Today News
کراچی، رہائشی فلیٹس دھماکا، بم ڈسپوزل اسکواڈ کی تحقیقات میں اصل حقیقت سامنے آ گئی
کراچی:
شہر قائد کے علاقے نارتھ ناظم آباد کے رہائشی فلیٹس میں ہونے والے دھماکے کی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں، جہاں بم ڈسپوزل اسکواڈ نے دھماکے کی اصل وجہ گیس لیکج قرار دے دی۔
بم ڈسپوزل اسکواڈ حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے سلنڈر دھماکے کے کوئی شواہد نہیں ملے جبکہ متاثرہ فلیٹس میں کسی پھٹے ہوئے سلنڈر یا اس کے پرزے بھی نہیں ملے۔
انچارج بم ڈسپوزل اسکواڈ عابد کا کہنا ہے کہ گیس کے پائپ لفٹ کے قریب سے گزر رہے تھے، جس کے باعث شدید نوعیت کا دھماکہ ہوا اور لفٹ بھی گر گئی۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ممکنہ طور پر گھر میں گیس کا چولہا کھلا رہ گیا تھا اور اچانک گیس آنے سے فلیٹ میں گیس بھر گئی جس نے دھماکے کی شکل اختیار کرلی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز نارتھ ناظم آباد بلاک ای کے رہائشی اپارٹمنٹس میں دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے نتیجے میں ایک بچہ جاں بحق جبکہ چار افراد زخمی ہوگئے تھے۔
Today News
نظام شمسی – ایکسپریس اردو
نظام شمسی کے چار سیارے چٹانوں سے بنے ہوئے ہیں ۔ اُن کے سائز چھوٹے ہیں لیکن اُن کی سطح سخت ہے ۔ اگر نظام شمسی کی بیرونی سائیڈ پر چلے جائیں تو یہاں پر جو سیارے نظر آئیں گے وہ گیسز سے بنے ہوئے ہیں اور بڑے بڑے سائز کے ہیں ۔ سب کے گرد رنگز ہیں ۔
ان کے چاند بہت کم ہیں ۔ اور ان کا سورج سے فاصلہ بہت زیادہ ہے ۔ ہمارا سورج 4.5 بلین سال پہلے جب پیدا ہوا تو اس وقت سورج کی حرارت اتنی زیادہ تھی کہ تمام چیزیں گیسوں کی شکل اختیار کر گئیں، سورج بنا تو اس کے گرد درجہ حرارت بہت زیادہ تھا ۔ میٹلز سب سے پہلے لیکوڈ فارم میں آئے اس طرح دوسرے سیاروں کی شکل میں بھی آنا شروع ہو گئے ۔ یہ سارے سیارے میٹلز اور ڈسٹ کی شکل میں وجود میں آئے ۔
اگر ان چٹانوں کو دیکھا جائے تو پہلے دو سیارے مرکری اور وینس سورج کے بہت قریب ہیں ۔ اس لیے ان کا ٹمپریچر بہت زیادہ ہے ۔لیکن زمین کے ساتھ ایک اور سیارے مریخ پر بھی پانی پایا جاتا ہے ۔ یہ جگہ انسان کے لیے بہت موزوں ہے ۔ جب کہ وینس اور مرکری میں پانی اسٹیم کی شکل میں پایا جاتا ہے ۔ لیکن سورج کا ایریا آہستہ آہستہ جب پھیلے گا تو گولڈن کور آہستہ آہستہ دور ہوجائے گا۔ یہاں تک کہ ایک وقت میں زمین کا پانی بھی بھاپ بن جائے گا۔
