Today News
کراچی، اسٹیل ٹاؤن پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان مقابلہ، ایک ملزم زخمی حالت میں گرفتار
کراچی:
شہر قائد میں اسٹیل ٹاؤن پولیس نے مبینہ مقابلے کے بعد ایک ڈاکو کو زخمی حالت میں گرفتار کر کے اسلحہ اور دیگر سامان برآمد کر لیا ۔
تفصیلات کے مطابق اسٹیل ٹاؤن پولیس نے ڈسٹرکٹ ملیر سومار گوٹھ سے مبینہ مقابلے کے بعد ایک ڈاکو کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا ، زخمی حالت میں گرفتار ملزم کو طبی امداد کے لیے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
ترجمان ڈسٹرکٹ ملیر پولیس کے مطابق زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت محمد افضل کے نام سے کی گئی۔
گرفتار ملزم کا ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ، گرفتار ملزم سے ایک پستول بمعہ گولیاں ، موبائل فون اور کیش رقم برآمد کی گئی ۔
Today News
سید سلمان گیلانی اور ارشد خرم مرحوم
‘ فاروق صاحب!خیریت تو ہے؟’
یہ ارشد خرم تھے۔ ‘تکبیر’کی کاپی پیسٹ کرتے کرتے انھوں نے نظر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فکر مندی سے سوال کیا۔ کاپی اخبار کی ہو یا ہفت روزے کی، اس کا بھیجنا چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔ مرحوم و مغفور خالد ایم اسحاق ایڈووکیٹ اسے درد زہ سے تشبیہ دیا کرتے تھے۔ ‘ تکبیر’ کا دفتر اس وقت اسی کیفیت سے دوچار تھا اور کاپی انچارج کی حیثیت سے معاملات میرے ہاتھ میں تھے۔ عین اس وقت جب تقریباً نصف کام باقی تھا، یوں محسوس ہوا جیسے میرا چہرہ اور کان تپ اٹھے ہوں۔ ایسی کیفیت بخار میں ہوتی ہے لیکن یہ بخار نہیں تھا۔ ارشد خرم نے فٹا( اسکیل)ایک طرف رکھا، قلم کان پر اڑسا اور آنکھیں نچاتے ہوئے اختر ملہی، محبوب اور دیگر ساتھیوں کو پکار کر کہا:
‘ حسن دے لشکارے ویکھو اوئے۔’
ارشد دوستوں کے دکھ درد میں شریک ہونے اور ضرورت کے وقت آگے بڑھ کر تعاون کرنے والے تھے لیکن کبھی ان کے لہجے میں طنز کی گہری کاٹ بھی ہوتی جسے سن کر ان کا مخاطب عام طور پر کٹ کر رہ جاتا۔ ارشد خرم کے تبصرے نے مجھے بھی لحظہ بھر کے لیے پریشان کیا لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے میرا شک یقین میں بدل دیا کہ میرا چہرہ اور کان سرخ ہو رہے ہیں۔ میں نے بے اختیار اپنے کان چھوئے جو بری طرح تپ رہے تھے۔ میں نے اس بارے میں کہا کچھ نہیں البتہ فٹا اٹھا کر ارشد کو دیتے ہوئے کہا کہ بھائی جی! باتیں مت بنا، جلدی جلدی کام نمٹا۔’
‘ فاروق صاحب!یہ بی پی کے آثار ہیں، بہتر ہے کہ کچھ آرام کر لیں۔’
ارشد خرم نے اب فکر مندی سے کہا۔ یہ پہلی بار ہو گی جب میں نے بلڈ پریشر کی کیفیت محسوس کی ہو گی۔ میں نے کہا:
‘ بی پی کو چھوڑیں، کام جلدی جلدی نمٹائیں، رات بیت رہی ہے۔’
ارشد نے کام کی طرف توجہ کرنے کے بہ جائے کاپی لپیٹ کر ایک طرف رکھی اور ساتھ رکھے فون کا ڈائیل گھما دیا۔ دوسری طرف فون جس نے اٹھایا ہو گا، اسے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب!ہمارے باس کی طبیعت خراب ہو رہی ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ ان کا بی پی شوٹ کر گیا ہے۔ جلدی پہنچیں۔’
