Today News
کراچی، بارش کے پانی میں چھپے کرنٹ نے پولیس اہلکار کی جان لے لی
کراچی:
شہر قائد کے علاقے گلستانِ جوہر بلاک 7 میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں جوہر کمپلیکس میں جمع بارش کے پانی میں کرنٹ آنے سے ایک پولیس اہلکار جاں بحق ہو گیا۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق جاں بحق اہلکار کی لاش فوری طور پر قریبی نجی اسپتال منتقل کی گئی جہاں موت کی تصدیق کے بعد لاش کو سردخانے منتقل کر دیا گیا۔
اہلِ خانہ کے مطابق جاں بحق ہونے والے اہلکار وسیع اللہ ایک بیٹے کے باپ تھے اور ان کا آبائی تعلق روہڑی سے تھا۔
سسر عبدالوہاب نے بتایا کہ وہ جوہر کمپلیکس میں سسرال آئے ہوئے تھے اور واپسی کے دوران یہ حادثہ پیش آیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عمارت کے اطراف میں بارش کا پانی جمع تھا جس میں کرنٹ ہونے کے باعث وسیع اللہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔
Today News
جام سے پینا رسم پرانی ہوگئی
کمال کمال اور پھر کمال ہے یہ ہماری مملکت خداداد پاکستان بھی۔وہ کونسا رنگ ہے جو اس میں نہیں ہے دانائی دانشوری کے لحاظ سے دیکھیے تو یہ یونان قدیم ہے۔دینداری پرہیزگاری اور صادق و امینوں کے لحاظ سے یہ ’’ریاست مدینہ‘‘ ہے ، اُن تمام ناموں سمیت جو مقدس ہیں اور آج کل تو یہ قدیم روم کے مماثل بھی ہوگیا ہے۔جہاں نیرو بانسری بجایا کرتا تھا۔اور قدم قدم پر’’ایربناؤں‘‘ میں طرح طرح کے کھیل کھیلے جاتے تھے جب لوگ بھوک ننگ سے پریشان ہوتے تھے تو ان کی بھوک کو بہلانے کے طرح طرح کے کھیل تماشے دکھانے کے زبردست پروگرام ہوا کرتے تھے۔ اور یہاں بھی وہی انتظام ہے، وہی عالم ہے، وہی نسخہ ہے اور یہ اندازہ ہم نے اس کرکٹ نام کے کھیل اور اس کی دھوم سے لگایا ہے جس میں نکمے نکھٹوؤں اور تاجروں، دکانداروں اور ساہوکاروں کے لیے بھی بے پناہ مواقع ہیں اور وہ بھی نہایت سنہرے اور آسان۔اس کا اندازہ اس لیے لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے صرف ایک کرکٹ ہوا کرتی تھی جب کہ آج ہر ہر قسم کے رنگ اور نام کی کرکٹ ٹیمیں برساتی کمبھیوں کی طرح اُگ رہی اور پھوٹ رہی ہیں۔
وومن ٹیم تو خیر لازم تھی کہ عورت کو یہ ثابت کرنا تھا کہ وہ کماتی ہے، مرد سے کم نہیں بلکہ زیادہ قابل ہے ۔پھر بلائنڈ کو بھی یہی ثابت کرنا تھا اور ہے اور جب بلائنڈز نے اپنے کمالات دکھائے تو ان کے باقی ہم نشینوں، ہم سفروں اور ہم نفسوں نے کیا گناہ کیا ہے جو پیچھے رہتے۔ہمیں یقین ہے آیندہ دوچار سال میںگونگوں،لنگڑے لولوں اور پولیو زدہ برادریوں کی ٹیمیں بھی سامنے آجائیں گی یا شاید بن بھی چکی ہوں گی اور’’ایج‘‘کی بنیاد پر تو انڈر تھرٹی سے انڈر تھری تک کی ٹیمیں موجود ہیں جو آیندہ کچھ عرصے میں چائیلڈ اور انفینٹ یعنی شیرخواروں تک دراز ہوسکتی ہیں۔اور اس میں کچھ مشکل بھی نہیں۔شیرخواروں کی مائیں اور آیائیں ان کو بچہ گاڑیوں میں تو ویسے بھی گراؤنڈ وغیرہ میں پھرایا کرتی ہیں تو کرکٹ بھی کھلوا سکتی ہیں۔ صوبوں، ضلعوں،تحصیلوں اور یونین کونسلوں کی ٹیمیں تو شروع ہوچکی ہیں۔
آگے شاید برادریوں،پیشوں اور روزگاروں کی بنیاد پر ٹیمیں بننا شروع ہوجائیں۔جیسے لوہارائرن۔ترکان ووڈن،سنارگولڈن،مستری الیون، معمارشاہین،مزدور ہتھوڑا،کسان درانتی،ڈرائیور اسپیڈ، گداگر فائٹر،ڈاکٹرز لیوپرڈ، دکاندار ٹائیگر،زمین دارٹریکٹر،حلوائی سلور،قصائی کلہاڑا وغیرہ۔ہمارے خیال میں سب سے پاپولر،ہارٹ فیورٹ اور بیسٹ سیلر ٹیم تیسری جنس کی ہوسکتی ہے کہ وہ کرکٹ کے ساتھ ساتھ کچھ اور فنون کا مظاہرہ بھی کرسکتے ہیں یا کرسکتی ہیں، تھرڈ ایمپائر تو پہلے سے موجود ہیں۔تو تھرڈ جینڈر ٹیم میں کیا حرج ہے۔
مطلب چونکہ کمائی اور شائقین کا انٹرٹینمنٹ ہے مثلاً اگر بالنگ میں ناچ کا رنگ بھی شامل ہوجائے، فیلڈنگ میں چٹک مٹک کا بھی مظاہرہ ہو۔بیٹنگ میں دوچار اسٹیپ ڈانس کے لیے جا سکتے ہیں اور وکٹ کیپر کو تو زیادہ کارکردگی دکھانے کا موقع حاصل ہوتا ہے، مطلب یہ کہ لہک لہک،چھنک چھنک اور ٹھمک ٹھمک کو کرکٹ کا حصہ بنایا جاسکتا اور اس ٹیم کے میچ کے ٹکٹ پکوڑوں کی طرح بکیں گے۔کچھ عرصہ پہلے ایک شہر میں ٹیموں کی نیلامی بلکہ صحیح معنوں میں عوام کی خرید فروخت ہورہی تھی کہ یہی اس ملک کی سب سے بڑی تجارت ہے کہیں پر کچھ بھی ہو۔سیاسی، تجارتی، مذہبی، سماجی خرید وفروخت کا مین بلکہ واحد آئٹم کالانعام ہی ہوتے ہیں لیکن نام الگ ہوتے ہیں۔مثلاً سیاسی پارٹیاں اسے ٹکٹ کا نام دیتی ہیں، میڈیا اسے اشتہارات وغیرہ کے نام دیتا ہے۔مذہبی لوگ اسے ثواب کا نام دیے ہوئے ہیں لیکن فروختگی خریدگی کالانعاموں ہی کی ہوتی ہے۔خیر تو اس نیلامی یا فروختگی میں ایک بزرگ مہر یا بقراط نے فرمایا۔کرکٹ ہمارے خون میں دوڑتی ہے یا دوڑ رہی ہے۔
بخدا یہ سُن کر ہم تو سن ہوکر رہ گئے۔ ہمیں پتہ بھی نہیں اور ہمارے خون میں کرکٹ دوڑ رہی ہے بلکہ دوڑنا بھی اتنا حیران کن نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ یہ ہمارے خون میں پہنچی کیسے۔وہ لطیفہ تو آپ نے سنا ہوگا کہ ایک شخص نے دوسرے سے کہا کہ میں حیران ہوں کہ چوزہ انڈے سے نکلتا کیسے ہے۔ دوسرے نے کہا، تم نکلنے کا کہہ رہے ہو اور میں حیران ہوں کہ چوزہ انڈے میں گھستا کیسے ہے۔اب تک تو ہم نے یہ سنا تھا کہ خون میں سرُخ اور سفید ذرات دوڑتے ہیں۔بلکہ ایک دانا دانشور نے یہ کہا ہے کہ انگریز جاتے ہوئے اپنی آنکھوں کا رنگ ہمارے لیڈروں کے’’قدموں‘‘ میں انجیکٹ کرگئے ہیں اور اپنی جلد کا سفید رنگ ہمارے خون میں ڈال چکے ہیں اس لیے ان کے قدم سبز اور خون سفید ہوگیا ہے۔لیکن ہم لیڈروں کی بات نہیں کرکٹ والوں کی کررہے ہیں۔ارے ہاں یہ تو ہم بھول گئے کہ اب تو ہماری سیاست اور کرکٹ ایک ہوچکی ہے دونوں میں کوئی فرق نہیں رہا ہے، مفادات واردات،بیانات، تحفظات سب کچھ میں۔ سیاست بھی تو کھیل لڑکوں کا ہوا ،دیدۂ بیان نہ ہوا
ترے دربار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
بندہ وصاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
