Connect with us

Today News

کاش ہم بھی غریب ہوتے

Published

on


آج کل ہمیں اپنے آپ پرسخت غصہ آرہا ہے کہ لوگ دنیا میں کیاکیا نہیں کرتے کیاکیا بن نہیں جاتے ، کہاں سے کہاں پہنچ نہیں جاتے اورایک ہم نالائق ، نکمے نکھٹو، کہ خود کو غریب یا مستحق نہ بنا سکے۔

ان لبوں نے نہ کی مسیحائی

ہم نے سوسو طرح سے مر دیکھا

آپ سوچیں گے کہ لوگ تو ’’غربت‘‘ سے ڈرتے ہیں دور بھاگتے ہیں اورتم غربت کے تمنائی ہو، اسے حاصل کرنا چاہتے ہو ،گلے لگانا چاہتے ہو، اپنے نام کا حصہ بنانا چاہتے ہو اوراس کے لیے ہروقت ترستے رہتے ہو، لو جناب عالی ۔ آپ نے غربت کا مزا چکھا ہی نہیں ۔ ہائے کم بخت تم نے پی ہی نہیں ، یہ اپنا پاکستان ہے جو آئینے کے اندر ہے یہاں سب کچھ الٹا ہوتا ہے یہاں جو ہوتا ہے وہ دکھتا نہیں اورجو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں مثلاً ساری دنیا میں ہوتا یوں ہے بلکہ تاریخ میں بھی ہوتا رہا ہے کہ ہرکام کی ابتدا نیچے یعنی گراس روٹ لیول سے ہوتی ہے لیکن یہاں ہر کام اوپر سے شروع ہوتا ہے ۔ دوسرے ملکوں میں لوگ امیروں کی خدمت کرتے ہیں اوریہاں سارے ’’امیر ‘‘ غریب کی خدمت میں لگے ہوتے ہیں بلکہ اتنے زیادہ لگے ہوئے ہیں کہ منابھائی ہو رہے ہیں، ایک دوسرے کو دھکے دے دے کر غریب کی خدمت میں سبقت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں بلکہ بعد از مرگ بھی چاہتے ہیں کہ ان کا کام جاری رہے

سنا ہے باپ نے بیٹے کو یہ وصیت کی

کہ میرے بعد بھی یہ میرا کاروبار چلے

اوربیٹے اتنے سعادت مند ہوتے ہیں کہ باپ سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں مثلاً محترمہ بے نظیر کو لے لیجیے، خود بھی عمربھر غریبوں کی خدمت میں مصروف رہیں اوراپنے بعد بھی اپنی جائیداد سے غریبوں کی خدمت کررہی ہیں اوربے نظیر انکم سپورٹ کاصدقہ جاریہ رواں دواں ہے ۔مطلب یہ کہ سارے عیش تو غریبوں کے ہیں طرح طرح کے کارڈ ، بھکاری خانے ،عشروزکواۃ، للسائل والمحروم، رمضان دسترخوان ، لنگرخانے ، صورت حال یہ ہے کہ جہاں کوئی غریب دکھائی دیتا ہے تو لوگ سب کو چھوڑچھاڑ کرجھپٹ پڑتے ہیں اورغریب ۔

 اس حسن کاشیوہ ہے جب عشق نظر آئے

 پردے میں چلے جانا شرمائے ہوئے رہنا

 بخداآج کل تو یہ سوچ سوچ کر خود پر غصہ آجاتا ہے کہ اتنی عمر میں ہم سے یہ بھی نہیں ہوپایا کہ خود کو غربت کے اعلیٰ منصب پر فائز کرتے یاکراتے ، کیسے کیسے لوگ آئے اوراچھے خاصے غریب بن گئے اورہم ؟