بلڈ پریشر کی حشر سامانیوں سے میں واقف تھا لیکن یہ مجھے بھی پریشان کر سکتا ہے، اس بارے میں؛ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا لیکن تھوڑی دیر کے بعد استھیسکوپ(stethoscope) سنبھالے ہوئے ایک صاحب دفتر میں داخل ہوئے اور مجھے ٹوٹیاں لگانے کے بعد انھوں نے ارشد خرم کے خدشے کی تصدیق کر دی تو میرے ہوش اڑ گئے۔ میرے سر پر کاپی بھیجنے کی فکر سوار تھی، رات بیت رہی تھی، اس پر بلڈ پریشر کا حملہ جس کا مزہ میں پہلی بار چکھ رہا تھا۔ دفتر میں میرے سوا اور کوئی سینئر نہیں تھا، میری وجہ سے کام رک جاتا تو پرچے کی پروڈکشن، پرنٹنگ اور سرکیولیشن کا سارا نظام الاوقات متاثر ہو جاتا۔ میں ابھی اسی فکر میں غلطاں تھا کہ اپنے دوست ڈاکٹر کا فراہم کیا کیپسول انھوں نے میرے ہاتھ میں دیا اور کہا کہ اسے زبان تلے پھوڑ کر صوفے پر آنکھیں بند کر کے لیٹ جائیں۔ کام کی پروا نہ کریں۔ آپ نے جو چیزیں تیار کر رکھی ہیں، انھیں میں آپ کی ہدایت کے مطابق تیار کر دوں گا۔ تھوڑی دیر کے بعد جب آپ کی طبیعت بہتر ہو گی، اطمینان سے چیک کر لیجیے گا۔ ارشد خرم کے مزاج کے ہر پہلو سے ہم لوگ واقف تھے لیکن ان کی شخصیت کا یہ پہلو پہلی بار ہمارے سامنے آیا اور دلوں میں گھر کر گیا۔
1994 میں خوش نصیبی نے دستک دی اور ہم شہید محمد صلاح الدین کی قیادت میں حرمین شریفین کے سفر پر روانہ ہوئے۔ یہ صرف سعادت کا سفر نہیں تھا، اس کا تعلق روزگار سے بھی تھا۔ اس زمانے میں سعودی عرب کی حکومت حج کے دنوں میں مختلف زبانوں میں روزنامہ اخبار شائع کیا کرتی تھی جس کی ذمے داری مملکت کے کسی بڑے اخبار کو سونپی جاتی۔ ریاض ڈیلی کو جس برس یہ ذمے داری ملتی وہ اس کام کے لیے صلاح الدین صاحب سے رابطہ کیا کرتا۔ اس برس جن لوگوں کے نام کا قرعہ نکلا، ان میں مخدومی اطہر ہاشمی مرحوم کے علاوہ تین دیگر صحافی بھی شامل تھے جن میں ان سطور کا لکھنے والا بھی شامل تھا جب کہ ڈیزائنر اور خطاط کی حیثیت سے ارشد خرم بھی شریک سفر تھے۔
سفر انسان کی خوبیاں اور خامیاں سب کھول کر رکھ دیتا ہے، اس سفر میں بھی یہی ہوا۔ بہت سے ہم سفروں کے مزاج کے بہت سے گوشے عریاں ہوئے، ان میں ظاہر ہے کہ ارشد بھی شامل تھے۔ ضرورت کے وقت ساتھیوں کے کام آنا اور ان کے لیے اپنا حق بھی چھوڑ دینا۔ سارے کام کرنے والے اور اکٹھا رہنے والے اکثر ایسے ہی ہوتے ہیں، ارشد بھی مختلف نہ تھے۔ اس لیے اس سفر کی ایسی کوئی خاص بات میری یادداشت میں محفوظ نہیں جو بات یادداشت میں محفوظ ہے، وہ بالکل مختلف اور حیران کن ہے۔
ریاض میں ہماری رہائش فائیو اسٹار ہوٹل میں تھی، روزمرہ کے اخراجات کے لیے ریاض ڈیلی نے خاصی معقول رقم ہمیں دے رکھی تھی۔ اس لیے میرے سمیت بیشتر ہم سفروں کی جیبوں میں سوراخ ہو گئے۔ یہ دیکھ کر ارشد کڑھتے اور ٹوکتے۔ کوئی ان کی سنتا، کوئی نہ سنتا۔ انھیں معلوم تھا کہ میرے گھر والوں نے میری شادی کا فیصلہ کر رکھا ہے جو اس سفر کے فوراً بعد طے تھی۔ وہ مجھے خاص طور پر احتیاط کا مشورہ دیتے۔
