Connect with us

Today News

کراچی، سائٹ ایریا کی فیکٹری میں آگ بھڑک اٹھی، فائر بریگیڈ کی چار گاڑیاں آگ بجھانے میں مصروف

Published

on



کراچی:

شہر قائد کے علاقے سائٹ ایریا میں نورس چورنگی کے قریب ٹیکسٹائل فیکٹری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کرلی۔

ریسکیو حکام کے مطابق آگ پلاسٹک کولر بنانے والی فیکٹری میں لگی جہاں بڑی مقدار میں پلاسٹک دانہ اور فوم موجود ہونے کے باعث شعلے تیزی سے پھیل گئے۔

ترجمان فائربریگیڈ کا کہنا ہے کہ آگ بجھانے کے لیے ابتدائی طور پر ایک گاڑی موقع پر پہنچی، بعدازاں مزید گاڑیاں طلب کرلی گئیں اور مجموعی طور پر چار فائربریگیڈ کی گاڑیاں آگ پر قابو پانے میں مصروف ہیں۔

حکام کے مطابق فائر فائٹرز آگ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے بھرپور کارروائی کر رہے ہیں جبکہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

رمضان اور حکومت کی نمک پاشی

Published

on


مقدس مذہبی تہوار ہر قوم کے لیے ان کے عقائد و عبادات کے حوالے سے ایک منفرد شناخت اور پہچان رکھتے ہیں۔ ہر مذہب کے لوگ اپنے اپنے عقیدے اور ایمان کے مطابق مذہبی احترام کے ساتھ اپنے تہواروں کو مناتے ہیں۔

 دنیا کی تقریباً ڈیڑھ ارب آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے جو دنیا کے مختلف ملکوں اور خطوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ رمضان المبارک مسلمانوں کا ایک خاص مذہبی تہوار ہے، روزہ تقویٰ، پرہیزگاری اور تزکیہ نفس کی علامت ہے۔ اس ماہ مقدس کا سب سے عظیم تحفہ نزول قرآن ہے جو دنیا بھر کے انسانوں کے لیے راہ ہدایت اور مکمل طور پر ضابطہ حیات ہے جس پر عمل کر کے لوگ نجات کی منزل پا سکتے ہیں۔

رمضان المبارک کے آغاز سے چار روز پیشتر ہی مسلم لیگ (ن) کی اتحادی حکومت نے پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں ایک بڑا اضافہ کرکے کروڑوں غریب عوام پر مہنگائی کا بم گرا دیا۔ پاکستان میں رمضان المبارک کا آغاز ہوتے ہی پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے کروڑوں غریبوں کی مشکلات میں غیر متوقع اضافہ ہو جاتا ہے۔ مہنگائی و گرانی کا جن یک دم بوتل سے باہر آ جاتا ہے غریب آدمی سحری و افطاری کا اہتمام کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ گوشت، سبزی، دالیں، انڈے، دودھ، دہی اور سب سے بڑھ کر پھل فروخت کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ منافع خور ذخیرہ اندوزوں کی چاندی ہو جاتی ہے۔

روزمرہ استعمال کی تمام اشیا کی قیمتیں عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو جاتی ہیں۔ حکومت دعوے کرتی ہے کہ وہ رمضان المبارک کے دوران مہنگائی کنٹرول کرنے اور تمام اشیا ضرورت کی چیزوں کے نرخوں کو قابو رکھنے کے لیے بھرپور اور فول پروف انتظامات کرے گی تاکہ غریب آدمی بھی باآسانی روزوں کی برکتوں اور نعمتوں سے فیض یاب ہو سکے لیکن عملاً ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ موجودہ حکومت نے تو انتہا کر دی، آغاز رمضان سے پہلے ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر مہنگائی میں اضافہ کر دیا۔ کیوں کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب بھی بجلی، گیس، ڈیزل، پٹرول، مٹی کے تیل اور توانائی و ایندھن سے متعلق اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو چیزوں کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے جس کا براہ راست اثر اشیا خور و نوش اور روز مرہ استعمال کی تمام چیزوں کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی بڑھ جاتے ہیں۔