بہرحال یہ خون میں کرکٹ دوڑنے کا معاملہ کچھ تشویش ناک سا ہے کیونکہ خون کو تو کئی بیماریاں لگ سکتی ہیں، خون کا کینسر ہوسکتا اور شاید ہوچکا ہے، خون سفید ہوسکتا ہے وہ بھی شاید ہوچکا ہے اور بہنا بہایا بھی جاسکتا ہے اور وہ تو شاید نہیں یقیناً ایک عرصے سے ہورہا ہے
رگوں میں دوڑنے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
ایک شخص نے ہمیں ایک شخص کے بارے میں بتایا کہ شکر ہے اپنے باپ پر نہیں گیا ہے اس کا باپ تو منشیات فروش تھا لوگوں کو نقصان پہنچاتا تھا۔معاشرے کو نقصان پہنچاتا تھا بچوں کو نشے کی لت لگاکر تباہ کرتا تھا۔لیکن اس کا یہ بیٹا دیکھو۔بچوں کو کرکٹ سکھاتا ہے۔ ٹیمیں بناتا ہے اور ٹورنامنٹ منعقد کرتا ہے صحت مندانہ کاروبار کرتا ہے۔ہم نے کہا جناب آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے کفن چور کا بیٹا چور ہی نکلتا ہے بلکہ باپ کو بخشواتا ہے۔یہ آپ جس نیک آدمی کی تعریف کررہے ہیں یہ بھی ’’منشیات فروش‘‘ ہی ہے۔لیکن منشیات الگ الگ ہیں، باپ جو منشیات فروخت کرتا تھا وہ’’مُنہ‘‘ سے استعمال کیے جاتے تھے اور بیٹا جو منشیات فروخت کررہا ہے وہ بھی استعمال ہوتے ہیں ورنہ جاکر کسی کو ٹی وی پر میچ دیکھتے ہوئے دیکھیے نشی نظر آجائیں گے
آنکھوں سے پی رُت مستانی ہوگئی
جام سے پینا رسم پُرانی ہوگئی
Today News
یمن کے حوثیوں کے تل ابیب میں اسرائیل کے اہم اہداف پر مزید حملے
یمن کے حوثیوں نے کہا ہے کہ اسرائیل کے خلاف میزائل کا چوتھا حملہ کیا گیا اور اہم مقامات نشانہ بنائے گئے اور اسرائیل کی فوج نے یمن سے میزائل حملوں کی تصدیق کی ہے۔
خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں کے ترجمان یحییٰ سیری نے ویڈیو بیان میں کہا کہ گروپ نے بلیسٹک میزائلوں سے اسرائیلی دشمن کے اہم اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور یہ حملوں کا چوتھا مرحلہ ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اس نے یمن سے فائر کیے گئے میزائل ناکارہ بنایا ہے۔
اسرائیل کی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ یمن سے اسرائیل کی حدود کی طرف فائر کیے گئے میزائلوں کو مار گرایا گیا اور مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد یمن سے فائر کیے گئے میزائلوں کا یہ چوتھا حملہ ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ آئی ڈی ایف نے یمن سے فائر کیے گئے میزائلوں کی شناخت کی اور فضائی دفاعی نظام اس طرح کے خطرات سے نمٹنے کے لیے فعال کردار ادا کرتا ہے۔
اسرائیل کی فوج نے ایک اور بیان میں کہا کہ ایران سے ہونے والے میزائل حملے کو ناکام بنایا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کی ہوم فرنٹ کمانڈ نے پہلے ہی رپورٹ جاری کردی تھی کہ یروشلم اور تل ابیب کے علاقوں میں انتہائی الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔
Source link
Today News
متشدد افغان طالبان سے پاکستان کی کیسے نبھے؟