ریاض کے بعد ہمیں مدینہ شریف جانا تھا۔ کوئی دن جاتے ہیں کہ ہم حضور ﷺ کی بستی میں ہوں گے، آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضری ہو گی، آپ جن گلی کوچوں اور راستوں سے گزرے، ان راستوں سے ہمارا گزر بھی ہو گا، اس خیال سے سارے مسافرہی جذباتی تھے، ارشد بھی، ادھر کوئی بات ہوتی، ارشد کی آنکھیں چھلک پڑتیں۔ جذب کی کیفیت بھی اس سے ملتی جلتی ہی ہو گی۔ تصوف میں صرف جذب نہیں اس کے ساتھ ہوشیاری بھی مطلوب ہے۔ ہم مسافروں میں صرف ارشد ہی تھے جن کے اوسان اس کیفیت میں بھی بحال تھے۔ ہمارا خیال تھا کہ قسمت ہمیں شہر نبی میں لائی ہے تو کیوں نہ ہم یہیں کے ہو کر رہ جائیں، اس کی مٹی میں مٹی بن جائیں۔ یہ صرف ارشد تھے جنھوں نے ہمیں اس کیفیت سے نکالا اور بتایا کہ یہاں جو تم نے کمایا ہے، یہ سب تمھارا نہیں، اس میں بہت سا حق گھر والوں کا بھی ہے لہٰذا جذبے کے ساتھ حقیقت کو پیش رکھنا بھی لازم ہے۔ یہی سبب تھا کہ ہم جو یہاں ہفتہ، دس دن بلکہ اس سے بھی زیادہ رہنے کے درپے تھے، چار روز میں ہی بہ چشم تر بلکہ ارشد کو کوستے ہوئے یہاں سے کوچ کر گئے۔ ممکن ہے کہ ارشد ہماری باتوں سے دکھی ہوئے ہوں لیکن اس وقت قبلہ ہاشمی صاحب بروئے کار آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ارشد ہے جس کے اضطراب نے تمھاری پیاس بڑھا دی ہے۔ اس رمز کو کوئی سمجھا کوئی نہ سمجھا البتہ ارشد کے سرخ و سپید چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔ یہ واقعہ گزرے زمانہ بیت گیا لیکن وہ مسکراتا ہوا چہرہ آج بھی میرے سامنے ہے۔
سید سلمان گیلانی
سید سلمان گیلانی اللہ کو پیارے ہوئے۔ان سے براہ راست یاد اللہ نہ تھی لیکن ان کی دل نشیں شخصیت کے اثرات دور دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ چند برس ہوتے ہیں ، برادرم علامہ عبد الستار عاصم کے ذریعے ان سے رابطہ ہوا۔ ملاقات تو نہ ہو سکی لیکن دل قریب ہو گئے۔وہ دین دار شخصیت تھے۔ ہمارے یہاں دین سے تعلق کا ایک مطلب بنی نوع انسان سے بیزاری بھی سمجھا جاتا ہے لیکن سید صاحب کی باغ و بہار شخصیت میں پاکیزہ فطرت کے تمام رنگ تھے۔ ہمارے یہاں شاعرانہ ترنم کے چند خاص انداز ہیں لیکن سید صاحب نے اس ترنم کو نیا آہنگ دیا جس کی بنیادیں محراب و منبر میں رکھی گئیں۔اللہ تعالی ان کی آیندہ منزلیں آسان فرمائے اور انھیں اعلی علیین میں جگہ عطا فرمائے ۔
Today News
کوہاٹ، لیڈی ڈاکٹر نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے جاں بحق، ینگ ڈاکٹرز کا آج سے ہڑتال کا اعلان
کوہاٹ:
ڈسٹرکٹ اسپتال میں ڈیوٹی مکمل کرکے گھر جانے والی لیڈی ڈاکٹر مہوش کو نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔
صدر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کوہاٹ کے مطابق ڈاکٹر مہوش ایوننگ ڈیوٹی کے بعد رکشے میں گھر جا رہی تھیں کہ اسپتال کے قریب مسلح ملزمان نے ان پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگئیں۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹے خدمات انجام دینے والے طبی عملے کو مناسب سکیورٹی فراہم نہیں کی جا رہی، جس پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