جب یہ سارے سیارے معرض وجود میں آرہے تھے تو اس وقت ابتداء میں ہماری کائنات بہت زیادہ تباہی کا شکار تھی اور چیزیں ایک دوسرے سے ٹکر ا رہی تھیں اور اس کی وجہ ہمیں چاند سے معلوم ہوتی ہے ۔ جب اپالو مشن چاند پر گیا اور وہاں سے 380کلو گرام راک اٹھا کر لایا تو چاند کے کئی چٹانی حصے ایسے تھے جو زمین کی چٹانوں جیسے تھے ۔سائنسدانوں نے اس پہلو پر بہت زیادہ غور کیا تو اس نتیجے پر پہنچے ۔سورج جب وجود میں آیا تھا تو ابتداء میں اس کے گرد بیس سیارے چکر لگا رہے تھے ان میں ایک سیارہ جو مریخ جتنا تھا اور اس کا نام ہے تھیا وہ زمین سے آکر ٹکرایا تو بہت تباہی ہوئی۔ چٹانیں آہستہ آہستہ جو زمین اور سیارے سے نکلی تھیں وہ زمین کے گرد چکر لگانا شروع ہو گئیں اور اکٹھی بھی ہوتی چلی گئیں ۔
اس طرح سے چاند معرض وجود میں آیا ۔ آج ہم ان ساری چٹانوں کو چاند کی شکل میں دیکھتے ہیں اور یہ نظریہ غلط ثابت ہوا کہ چاند ابتداء ہی سے وجود میں آگیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ چاند سورج بننے کے کچھ عرصہ بعد وجود میں آیا جب دوسیارے آپس میں ٹکرائے ۔ ایسٹرائیڈ بھی نظام شمسی میں پائے جاتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد دس ہزار اور لمبائی ایک میل ہے ۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایسٹرائیڈ ہمارے بہت قریب ہیں جب کہ یہ ہم سے دس لاکھ میل دور واقع ہیں ۔
نظام شمسی کی بیرونی سائیڈ پر جائیں گے تو وہاں پانی مائع شکل میں نہیں ملے گا بلکہ آئسی شکل میں ملے گا۔ ٹمپریچر یہاں پر بہت کم ہے ۔ یعنی مائنس 70سینٹی گریڈ ہے ۔ یہ وہ ٹمپریچر ہے جس میں گیسز ہائیڈروجن میتھین اور ایمونیا کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ جب ان گیسز کا سائز زمین سے 10گنا بڑھ جاتا ہے تو اس کا ایک اثر ہوتا ہے جسے سونا بال اثر کہتے ہیں ۔ یہاں پر جیوپیٹر اور Saturnموجود ہیں جن کے سائز بھی بہت بڑے ہیں ۔ جیو پیٹر 90فیصد گیسز سے بنا ہوا ہے ۔ لیکن اس کا ہمیں فائدہ بھی بہت ہے کیونکہ یہ زمین کے لیے بڑے بھائی کا کردار ادا کرتا ہے ۔یعنی جب بھی زمین کی طرف کوئی ایسٹرائڈ اور کومٹ آنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ سب سے پہلے اس کے سامنے دیوار بن کر کھڑا ہوجاتا ہے اور اس طرح سے زمین اوراس کے باسی محفوظ رہتے ہیں ۔ چنانچہ جیوپیٹر سیارہ ہمیں باہر کے خطرات سے محفوظ رکھتا ہے ۔