حکومت کو رمضان المبارک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے گریز کرنا چاہیے تھا۔ رمضان تو نیکیاں کمانے اور آسانیاں فراہم کرنے کا مہینہ ہے جیسا کہ خود وزیر اعظم شہباز شریف نے 38 ارب رمضان پیکیج کا اعلان کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ صرف بدنی عبادات نہیں بلکہ یہ وسائل تقسیم کرنے کا مہینہ ہے، حکومت چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ایک کروڑ 21 لاکھ خاندانوں تک 13 ہزار روپے فی خاندان کے حساب سے 38 ارب روپے کسی سیاسی تفریق کے بغیر تقسیم کرے گی۔ عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سطح غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کل آبادی کا 44 فی صد سے بھی زائد ہے۔

گویا 24 کروڑ کی ملکی آبادی میں غریب افراد کی تعداد تقریباً 11 کروڑ سے بھی زائد ہے۔ گزشتہ دو سالوں کے دوران ہزاروں پڑھے لکھے نوجوان روزگار کی کمیابی کے باعث ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں اور ٹیکسوں کے غیر منتظم نظام کے باعث سیکڑوں صنعتیں بند ہو چکی ہیں اور سرمایہ کار عرب ممالک میں سرمایہ کاری کو فوقیت دے رہے ہیں جس کے باعث ملک میں بے روزگاری کا گراف بڑھتا جا رہا ہے اور غربت میں اضافے کے باعث غریب لوگوں کی تعداد آیندہ ایک دو سال میں 50 فی صد سے تجاوزکرجائے گی۔ جو ارباب حکومت کے لیے یقیناً لمحہ فکریہ ہے۔ صرف ایک کروڑ لوگوں کو محض 13 ہزار روپے کی امداد اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔

ایک طرف ملک میں غربت و بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، لوگوں کے لیے رمضان کے مقدس مہینے میں سحر و افطار کا انتظام کرنا عذاب جاں بن گیا ہے۔ دوسری جانب حکومت نہ صرف گیس، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ اپنے عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ اپنے اللوں تللوں پر خرچ کر رہی ہے۔ تازہ خبر کے مطابق پنجاب حکومت نے 10 ارب روپے کا ایک طیارہ خریدا ہے جسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حکومت کی جاری کردہ غربت کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سندھ اور پنجاب میں غربت میں ماضی کی نسبت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے ماحول میں حکومت کو کفایت شعاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے نہ کہ فضول خرچیاں اور گرانی میں اضافہ غریب لوگوں کے زخموں پر نمک پاشی کرنے کے مترادف ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایک اور رسوائی بھارت کے گلے پڑ گئی، میچ سے قبل جاری کردہ پرومو شکست کے بعد ڈیلیٹ

Published

on


آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے سپر 8 مرحلے میں جنوبی افریقا نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے بھارت کو 76 رنز سے شکست دے دی، جس کے بعد میچ سے پہلے جاری کیا گیا بھارتی براڈکاسٹر کا طنزیہ پرومو الٹا اس کے گلے پڑ گیا۔

میچ سے قبل نشر کیے گئے اشتہار میں جنوبی افریقا کو کمزور جبکہ بھارت کو برتری کی علامت کے طور پر دکھایا گیا تھا۔

پرومو میں کپ کیک کے استعارے کے ذریعے بھارتی ٹیم کی جیت کو یقینی قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ تاریخ ایک بار پھر دہرائی جائے گی اور جنوبی افریقا کو شکست ہوگی۔

تاہم میدان میں صورتحال یکسر مختلف رہی۔ جنوبی افریقا نے نہ صرف بھارت کو بڑے مارجن سے ہرایا بلکہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں رنز کے اعتبار سے ٹیم انڈیا کو اس کی بدترین شکست بھی دے دی۔