واقعے کے خلاف ردعمل دیتے ہوئے ینگ ڈاکٹرز نے آج سے کوہاٹ کے تمام سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ آئندہ مرحلے میں ہڑتال کو صوبائی سطح تک پھیلانے کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔
Today News
بنگلہ دیش انتخابات : مذہبی جماعتیں کیوں ناکام ہُوئیں؟
بنگلہ دیش میں12 فروری کو ہونے والے معرکہ آرا پارلیمانی انتخابات اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں ۔ بارہ کروڑ50لاکھ سے زائد بنگلہ دیشی ووٹروں نے اپنا حقِ رائے دہی اپنی مرضی و منشا سے استعمال کیا۔50سے زائد سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لیا، مگر 42سیاسی جماعتیں مکمل طور پر ناکام ہو گئیں ۔ سات سیاسی جماعتوں کو صرف ایک ایک سِیٹ پر کامیابی مل سکی ہے۔ وہ پھر بھی مطمئن ہیں۔
یہ انتخابات شفاف بھی کہے گئے ہیں اور غیر جانبدار بھی ۔ اِکا دُکا ناقابلِ ذکر واقعات کے سوا، بنگلہ دیشیوں نے تمام پولنگ اسٹیشنز کو پُر امن رکھا۔ مذکورہ پارلیمانی انتخابات کی نگرانی کرنے والے عالمی اداروں ، انٹرنیشنل آبزرورز، بنگلہ دیش پہنچنے والے سیکڑوں غیر ملکی صحافیوں اور یورپین یونین ، سبھی نے بیک زبان اقرار و اعتراف کیا ہے کہ 12فروری کے بنگلہ دیشی انتخابات فیئر اینڈ فری تھے ۔یوں ہم نوبل انعام یافتہ ( پروفیسر محمد یونس) کی زیر نگرانی بنگلہ دیش کی (سابقہ) عبوری حکومت کو شاباش دے سکتے ہیں ۔
مذکورہ بنگلہ دیشی انتخابات میں ’’عوامی لیگ‘‘ کو انتخابات سے باہر رکھا گیا ۔ ’’عوامی لیگ‘‘ کی سربراہ اور سابق وزیر اعظم(شیخ حسینہ واجد) پر متعدد سنگین الزامات عائد تھے ۔ اِسی وجہ سے حسینہ واجد کی حکومت اگست2024میں ختم ہو گئی تھی اور حسینہ واجد بنگلہ دیش سے فرار ہو کر بھارت پناہ گزیں ہو گئی تھیں ۔ موصوفہ اب تک وہیں ہیں۔ حسینہ واجد کی غیر حاضری میں بنگلہ دیشی عدالت نے اُنہیں سزائے موت بھی سنائی۔ پروفیسر محمد یونس کی عبوری حکومت نے بھارت سے کئی بار مطالبہ کیا کہ مجرم و سزا یافتہ حسینہ واجد کو بنگلہ دیش کے حوالے کیا جائے ۔ یہ مطالبہ مگر ابھی تک تسلیم نہیں کیا گیا۔
بارہ فروری کے انتخابات کا ایک اہم منظر یہ بھی سامنے آیا کہ بنگلہ دیش کے جن انقلابی اور تعلیم یافتہ نوجوانوں نے حسینہ واجد کا تختہ اُلٹ کر نئی سیاسی جماعت(NCP)بنائی تھی ، وہ کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکی ۔’’این سی پی ‘‘ کے سربراہ ناہید اسلام ہیں۔ اُن کی پارٹی صرف 7سیٹیں حاصل کر سکی ہے۔ حالانکہ اندازے یہی تھے کہ NCPبھاری اکثریت سے انتخابات جیتے گی ۔ بنگلہ دیش کی سیاست و انتخابات پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ’’نیشنل سٹیزن پارٹی‘‘ یعنی ’’این سی پی‘‘ کو اس لیے انتخابات میں شکست ہُوئی ہے کہ اُس نے بنگلہ دیش کی جماعتِ اسلامی سے انتخابی اتحاد کیا تھا ۔
اندازے اور توقعات تو یہ بھی تھیں کہ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش ( جس کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن ہیں)، بھی بھاری اکثریت سے انتخابات جیت کر حکمران جماعت بن جائے گی ۔ ہم نے تو اِنہی اندازوں اور قیافوں کی اساس پر اِنہی صفحات پر ’’ کیا جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کا اقتدار سنبھالنے کو تیار ہے؟‘‘ کے زیر عنوان کالم بھی لکھ دیا تھا ۔ مگر جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش ، دیگر کئی بنگلہ دیشی مذہبی جماعتوں کی طرح، ایسی بھاری کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکی ہے کہ بنگلہ دیش کے اقتدار پر براجمان ہو سکے ۔
عام پارلیمانی انتخابات نے یہ سنہری اور تاریخی موقع BNP ( بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی) کو عطا کیا ہے ۔ بی این پی دو تہائی سے زائد اکثریت حاصل کر کے حکمران جماعت بن چکی ہے۔ بی این پی کے سربراہ جناب طارق رحمن بنگلہ دیش کے نئے وزیراعظم بھی بن چکے ہیں اور 24رکنی کابینہ بھی تشکیل دے چکے ہیں ۔جناب طارق رحمن کے والد گرامی( جنرل ضیاء الرحمن مرحوم ) بھی بنگلہ دیش کے صدر تھے( پارٹی کے بانی بھی) اور اُن کی والدہ محترمہ( خالدہ ضیاء مرحومہ) بھی بنگلہ دیش کی وزیر اعظم رہی ہیں ۔
بنگلہ دیش کے بارہ فروری2026کے انتخابات میں اصل مقابلہ ’’بی این پی ‘‘ اور ’’جماعتِ اسلامی ‘‘ ہی میں تھا۔ جماعتِ اسلامی کو مگر صرف 77سیٹوں پر کامیابی ملی ہے۔ ہمارے نزدیک تو یہ بھی عظیم الشان انتخابی کامیابی ہے۔ خاص طور پر جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اتنی سیٹیں تو کسی جنرل الیکشن میں پاکستان کی جماعتِ اسلامی کو بھی پچھلے78برسوں میں کبھی نہیں مل سکی ہیں۔
اِس پس منظرمیں بنگلہ دیش کی جماعتِ اسلامی کی یہ کامیابی ایک عظیم الشان کامیابی ہی نظر آنی چاہیے۔ مگر جماعتِ اسلامی کے نقادوں اور مخالفین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں جماعت ِ اسلامی کو انتخابی شکست ہُوئی ہے ۔ حتمی انتخابی نتائج کے بعد بظاہر تو ایسا ہی نظر آ رہا ہے۔ ویسے بنگلہ دیش کی کئی دیگر اسلامی ومذہبی جماعتوں کو حالیہ تازہ انتخابات میں زبردست شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مثال کے طور پر :بنگلہ دیش خلافت مجلس کو 2، اور خلافت مجلس( زی) و اسلامی اندولن بنگلہ دیش نے محض ایک ایک سِیٹ جیتی ہے۔بنگلہ دیش میں بروئے کار ’’جمعیت العلمائے اسلام‘‘ (جس کے سربراہ مولانا ممنون الحق ہیں) تو ایک بھی سِیٹ نہیں جیت سکی ، حالانکہ اِس جماعت کے بنگلہ دیش کی تبلیغی جماعت میں گہرے اثرات ہیں ۔
جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے اقتدار حاصل کرنے میں ناکامی کی ایک وجہ بیان کرتے ہُوئے مقامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’’ بنگلہ دیش کی کئی مذہبی جماعتیں بھی جماعتِ اسلامی کے خلاف تھیں ۔ مثلاً: جے یو آئی کے دو بڑے علماء نے جماعتِ اسلامی کے خلاف فتویٰ دیا کہ اِسے ووٹ دینا حرام ہے۔ اِسی طرح بنگلہ دیش کی بریلوی جماعت کے وابستگان نے بھی جماعتِ اسلامی کو ووٹ نہیں دیے ۔‘‘ اگر ہم ’’برکلے سینٹر‘‘ میں شائع شدہ لامیا کریم کا تفصیلی مقالہ بعنوان Tableghi Jamaat and Regulation of Women in Bangladeshکامطالعہ کریں توسمجھ آ جاتی ہے کہ بنگلہ دیش کی ’’جمعیت العلمائے اسلام‘ کو بارہ فروری کے انتخابات میں زبردست شکست کیوں ہُوئی ؟ ہمارا بنیادی سوال مگر یہ ہے کہ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش توقعات کے مطابق بڑی کامیابی کیوں حاصل نہ کر سکی ؟ بعض باخبر حلقے اور بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی پر کڑی نظر رکھنے والے محققین کا دعویٰ ہے کہ اِس انتخابی شکست کے اصل ذمے دار خود امیرِ جماعت ہیں۔
انتخابات کی گرمی کے عین درمیان میں جماعتِ اسلامی کے ایک معروف لیڈر ( ٹھاکر گاؤں ضلع کے امیر بلال الدین) ائر پورٹ پر نقد 50لاکھ ٹکہ کے ساتھ گرفتار کیے گئے ۔ حالانکہ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کی مرکزی قیادت نے بہتیرا شور مچایا کہ یہ رقم کسی انتخابی مقصد کے لیے نہیں تھی ، بلکہ اُن کی کاروباری تھی، مگر جماعت کے مخالفین نے اِس بنیاد پر بے حد منفی پروپیگنڈہ کیا ۔
پھر انتخابات سے قبل امیرِ جماعت ، ڈاکٹر شفیق الرحمن ، سے منسوب ایک ایسے ٹویٹ میسج نے خواتین ووٹروں کو بددل کر دیا جس میں مبینہ طور پر بنگلہ دیشی خواتین کی توہین کا پہلو نکلتا تھا ۔ جماعتِ اسلامی نے سوشل میڈیااور مین اسٹریم میڈیا پر اِس کی وضاحت کرتے ہُوئے بہت کہا کہ ’’امیرِ جماعت کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک کرکے یہ میسج ٹائپ کیا گیا‘‘ مگر تب تک ٹوئیٹر میسج اپنا منفی اور تباہ کن اثرات مرتب کر چکا تھا ۔ بعد ازاں اِس ٹویٹ میسج کو جماعت والوں نے ڈیلیٹ بھی کر دیا ۔
انتخابات سے چند دن قبل امیرِ جماعت بنگلہ دیش( ڈاکٹر شفیق الرحمن صاحب) نے ’’الجزیرہ‘‘ کے صحافی(معصوم باللہ) کو جو تفصیلی انٹرویو دیا تھا، اِس نے بھی بنگلہ دیشی خواتین ووٹروں کو جماعت سے دُور کر دیا ۔ خواتین بارے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں امیرِ جماعت نے کہا تھا:’’ مرد بچہ جَن سکتا ہے نہ مرد اپنی چھاتی سے بچے کو دُودھ پلا سکتا ہے ۔ہم اللہ کی تقسیم نہیں بدل سکتے ۔ہم خواتین کو الیکشن لڑنے کے لیے جماعت کا ٹکٹ دے سکتے ہیں نہ کوئی خاتون جماعت کی سربراہ بن سکتی ہے ۔‘‘اِس بیان پر جماعتِ اسلامی کی مخالف جماعتوں نے یہ کہہ کر کہ ’’جماعتِ اسلامی خواتین کی برابری کی دشمن ہے ‘‘ اور یہ کہ’’ جماعتِ اسلامی خواتین کے بنیادی حقوق بھی تسلیم کرنے سے انکاری ہے ‘‘ ، خوب منفی پروپیگنڈہ کیا۔
جماعت کے خلاف انتخابی بھَد اُڑانے کی کوششیں کی گئیں ۔ جماعت مخالف بعض بنگلہ دیشی ’’دانشوروں‘‘ نے تو یہاں تک کہا کہ ’’ایران اور افغانستان میں مقتدر مذہبی جماعتیں خواتین سے جو سلوک کررہی ہیں ، کیا اِس پیش منظر میں بنگلہ دیشی خواتین جماعتِ اسلامی کو ووٹ دینے کا رِسک لے سکتی ہیں؟۔‘‘ گویا جماعتِ اسلامی کو ہرانے کے لیے کئی قوتیں میدان میں کود پڑی تھیں ۔ بھارت کا خفیہ ہاتھ الگ کارفرما تھا ۔ ’’عوامی لیگ‘‘ کے ووٹ بھی جماعت کی حریف(بی این پی کو) پڑے ہیں ۔
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment1 week ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Tech6 days ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Business2 weeks ago
Pre-Ramazan hikes in essential commodities’ prices pinching consumers
-
Entertainment2 weeks ago
Heartbreaking Moment as Army Martyr’s Father Faints Receiving Son’s Belongings