 کارواں گزراکیا ہم رہگزر دیکھاکیے

 ہرقدم پر نقش پائے راہبر دیکھاکیے

راہبر پر یادآیا ، ایک مرتبہ ہم نے ایک راہبر سے بھی رجوع کیا کہ وہ کوئی ایسا اپائے بتائے جس سے ہم اپنی منزل غربت پرپہنچ جائیں۔ اس نے جو اپائے بتایا ہم اس کے مطابق اپنے حلقے کے ایم پی اے کے پاس پہنچ گئے اورسند غربت ایشو کرنے کی درخواست کی ، ظاہرہے کہ اسے یہ تاثر دیناتھا کہ ہم تمہارے ووٹر تھے ووٹر ہیں اور ووٹر رہیں گے اس لیے تھوڑا ساجھوٹ بولنا پڑا وہ مہربان ہوئے اورٹیلی فون کھینچ کر ہمیں سند غربت عطاکرنے والے تھے کہ اس کاچمچہ خاص آکر اس کے کان میں کچھ پھونکنے لگا ، اس نے سنا تو پرایاسا منہ لے کر بولے ، ووٹ تو تم نے فلاں کو ڈالا ہے جاؤ اس کے پاس ، ہم سے کیالینے آگئے، چشم زدن میں اس کاچہرہ اتنا پرایا سا ہوگیا کہ ہم اپناسامنہ لے کر نکل آئے

ہرقدم پر ادھر مڑ کے دیکھا

اس کی محفل سے ہم اٹھ تو آئے

 حالانکہ ہم نے معافی بھی مانگی کہ اس مرتبہ غلطی سے ووٹ کسی اورکو دیا ہے آیندہ ہمارا تو کیا ہماری آنے والی سات پشتوں کے ووٹ بھی آپ کے ۔ لیکن وہ ہمیں سند غربت عطا کرنے پر راضی نہیں ہوئے ۔ یہ نہ تھی ہماری قسمت

برسماع راست ہرکسی چیرنیست

طعمہ ہرمرغکے انجیر نیست

 اورآج کل تو یہ احساس بہت شدت سے ہورہا ہے کیوں کہ مرکزی اورصوبائی حکومتوں میں غریبوں کو ’’نوازنے‘‘ کی باقاعدہ ریس لگی ہوئی ہے، لنگر خانے ہی لنگر خانے چل رہے ہیں اورغریب بس جی بھر کر چررہے ہیں ، کم ازکم اخباروں اوربیانوں میں تو یہی آرہا ہے ،اگر کچھ کمی تھی تو وہ سرکاری دسترخوان نے پوری کردی جب سے ہم نیسرکاری دسترخوان کا نام سنا ہے روپڑنے کو جی چاہ رہا ہے ۔ پہلے سے دسترخوان کیا کم تھے کہ اوپر سے یہ نیا دسترخوان بھی بچھ گیا ، کبھی ہم اپنی افطاری کرتے ہوئے رمضان دسترخوان کاتصورکرتے ہیں تو آنسو بھر آتے ہیں ، ہائے وہ کیا کیا نہ ہڑپ رہے ہوں گے

 لوگ لے آتے ہیں کعبے سے ہزاروں تحفے

 ہم سے اک بت بھی نہ لایا گیا بت خانے سے

 جی چاہتا ہے کہ باہرنکل پڑیں اورجہاں بھی کوئی سرکاری غریب نظر آئے اسے گولی ماریں۔

اوپر سے بیانات ، اب یہ تو یاد نہیں کہ کس کا بیان تھا کیوں کہ آج کل وزیر مشیر تو کیاسرکاری افسربھی بیان پر اتر آئے ہیں، چیف سیکریٹری بلکہ سیکریٹریوں کے سیکریٹری بھی روزانہ باتصویر بیان دینے لگے ہیں۔ اس لیے اب یاد نہیں کہ وہ بیان کس کاتھا جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے عزم کررکھا ہے کہ کوئی غریب بھوکا نہیں سوئے گا اوریہ بالکل سچ ہے ۔ ہمارا اپنا تجربہ ہے کئی بار ہم نے بھوکا سونے کی کوشش کی ہے لیکن مجال ہے کہ سوئے ہوں، نیند کو منتیںسماجتیں کرکے بلاتے رہے لیکن وہ دور ہی دور رہی شاید ڈرتی تھی کہ بھوکا ہے کہیں مجھے ہی نہ ہڑپ کرلے ۔

ایک منظر یاد آیا ، بمبئی یا ممبائی میں سمندر کے اندر ایک مزارہے حاجی علی بابا، سمندر کے اندر ہی کوئی ایک کلومیٹر کا راستہ ہے جس کے کنارے دنیا جہاں کے بھکاری بڑے بڑے پتھروں پر رہائش پذیر ہوتے ہیں ، مزار کے پاس پکی پکائی دیگیں ملتی ہیں ، مالدار لوگ آتے ہیں دیگ خریدتے ہیں لیکن خود تو مصروف لوگ ہوتے ہیں، ان دیگوں والوں سے کہہ دیتے ہیں کہ ان بھکاریوں میں تقسیم کر دینا۔ ایساکوئی ایک تو نہیں ہوتا ، خیرات کرنے والوں کاتانتا بندھا رہتا ہے ، دیگیں خریدی جاتی ہیں بانٹی جاتی ہیں چنانچہ وہ کنارے کے پتھر نشین بھکاری دن بھر چاولوں میں اتناکھیلتے ہیں کہ پتھروں کے گرد بھی چاولوں کے ڈھیر لگے رہتے ہیں، کوئی آخر کتناکھائے گا۔ یقیناً اپنے ہاں بھی آج کل غریبوں کی یہی صورت حال ہے ۔ ویسے ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ کنارے کے وہ ’’پتھر‘‘ ہزاروں روپے میں بیچے اورخریدے جاتے ہیں ۔ جن پر ڈیرے لگتے ہیں ۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پیٹرول کی عالمی قلت؛ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کا بڑا اقدام؛ 40 کروڑ بیرل تیل جاری

Published

on


بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پیدا ہونے والی تیل کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اپنے ذخیرے سے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے کی منظوری دیدی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آئی ای اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے کہا کہ یہ اقدام ایجنسی کی تاریخ میں تیل کے ہنگامی ذخائر کی سب سے بڑی ریلیز ہے اور اس کے لیے تمام 32 رکن ممالک نے اتفاق رائے سے ووٹ دیا۔

فاتح بیرول نے مزید کہا کہ موجودہ عالمی تیل کی منڈی کو جس پیمانے کے چیلنجز کا سامنا ہے اس کی مثال نہیں ملتی اور اس اقدام سے بازار میں فوری رسد کی صورتحال بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

آئی ای اے کے مطابق یہ ہنگامی تیل ہر رکن ملک کے قومی حالات کے مطابق مقررہ وقت پر دستیاب ہوگا تاکہ منڈی میں استحکام آئے۔

یہ چھٹی مرتبہ ہے کہ آئی ای اے نے اپنے ہنگامی ذخائر کو مربوط طور پر جاری کرنے کی منظوری دی ہے۔ اس سے قبل یہ اقدام 1991، 2005، 2011 اور 2022 میں دو مرتبہ کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے عالمی تیل کی فراہمی متاثر ہو رہی تھی اور عالمی منڈی میں تیل قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں۔

آج ہی ایرانی کمانڈر نے آبنائے ہرمز میں مزید حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ تیار رہیں تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک جائے گی۔

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

پشاور، ڈھائی کروڑ کی بینک ڈکیتی ناکام بنانے والا بہادر پولیس افسر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید

Published

on



پشاور:

پشاور میں مچنی گیٹ کے قریب ڈھائی کروڑ کی بینک ڈکیتی ناکام بنانے والا بہادر پولیس افسر اے ایس آئی بہار علی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

پولیس کے مطابق اے ایس آئی بہار علی کو ڈکیتی کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ زیر علاج رہے تاہم جانبر نہ ہو سکے اور بہار علی نے اسپتال میں دم توڑ دیا۔

واقعہ اس وقت پیش آیا جب مچنی گیٹ کے قریب ایک بینک میں تقریباً ڈھائی کروڑ روپے کی ڈکیتی کی کوشش کی گئی۔

اطلاع ملنے پر اے ایس آئی بہار علی اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچے اور رقم لوٹ کر فرار ہونے والے ڈاکوؤں کو روک لیا۔

پولیس کے مطابق بہار علی نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزمان کو روکنے کی کوشش کی جس پر ایک ڈاکو نے ان پر فائرنگ کر دی۔

گولیاں لگنے سے وہ شدید زخمی ہو گئے تاہم ان کی کارروائی کے باعث بڑی ڈکیتی ناکام بنا دی گئی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اے ایس آئی بہار علی نے فرض کی ادائیگی کے دوران غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کیا اور ان کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

