Connect with us

Today News

کراچی، اسٹیل مل میں چوری کا نیٹ ورک بے نقاب، 2 ملزمان گرفتار، اہلکاروں کے ملوث ہونے کا انکشاف

Published

on



کراچی:

شہر قائد میں بن قاسم پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے اسٹیل مل سے لوہا اور تانبہ چوری میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر لیا جبکہ تفتیش کے دوران پولیس اہلکاروں کے ملوث ہونے کا بھی انکشاف سامنے آیا ہے۔

ترجمان ملیر پولیس کے مطابق ایس ایس پی ملیر کی ہدایت پر قیمتی سامان چوری کرنے والے عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران تھانہ بن قاسم پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان جبار اور سرفراز کو گرفتار کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے قبضے سے 27 کلو کاپر وائرز برآمد کی گئی ہیں۔

ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان اسٹیل مل سے اسکریپ چوری کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہے ہیں اور چوری شدہ سامان مختلف گوداموں میں فروخت کرتے تھے۔

مزید تفتیش کے دوران ملزمان نے انکشاف کیا کہ اس گروہ میں پولیس اہلکار سراج اور عبد الرحمن بھی شامل ہیں۔

پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ دیگر ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

حماس کا اسرائیلی فوج کی واپسی سے قبل غیرمسلح ہونے کیلئے مذاکرات سے انکار

Published

on



فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس نے واضح کردیا ہے کہ جب تک اسرائیل کی فوج غزہ سے واپس نہیں جاتی اور اس کی ضمانت نہیں دی جاتی اس وقت تک غیرمسلح ہونے کے لیے مذاکرات میں شریک ہونے کو تیار نہیں ہیں۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق حماس نے ثالثی کرنے والے ممالک کو آگاہ کردیا ہے کہ وہ ہتھیار ڈالنے پر اس وقت تک بات نہیں کرے گی جب تک اس بات کی ضمانت نہیں دی جاتی ہے کہ اسرائیل غزہ سے مکمل طور پر انخلا کرے گا، جس کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے مجوزہ منصوبے میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا حماس کا غیر مسلح ہونا ان مذاکرات میں ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے، جن کا مقصد ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے پر عمل درآمد کرنا اور اکتوبر کی جنگ بندی کو مستقل شکل دینا ہے۔

دو مصری ذرائع اور ایک فلسطینی عہدیدار کے مطابق حماس کے ایک وفد نے قاہرہ میں مصر، قطر اور ترکیے کے نمائندوں سے ملاقات کی تاکہ گزشتہ ماہ پیش کیے گئے غیر مسلح ہونے کے منصوبے پر اپنا ابتدائی ردعمل دے سکے۔

خبرایجنسی کو مصری ذرائع نے بتایا کہ حماس نے اس منصوبے کے حوالے سے کئی مطالبات اور ترامیم پیش کیں، جن میں اسرائیلی خلاف ورزیوں کا خاتمہ، تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد اور اسرائیل کا غزہ سے مکمل انخلا شامل ہے۔

حماس کا مؤقف ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں وعدے کے باوجود حملے کر کے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے جن میں سیکڑوں فلسطینی شہید ہوگئے ہیں جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں ممکنہ حملوں کو ناکام بنانے کے لیے ہیں۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے7  اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملوں کے بعد غزہ پر وحشیانہ بم باری کا سلسلہ شروع کیا تھا اور اس جنگ میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے ہیں، جن میں اکثریت خواتین، بچوں اور بزرگوں کی ہے جبکہ حماس کے حملے میں میں اسرائیلی میں 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

فلسطین پر مسلط اسرائیل کی اس جنگ کے نتیجے میں غزہ میں قحط نے جنم لیا، جہاں قابض اسرائیل نے بیرونی امداد اور رسد کے راستے بند کردیے تھے، اسرائیلی بم باری سے زیادہ تر عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں اور خطے کی اکثر آبادی بے گھر ہوچکی ہے، اور ان میں سے لاکھوں افراد کو متعدد بار نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن

Published

on


ابھی پنجاب حکومت کے جہاز کی خبر کا معاملہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ یہ خبر آئی کہ سینیٹ کے چیئرمین یوسف رضا گیلانی کے لیے مہنگی بم پروف گاڑی خرید لی گئی ہے۔ ماشاء اﷲ ! جو حالات چل رہے ہیں، ان میں اگر چئیرمین صاحب کی حفاظت کے لیے بم پروف گاڑی کی ضرورت تھی تو کسی سرمایہ دار کی بلٹ پروف گاڑی کچھ وقت کے لیے  تحفتاً لے کر کام چلایا جاسکتا تھا یا پھر وہ اپنے پاس سے خرید سکتے تھے۔ ایک جانب وزیراعظم کی سادگی کی اپیل اور دوسری طرف اتنی مہنگی گاڑی؟