میچ کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے بھارتی براڈکاسٹر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں متنازع پرومو خاموشی سے ڈیلیٹ کر دیا گیا۔

کرکٹ شائقین کا کہنا ہے کہ قبل از وقت دعوے اور طنزیہ مہمات اکثر ٹیموں کے لیے دباؤ کا باعث بنتی ہیں، جبکہ جنوبی افریقا نے اپنی کارکردگی سے ثابت کر دیا کہ میدان میں نتیجہ صرف کھیل ہی طے کرتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

سید سلمان گیلانی اور ارشد خرم مرحوم

Published

on


‘ فاروق صاحب!خیریت تو ہے؟’

یہ ارشد خرم تھے۔ ‘تکبیر’کی کاپی پیسٹ کرتے کرتے انھوں نے نظر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فکر مندی سے سوال کیا۔ کاپی اخبار کی ہو یا ہفت روزے کی، اس کا بھیجنا چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔ مرحوم و مغفور خالد ایم اسحاق ایڈووکیٹ اسے درد زہ سے تشبیہ دیا کرتے تھے۔ ‘ تکبیر’ کا دفتر اس وقت اسی کیفیت سے دوچار تھا اور کاپی انچارج کی حیثیت سے معاملات میرے ہاتھ میں تھے۔ عین اس وقت جب تقریباً نصف کام باقی تھا، یوں محسوس ہوا جیسے میرا چہرہ اور کان تپ اٹھے ہوں۔ ایسی کیفیت بخار میں ہوتی ہے لیکن یہ بخار نہیں تھا۔ ارشد خرم نے فٹا( اسکیل)ایک طرف رکھا، قلم کان پر اڑسا اور آنکھیں نچاتے ہوئے اختر ملہی، محبوب اور دیگر ساتھیوں کو پکار کر کہا:

‘ حسن دے لشکارے ویکھو اوئے۔’

ارشد دوستوں کے دکھ درد میں شریک ہونے اور ضرورت کے وقت آگے بڑھ کر تعاون کرنے والے تھے لیکن کبھی ان کے لہجے میں طنز کی گہری کاٹ بھی ہوتی جسے سن کر ان کا مخاطب عام طور پر کٹ کر رہ جاتا۔ ارشد خرم کے تبصرے نے مجھے بھی لحظہ بھر کے لیے پریشان کیا لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے میرا شک یقین میں بدل دیا کہ میرا چہرہ اور کان سرخ ہو رہے ہیں۔ میں نے بے اختیار اپنے کان چھوئے جو بری طرح تپ رہے تھے۔ میں نے اس بارے میں کہا کچھ نہیں البتہ فٹا اٹھا کر ارشد کو دیتے ہوئے کہا کہ بھائی جی! باتیں مت بنا، جلدی جلدی کام نمٹا۔’

‘ فاروق صاحب!یہ بی پی کے آثار ہیں، بہتر ہے کہ کچھ آرام کر لیں۔’

ارشد خرم نے اب فکر مندی سے کہا۔ یہ پہلی بار ہو گی جب میں نے بلڈ پریشر کی کیفیت محسوس کی ہو گی۔ میں نے کہا:

‘ بی پی کو چھوڑیں، کام جلدی جلدی نمٹائیں، رات بیت رہی ہے۔’

ارشد نے کام کی طرف توجہ کرنے کے بہ جائے کاپی لپیٹ کر ایک طرف رکھی اور ساتھ رکھے فون کا ڈائیل گھما دیا۔ دوسری طرف فون جس نے اٹھایا ہو گا، اسے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب!ہمارے باس کی طبیعت خراب ہو رہی ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ ان کا بی پی شوٹ کر گیا ہے۔ جلدی پہنچیں۔’

بلڈ پریشر کی حشر سامانیوں سے میں واقف تھا لیکن یہ مجھے بھی پریشان کر سکتا ہے، اس بارے میں؛ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا لیکن تھوڑی دیر کے بعد استھیسکوپ(stethoscope) سنبھالے ہوئے ایک صاحب دفتر میں داخل ہوئے اور مجھے ٹوٹیاں لگانے کے بعد انھوں نے ارشد خرم کے خدشے کی تصدیق کر دی تو میرے ہوش اڑ گئے۔ میرے سر پر کاپی بھیجنے کی فکر سوار تھی، رات بیت رہی تھی، اس پر بلڈ پریشر کا حملہ جس کا مزہ میں پہلی بار چکھ رہا تھا۔ دفتر میں میرے سوا اور کوئی سینئر نہیں تھا، میری وجہ سے کام رک جاتا تو پرچے کی پروڈکشن، پرنٹنگ اور سرکیولیشن کا سارا نظام الاوقات متاثر ہو جاتا۔ میں ابھی اسی فکر میں غلطاں تھا کہ اپنے دوست ڈاکٹر کا فراہم کیا کیپسول انھوں نے میرے ہاتھ میں دیا اور کہا کہ اسے زبان تلے پھوڑ کر صوفے پر آنکھیں بند کر کے لیٹ جائیں۔ کام کی پروا نہ کریں۔ آپ نے جو چیزیں تیار کر رکھی ہیں، انھیں میں آپ کی ہدایت کے مطابق تیار کر دوں گا۔ تھوڑی دیر کے بعد جب آپ کی طبیعت بہتر ہو گی، اطمینان سے چیک کر لیجیے گا۔ ارشد خرم کے مزاج کے ہر پہلو سے ہم لوگ واقف تھے لیکن ان کی شخصیت کا یہ پہلو پہلی بار ہمارے سامنے آیا اور دلوں میں گھر کر گیا۔

1994 میں خوش نصیبی نے دستک دی اور ہم شہید محمد صلاح الدین کی قیادت میں حرمین شریفین کے سفر پر روانہ ہوئے۔ یہ صرف سعادت کا سفر نہیں تھا، اس کا تعلق روزگار سے بھی تھا۔ اس زمانے میں سعودی عرب کی حکومت حج کے دنوں میں مختلف زبانوں میں روزنامہ اخبار شائع کیا کرتی تھی جس کی ذمے داری مملکت کے کسی بڑے اخبار کو سونپی جاتی۔ ریاض ڈیلی کو جس برس یہ ذمے داری ملتی وہ اس کام کے لیے صلاح الدین صاحب سے رابطہ کیا کرتا۔ اس برس جن لوگوں کے نام کا قرعہ نکلا، ان میں مخدومی اطہر ہاشمی مرحوم کے علاوہ تین دیگر صحافی بھی شامل تھے جن میں ان سطور کا لکھنے والا بھی شامل تھا جب کہ ڈیزائنر اور خطاط کی حیثیت سے ارشد خرم بھی شریک سفر تھے۔

سفر انسان کی خوبیاں اور خامیاں سب کھول کر رکھ دیتا ہے، اس سفر میں بھی یہی ہوا۔ بہت سے ہم سفروں کے مزاج کے بہت سے گوشے عریاں ہوئے، ان میں ظاہر ہے کہ ارشد بھی شامل تھے۔ ضرورت کے وقت ساتھیوں کے کام آنا اور ان کے لیے اپنا حق بھی چھوڑ دینا۔ سارے کام کرنے والے اور اکٹھا رہنے والے اکثر ایسے ہی ہوتے ہیں، ارشد بھی مختلف نہ تھے۔ اس لیے اس سفر کی ایسی کوئی خاص بات میری یادداشت میں محفوظ نہیں جو بات یادداشت میں محفوظ ہے، وہ بالکل مختلف اور حیران کن ہے۔