کھانا ہی کھانا … – ایکسپریس اردو

Published

on


’’میں اپنے شوہر کے ساتھ کچھ کھانا تقسیم کرنے کے لیے نکلی، شام کا وقت تھا اور جگہ جگہ دستر خوان لگے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ لوگ زمین پر بچھی دریوں پر اپنے اپنے سامنے کھانا رکھے ہوئے بیٹھے تھے مگر انتظار ہو رہا تھا افطار کا سائرن بجنے کا کہ کھانا شروع کیا جائے۔  میںنے اپنی گود میں رکھے ہوئے ڈبے میں سے کھڑکی کھول کر راہ چلتے لوگوں کو کھانے کے پیکٹ پکڑانا شروع کیے تو ان بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کئی اٹھ کر ہماری گاڑی کی طرف آگئے۔

سامنے رکھا ہوا کھانا انھیں بھول گیا تھا اور وہ سو چ رہے ہوں کہ شاید ہمارے والا کھانا زیادہ بہتر ہے۔ جب ان کی تعداد بڑھ گئی تو میں نے خوفزدہ ہو کر گاڑی کا شیشہ بند کر دیا اور وہ لوگ گاڑی کا شیشہ کھٹکھٹانے لگے۔ میں نے گھبرا کر اپنے شوہر سے کہا کہ گاڑی چلائیں مبادا کہ وہ ہماری گاڑی کا شیشہ توڑ دیں ۔‘‘ وہ بات سنا رہی تھی اور میں سوچ رہی تھی کہ ماہ رمضان میں ہمارے ہاں یہ منظر اکثر ہی دیکھنے کو ملتا ہے ۔ جگہ جگہ دستر خوان سجے ہیں، لوگ کھانا بانٹ رہے ہیں اور مساجد میں افطاری کا انتظام ہوتا ہے، تراویح سے پہلے بھی چائے پانی کا انتظام کیا جاتا ہے۔

اس کی وجہ غالباً یہی ہے کہ کھانا ہمارے ہاں لوگوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے ، جینا مرنا، لڑنا جھگڑنا، آگ لگے، زلزلے آئیں یا سیلاب… سب کچھ کھانے کے لیے ہی ہوتا ہے، اصل آگ تو پیٹ کی ہے کہ بجھنے میں ہی نہیں آتی۔ ہمیں بھی بھوکوں کو کھانا کھلانے کی ساری توفیق صرف رمضان میں ہی کیوں ہوتی ہے اور بھوکوں کو بھی اتنی بھوک کہ سامنے پڑا کھانا چھوڑ کر اس کی طرف لپکتے ہیں جس کے بارے میں علم ہی نہیں کہ اس بند پیکٹ میں کیا ہے ۔

جس طرح کہانیوں میں پہلے پہل بادشاہ خوشیوں کے مواقع پر اپنے خزانوں کے منہ کھول دیا کرتے تھے اسی طرح ہم پاکستانی بالخصوص ماہ رمضان میں اپنی زکوۃ کی رقم سے خشک راشن اور کھانوں کے منہ کھول دیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اس ماہ مبارکہ کی فضیلتوں سے فیضیاب ہوں ۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم اوپر سے لے کر نیچے تک پوری قوم کو بھکاری بنا کر ان پر کوئی احسان کر رہے ہیں۔ انھیں بنا محنت کیے یوں ہر روز کھانا کھلا کر ان کے اندر ہوس کو گھٹا رہے ہیں تو یہ ایک چھوٹا سا واقعہ ہی بتانے کے لیے کافی ہے کہ ان کی ہوس اور بھوک اس طرح ختم نہیں ہوتی، کسی بھی طرح نہیں ہوسکتی!!