سوال یہ ہے کہ زبانی کلامی سادگی کی تلقین اور حقیقت میں اقربا پروری، پھر یہ بات لوگ کیوں بھول جاتے ہیں کہ کیا بم پروف گاڑی زندگی کی ضمانت ہے ؟ لوگ جب مسند اقتدار پر قابض ہوتے ہیں تو یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ایسا کچھ کرکے چلو یاں کہ بہت یاد رہو ۔ ایک طرف حکومت سادگی اپنانے پر زور دے رہی ہے دوسری طرف مہنگی گاڑیاں خریدلی گئی ہیں ! غریب قوم اس رویہ پر ماتم ضرور کرے گی۔ پاکستان میں کوئی عام آدمی یعنی متوسط تعلیم یافتہ انسان کبھی حکومت میں نہیں آسکتا ، جاگیردار، وڈیرے ، سرمایہ دار، خان اور سردار ہی حکومت کرسکتے ہیں انھیں اسٹیبلشمنٹ کا سہارا بھی درکار ہوتا ہے جو وہ جھوٹی خوشامد اور منت سماجت سے حاصل کرلیتے ہیں جن پر مقدمے چلے وہ آج حکومت میں ہیں ۔اسی طرح حکمران خاندانوں کے پاس اتنی دولت ضرور ہے کہ وہ باآسانی جہاز خرید سکتے ہیں، لیکن سرکاری خرچ کا اپنا ہی مزہ ہے۔

 ایک طرف وزیراعظم کی یہ اپیل کہ لوگ ایک گھنٹے بجلی استعمال نہ کریں! حیرت ہے کہ لوڈشیڈنگ کے بارے میں شاید انھیں نہیں پتا کہ بجلی آتی کم ہے اور جاتی زیادہ ہے ،مگر بیچارے وزیراعظم بھلا لوڈشیڈنگ کا عذاب کیا جانیں، اسمبلی کے ممبران سمیت تمام وزراء اور حکومتی ارکان لوڈشیڈنگ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ حکام بالا نے تو اساتذہ کی تنخواہوں اور پنشن میں کٹوتی کا حکم دے دیا تھا بھلا ہو سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ کا کہ اس نے اساتذہ کی پینشن اور تنخواہوں سے کٹوتی سے روک دیا ہے وہ جو کہتے ہیں نا کہ

ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی

گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن

اقبال کا ایک اور شعر موجودہ ملکی صورت حال پہ منطبق ہے۔

میراث میں آئی ہے انھیں سند ارشاد

زاغوں کے تصرف میں عقابوں کا نشیمن

مہنگائی کا جن بے قابو ہوکر بوتل سے نکل پڑا ہے لیکن جن بڑا سمجھ دار ہے کہ امیروں، وزیروں اور سرمایہ داروں کی طرف دیکھتا بھی نہیں ہے اس کا سارا زور عوام پر ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھتے ہی ہر چیز کے دام دگنے ہوگئے۔ تاجروں کی چاندی ہوگئی جو چیز لینے جائیں ،دگنی قیمت پہ مل رہی ہے۔ تیل مہنگا کرکے تیل کمپنیوں کو مالا مال کردیاگیا، دواؤں کی ہوش ربا قیمتوں نے طوفان مچادیا ہے۔ ہر قسم کی دوائیں مہنگی ہوگئی ہیں۔ ہر دوا دگنی اور تگنی قیمت پر مل رہی ہے خاص کر دل کے امراض، شوگر اور ڈپریشن کی دواؤں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں لیکن کوئی پرسان حال نہیں۔ پہلے دواؤں کی کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا گیا تھا اور اب دوبارہ انھیں نوازا جارہا ہے۔ کون سی چیز ہے جو سستی ہو۔ آٹے کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں، لہسن، ادرک، ٹماٹر، آلو، سبزیاں، دالیں، چاول ، گوشت، دودھ، دہی سب کچھ مہنگا ہے، مہنگائی روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہی ہے، بسوں، ویگنوں، ٹیکسی، رکشہ سب کے کرائے من پسند طریقے سے بڑھادیے گئے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔

مجھے جناب شہباز شریف ذاتی طور پر بہت پسند ہیں انھوں نے اپنے دور وزارت اعلیٰ میں جو کام لاہور میں کیا تھا اس سے امید تھی کہ وہ ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد ملک و قوم کے لیے بہت کچھ کریں گے۔ کاش وہ ملک کو بھی ایسے چلاتے جیسے پنجاب کو چلایا تھا مگر لگتا ہے ان کی بھی کوئی مجبوری ہوگی ورنہ شہباز جو سوچ لیں وہ کرتے ضرور ہیں۔

 پاکستان اس وقت متعدد مسائل میں الجھا ہوا ہے، سیاست اور جمہوریت کا فقدان ، آئین اور قانون کی حکمرانی، خراب معیشت ، منہ زور مہنگائی اور بڑھتی ہوئی دہشت گردی، افغان جنگ میں پاکستان کا وہی کردار تھا جو بیگانی شادی میں عبداﷲ دیوانے کا ہوتا ہے۔ ضیاء الحق نے افغان پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں جگہ دی جس سے دہشت گردی بڑھ گئی ۔ ملک میں مختلف حصوں میں ہیروئن اور کلاشنکوف نے جگہ بنالی۔ افغان دہشت گرد ہلاک کیے گئے اس وقت پاکستانی فوج کو خراج تحسین پیس کرنا چاہیے جس نے بلوچستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو ختم کیا اور افغانی دہشت گردوں کو لگام ڈالی۔ ہمارے کتنے ہی فوجی ان مہمات میں کام آئے۔ سلام ہو ان پر اور خدا ہمیشہ پاک فوج پر سایہ فگن رہے۔ ہم گھروں میں چین سے بیٹھے رہتے ہیں اور ہمارے فوجی ہر محاذ پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کے کھڑے ہوتے ہیں۔

اس وقت صورت حال یہ ہے سیاست اور طاقت کے کھیل نے خطے کے امن کو تار تار کردیا ہے۔ امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ نے پوری دنیا کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ کوئی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، دونوں اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ کوئی بھی لچک دکھانے کو آمادہ نہیں، دیکھیے پاکستان جو ثالث کا کردار ادا کررہا ہے، اس کی بات دونوں ملک مانتے ہیں یا نہیں بہرحال ایک بات غلط ہے وہ یہ کہ ایران خلیجی ممالک پر حملے کررہا ہے۔

پچھلے دنوں جو وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا تھا۔ اس میں یہ مطالبہ کیاگیا تھا کہ ایران دوست ممالک پر حملے نہیں کرے گا لیکن ایسا ہوا نہیں۔ ایران اب بھی خلیجی ممالک پر حملے کررہا ہے اگر یہ سلسلہ چلتا رہا تو بہت برے نتائج برآمد ہوں گے۔ بعض خلیجی ممالک نے ایران کے حملے کے بعد ایرانی سفیروں کو ملک بدر کردیا ہے۔ ایران کو اس مسئلے پر سوچنا چاہیے۔ سیاست اور طاقت کے کھیل نے انسانی زندگی کے تقدس کو بری طرح پامال کیا ہے۔ کہیں شعلے بھڑک رہے ہیں کہیں انسانی جانیں بے معنی تنازعات کی نذر ہورہی ہیں، لوگ روز مر رہے ہیں۔ کتنی ماؤں کی گود اجڑی، کتنی عورتوں کے سہاگ جنگ کی نذر ہورہے ہیں۔ کہیں طاقت ور ملک دنیا میں حکومت کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں، کہیں زور آور ملکوں کی پالیسیاں کمزور قوموں کی تقدیر کا فیصلہ کررہی ہیں۔ امریکا اور اسرائیل پوری دنیا پر حکومت کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔

اس وقت مسلم ممالک کو متحد ہوجانا چاہیے ان حالات میں عام آدمی خود کو بے بس اور کمزور محسوس کرتا ہے۔ وہ روز سوچتا ہے کہ جنگ شائد کل ختم ہوجائے لیکن ہر صبح مرنے والوں کی خبر دیتی ہے۔ بچے بھی مر رہے ہیں، جوان بھی، بوڑھے بھی اور خواتین بھی۔ غزہ میں جو ہورہا ہے اس پر اقوام متحدہ خاموش ہے۔ ویٹو پاور بھی سپر پاور کے پاس ہے۔ جنگ تباہی لاتی ہے۔ ہزاروں انسان لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔ خطے میں طاقت کا توازن بگڑ رہا ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ ہے، اسلحہ کے سوداگروں کی لاٹری نکل آئی ہے۔ وزیراعظم سادگی کا درس دے رہے ہیں لیکن ان غیر ملکی دوروں کا کیا جو وزیر امیر اور صدر محترم کرتے ہیں۔ ایک ایک غیر ملکی دورے پر سات سے آٹھ لاکھ ڈالر خرچ ہوجاتے ہیں، وی آئی پی کلچر مسلسل فروغ پارہا ہے۔