’’افغانستان بطورِ ہمسایہ ملک چاہتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مسائل کو بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جائے۔ کسی کو بھی اجازت نہیں دی جائے گی کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرے ۔اِس سلسلے میں سنجیدہ اقدامات بھی کیے جا چکے ہیں ۔‘‘یہ الفاظ افغان طالبان رجیم کے عبوری وزیر خارجہ،مولوی امیر خان متقی، کے ہیں ۔ اگلے روز یہ الفاظ موصوف نے اُس وقت کہے جب وہ قطری وزیر خارجہ (عبداللہ بن زاید النہیان) سے فون پر بات چیت کررہے تھے ۔
امیر خان متقی کے مذکورہ بیان کے دو روز بعد ( یکم اپریل2026 کو)خبر آئی ہے کہ چین کے شمال مغرب میں واقع (اور پاکستان سے متصل) چین کے مشہور صوبے( سنکیانگ) کے مشہور شہر ’’ارومچی‘‘ میں ، چین کی ثالثی میں، پاک افغان مذاکرات ہُوئے ہیں ۔ اگرچہ یہ مذاکرات ابھی جونیئر لیول کے ہیںکہ پاکستان کی جانب سے وزارتِ خارجہ کے ایک ایڈیشنل سیکریٹری نے اِس میں شرکت کی ہے۔اِن مذاکرات کو خوش آئند کہا جا سکتا ہے ، مگر یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ پاکستان نے افغان دہشت گردوں کے خلاف جس ’’آپریشن غضب للحق‘‘ کو جاری کر رکھا ہے ، اس میں کمی نہیں آئے گی تاآنکہ اپنے متعینہ مقاصد و اہداف حاصل نہ کر لیے جائیں ۔
افغانستان پر مسلّط طالبان رجیم اور اس کے مولوی متقی خان ایسے کئی وزیر پچھلے پانچ برسوں کے دوران ایسے کئی وعدے کئی بار کر چکے ہیں ، مگر ہر بار وعدہ کرکے توڑ دیتے ہیں ۔ یوں پاکستان اور پاکستانی عوام اُن کے کسی وعدے اور عہد پر اب یقین نہیں کرتے ۔پاکستان افغان طالبان رجیم اور اس کے جملہ کارندوں پر اندھا اعتماد و اعتبار کرکے کئی بار ڈسا جا چکا ہے ۔
افغان طالبان اسقدر بد عہد واقع ہُوئے ہیں کہ دوست اسلامی ممالک ( سعودی عرب ، قطر ، ترکیہ) سے پاکستان میں دہشت گردیاں نہ کرنے بارے کیے گئے وعدوں سے بھی مکر گئے ۔ تنگ آکر پاکستان نے اُن افغان دہشت گردوں کے خلاف (افغانستان میں گھس کر) ’’آپریشن غضب للحق‘‘ کا آغازکیا ہے جنہیں کابل و قندھار کی افغان طالبان قیادت کی جانب سے ہر قسم کی اشیرواد بھی حاصل تھی ۔
افغان دہشت گرد طالبان اور طالبان کارندوں کے خلاف پاکستانی کارروائیوں میں اب تک 600 سے زائد افغان دہشت گرد جہنم واصل ہو چکے ہیں ۔ پاک افغان سرحد سے متصل علاقوں میں بسنے والے دہشت گرد افغان طالبان اَب ’’آپریشن غضب للحق‘‘ کے خوف سے تتر بتر ہوکر اور پاکستانی سرحد کے نزدیکی علاقوں سے فرار ہو کر افغانستان کے دُور دراز علاقوں میں جا بسے ہیں ۔ اُن کی چیخیں تا آسمان سنائی دے رہی ہیں۔پاکستان نے عید الفطر سے قبل چار پانچ روز کے لیے افغان دہشت گردوں کے خلاف حملوں میں وقفہ بھی کیا تھا۔ مگر اب یہ وقفہ ختم ہو کر ایک بار پھر بحال ہو چکا ہے ۔طالبان اب صلح کے لیے ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں اور توبہ تائب بھی ہو رہے ہیں ، مگر اُن پر پاکستانی اتھارٹیز یقین کرنے کو قطعی تیار نہیں ہیں ۔