کئی لوگوں سے میں نے سوال کیا جن کے بارے میں مجھے علم ہے کہ وہ کافی زیادہ راشن اور کھانا تقسیم کرتے ہیں، ہزاروں میں نہیں لاکھوں میں ان کا خرچہ ہوتا ہے۔ بلاشبہ ہمارے ہاں ایسے لاکھوں لوگ ہیں جن کی زکوۃ ہی لاکھوں اور کروڑوں میں بنتی ہے اگر وہ ادا کریں تو!! اس پر ایک اور حقیقت کہ زکوۃ دیں تو ٹیکس نہیں دیتے اور ٹیکس دیں تو کہتے ہیں وہی ہماری زکوۃ نکل گئی، زکوۃ بھی تو ایک قسم کا ٹیکس ہی ہے۔ چلیں اس منطق یا نکتے پر بحث ہرگز مقصد نہیں۔ اگر آپ لاکھوں خرچ کر کے ہزاروں لوگوں کو ماہ رمضان کے دوران دو وقت کا کھانا پیٹ بھر کر کھلاتے ہیں، سحری اور افطاری میں اور عموماً عید والے دن بھی وہ پیٹ بھر کر کھانے والے روکھی سوکھی کھا رہے ہوتے ہیں… تو ایسی ’عبادت‘ کو منقطع کرنے کا کیا فائدہ۔ عید سے اگلے دن سے وہ لوگ پھر یا مزدوری کر رہے ہوتے ہیں یا بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں۔ کیا ہم زکوۃ کے فلسفے کو سمجھتے ہیں؟؟

ہمارے مذہب میں کوئی بھی عبادت یا عمل بے مقصد نہیں ہے، آج کے دور میں سائنس بتاتی ہے کہ روزہ جسم کے تزکیے کے لیے کتنا اہم ہے، ہمارے مذہب نے سیکڑوں برس پہلے بتا دیا تھا کہ روزہ تزکیہء جسم اور نفس ہے۔ صرف یہ نہیں کہ روزے سے ہمیں دوسرے کی بھوک کا احساس ہوتا ہے بلکہ روزہ رکھنے سے ہمیں اپنے سفلی جذبات اور اپنی زبان پر قابو پانے اور خود کو برائی سے روکنے کی عادت ہوتی ہے، اگر ہم واقعی روزے کی اصل روح پر عمل کریں تو۔ روزے کی حالت میں ہمارا جسم اپنی مرمت کا کام کرتا ہے، یہ بات آج کی سائنس بتا رہی ہے۔ ہم سائنس کے بتائے ہوئے اس عمل کی بھی دھجیاں اوقات سحر اور افطار میںاڑاتے ہیں، پراٹھے، بریانی نہاری، پائے، پکوڑے، سموسے اور چاٹ کھا کھا کر اور شربت پی کر۔ کیا نفس پر قابو اور کیا زبان پر… سب کچھ ملیامیٹ ہوجاتا ہے جب ہمارا روزہ ’ کھل ‘ جاتا ہے تو۔

اسی طرح نماز ہے تو اللہ کو کہاں ضرورت ہے ہماری عبادت کی یا ماتھا زمین پر ٹیکنے کی؟ اس کی عبادت کو کون سے کم فرشتے اور دیگر مخلوقات ہیں۔ ہماری نماز کا مقصد ہمارے اندر عاجزی پیدا کرنا اور ماتھا زمین پر ٹیکنے کا مقصد یہی ہے کہ ہم اللہ کے سامنے زیرو ہو جاتے ہیں۔

اب اس عمل کو بھی آپ کی آج کی سائنس کہتی ہے کہ حالت سجدہ میں انسانی دماغ کو چند لمحوں کے لیے خون کی وہ سپلائی ہوتی ہے جو کہ عام حالات میں نہیں ہو پاتی کیونکہ کشش ثقل کے باعث خون کی دماغ تک جانے کی وہ رفتار نہیں بن پاتی جو درکار ہوتی ہے اور سجدہ میں انسانی جسم جس ساخت میں ہوتا ہے وہ ساخت ہے جس میں انسان اس دنیا میں آنے سے پہلے رہتا ہے اور اس ساخت میں جانے کا عمل جسم میں لچک اور پٹھوں کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے ۔ کمر اور ریڑھ کی ہڈی کے لیے بھی یہ فائدہ مند ہے اور حالت سجدہ میں جو اعضاء زمین کو چھوتے ہیں، ماتھا اور ہتھیلیاں… ان پر کئی ایسے پریشر پوائنٹ ہوتے ہیں جن سے ان اعضاء کو فائدہ پہنچتا ہے ۔

اسی طرح زکوۃ اگرچہ سخاوت کا عمل ہے جس سے دولت مند لوگ غریبوں کی مدد کرتے ہیں لیکن اس کا ایک اہم مقصد دولت کی طہارت ہونا ہے، آپ کی دولت سے جب کچھ حصہ منہا ہوتا ہے تو اس سے دوسروں کو فائدہ پہنچتا ہے اور اس سے آپ کو دعائیں ملتی ہیں۔ اس سے اللہ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے اور ساتھ ہی آپ کو یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے آپ کو دیا ہے وہ آپ کے لیے آزمائش ہے، وہ آپ کو دے کر آزما رہا ہے۔ اگر آپ اس کے دیے میںسے دیتے ہوئے ہچکچائیں گے تو وہ آپ سے چھین بھی سکتا ہے ۔ آپ کی زکوۃ سے کسی غریب کا گھر چل جائے، اس کا علاج ہو جائے، اس کے بچے تعلیم حاصل کرلیں تو آپ کے لیے اطمینان قلب کا باعث ہو گا۔

زکوۃ دینے کا اصل مقصد یہ ہے کہ مانگنے والا مانگنا چھوڑ دے ، وہ وقت آئے کہ آپ سے زکوۃ لینے والا خود زکوۃ دینے کے قابل ہو جائے۔ اپنا گھر بھی چلائے اور دوسروں کی حتی الامکان مدد بھی کرسکے ۔ اس کا بہترطریقہ یہ ہے کہ آپ یوں راشن اور کھانا بانٹنے کی بجائے کوئی آٹھ دس لوگوں کو اپنی زکوۃ کی رقم سے اس قابل بنا دیں کہ وہ اپنا کام شروع کر لیں اور اس سے انھیں اتنی آمدن ہوجائے کہ وہ اپنے گھر کا ذمہ خود اٹھا لیں ۔ آٹھ دس نہ سہی تو پانچ ، پانچ نہ سہی تو دو اور کچھ نہیں تو صرف ایک شخص کو اس قابل بنا دیں کہ وہ اگلے سال آپ سے زکوۃ نہ مانگے ، یا آپ کی زکوۃ کا حقدار نہ رہے ۔ یوں رمضان کا راشن دے کر تو ہم انھیں بھکاری کا بھکاری ہی رکھیں گے۔ ان کی عزت نفس ہو گی اور نہ محنت کی طلب و عادت۔

 ماہ رمضان میں پھل اور سبزی کی ریڑھیاں، دودھ اور دہی کی دکانیں ، چھوٹی چھوٹی کریانے کی دکانیں جہاں پر سارا سودا تقریبا ادھار پر ہی رکھا جاتا ہے اور کمپنیوں کو اس وقت ادائیگی کرنا ہوتی ہے جب سامان بک جاتا ہے ۔ پکوڑوں سموسوں کے خوانچے جو ماہ رمضان میں ہم جتنی بھی کوشش کریں ، ختم نہیں ہو سکتے اور جتنے بھی ہوں ان پر اسی طرح رش ہوتا ہے، کسی کو ہنر سکھا کر اس کی دکان کھلوا دیں… درزی، نائی، موچی، رنگساز۔ سیمنٹ یا سلنڈر کی ایجنسیاں لے کر انھیں بنیادی سرمایہ دے دیں کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں۔ کتابوں اور یونیفارم کی دکانیں ، غرض سوچتے جائیں تو کئی تجاویز نکل آتی ہیں۔ جن کی مدد کرنا ہے، ان سے پوچھ لیں کہ ہو کیا کر سکتے ہیں یا کیاکرنا چاہتے ہیں۔

قناعت، برداشت، صبر، توکل… ایسی ہی دیگر خاصیتیں کوئی سیکھنے سے تو نہیںآتیں، یہ تو اپنے من کا کام ہے کہ کہاں رکے اور کہاں حد سے بڑھے۔ وہ جنھیں عام حالات میں اچھا تو کیا، وقت پر کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا، جب یوں وافر ملتا ہے تو ان کے نفس کا گھوڑا بے لگام ہو جاتا ہے اور اس طرح کے مظاہرے دیکھنے کو ملتے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending