Today News
کراچی، مختلف واقعات میں 1 شخص جاں بحق، 2 زخمی، ایک شہری ڈاکوؤں کی فائرنگ کا نشانہ بنا
کراچی:
شہر قائد کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 2 افراد زخمی ہوگئے جس میں ایک شہری ڈاکوؤں کی فائرنگ کا نشانہ بنا ۔
تفصیلات کے مطابق بن قاسم کے علاقے پپری پٹھان کالونی ہوٹل میں فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا جس کی لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال لیجائی گئی۔
ایس ایچ او بن قاسم فیصل رفیق نے بتایا کہ مقتول کی شناخت 41 سالہ اللہ نور کے نام سے کی گئی جس وقت فائرنگ کا واقعہ پیش آیا مقتول ہوٹل پر کھانا کھا رہا تھا۔
اس دوران 2 ملزمان جو کہ پیدل تھے آئے انھوں نے اسے فائرنگ کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا اور موقع سے پیدل ہی فرار ہوگئے۔
پولیس کو جائے وقوعہ سے 30 بور پستول کے خول ملے ہیں جبکہ کرائم سین یونٹ نے موقع پر پہنچ کر جائے وقوعہ سے شواہد حاصل کیے ہیں تاہم قتل کا واقعہ بظاہر دشمنی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔
مقتول کا آبائی تعلق وزیرستان سے تھا جبکہ وہ قریب ہی پٹھان کالونی کا رہائشی تھا ، پولیس واقعے سے متعلق مزید معلومات حاصل کر رہی ہے۔
ایک اور واقعہ میں سرجانی ٹاؤن کے علاقے سیکٹر 36 سی خلفائے راشدین مسجد کے قریب فائرنگ سے 40 سالہ حمید اللہ نامی شخص شدید زخمی ہوگیا جسے فوری طبی امداد کے لیے عباسی شہید اسپتال لیجایا گیا۔
چھیپا حکام کا کہنا ہے کہ مضروب کو 2 گولیاں لگی ہیں جبکہ سرجانی ٹاؤن پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر پیش آیا ہے۔
دریں اثنا کورنگی گودام چورنگی کے قریب فائرنگ سے 40 سالہ عمران زخمی ہوگیا جسے طبی امداد کے لیے جناح اسپتال لیجایا گیا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگنے سے پیش آنے کا بتایا جا رہا ہے جس کی پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے ۔
Today News
آبنائے ہرمز – ایکسپریس اردو
زمین کا جغرافیہ بظاہر خاموش اور ساکت دکھائی دیتا ہے مگر تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ یہی خاموشی اکثر جنگوں کے شور میں ڈھل کر انسانیت کی تقدیر کا فیصلہ کرتی ہے۔ پہاڑوں کی بلندیاں صحراؤں کی وسعتیں اور سمندری گزرگاہوں کی تنگیاں محض قدرتی مظاہر نہیں بلکہ طاقت کی سیاست کے اہم کردار ہیں۔
آبنائے ہرمز بھی ایسی ہی ایک گزرگاہ ہے جو خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے مگر اس کی حیثیت صرف جغرافیائی نہیں بلکہ عالمی معیشت اور سیاست کی شہ رگ کی سی ہے۔ دنیا کے تیل کا 20 فیصد حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس تنگ پٹی پر عالمی طاقتوں کی نظریں جمی رہتی ہیں۔
جب ہم جنگوں کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ جغرافیہ نے عسکری طاقت سے بڑھ کر اپنا اثر دکھایا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کی قیادت میں جرمن افواج نے سوویت یونین پر یلغار کی تو ابتدا میں ان کی پیش قدمی ناقابلِ یقین حد تک تیز تھی، لیکن روس کی وسیع سرزمین اور جان لیوا سردی نے اس پیش قدمی کو روک دیا۔
برف سے ڈھکے میدانوں طویل فاصلے اور رسد کی کمی نے جرمن فوج کو مفلوج کر دیا جب کہ اسٹالن کی قیادت میں سوویت افواج نے انھی جغرافیائی حالات کو اپنی طاقت بنا لیا۔ روسی سردی محض موسم نہیں رہی بلکہ ایک ایسی خاموش فوج ثابت ہوئی جس نے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا اور تاریخ کا رخ بدل دیا۔
اسی طرح برصغیر کا خیبر پاس صدیوں تک تہذیبوں کے ملاپ اور حملہ آوروں کی گزرگاہ رہا۔ محمود غزنوی سے لے کر احمد شاہ ابدالی سمیت متعدد افواج اسی راستے سے برصغیر میں داخل ہوئیں، اور یوں یہ درہ محض ایک جغرافیائی مقام نہیں بلکہ تاریخ کے دھارے کو موڑنے والا دروازہ بن گیا۔
1956ء کا سویز بحران بھی اس امر کی یاد دہانی ہے کہ سمندری گزرگاہیں کس طرح عالمی طاقتوں کے تصادم کا باعث بنتی ہیں اور کس طرح تجارت اور سیاست ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں۔
آبنائے ہرمز کے کناروں پر بسنے والے ماہی گیر وہ مائیں جو اپنے بیٹوں کی واپسی کی دعائیں کرتی ہیں اور وہ بچے جن کے خواب جنگی کشیدگی کی نذر ہو جاتے ہیں۔ یہ سب اس عالمی شطرنج کے گمنام کردار ہیں۔
طاقت کی اس کشمکش میں سب سے زیادہ قیمت عام انسان ادا کرتا ہے مگر اس کی آواز اکثر تاریخ کے شور میں دب کر رہ جاتی ہے۔آبنائے ہرمز کو اگر ہم وسیع تر تناظر میں دیکھیں تو یہ صرف ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ تیل کی سیاست اور سامراجی مفادات کی علامت بھی ہے۔
بڑی طاقتیں توانائی کے وسائل پر کنٹرول کے لیے اس خطے میں اپنی موجودگی برقرار رکھتی ہیں جس کے نتیجے میں کشیدگی اور عدم استحکام جنم لیتا ہے۔ یہ صورتحال ہمیں نوآبادیاتی دور کی یاد دلاتی ہے جب وسائل پر قبضے کے لیے قوموں کی تقدیر سے کھیلا جاتا تھا۔
آج بھی حالات کچھ مختلف نہیں صرف انداز بدل گئے ہیں۔ جنگوں کے اثرات کا ایک پہلو یہ بھی ہے جو اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ عورت کس کرب سے گزرتی ہے۔ جنگ کے دوران عورتیں ہجرت ،بیوگی اور سماجی عدم تحفظ کا سامنا کرتی ہیں ان کی زندگیوں میں آنے والے دکھ تاریخ کے صفحات میں کم ہی جگہ پاتے ہیں حالانکہ اصل المیہ انھی کے حصے میں آتا ہے۔
جنگ صرف سرحدوں کو نہیں بلکہ گھروں اور دلوں کو بھی ویران کر دیتی ہے۔ آج جب دنیا جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو چکی ہے، تب بھی جغرافیہ کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔
ڈرونز میزائل اور سائبر جنگیں اپنی جگہ مگر سمندری گزرگاہیں پہاڑی درے اور موسمی حالات اب بھی جنگوں کے نتائج پر اثر انداز ہورہے ہیں۔ آبنائے ہرمز اس حقیقت کی زندہ علامت ہے کہ زمین کی ساخت اور اس کی جغرافیائی حیثیت انسان کی سیاسی اور عسکری تقدیر پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔
یہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ کیا انسان کبھی جغرافیہ کو جنگ کے بجائے امن اور تعاون کا ذریعہ بنا سکے گا؟ کیا یہ ممکن ہے کہ آبنائے ہرمز جیسی گزرگاہیں طاقت کی کشمکش کے بجائے تہذیبوں کے ملاپ اور انسانی یکجہتی کی علامت بن جائیں؟
شاید یہی وہ خواب ہے جسے ادب تاریخ اور انسان دوستی مسلسل زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ زمین تو خاموش ہے مگر اس خاموشی میں انسانیت کے مستقبل کی ایک مدھم سی صدا ضرور سنائی دیتی ہے ایک ایسی صدا جو ہمیں جنگ نہیں بلکہ امن کا راستہ اختیار کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی طاقتوں کی اس کشمکش میں چھوٹے ممالک اکثر دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں اور اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔
آبنائے ہرمز جیسے حساس علاقوں میں معمولی کشیدگی بھی عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیتی ہے جس کے اثرات دور دراز ممالک تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ عام انسان کی زندگی کو براہِ راست متاثر کرتا ہے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اور معاشی عدم استحکام جنم لیتا ہے۔
اس پس منظر میں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ عالمی برادری ذمے داری کا مظاہرہ کرے اور ایسے تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے تاکہ دنیا کو ایک پر امن اور مستحکم مستقبل کی جانب لے جایا جا سکے۔
Today News
امریکا کے حد سے زیادہ مطالبات نے معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ڈالی، ایرانی میڈیا
اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان جاری اہم مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوگئے ہیں، جس کے بعد خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق دونوں فریقین کئی اہم معاملات پر اتفاق رائے حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
رپورٹس کے مطابق مذاکرات کی ناکامی کی بڑی وجہ امریکا کے سخت اور زیادہ مطالبات قرار دیے جا رہے ہیں۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے ایسے مطالبات پیش کیے جو اسے جنگ کے دوران بھی حاصل نہیں ہو سکے تھے، جس کے باعث مشترکہ فریم ورک اور ممکنہ معاہدے کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔
مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز، ایران کے جوہری حقوق اور خطے میں سیکیورٹی صورتحال جیسے اہم معاملات زیر بحث آئے، تاہم ان نکات پر شدید اختلافات برقرار رہے۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدہ نہ ہونے کے باوجود آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال میں فوری طور پر کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
دوسری جانب سفارتی ذرائع کے مطابق امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس مذاکراتی وفد کے ہمراہ اسلام آباد سے واپس امریکا روانہ ہو گئے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فی الحال مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی سے خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کا خدشہ ہے، جبکہ مستقبل میں دوبارہ بات چیت کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔
Today News
امید ہے فریقین مذاکرات جاری رکھیں گے، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امید ہے فریقین دنیا اور خطے میں پائیدار امن کیلئے مذاکرات جاری رکھیں گے۔
اسلام آباد میں مختصر میڈیا بریفنگ میں اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک کے وفود مذاکرات کیلئے پاکستان آئے جس پر دونوں کا شکریہ اداک کرتے ہیں، یہ ضروری ہے کہ امریکا اور ایران سیز فائر معاہدے کو برقرار رکھیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ امید ہے دونوں فریق مثبت سوچ کے ساتھ امن کو برقرار رکھنے کیلئے آگے بڑھیں گے، وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے اختلافات کو ختم کرانے کی کوشش کی، پاکستان امن کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا۔
نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان رابطے کیلئے سہولت کاری جاری رکھے گا، وزیر اعظم کی درخواست پر جنگ بندی منظور کرنے پر شکر گزار ہیں۔ مذاکراتی عمل میں شریک امریکا اور ایران کے وفود کا شکر گزار ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں وفود کے درمیان مثبت اور تعمیری مذاکرات کے متعدد دور ہوئے۔ فیلڈ مارشل کے ساتھ ملکر مذاکرات کے متعدد ادوار میں شرکت کی، 24 گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات آج صبح مکمل ہوئے، پاکستان اپنی سفارتی کوشیں جاری رکھے گا۔
-
Sports2 weeks ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Today News2 weeks ago
اپنا کمرہ! – ایکسپریس اردو
-
Sports2 weeks ago
National Dialogue Committee condemns PCB’s action against Naseem Shah
-
Today News2 weeks ago
امریکا-ایران کا پاکستان پر اعمتاد، آنے والے دنوں میں مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار ہیں، اسحاق ڈار
-
Sports2 weeks ago
Lahore Qalandars imposes Rs1 million fine on captain Shaheen Afridi over security protocol breach
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka sinks Gauff to clinch second straight Miami Open title
-
Today News2 weeks ago
بھارتی گانوں پر پابندی کا مطالبہ، ساحر علی بگا کا دوٹوک مؤقف سامنے آگیا
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s Asian Cup qualifying campaign ends with defeat – Sport