Saturn کے رنگز بہت زیادہ مشہور ہیں ۔ اگر Saturnذراسا بھی بڑا ہوتا یعنی جیوپیٹر کے سائز کا تو پھر یہ دونوں دیو مل کر باقی تمام سیاروں کو کھا جاتے اس لیے اس کا سائز جیو پیٹر سے چھوٹا ہونا نظام شمسی کی بقاء اور زمین پر انسانی حیات کا باعث ہے ۔ جب ہم سورج سے چالیس بلین میل فاصلے پر جاتے ہیں تو ہم کو ایک ایسی بیلٹ ملتی ہے جس کو کوپر بیلٹ کہا جاتا ہے ۔ اس میں بہت سے اسٹرائڈ موجود ہوتے ہیں اور یہ ہمارے سولر سسٹم کی بیرونی باؤنڈری بناتے ہیں اگر اس سے ہم آگے جائیں تو اوٹ کلاؤڈ ہے جس نے ہر طرف سے ہمارے نظام شمسی کو کور کیا ہوا ہے جس طرح مثال کے طور پر چھلکے نے کینو کو کور کیا ہوتا ہے ۔ یہاں تک پہنچنے کے لیے ہمیں ایک نوری سال کا سفر کرنا پڑے گا اور یہ ہے ہمارے نظام شمسی کی آخری حد ۔اس کے بعد ہمارے سولر سسٹم کا باقاعدہ اختتام ہو جاتا ہے ۔
کائنات کا آخری سچ جاننے کے لیے نہ جانے انسان کو کتنے نوری سال کا انتظار کرنا پڑے گا ۔ جب کہ تازہ ترین ریسرچ کے مطابق کائنات ایک نہیں ایک سے زیادہ ہیں۔
Today News
کمزور ٹیموں کیخلاف بریڈ مین مگر؟
اگر میچ سے چند گھنٹے قبل تیز بارش ہو چکی اور آغاز کے بعد بھی امکان ہو تو آپ ٹاس جیت کر پہلے کیا کریں گے؟
اگر آپ کا کوئی بولر حریف ٹیم کے اعصاب پر سوار ہو تو آپ اسے جلد بولنگ دیں گے یا آدھی اننگز ختم ہونے کا انتظار کریں گے؟
اگر آپ کا اہم ترین فاسٹ بولر آؤٹ آف فارم ہو اور دوسرے بولر کو پہلے ہی اوور میں وکٹ مل جائے تو اہم پیسر کو دوسرا اوور دیں گے یا مومینٹم برقرار رکھنے کیلیے اسپنر کو لائیں گے؟
پہلے اوور میں اسٹار بولر نے زیادہ رنز دے دیے اب آخری اوور اسے دیں گے یا کسی اور کو گیند تھمائیں گے؟
آپ اپنے سب سے بڑے بیٹر کی خامیاں میڈیا کے سامنے بیان کریں گے یا ڈریسنگ روم میں بات ہو گی؟
ایک سینئر بیٹر جس کا بڑا نام ہے آپ اسے مسلسل باہر بٹھائیں گے یا کھلائیں گے؟
اگر آپ میں تھوڑی سی بھی کرکٹ کی سمجھ ہے تو ان سوالات کے جواب مشکل نہیں لگیں گے، ظاہر ہے آپ کو اس کے پیسے بھی نہیں مل رہے لیکن اگر کوئی کروڑوں روپے معاوضہ لینے کے باوجود الٹ فیصلے کررہا ہے تو اس کو کیا کہیں؟
بدقسمتی سے ورلڈکپ میں اب تک ایسا ہی ہو رہا ہے، پاکستانی ٹیم مینجمنٹ نے ایسے عجیب وغریب فیصلے کیے جس پر لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جائیں، شاید وہ خود کو عقل کل اور دوسروں کو اپنے سامنے کچھ نہیں سمجھتے۔
اگر ہم دوسرے راؤنڈ میں پہنچے تو اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں، آئی سی سی کو دعائیں دیں، چونکہ پاکستان اور انڈیا میں میچ دیکھنے والے کروڑوں شائقین ہیں اس لیے مالی نقصان سے بچنے کیلیے دونوں ٹیموں کو ایسے گروپس میں رکھا جاتا ہے جہاں کمزور حریفوں کی موجودگی میں باآسانی دوسرے مرحلے میں پہنچ جائیں۔
ماضی میں جب دونوں سائیڈز آغاز میں ہی باہر ہو گئی تھیں تو کونسل کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا تھا، گوکہ انڈین ٹیم اب بہت آگے نکل گئی لیکن گرین شرٹس کے گروپ میں اگر آپ یوگینڈا، نیپال اور یو اے ای کو بھی رکھ دیں تب بھی کوئی جیت کی ضمانت نہیں دے سکتا۔
امریکا کا ورلڈکپ یاد کریں جہاں ہم نوآموز میزبان ٹیم سے ہی ہار گئے تھے، اس بار تو نیدرلینڈز سے پہلے ہی مقابلے میں تقریبا شکست ہو ہی گئی تھی وہ تو فہیم اشرف نے غیرمعمولی بیٹنگ کر کے لاج رکھ لی،امریکا اور پھر نمیبیا کو ہرا کر ٹیم سپر8 میں تو پہنچ گئی۔
لیکن انڈیا سے ناکامی بھلائی نہیں جا سکتی، اب نیوزی لینڈ سے مقابلہ بارش کی نذر ہو گیا تو سیمی فائنل میں رسائی کا سفر بیحد دشوار بن چکا۔
انگلینڈ نے گوکہ بہترین بولنگ کی بدولت سری لنکا کو تو زیر کر لیا لیکن اس کی بیٹنگ لائن فلاپ ہے، یہاں بھی قسمت ہمارا ساتھ دے سکتی ہے، انہی دونوں ٹیموں کو اگلے میچز میں ہرا دیا تو فائنل فور میں جگہ مل جائے گی۔
البتہ پھر اگلے دونوں مقابلے مضبوط ترین حریفوں سے ہوں گے، اگر ہم اب تک کی کارکردگی کی جائزہ لیں تو اسے کسی صورت بہترین قرار نہیں دیا جا سکتا ، یہاں تک لانے میں بھی اہم ترین کردار صاحبزادہ فرحان کا ہے جنھوں نے نمیبیا کیخلاف سنچری بھی بنائی،اس سے پہلے وہ 50،60 رنز کو ہی کافی سمجھ کر آؤٹ ہو جاتے تھے لیکن اب اننگز کو آگے بڑھانے میں کامیاب رہے ہیں۔
دوسرے اوپنر صائم ایوب کو ہم نے بہت جلدی آسمان پر چڑھا دیا،بظاہر وہ نمبر ون آل راؤنڈر ہیں لیکن کارکردگی کسی صورت اس کی عکاسی نہیں کرتی، ان کا اصل کام بیٹنگ ہے لیکن5 میچز میں 15 کی اوسط سے 63 رنز ہی بنا سکے ہیں۔
آج کل کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں تو کسی ٹیل اینڈر کے اعدادوشمار بھی اس سے بہتر ہوں گے،جتنے مواقع صائم کو ملے شاید ہی چند برسوں میں کسی اور کو ملے ہوں لیکن وہ پھر بھی اپنی کارکردگی میں تسلسل نہ لا سکے اور ’’نولک شاٹ‘‘ کے سحر میں ہی پھنسے رہے۔
پاکستان میں کپتان بننے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ من مانیوں کا موقع مل جاتا ہے، ٹی ٹوئنٹی میں نمبر 3 اہم ترین پوزیشن ہوتی ہے، سلمان علی آغا نے اس پر قبضہ کر لیا لیکن ورلڈکپ کے 5 میچز میں 13 کی اوسط سے55 رنز ہی بنا سکے ہیں، بطور کپتان بھی ان کے فیصلے درست نہیں لگ رہے۔
بابر اعظم کو ورلڈکپ اسکواڈ میں شامل کرنے کی ہم سب نے حمایت کی تھی لیکن وہ مایوس کر رہے ہیں، اب تک صرف 66 رنز ہی ان کے نام پر درج ہیں.
چوتھے نمبر پر کھیلنے سے وہ مطمئن نہیں لگتے لیکن آغاز میں بیٹنگ کرانا پاور پلے کے اوورزضائع کرنے کا سبب بنے گا، اگر بقیہ میچز میں بابر کچھ نہ کر سکے تو انھیں اپنے مستقبل کے حوالے سے کوئی فیصلہ کر لینا چاہیے۔
عثمان خان اس ٹیم کی سب سے کمزور کڑی ہیں، انڈیا کیخلاف جب میچ ہاتھ سے نکل گیا تو انھوں نے تھوڑے رنز بنا لیے لیکن مجموعی طور پر مسلسل ناکام ہیں۔
انھوں نے یو اے ای کی کرکٹ کو چھوڑنے کا جو ’’احسان ‘‘ کیا اب تک اس کا پھل کھا رہے ہیں، کئی بیٹرز کمزور ٹیموں کے خلاف تو بریڈمین لگتے ہیں لیکن بڑے حریفوں کے سامنے کچھ نہیں کر پاتے۔
شاداب جیسے پلیئرز پر سابق کرکٹرز تنقید کریں تو وہ برا مان کر جواب دے دیتے ہیں، حالانکہ ان کے پاس تو بیٹ اور بال موجود ہے، زبان کے بجائے اس سے اچھا پرفارم کر کے جواب دیں، آپ سوچیں کہ اس بیٹنگ لائن کے ساتھ ہم انڈیا کو ہرانے کا خواب دیکھ رہے تھے؟
فخر زمان کو ساتھ لے کر تو گئے ہیں مگر کھلایا نہیں جا رہا، بولنگ میں ہمارے اہم ترین پیسر شاہین آفریدی آؤٹ آف فارم ہیں، فہیم اشرف پر تو ٹیم مینجمنٹ کو ہی بھروسہ نہیں لہذا بہت کم گیند تھمائی جاتی ہے، محمد نواز اور ابرار احمد کی اسپن بولنگ کا جادو بھی نہیں چل پا رہا۔
البتہ عثمان طارق کے حوالے سے جتنی ہائپ بنی تھی وہ ویسا پرفارم کرنے میں کامیاب بھی رہے ہیں، اگر انڈیا کیخلاف ان کا درست وقت پراستعمال کیا جاتا تو شاید وکٹیں اڑا دیتے، سلمان کی قیادت اور مائیک ہیسن کی کوچنگ پر سوال اٹھنے لگے ہیں، دونوں نے کئی بنیادی غلطیاں کی ہیں۔
اب وقت کم ہے، انگلینڈ اور سری لنکا کو کسی صورت آسان نہیں سمجھا جا سکتا، پیش قدمی جاری رہی تو آگے مزید مضبوط حریف ملیں گے، لہذا ٹیم کو کمر کس لینی چاہیے، جس طرح کھلاڑی پی ایس ایل کی نیلامی میں اپنے ریٹ کی فکرمیں ہلکان ہوئے جا رہے تھے کاش کارکردگی کے حوالے سے بھی کچھ فکر کر لیں۔
ابھی تک تو ٹیم نے مایوس ہی کیا ، اب دعا کی جا سکتی ہے کہ بقیہ میچز میں کچھ بہتر پرفارمنس سامنے آئے ورنہ پی ایس ایل سے ہی دل بہلا لیں گے جس کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ اس میں پاکستانی ٹیم نہیں ہارتی لہذا کوئی ٹینشن نہیں ہوتی۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)
Today News
کراچی، سائٹ ایریا کی فیکٹری میں آگ بھڑک اٹھی، فائر بریگیڈ کی چار گاڑیاں آگ بجھانے میں مصروف
کراچی:
شہر قائد کے علاقے سائٹ ایریا میں نورس چورنگی کے قریب ٹیکسٹائل فیکٹری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کرلی۔
ریسکیو حکام کے مطابق آگ پلاسٹک کولر بنانے والی فیکٹری میں لگی جہاں بڑی مقدار میں پلاسٹک دانہ اور فوم موجود ہونے کے باعث شعلے تیزی سے پھیل گئے۔
ترجمان فائربریگیڈ کا کہنا ہے کہ آگ بجھانے کے لیے ابتدائی طور پر ایک گاڑی موقع پر پہنچی، بعدازاں مزید گاڑیاں طلب کرلی گئیں اور مجموعی طور پر چار فائربریگیڈ کی گاڑیاں آگ پر قابو پانے میں مصروف ہیں۔
حکام کے مطابق فائر فائٹرز آگ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے بھرپور کارروائی کر رہے ہیں جبکہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment1 week ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Tech6 days ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Business2 weeks ago
Pre-Ramazan hikes in essential commodities’ prices pinching consumers
-
Tech2 weeks ago
5 Satellite Internet Firms Are Ready, But Pakistan’s Regulators Are Not