Connect with us

Today News

کالجوں میں ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کے معاملے پر جامعہ کراچی اور کالج پرنسپلز کے مابین ڈیڈ لاک

Published

on



کراچی کے سرکاری کالجوں میں ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کے معاملے پر جامعہ کراچی اور کالج پرنسپلز کے مابین شدید ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا ہے، ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کے اکیڈمک خدوخال طے کرنے کے معاملے پر بلایا گیا اجلاس شدید اختلافات کے نذر ہوگیا ہے اور اختلاف رائے سامنے آنے پر کالج پرنسپلز نے وائس چانسلر جامعہ کراچی کی زیر صدارت جاری اجلاس کا بائیکاٹ کردیا کالج پرنسپل اجلاس کا بائیکاٹ کرکے سماعت گاہ سے باہر آگئے اور اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا۔

واضح رہے کہ جامعہ کراچی کے شعبہ امتحانات نے کراچی کے ڈگری کالجوں کے پرنسپلز کا اجلاس وائس چانسلر کی زیر صدارت بدھ کی صبح طلب کیا تھا یہ اجلاس سلیبس اور اسکیم آف اسٹڈیز کے حوالے سے مختلف ابہامات کے ضمن میں بلایا گیا تھا تاہم اس موقع پر کالج پرنسپلز نے ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام میں "بائے اینوول" اور "سیمسٹر سسٹم " کا معاملہ اٹھادیا اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی کو بتایا کہ ریجنل ڈائریکٹر کالجز کی جانب سے اس معاملے پر ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے جس کے اراکین بھی یہاں موجود ہیں۔

اس کمیٹی کے کنوینر اور آدم جی سائنس کالج کے پرنسپل پروفیسر ناصراقبال نے "ایکسپریس " کے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ہم نے اجلاس میں یہ بات باور کرانے کی کوشش کی کہ ایچ ای سی کے مطابق یہ پروگرام سیمسٹر سسٹم پر چلنا ہے اور جامعہ کراچی نے سیمسٹر سسٹم کے بجائے اسے بائے اینوول کردیا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ بائے اینول کو مزید ایک سال کے لیے ملتوی کیا جائے اور ازاں بعد اس پروگرام کو سیمسٹر سسٹم پر منتقل کیا جائے تاکہ 50 فیصد مارکس کے سیمسٹر امتحانات خود کالجز لے سکیں لیکن وائس چانسلر ہماری بات سنیے کو تیار نہیں تھے اور ہماری ہر بات پر انکار کیا جاتا رہا۔

سلیبس کے حوالے سے بھی ہمارے پرنسپلز کو کبھی ایفیلیشن کبھی ڈین آفس اور کبھی چیئرمین شعبہ جات کے پاس بھیج دیا جاتا ہے لیکن مسائل حل نہیں ہوتے لہٰذا ہمیں مجبورا اجلاس کا بائیکاٹ کرنا پڑا اور کالج پرنسپلز اجلاس چھوڑ کر باہر آگئے، انھوں نے بتایا کہ ہم نے اپنی سفارشات رجسٹرار جامعہ کراچی کو جمع کرائی ہیں تاکہ یہ مسائل حل ہوسکیں۔

ادھر بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں کچھ ایسے کالج اساتذہ بھی شامل ہوگئے تھے جو کالج پرنسپلز تھے ہی نہیں بلکہ جس پر جامعہ کراچی نے شدید اعتراض بھی کیا، وائس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی سے جب اس معاملے پر رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ کالج  ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے کہنے پر ہم نے گزشتہ برس بائے اینوول امتحانی نظام کو ایک سال کے لیے موخر کیا تھا اب کالج پرنسپل اس سال بھی اسے موخر کرانا چاہتے تھے کالجز انتظامیہ نے ایک کمیٹی بنائی جس نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ جامعہ کراچی نے بائے ایننول متعارف کرواکے ایچ ای سی کی وائیلیشن کی ہے۔

ہم نے انھیں بتایا کہ ایچ ای سی جامعات کو صرف گائیڈ لائن دیتی ہے، جامعات ان گائیڈ لائنز پر کوئی بھی فیصلہ اپنی اکیڈمک کونسل اور سینڈیکیٹ کی منظوری سے کرتی ہے ہم نے پرنسپلز کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اگر سلیبس میں کچھ مشکلات ہیں تو پرنسپلز براہ راست مجھ سے رابطہ کریں میں خود اس مسئلے کو حل  کراؤں گا لیکن جب یہ سننے کو تیار ہی نہیں تو ہم کیا کرسکتے ہیں۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پاکستان نے آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کر دی