افغان طالبان کی کہہ مکرنیاں ، بے وفائیاں اور عہد شکنیاں اس قدر زیادہ ہو چکی ہیں کہ آج دُنیا بھر میں کوئی ان پر اعتماد اور اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ بھارت کی انگلیوں پر ناچنے والے مقتدر طالبان کی خونی دہشت گردیوں کی لپیٹ میں عام افغان شہری بھی آ چکے ہیں۔ جفا جُو اور دغا باز افغان طالبان نے پچھلے پانچ برسوں کے دوران کسی سے نبھا نہیں کیا ہے ۔یوں لگتا ہے کہ مدتوں قبل خواجہ میر درد نے یہ شعر طالبان ہی کے لیے کہا تھا: نہیں شکوہ مجھے کچھ بے وفائی کا تری ہرگز/ گلا تب ہو اگر تُو نے کسی سے بھی نبھائی ہو۔
ارُومچی میں تازہ مذاکرات سے قبل خبر آئی تھی کہ ایک جوائنٹ پاک ، افغان امن جرگہ 31مارچ 2026 کو پشاور میں منعقد ہوگا تاکہ دونوں ممالک میں مکالمے ، امن اور استحکام کی فضا ہموار کی جا سکے۔ خیبر پختونخوا کے سابق چیف سیکریٹری ( ارباب شہزاد خان) اور ’’قومی اصلاحی تحریک‘‘ کے سربراہ (حاجی سہراب علی خان) اِس جرگے میں مرکزی کردار ادا کرتے نظر آ رہے تھے ۔ مگر یہ جرگہ بھی بے ثمر ہی ثابت ہُوا ۔اِس کی ناکامی میں بھی افغان دہشت گرد طالبان کی دغا بازیوں کا ہاتھ تھا ۔
جس تاریخ کو اِس جرگے نے بیٹھنا تھا، اُسی کے آس پاس مقتدر افغان طالبان نے معروف افغان صوبے ’’خوست‘‘ کے کئی شہروں میں پاکستان کے خلاف مسلح ریلیاں نکالیں۔ اِن ریلیوں میں پاکستان کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے ۔ افغان طالبان نے زبردستی اپنے میڈیا پر اِن ریلیوں کی ویڈیوز بھی چلائیں تاکہ پاکستان کے خلاف افغان ذہن مسموم کیے جا سکیں۔ ریلیوں میں یہ بھی نعرے لگوائے گئے : ’’ہم پاکستان کے خلاف جہاد کے لیے تیار ہیں۔‘‘ افغان میڈیا نے مگر اِن ریلیوں کی حقیقت کا یہ کہہ کر بھانڈا پھوڑ دیا کہ ’’افغان طالبان حکومت نے زبردستی اور جبر یہ طور پر افغان نوجوانوں کو پاکستان مخالف اِن ریلیوں میں شریک کیا تھا۔‘‘
دہشت گرد افغان طالبان بارے، حالیہ ایام میں،افغانستان کے لیے متعین رُوسی ایلچی ( ضمیر کابولوف)نے ایک عجب اقرارو اعتراف کیا ہے۔ 28مارچ 2026ء کو ضمیر کابولوف نے رُوسی خبر رساں ادارے (RIA Novosti)سے بات چیت کرتے ہُوئے کہا: ’’ پاک افغان تعلقات اِس لیے بھی درست نہج پر نہیں آ رہے کیونکہ طالبان کے افغانستان میں کئی دہشتگرد اور شدت پسند گروہ اکٹھے ہو چکے ہیں ۔ یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔‘‘مسئلہ یہ بھی تو ہے کہ افغان سر زمین پر بروئے کار متنوع دہشت گرد گروہوں کو افغان طالبان کی سرپرستی اور اعانت بھی حاصل ہے ۔
یہ سرپرستی ہی درحقیقت افغانستان سے پاکستان پر آئے روز حملوں کا سبب بنا کرتی تھی ۔ پاکستان نے مگر جب سے افغان دہشت گردوں کے خلاف’’آپریشن غضب للحق‘‘ کی شکل میں سخت ائر اسٹرائیکس کا آغاز کیا ہے ، افغان دہشت گردوں کی خونی کارروائیوں میں بڑی حد تک کمی واقع ہو چکی ہے ۔ یوں ثابت ہُوا کہ لاتوں کے بھوت لاتوں ہی سے مانتے ہیں ۔
یکم اپریل 2026کو افغانستان کے لیے رُوسی صدر کے خصوصی ایلچی ، ضمیر کابولوف، نے افغانستان کے لیے ایک حوصلہ افزا خبر بھی دی ہے ۔ موصوف نے کہا تھا: ’’رُوس کو چونکہ آجکل زراعت ، کنسٹرکشن ، ٹرانسپورٹ اورسروسز کے شعبوں میں مزدوروں کی سخت ضرورت ہے ، اس لیے رُوس سوچ رہا ہے کہ اِس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے افغان مزدُوروں کو رُوس لایا جائے۔ یوں افغان طالبان کے عوام کی کچھ مدد بھی ہو جائے گی۔‘‘ مگر اِس اعلان یا تجویز کی رُوسی حکومت کے کئی اعلیٰ عہدیداروں نے سخت مخالفت کی ہے۔ مثال کے طور پر رُوس کی قومی اسمبلی (State Duma)کی کمیٹی برائے ریجنل پالیسی کے معروف رکن Mikhail Matveyevنے کہا :’’ افغان لیبرکو رُوس میں لانے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہیے۔ افغانیوں کو بطورِ مزدُور رُوس درآمد کیا گیا تو یہ رُوسی سوسائٹی کے لیے سیکیورٹی رسک بن جائیں گے ۔‘‘
مذکورہ بالا الفاظ ہی بتا رہے ہیں کہ مقتدر افغان طالبان کے اقدامات اور حرکتوں نے اپنے عوام کو بھی دُنیا میں بے اعتبار بنا دیا ہے ۔ اگرچہ حالیہ کئی مثالیں ایسی بھی سامنے آئی ہیں کہ رُوس اور افغانستان میں تعلقات بڑھ رہے ہیں ( مثلاً رُوس میں افغان سفیر، مولوی گل حسن، کی تعیناتی)، مگر ساتھ ہی افغان طالبان نے پاکستان میں جس طرح دہشت گردی کی وارداتوں کو فروغ دیا ہے ، اِس نے اِنہیں بے حد بدنام بھی کررکھا ہے ۔
پاکستان کے لاتعداد احسانات کو فراموش کرنا اور بھارت سے پینگیں بڑھانا بھی افغان طالبان کی بے قدری اور بے اعتباری میں اضافے کا سبب بنا ہے ۔ پچھلے پانچ برسوں کے دوران افغان طالبان نے افغان بچیوں پر جس طرح تعلیم کے دروازے مقفّل کررکھے ہیں اور افغان خواتین کے لیے ہر قسم کی ملازمتیں بھی ممنوع قرار دے ڈالی ہیں ، یہ متشددانہ فیصلے بھی عالمی سطح پر افغان طالبان کے استرداد کا موجب بن رہے ہیں ۔
پچھلے ماہ کے دوران افغانستان کی سپریم کورٹ کے حکم سے کابل ، فاریاب، بلخ، ننگرہار اور ہرات کے صوبوں میں 46افراد کو کھلے عام38/38کوڑے مارے گئے۔ کوڑے کھانے والوں میں دس ، دس سال کے کمسن لڑکے بھی شامل تھے ۔ افغان طالبان نے خود تسلیم کیا ہے کہ 2025 میں افغانستان میں 6افراد کو سرِ عام پھانسیاں دی گئیں اور ملک بھر میں 1118 افراد کو کوڑے مارے گئے ۔ یوں تشدد پسند مقتدر افغان طالبان کی دُنیا سے نبھے تو کیسے نبھے؟؟
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Sports1 week ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Today News2 weeks ago
وزیراعظم کا ملائیشین ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، عید کی مبارکباد، ملکر کام جاری رکھنے پر اتفاق
-
Today News2 weeks ago
امریکی غرور اور طاقت کی علامت ایف 35 کو نشانہ بنایا ہے، اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
-
Magazines6 days ago
The secret life of insects in the urban world
-
Today News2 weeks ago
ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز
-
Today News2 weeks ago
رمضان کے بعد ضبطِ نفس کا امتحان