یہ غیر ملکی دورے معیشت پر ایک بوجھ ہیں لیکن وزیر باتدبیر اور صدر محترم جب دوروں پر جاتے ہیں تو پوری برات لے کر جاتے ہیں۔ وہی بات ہے کہ ’’سیاں بھئے کوتوال اب ڈر کاہے کا‘‘ جب تک وی آئی پی کلچر ختم نہیں ہوگا، سادگی کا درس بے کار رہے گا۔ حکومت میں آنے کے بعد عیاشی اور پرتعیش زندگی لازم و ملزوم ہوجاتی ہے۔ خدا ہی رحم کرے ہماری حالت پر۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایران کے بغداد، اردن میں امریکی بیسز پر حملے، لاجسٹک سینٹر اور جنگی طیارہ نشانہ بنانے کا دعویٰ

Published

on



ایران نے عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی لاجسٹک سینٹر اور اردن میں قائم بیس میں جنگی طیارے کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا۔

غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عراقی سیکیورٹی فورسز کے دو عہدیداروں نے بتایا کہ بغداد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر امریکی سفارتی اور لاجسٹک سینٹر پر ڈرون حملہ ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ لاجسٹک سینٹر پر دو ڈرون گرے، جس کے نتیجے میں آگ لگی لیکن کسی کے زخمی ہونے کی رپورٹ نہیں ہے جبکہ ایئرپورٹ کے قریب ہی ایک اور ڈرون کو مار گرایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کمپلیکس میں عراقی فوجی بیس کے ساتھ ساتھ امریکی فوج کی تنصیابات بھی قائم ہیں۔

ایرانی فورسز نے دعویٰ کیا کہ اردن میں کیے گئے ایک ڈرون حملے میں امریکی بیس کو نشانہ بنایا گیا جہاں جنگی طیارہ نشانہ بنا۔

ایرانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے مشرقی اردن میں واقع الازرق ایئر بیس میں ایک امریکی فوجی اڈے پر امریکی لڑاکا طیاروں پر ڈرون حملہ کیا گیا، جو امریکہ کا ایک اہم فوجی مرکز ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اس فوجی گیس میں جدید تنصیبات اور بڑی تعداد میں عملہ موجود ہوتا ہے، جس کے باعث یہ مغربی ایشیا میں امریکے کے سب سے اہم اسٹریٹیجک فوجی مقامات میں سے ایک شمار ہوتا ہے۔

ایرانی فوج نے بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے بہادر سپاہیوں نے اردن کے الازرق بیس پر تعینات امریکا کی دہشت گرد فوج کے جدید لڑاکا طیاروں کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا۔

مزید بتایا گیا کہ الازرق بیس خطے میں امریکا کی فضائی قوت کو مربوط کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے، جس میں جدید جنگی طیاروں اور ڈرون مشنز کا استعمال شامل ہے جو ایران اور اس کے اتحادی مزاحمتی گروپس کو نشانہ بناتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ حملہ دشمن کی فضائی جنگی صلاحیت کو کمزور کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ ایرانی فوج نے گزشتہ ہفتے بھی الازرق ایئر بیس پر ڈرون حملہ کیا تھا، جس میں لاجسٹک گوداموں، اسلحے کے ذخیرے کا مراکز اور امریکی فوجیوں کے زیر استعمال رہائشی سہولیات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

ایران کی سرکاری خبرایجنسی کے مطابق پاسداران انقلاب نے بحرین میں ایمیزون کلاؤڈ کمپیوٹنگ مرکز پر حملہ کیا گیا۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ ایران معاہدہ کرے اس سے قبل کہ تاخیر ہوجائے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کو معاہدہ کرنے کا وقت آگیا ہے اس سے پہلے کہ زیادہ دیر ہوجائے اور اب اس میں کچھ باقی نہیں رہا جو کبھی ایک عظیم ملک بن سکتا تھا۔

امریکی صدر نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ایک ویڈیو بھی جاری کی، جس میں ایران کے دو شہر تہران اور کاراج کو ملانے والے پل کو تباہ ہوتے دکھایا گیا ہے اور لکھا کہ مزید تباہی آنے والی ہے۔



Source link

Continue Reading

Trending