Connect with us

Today News

کراچی، ماہ صیام میں بھی لٹیرے بے لگام، شہری سے ڈکیتی کی واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظرعام پر آگئی

Published

on



کراچی:

شہر قائد میں ماہ رمضان کے دوران بھی اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں رک نہ سکیں، ماڈل کالونی کے علاقے نشتر پارک کے قریب موٹرسائیکل سوار شہری سے ڈکیتی کی واردات پیش آئی جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظرعام پر آگئی ہے۔

فوٹیج کے مطابق دو موٹرسائیکلوں پر سوار تین مسلح ڈاکوؤں نے سڑک پر جاتے ہوئے موٹرسائیکل سوار شہری کو روکا اور اسلحے کے زور پر لوٹ لیا۔

ایک ملزم نے شہری سے موٹرسائیکل چھیننے کی بھی کوشش کی تاہم شہری کی مزاحمت کے باعث ڈاکو موٹرسائیکل چھیننے میں ناکام رہے۔

سی سی ٹی وی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزمان شہری کا پرس چھین کر موقع سے فرار ہو گئے جبکہ واردات چند لمحوں میں انجام دی گئی۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایران کی نئی قیادت کو بھی مار دیں گے، ٹرمپ کی دھمکی

Published

on



FLORIDA:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ری پبلکن ارکان کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف انتہائی سخت اور جارحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں جو بھی نئی قیادت سامنے آئی اسے مار دیا گیا اور آئندہ آنے والی قیادت کو بھی مار دیا جائے گا۔

اپنے خطاب میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور اسرائیل مل کر ایران کے خلاف بڑے فوجی آپریشنز کر رہے ہیں اور ایرانی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی افواج نے ایران کے پانچ ہزار اہداف کو نشانہ بنایا اور ایرانی بحریہ کے 51 جنگی جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں۔

امریکی صدر کے مطابق ایرانی بحری جہاز اب سمندر کی تہہ میں موجود ہیں جبکہ ایران کی ڈرون اور میزائل صلاحیت بھی بڑی حد تک تباہ کر دی گئی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکا نے یہ آپریشن نہ کیا ہوتا تو ایران دو ہفتوں کے اندر ایٹم بم حاصل کر لیتا جو دنیا کے لیے انتہائی خطرناک صورتحال ہوتی۔

ٹرمپ نے کہا کہ دنیا اس وقت ایک بڑے اور مشکل فوجی آپریشن “ایپک فیوری” کو دیکھ رہی ہے جو ان کے بقول آپریشن مڈنائٹ ہیمر سے بھی زیادہ مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔

اپنے خطاب میں امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے اپنی پہلی مدت میں امریکی فوج کو مضبوط بنانے پر کام کیا جبکہ دوسری مدت میں اس طاقت کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج دنیا کی سب سے بہترین اور طاقتور فوج ہے اور اب پوری دنیا کو اس کا اندازہ ہو چکا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور بااثر ہو چکا ہے اور ہم تیزی سے امریکا کو دوبارہ عظیم بنا رہے ہیں۔

انہوں نے سابق صدر جو بائیڈن کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے افغانستان سے امریکی انخلا کو امریکی تاریخ کا شرمناک مرحلہ قرار دیا اور کہا کہ اس فیصلے نے امریکا کی ساکھ کو نقصان پہنچایا تھا تاہم اب دنیا پہلے سے کہیں زیادہ امریکا کی عزت کر رہی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

بڑھتے حکومتی اخراجات کا عوام پر مزید بوجھ

Published

on


ایک آزاد تھنک ٹینک کے مطابق حکومت پاکستان عوام پر مسلسل مالی بوجھ بڑھانے میں مصروف ہے توگزشتہ تین برس میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے اخراجات پرکنٹرول نہیں کر رہیں بلکہ اپنے حکومتی اخراجات مسلسل بڑھا رہی ہیں۔ گزشتہ تین سالوں میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اخراجات میں ساٹھ فی صد اضافہ ہوا ہے۔

نان انٹرسٹ اخراجات میں 70 فی صد اور عملے سے متعلق اخراجات میں 59 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گلوبل تھنک ٹینک نیٹ ورک کے مطابق GCDA میں بدعنوانی کے خطرات کو تسلیم کیا گیا ہے لیکن حکومت نے اس سلسلے میں جو اقدامات کیے ہیں، انھیں تھنک ٹینک نے کمزور اور غیر موثر قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے سیاسی طور پر حساس اصلاحات اور ادارہ جاتی خود مختاری پر سمجھوتہ کیا ہے۔ مجموعی طور پر جی ڈی پی کے 56 فی صد کے برابر بنیادی سرپلس ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہے جو ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ایڈجسٹمنٹ ہے اور اس میں 73 فی صد بوجھ محصولات کے ذریعے ڈالا گیا ہے جس کا زیادہ تر اثر پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے باقاعدہ کاروباروں، تنخواہ دار طبقے اور کم آمدنی والے افراد پر پڑا ہے اور عوام پر بھی اثر پڑا ہے۔

تھنک ٹینک کے مطابق 2022 سے حکومت نے مسلسل مالی استحکام ضرور حاصل کیا ہے جس سے آئی ایم ایف کسی حد تک ضرور مطمئن ہے مگر عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ آئی ایم ایف پاکستان کو قرضوں کی منظوری میں تاخیر پہ تاخیر ضرور کرتا ہے مگر انکار نہیں کرتا۔ تاخیر بھی جان بوجھ کر کی جاتی ہے کیونکہ آئی ایم ایف جانتا ہے کہ اپنے فالتو اخراجات پورے کرنے اور غیر ملکی قرضوں کی برائے نام ادائیگی کے لیے حکومت پاکستان ہماری ہر شرط تسلیم کرے گی اور اپنے عوام پر محصولات کا بوجھ بڑھائے گی مگر قرضہ لینے سے انکار کبھی نہیں کرے گی کیونکہ اپنے شاہانہ حکومتی اخراجات پورا کرنے ، اپنوں کو مسلسل نوازنے اور غیر ملکی دوروں کا ریکارڈ بنانے والوں کے لیے سخت سے سخت شرائط مان کر بھی قرض لینا حکومت پاکستان کی مجبوری بن چکی ہے۔

حکومت خود تسلیم کر چکی ہے کہ ہمیں قرض کے لیے آئی ایم ایف کے گھٹنوں میں بیٹھنا اور ہر شرط ماننا پڑتی ہے تب کہیں وہ اپنی شرط منوا کر اور تاخیری حربے اختیار کرکے قرض کی منظوری دیتا ہے مگر انکار نہیں کرتا کیونکہ آئی ایم ایف نے قرض ضرور دینا ہے اور قرضوں پر ملنے والے سود کی وجہ سے ہی آئی ایم ایف کا کاروبار چلتا ہے۔

آئی ایم ایف کو پاکستانی عوام کا کوئی احساس نہیں ہے بلکہ وہ اپنی شرائط سے پاکستانیوں پر مہنگائی مسلط کراتا اور محصولات بڑھوانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے کیونکہ اسے پتا ہے کہ حکومت اپنے اخراجات پر تو کمی نہیں کرے گی تاکہ قرض ادا کرسکے، اس لیے آئی ایم ایف اپنے قرض کی وصولی کے لیے حکومت کے ذریعے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھواتا ہے اور بے بس عوام ہر ٹیکس دینے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے پاس حکومتی احکامات ماننے سے انکار کی طاقت نہیں ہے۔

وہ حکومت کا ہر عوام دشمن فیصلہ ماننے پر مجبور ہیں اور حکومتی فیصلوں کے خلاف احتجاج یا سڑکوں پر آنے کی سکت ہی نہیں رکھتے، اس لیے موجودہ حکومت نے اپنے ساڑھے تین سالوں میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا بلکہ عوام پر محصولات کا بوجھ ہی بڑھایا ہے اور عوام مہنگائی برداشت کر رہے ہیں۔ تھنک ٹینک کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومت تنخواہ دار طبقے، ٹیکس ادا کرنے والوں پر ہر بجٹ میں بوجھ بڑھا دیتی ہے اور محکمہ خزانہ اس واویلے کا عادی ہو چکا ہے کہ عوام ٹیکس نہیں دیتے جب کہ عوام ہر چیز پر ٹیکس ادا کر رہے ہیں اور حکومت نے تو بچوں کو بھی نہیں بخشا اور بچوں کی اشیا پر بھی سیلز ٹیکس عائد کر رکھا ہے۔

حکومت خود سادگی اختیارکرنے پر یقین نہیں رکھتی بلکہ صرف عوام کو ٹیکسوں کے ذریعے نچوڑنے پر ہی یقین رکھتی ہے۔ حکومت اپنے اخراجات کم کرنے کی بجائے مسلسل بڑھا رہی ہے جس کی تقلید صوبائی حکومتیں کر رہی ہیں۔ کہنے کے لیے اٹھارویں ترمیم میں وفاق اور صوبوں میں کابینہ ارکان کی تعداد کم کرنے کا ذکر ضرور ہے مگر وفاق میں اس پر عمل ہو رہا ہے نہ صوبوں میں بلکہ وزیروں، مشیروں اور معاونین خصوصی کے علاوہ بھی بے شمار کوآرڈینیٹر مقرر کر رکھے ہیں اور اپنوں کو مختلف تخلیق کیے گئے عہدوں پر تعینات کرکے نواز رکھا ہے۔

وفاق نے صوبوں میں اپنے خصوصی نمایندے مقرر کر رکھے ہیں۔ سندھ میں محکمہ اطلاعات موجود ہے مگر لاتعداد حکومتی ترجمان مقررکر رکھے ہیں اور ہر جگہ اپنوں کو نوازنے کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں وفاق اور صوبوں کے اخراجات میں ساٹھ فی صد اضافہ ہوا ہے مگر عوام کے لیے ان حکومتوں کے پاس ریلیف یا سہولتیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ حکومتی اخراجات بڑھنے کا سارا بوجھ عوام پر پڑا ہوا ہے اور عوام حکومتوں کے سرکاری حکام کو ہی نہیں بلکہ سیاسی حامیوں کو بھی پال رہے ہیں۔

صدر مملکت ہوں یا وزیر اعظم اور صوبوں میں بادشاہ بنے ہوئے وزرائے اعلیٰ کوئی عوام کی بات نہیں کرتا، نہ کبھی بے روزگاری اور مہنگائی کا ذکر ان کی زبانوں پر آتا ہے۔ وفاق اپنے مالی وسائل کم ہونے اور صوبوں کے وسائل کم ہونے کا رونا روتا ہے مگر وزیر اعظم اپنے غیر ملکی دورے کم کرنے پر تیار ہیں نہ حکومتیں اپنے اخراجات کم کرنے کی روادار ہیں جس کا واضح ثبوت حکومتی اخراجات میں ساٹھ فی صد اضافہ ہے۔ کاش! حکومتیں قرضے لینا چھوڑیں اپنے وسائل میں رہ کر خرچ کریں تو عوام پر بڑھتا مالی بوجھ کم ہو سکتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی، وزیر داخلہ سندھ کی علامہ شہنشاہ نقوی کی رہائش گاہ آمد، یوم قدس ریلی پر تبادلہ خیال

Published

on



کراچی:

شہر قائد میں وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے خطیب پاکستان علامہ شہنشاہ نقوی کی رہائش گاہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے یوم قدس ریلی کے منتظمین سے ملاقات کی۔

اس موقع پر صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ، ریاض شاہ شیرازی، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، آئی جی سندھ، کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

ملاقات کے دوران حضرت آیت اللہ علی خامنہ ای کی المناک شہادت پر دعا کی گئی جبکہ 21 رمضان المبارک کو نکالی جانے والی یوم قدس ریلی کے سیکیورٹی انتظامات پر تفصیلی گفتگو بھی کی گئی۔

وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو الرٹ رہنے اور ریلی کے شرکاء کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک و قوم کو موجودہ نازک صورتحال میں باہمی افہام و تفہیم اور مذہبی رواداری کی اشد ضرورت ہے۔

اس موقع پر علامہ شہنشاہ نقوی اور یوم قدس ریلی کے منتظمین نے انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ریلی اپنے طے شدہ روٹس پر نظم و ضبط کے ساتھ نکالی جائے گی۔

دوسری جانب میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے ریلی کے موقع پر صفائی ستھرائی، اسٹریٹ لائٹس اور دیگر شہری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔





Source link

Continue Reading

Trending