Published

on



پاکستان نے آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرتے ہوئے ملک میں ڈیجیٹل مالیاتی شعبے کے لیے نیا قانونی فریم ورک قائم کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط پر پارلیمنٹ نے ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 منظور کر لیا ہے،  جس کے تحت پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی باضابطہ طور پر قائم کر دی گئی ہے۔

یہ اتھارٹی ملک میں ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے والوں کو لائسنس جاری کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی نگرانی بھی کرے گی۔ اس قانون کا مقصد سرمایہ کاروں کا تحفظ یقینی بنانا اور ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نئے فریم ورک سے ورچوئل اثاثہ مارکیٹ میں استحکام آئے گا اور نئی ٹیکنالوجی کی حوصلہ افزائی بھی ممکن ہو سکے گی۔ اتھارٹی کو ابتدائی طور پر جولائی 2025 میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قائم کیا گیا تھا،  جسے اب پارلیمنٹ سے باقاعدہ قانونی حیثیت مل گئی ہے۔

قانون کے تحت منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کو بھی یقینی بنایا جائے گا جبکہ  پاکستان کے ضابطہ کار کو عالمی معیار کے مطابق تشکیل دیا جا رہا ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

ہراسانی کیس کی سزا معطل کرنے پر خاتون نے گورنر سندھ کا فیصلہ چلینج کردیا

Published

on



کے الیکٹرک کی سباق ملازمہ مہرین عزیز نے سابق سی ای او کیخلاف ہراسانی کیس میں گورنر سندھ کی جانب سے دیے گئے بریت کے فیصلے کو سندھ ہائیکورٹ میں چلینج کردیا۔

تفصیلات کے مطابق کے الیکٹرک کی سابق ملازمہ مہرین عزیز خان کی  گورنر سندھ کے فیصلے کیخلاف درخواست دائر کی، جس میں کہا گیا ہے کہ گورنر سندھ نے ہراسانی کی تشریح سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف کی ہے۔

درخواست گزار نے کہا کہ گورنر سندھ نے اہم شواہد نیگیٹو ورک پلیس ہراسمنٹ کے ماحول کو نظر انداز کیا۔

 درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ہراسانی کے واقعے کی شکایت کے ایک ماہ ملازمت سے برطرف کرنا انتقامی کارروائی ہے۔ 

کے الیکٹرک کی سابق ملازمہ نے استدعا کی کہ گورنر سندھ کے 20 جنوری 2026 کے صوبائی محتسب فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔ 

واضح رہے کہ صوبائی محتسب برائے ہراسمنٹ ایٹ ورک پلیس نے سابق سی ای او مونس علوی پر الزام ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹانے اور 25 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کی عدم حاضری کے باعث درخواست فوری سماعت کی استدعا مسترد کردی جبکہ سابق ملازمہ نے درخواست میں کے الیکٹرک کے سابق سی ای او مونس علوی و دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری۔ ڈیجیٹل مالیاتی شعبے کے لیے نیا قانونی فریم ورک قائم

Published

on



اسلام آباد:

پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک اور اہم شرط پوری کرتے ہوئے ملک میں ڈیجیٹل مالیاتی شعبے کے لیے نیا قانونی فریم ورک قائم کر دیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پارلیمنٹ نے ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026ء منظور کر لیا ہے جس کے تحت پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی باضابطہ طور پر قائم کر دی گئی ہے۔

یہ اتھارٹی ملک میں ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے والوں کو لائسنس جاری کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی نگرانی بھی کرے گی، ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق اس قانون کا مقصد سرمایہ کاروں کا تحفظ یقینی بنانا اور ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔

اتھارٹی کا کہنا ہے کہ نئے فریم ورک سے ورچوئل اثاثہ مارکیٹ میں استحکام آئے گا اور نئی ٹیکنالوجی کی حوصلہ افزائی بھی ممکن ہو سکے گی۔

اتھارٹی کو ابتدائی طور پر جولائی 2025ء میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قائم کیا گیا تھا جسے اب پارلیمنٹ سے باقاعدہ قانونی حیثیت مل گئی ہے، قانون کے تحت منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کو بھی یقینی بنایا جائے گا جبکہ ریگولیٹری ادارے کے مطابق پاکستان کا ضابطہ کار عالمی معیار کے مطابق تشکیل دیا جا رہا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending