا کہ ایک بار عمران خان وزیراعظم کی حیثیّت سے ایران آئے تو راہبر سیّد علی خامینائی سے ملنے گئے، سفیر کی حیثیّت سے میں بھی ساتھ تھی۔
عمران خان نے راہبر سے پوچھا کہ ایران پر اس قدر پابندیاں ہیں کہ آپ تیل نہیں بیچ سکتے، بینک کے ذریعے کاروبار نہیں کرسکتے۔ مگر پھر بھی آپ کے ملک کا کاروبار بہت اچھا چل رہا ہے۔ یہ حوصلہ اور یہ استقامت آپ نے کہاں سے سیکھی ہے؟ اس پر سید علی خامینائی نے کہا ’’کشورِ اقبالؒ کے وزیراعظم کو یہ سوال نہیں پوچھنا چاہیے تھا۔ آپ اقبالؒ سے رجوع کریں، آپ کو اقبالؒ کے کلام سے حوصلہ بھی ملے گااور امید بھی، ہم نے بھی وہیں سے لیا ہے۔‘‘
شرکاء میں اس بات پر اتفاق رائے تھا کہ ایران نے جس حوصلے، جرات اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ غیر معمولی اور بے مثال ہے، ان کی پوری قیادت ختم ہوگئی، سیکڑوں کمانڈر اور سائنسدان شہید ہوگئے مگر ان کا حوصلہ نہیں ٹوٹا، بے تحاشا قربانیوں اور بے اندازہ نقصانات کے باوجود ایرانی قیادت جنگ بندی کی بھیک نہیں مانگ رہی، ایران نے کسی ملک سے مدد نہیں مانگی۔ ایران میں اشیائے خوردونوش کی کمی واقع نہیں ہوئی۔ روزمرہ کی اشیاء مہنگی نہیں ہوئیں، دکاندار اور تاجر بے مثال ایثار کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ کوئی ایرانی ملک چھوڑ کر نہیں گیا بلکہ بیرونِ ملک گئے ہوئے ایرانی بھی واپس آکر اپنے ملک کا دفاع کرنا چاہتے ہیں، یہ سب حقائق ایک بہادر اور حوصلہ مند قوم کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اس بات پر بھی اتفاق تھا کہ پورے عرب ممالک تو اسرائیل کے آگے لیٹے ہوئے ہی، لیکن اگر کوئی ملک صیہونی عزائم کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے تو وہ ایران ہے۔ ایرانی حکمران اگرچہ شیعہ مسلک سے رکھتے ہیں مگر ہمارے ملک کی 95% سنی آبادی کی ہمدردیاں ایران کے ساتھ ہیں۔
ایران کی جرأت واستقامت سے پاکستان میں سنی شیعہ اختلافات کی شدّت میں بھی کمی واقع ہوئی ہے اور دونوں فرقوں کے لوگ بھی اور ان کے علماء بھی ایران کے حق میں دعائیں کررہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سیّد علی خامینائی سمیت ایران کے مذہبی علماء بہت پڑھے لکھے ہیں۔ وہ اپنی تقاریر میں اللہ، رسول اللہ اور قرآن کا ہی ذکر کرتے ہیں اور اپنے جلوسوں میں اللہ اکبر کے نعرے لگاکر خالقِ کائنات کی عظمت کا اعلان کرتے اور خالق سے ہی مدد مانگتے ہیں، وہ دین پر مسلک کو حاوی نہیں ہونے دیتے اور متنازعہ باتیں نہیں کرتے اس لیے یہاں بھی خواص و عام کے دلوں میں ان کے لیے ہمدردی اور عقیدت کے جذبات موجزن ہیں۔
اس بات پر سب نے حیرانی اور تشویش کا اظہار کیا کہ اکیسویں صدی کی مہذّب اور ترقی یافتہ دنیا کے سر پنچ اور چوہدری ریاست ہائے متحدہ امریکا کا منتخب صدر ہزاروں میل دور ایک آزاد اور خودمختار ملک پر بلا جواز اور بلااشتعال حملہ کردیتا ہے اور کوئی اسے روکنے والا نہیں، وہ ایران کی سیاسی قیادت اور چوٹی کے سائینسدانوں کو ٹارگٹ کرکے قتل کردیتا ہے اور کوئی اس کا ہاتھ نہیں روکتا۔ وہ علاقے کے بدمعاش کی طرح اپنے سے کمزور مگر ایک آزاد ملک کے عوام کو گالیاں بھی دے رہا ہے اور ساتھ دھمکیاں بھی دے رہا ہے کہ تمہارے ملک میں بجلی پیدا کرنے والے پاور اسٹیشن تباہ کردوںگا، پل تباہ کردوںگا اور تمہارے ملک کو جہنم بنادوںگا۔مگر پھر بھی اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ ٹرمپ نے پوری دنیا کو بتا دیا ہے کہ ہم عملی طور پر آج بھی بارہویں اور تیرہویں صدی میں رہ رہے ہیں ۔
اس نے بتادیا ہے کہ آج بھی دنیا پرMight is Right ہی کا اصول چلتا ہے، میرے پاس طاقت ہے اس لیے جسے چاہوں قتل کردوں اور جس ملک پر چاہوں قبضہ کرلوں۔ ہے تو تلخ مگر حقیقت یہی ہے کہ ٹرمپ ہر روز ایسے جرائم کا ارتکاب کررہا ہے جو جنگ کے دوران بھی جرائم سمجھے جاتے ہیں اور ایسے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کا ہیگ میں واقع ٹریبونل فاروار کریمنلز کے سامنے ٹرائل ہوتا ہے اور بہت سوں کو سزا بھی ہوچکی ہے۔ مگر کیا ڈونلڈ ٹرمپ اورنیتن یاہوکو بھی وار کرائم ٹریبونل میں پیش کیا جائے گا؟ فی الحال تو اس کے امکانات نظر نہیں آتے۔ مگر کچھ حقائق کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ ایک یہ کہ امریکا میں کانگریس بھی موجود ہے، ایک طاقتور سینیٹ بھی ہے، سپریم کورٹ بھی ہے، مگر پورے سسٹم میں اتنی جان نہیں، کہ صدر کو تباہی کے راستے سے روک سکے۔
امریکی عوام کی واضح اکثریّت ٹرمپ کی ایران کے خلاف شروع کی جانے والی بلاوجہ اور بلا ضرورت جنگ کے خلاف ہے، ملک کے قومی سطح کے قائدین صدر کی ذہنی حالت پر شکوک و شہبات کا اظہار کررہے ہیں۔ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا ہے کہ ’’ ٹرمپ دماغی طور پر غیر متوازن معلوم ہوتا ہے، ہمارا صدر اس طرح کے خطرناک بیان دے رہا ہے کہ کانگریس کو ان کے خلاف کاروائی کرنی ہوگی۔‘‘ سینیٹر چک شومر نے ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایسٹر کے موقع پر امریکی صدر بے قابو ہوکر چیخ رہا ہے۔‘‘ سینیٹر مرفی نے کہا ہے کہ ’’میں کابینہ میں ہوتا تو ایسٹر کا دن ٹرمپ کو نااہل کروانے کے لیے 25ویں ترمیم پر مشاورت میں گزارتا۔‘‘ سینیٹر ٹم کین نے کہا ہے کہ ’’ٹرمپ کی طرف سے ایران کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کی دھمکیاں اور گالیاں شرمناک اور بچگانہ ہیں۔‘‘ تمام سیاسی لیڈروں نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس جنگ میں جو چیز ہمیں واضح طور پر نظر آرہی ہے ،وہ کسی منصوبے اور دلیل کا فقدان ہے۔‘‘
صدر ٹرمپ جھنجھلاہٹ اور فرسٹریشن میں اپنے فوجیوں کو لڑنے پر آمادہ کرنے کے لیے مذہبی ٹچ دینے کی بھی کوشش کررہا ہے ، اسے عیسائیوں اور مسلمانوں کی جنگ میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، نہ صرف ایران گرا نہیں بلکہ ایران نہ ڈرا ہے اور نہ جھکا ہے۔ امریکا بے پناہ نقصان اُٹھا رہا ہے، اس کا دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہونے کا mylth ٹوٹ چکا ہے۔ تنگ آئے ہوئے اسرائیلی عوام جنگ کے خالف مظاہرے کررہے ہیں، امریکا میں صدر کے مواخدے کی باتیں ہورہی ہیں۔ یورپی یونین امریکا کو چھوڑ چکی ہے۔ ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے ایک فرسٹریٹڈ ٹرمپ ایران کو تباہ کرتے کرتے پوری دنیا کو جہنم میں نہ جھونک دے۔ اس کا خطرہ پوری طرح موجود ہے۔
یہ بات بھی کھل کر سامنے آگئی ہے کہ یو این او سمیت تمام عالمی ادارے حملہ آور کا ہاتھ روکنے اور کمزور ملکوں کی سرحدی خودمختاری کا دفاع کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں، اس لیے تیسری دنیا کے تجزیہ کار یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ یو این او کو تالا لگا کر اس طرح کے غیر موثر اداروں کو ختم ہی کردیا جائے۔ ہماری میٹنگ میں بھی اس بات پر اتفاق رائے تھا کہ یو این او سے نکل کر پاکستان ترکی اور چند دیگر ممالک عالمی سطح کی تنظیم بنائیں جس میں چین اور روس کوبھی شامل کیا جائے اور امریکا کے عوام اور ادارے اپنے جنونی صدر کا ہاتھ روکیں اور مواخذے کے کٹہرے میں کھڑا کریں۔
Today News
ترقی کا فریب – ایکسپریس اردو
یہ کیسی ترقی ہے کہ انسان جتنا آگے بڑھتا جا رہا ہے،اتنا ہی اپنے اندر سے خالی ہوتا جا رہا ہے؟ یہ کیسا زمانہ ہے جہاں مشینیں بولنے لگی ہیں اور انسان خاموش ہوتا جا رہا ہے۔ کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ ہم نے صدیوں کا سفر تو طے کر لیا مگر اپنے ہی دل تک پہنچنے کا راستہ کھو دیا۔آج جب ہم مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل دنیا اور تیز رفتار ٹیکنالوجی کے عروج کا جشن منا رہے ہیں،تو کیا ہم نے ایک لمحے کے لیے رک کر یہ سوچا ہے کہ اس ترقی کی قیمت کیا ہے؟ وہ کون لوگ ہیں جو اس چمکتے ہوئے منظرنامے کے پیچھے اندھیرے میں کھڑے ہیں؟ وہ مزدور، وہ کسان، وہ چھوٹے ہنر مند جن کی محنت اس ترقی کی بنیاد ہے مگر جن کا ذکر کسی رپورٹ ،کسی سیمینار،کسی تقریر میں نہیں آتا۔
یہ ترقی ہمیں سہولت تو دیتی ہے مگر سکون نہیں دیتی۔ ہم ایک بٹن دباکر دنیا کے کسی بھی کونے میں بات کر سکتے ہیں مگر اپنے گھر کے ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک جانے کی فرصت نہیں رکھتے۔ ہم ہزاروں میل دور کے لوگوں کے دکھ سن لیتے ہیں مگر اپنے قریب بیٹھے انسان کی خاموشی نہیں سن پاتے۔کہا جاتا ہے کہ دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے مگر اس گاؤں میں رشتے کیوں ٹوٹ رہے ہیں؟ کیوں ایک ماں اپنے بیٹے سے بات کرنے کے لیے اس کے موبائل کا انتظار کرتی ہے؟ کیوں ایک باپ اپنی بیٹی کے ساتھ بیٹھنے کے بجائے اس کے سوشل میڈیا پروفائل کو دیکھ کر اس کی زندگی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
ترقی دراصل ایک فریب ہے، ایسا فریب جس میں روشنی زیادہ ہے اور بصیرت کم۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہم آگے بڑھ رہے ہیں مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ ہم کس سمت میں جا رہے ہیں۔ ترقی کا پیمانہ اب انسان کی خوشی نہیں بلکہ اس کی پیداوار اس کی رفتار اور اس کی کارکردگی بن چکا ہے۔
ایک زمانہ تھا جب ترقی کا مطلب یہ تھا کہ انسان کے لیے آسانیاں پیدا ہوں، اس کے دکھ کم ہوں اس کے خواب پورے ہوں۔ ہمیں اپنی ترجیحات پر بھی نظر ثانی کرنا ہوگی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف تیز رفتاری ہی کامیابی نہیں بلکہ ٹھہراؤ بھی ایک نعمت ہے، اگر ہم ہر وقت دوڑتے رہیں گے تو شاید ہم اپنی زندگی کے خوبصورت لمحوں کو محسوس ہی نہ کر پائیں۔ ہمیں بچوں کے ساتھ وقت گزارنا ہوگا، بزرگوں کی باتیں سننی ہوں گی اور اپنے اردگرد کے لوگوں کے دکھ درد کو سمجھنا ہوگا یہی وہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جو انسان کو مکمل بناتی ہیں اور یہی اصل ترقی کی بنیاد ہے، مگر اب ترقی کا مطلب یہ رہ گیا ہے کہ مشینیں زیادہ تیز ہو جائیں منافع زیادہ بڑھ جائے اور وقت کو اس حد تک نچوڑ لیا جائے کہ انسان خود ایک مشین بن کر رہ جائے۔
ہماری دنیا میں اب سب کچھ ڈیٹا ہے انسان بھی، اس کے جذبات بھی، اس کے خواب بھی۔ بڑی بڑی کمپنیاں ہمارے احساسات کو بھی گراف اور چارٹس میں بدل دیتی ہیں۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ سب ہماری بہتری کے لیے ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم خود اپنی زندگی کے تماشائی بنتے جا رہے ہیں۔اب اسی مصنوعی ذہانت نے ایک اور خوفناک راستہ بھی اختیار کر لیا ہے، جنگوں کا راستہ۔ کبھی جنگیں میدانوں میں لڑی جاتی تھیں جہاں سپاہی ایک دوسرے کے سامنے ہوتے تھے جہاں انسانی آنکھوں میں خوف اور ہمت دونوں نظر آتے تھے، مگر آج جنگیں اسکرینوں پر لڑی جا رہی ہیں، بٹن دبانے والے ہاتھ دور بیٹھے ہوتے ہیں اور مرنے والے اکثر وہ ہوتے ہیں جن کا اس جنگ سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔ڈرونز خودکار ہتھیار اوراسمارٹ میزائل یہ سب اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں۔ فیصلے انسان کم اور الگورتھم زیادہ کر رہے ہیں۔ ایک مشین طے کرتی ہے کہ کون ہدف ہے اور کون نہیں۔ مگر کیا ایک مشین انسان کی جان کی قیمت سمجھ سکتی ہے؟ کیا وہ یہ جان سکتی ہے کہ جس گھر کو وہ نشانہ بنا رہی ہے وہاں ایک ماں اپنے بچے کو کہانی سنا رہی ہے، اس نے اپنے بچے کے لیے کچھ خواب دیکھے ہیں اور وہ مشین نہیں جان سکتی کہ اولاد کو کھو دینے کا دکھ کیا ہوتا ہے۔
دنیا کے مختلف خطوں میں چاہے وہ غزہ ہو یا یوکرین جنگوں کا چہرہ بدل چکا ہے۔ اب یہ صرف بارود اور گولیوں کی جنگ نہیں رہی بلکہ ڈیٹا نگرانی اور مصنوعی ذہانت کی جنگ بن چکی ہے۔ چہرے پہچاننے والے نظام نگرانی کے کیمرے اور ڈیجیٹل نقشے یہ سب مل کر ایک ایسی دنیا بنا رہے ہیں جہاں انسان ہر وقت ایک ٹارگٹ بن سکتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی جنگوں میں اہداف کو آسان بناتی ہے اور اس سے غلطی کی گنجائش کم سے کم ہو جاتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جب قتل کا عمل آسان ہو جائے جب فیصلہ کرنے والا میدان میں موجود نہ ہو تو جنگ اور بھی بے رحم ہو جاتی ہے، کیونکہ فاصلے انسان کے ضمیر کو کمزور کر دیتے ہیں۔یہ ترقی ہمیں تیز تو بنا رہی ہے مگر گہرا نہیں بنا رہی۔ ہم معلومات کے سمندر میں تیر رہے ہیں مگر حکمت کے ایک قطرے کو ترس رہے ہیں۔ ہم سب کچھ جانتے ہیں مگر خود کو نہیں جانتے۔کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے ترقی کے نام پر ایک ایسا جال بُن لیا ہے جس میں ہم خود ہی پھنس گئے ہیں۔ ہم نے اپنی سہولت کے لیے مشینیں بنائیں اور اب وہی مشینیں ہمیں اپنی رفتار پر چلنے پر مجبور کر رہی ہیں حتیٰ کہ جنگ جیسے فیصلے بھی اب ہمارے ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں۔مگر کیا اس کا کوئی متبادل نہیں؟ کیا ہم اس دوڑ کو تھام نہیں سکتے ،کیا ہم ترقی کی تعریف کو بدل نہیں سکتے۔ شاید ہمیں ایک بار پھر یہ سوچنا ہوگا کہ ترقی کا اصل مقصد کیا ہے۔ کیا یہ صرف زیادہ پیداوار زیادہ منافع اور زیادہ رفتار ہے یا یہ ایک ایسا سماج ہے جہاں ہر انسان کو عزت ملے جہاں ہر بچے کو خواب دیکھنے کا حق ہو جہاں ہر مزدور کو اس کی محنت کا پورا صلہ ملے۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اگر ترقی انسان کو انسان سے دور کر دے، اگر یہ اسے اس کی جڑوں سے کاٹ دے، اگر یہ اسے ایک عدد ایک ڈیٹا پوائنٹ یا ایک ٹارگٹ بنا دے تو ایسی ترقی دراصل تنزلی ہے نہ کہ عروج۔ آج ہمیں مشینوں سے نہیں اپنے دل سے سوال کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے کیا کھویا ہے نہ کہ صرف یہ کہ ہم نے کیا پایا ہے، کیونکہ آخر میں، ترقی کا اصل پیمانہ یہی ہے کہ انسان کتنا انسان رہا اور اگر اس تمام ترقی کے باوجود انسان ہی کھو جائے تو پھر یہ سارا سفر ساری محنت ساری چمک سب کچھ ایک فریب کے سوا کچھ نہیں۔
-
Sports2 weeks ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Magazines2 weeks ago
The secret life of insects in the urban world
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go
-
Sports1 week ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Sports2 weeks ago
PSL 11 set to start with Lahore-Hyderabad clash
-
Sports1 week ago
National Dialogue Committee condemns PCB’s action against Naseem Shah
-
Today News1 week ago
اپنا کمرہ! – ایکسپریس اردو