ریاض میں ہماری رہائش فائیو اسٹار ہوٹل میں تھی، روزمرہ کے اخراجات کے لیے ریاض ڈیلی نے خاصی معقول رقم ہمیں دے رکھی تھی۔ اس لیے میرے سمیت بیشتر ہم سفروں کی جیبوں میں سوراخ ہو گئے۔ یہ دیکھ کر ارشد کڑھتے اور ٹوکتے۔ کوئی ان کی سنتا، کوئی نہ سنتا۔ انھیں معلوم تھا کہ میرے گھر والوں نے میری شادی کا فیصلہ کر رکھا ہے جو اس سفر کے فوراً بعد طے تھی۔ وہ مجھے خاص طور پر احتیاط کا مشورہ دیتے۔

ریاض کے بعد ہمیں مدینہ شریف جانا تھا۔ کوئی دن جاتے ہیں کہ ہم حضور ﷺ کی بستی میں ہوں گے، آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضری ہو گی، آپ جن گلی کوچوں اور راستوں سے گزرے، ان راستوں سے ہمارا گزر بھی ہو گا، اس خیال سے سارے مسافرہی جذباتی تھے، ارشد بھی، ادھر کوئی بات ہوتی، ارشد کی آنکھیں چھلک پڑتیں۔ جذب کی کیفیت بھی اس سے ملتی جلتی ہی ہو گی۔ تصوف میں صرف جذب نہیں اس کے ساتھ ہوشیاری بھی مطلوب ہے۔ ہم مسافروں میں صرف ارشد ہی تھے جن کے اوسان اس کیفیت میں بھی بحال تھے۔ ہمارا خیال تھا کہ قسمت ہمیں شہر نبی میں لائی ہے تو کیوں نہ ہم یہیں کے ہو کر رہ جائیں، اس کی مٹی میں مٹی بن جائیں۔ یہ صرف ارشد تھے جنھوں نے ہمیں اس کیفیت سے نکالا اور بتایا کہ یہاں جو تم نے کمایا ہے، یہ سب تمھارا نہیں، اس میں بہت سا حق گھر والوں کا بھی ہے لہٰذا جذبے کے ساتھ حقیقت کو پیش رکھنا بھی لازم ہے۔ یہی سبب تھا کہ ہم جو یہاں ہفتہ، دس دن بلکہ اس سے بھی زیادہ رہنے کے درپے تھے، چار روز میں ہی بہ چشم تر بلکہ ارشد کو کوستے ہوئے یہاں سے کوچ کر گئے۔ ممکن ہے کہ ارشد ہماری باتوں سے دکھی ہوئے ہوں لیکن اس وقت قبلہ ہاشمی صاحب بروئے کار آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ارشد ہے جس کے اضطراب نے تمھاری پیاس بڑھا دی ہے۔ اس رمز کو کوئی سمجھا کوئی نہ سمجھا البتہ ارشد کے سرخ و سپید چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔ یہ واقعہ گزرے زمانہ بیت گیا لیکن وہ مسکراتا ہوا چہرہ آج بھی میرے سامنے ہے۔

سید سلمان گیلانی

سید سلمان گیلانی اللہ کو پیارے ہوئے۔ان سے براہ راست یاد اللہ نہ تھی لیکن ان کی دل نشیں شخصیت کے اثرات دور دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ چند برس ہوتے ہیں ، برادرم علامہ عبد الستار عاصم کے ذریعے ان سے رابطہ ہوا۔ ملاقات تو نہ ہو سکی لیکن دل قریب ہو گئے۔وہ دین دار شخصیت تھے۔ ہمارے یہاں دین سے تعلق کا ایک مطلب بنی نوع انسان سے بیزاری بھی سمجھا جاتا ہے لیکن سید صاحب کی باغ و بہار شخصیت میں پاکیزہ فطرت کے تمام رنگ تھے۔ ہمارے یہاں شاعرانہ ترنم کے چند خاص انداز ہیں لیکن سید صاحب نے اس ترنم کو نیا آہنگ دیا جس کی بنیادیں محراب و منبر میں رکھی گئیں۔اللہ تعالی ان کی آیندہ منزلیں آسان فرمائے اور انھیں اعلی علیین میں جگہ عطا فرمائے ۔





Source link

Continue Reading

Trending