Today News
کراچی، مومن آباد میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار
کراچی:
شہرِ قائد کراچی کے علاقے مومن آباد سیکٹر 10 الفتح کالونی میں پولیس اور مسلح ڈاکوؤں کے درمیان مبینہ مقابلہ ہوا، جس کے نتیجے میں موٹرسائیکل سوار دونوں ملزمان زخمی حالت میں گرفتار کر لیے گئے۔
ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی کے مطابق پولیس نے کارروائی کے دوران دو طرفہ فائرنگ کا سامنا کیا، تاہم مؤثر حکمت عملی کے باعث ملزمان کو فرار ہونے سے روک لیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کی شناخت روشن اور شکیل عرف بھورا کے ناموں سے ہوئی ہے۔
ملزمان کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ بمعہ ایمونیشن، چلیدہ خولز، دو موبائل فونز، نقدی رقم برآمد کر لی گئی ہے۔
Today News
رجب بٹ نئی مشکل میں پھنس گئے؛ سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا
معروف یوٹیوبر اور ولاگر رجب بٹ ایک بار پھر تنازع کی زد میں آ گئے ہیں اور اس بار معاملہ زرا مختلف ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں رجب بٹ کی والدہ کو ایک کم عمر بچے کے ساتھ دیکھا گیا۔
جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ ان کے گھر میں صفائی ستھرائی کا کام رہا ہے۔ ویڈیو کے منظرِ عام پر آتے ہی صارفین کی بڑی تعداد نے اسے چائلڈ لیبر قرار دیتے ہوئے سخت تنقید شروع کر دی۔
یاد رہے کہ پاکستان میں کم عمر بچوں سے مشقت کروانا قانوناً جرم ہے جبکہ سماجی طور پر بھی اسے ناپسندیدہ عمل سمجھا جاتا ہے۔
اگرچہ ملک میں مختلف مقامات پر بچوں سے کام لینے کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں تاہم کسی معروف سوشل میڈیا شخصیت کے گھر سے اس نوعیت کی ویڈیو سامنے آنا صارفین کے لیے خاصا چونکا دینے والا ثابت ہوا۔
سوشل میڈیا پر صارفین نے کہا کہ ایسے رویے معاشرے میں غلط مثال قائم کرتے ہیں جب کہ کچھ صارفین نے سوال اٹھایا کہ معروف شخصیات اس طرح کے معاملات میں زیادہ ذمہ داری کیوں نہیں دکھاتیں۔
ایک صارف نے لکھا کہ لوگ ایسے افراد کو فالو کرتے ہیں جو خود قانون اور اخلاقیات کی پروا نہیں کرتے جب کہ ایک اور تبصرے میں کہا گیا کہ کھلے عام چائلڈ لیبر کو معمول بنا کر دکھایا جا رہا ہے۔
تاحال رجب بٹ یا ان کے خاندان کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو چاہیے کہ وہ اپنے طرزِ عمل میں زیادہ احتیاط برتیں کیونکہ ان کے اقدامات لاکھوں لوگوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
Today News
نعتیہ کلام لکھنے والے شاعر سید سلمان گیلانی انتقال کرگئے
معروف نعتیہ شاعر اور برجستہ مزاحیہ شعر کہنے والے سلمان گیلانی طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔
تفصیلات کے مطابق سید سلمان گیلانی اسپتال میں زیر علاج تھے جہاں آج وہ 74 برس کی عمر میں خالق حقیقی سے جاملے۔
سید سلمان گیلانی کو نعتیہ کلام لکھنے کی وجہ سے شاعر ختم نبوت ﷺ کا لقب بھی ملا جبکہ اُن کے والد سید امین گیلانی تحریک ختم نبوت کے متحرک رہنماؤں میں شامل تھے۔
جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سید امین گیلانی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناقابل تلافی نقصان قرار دے دیا۔
Source link
Today News
رمضان ، طلبہ کی مشکلات اور تعلیم میں توازن
رمضان المبارک صرف عبادت اور روزوں کا مہینہ نہیں بلکہ صبر، برداشت، ہمدردی اور معاشرتی تربیت کا بھی مقدس وقت ہے۔ ایک اسلامی معاشرے میں رمضان کی اہمیت صرف عبادت میں نہیں بلکہ روزمرہ کے معمولات، تعلیمی نظام اور سماجی رویوں میں بھی محسوس کی جاتی ہے۔
گھروں کی روایات بدل جاتی ہیں، سحری اور افطار کے اوقات معمولات پر اثر ڈالتے ہیں، اور بچوں کے لیے یہ مہینہ خوشی اور روحانی سکون کا سبب بنتا ہے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام خصوصاً نجی سیکنڈری اسکول رمضان کی ضرورتوں اور بچوں کے حالات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
اس وقت ملک کے کئی اسکولوں میں رمضان کے دوران امتحانات اور صبح سویرے کے اوقات کار جاری ہیں، جو بچوں اور والدین دونوں کے لیے ذہنی اور جسمانی دباؤ کا سبب بنتے ہیں۔
بچے رات کے وقت عبادات، تراویح اور سحری میں حصہ لیتے ہیں، جس کے باعث دیر سے سوتے ہیں۔ صبح امتحان یا کلاس کے لیے جلدی اٹھنا ان کے لیے ایک مشکل مرحلہ بن جاتا ہے۔
نتیجتاً نہ صرف ان کی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ تعلیمی کارکردگی بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔ والدین اکثر پریشانی کے عالم میں بچوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ یا تو روزہ چھوڑیں یا امتحان کے لیے دیر سے جا کر تھکان سہیں۔
تعلیم کا مقصد صرف نصاب مکمل کرنا نہیں بلکہ صحت مند اور متوازن شخصیت کی تربیت بھی ہے، اگر طالب علم ذہنی دباؤ، نیند کی کمی اور جسمانی تھکن کا شکار ہو تو تعلیم کے نتائج متاثر ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی مسلم ممالک رمضان میں اسکول کے اوقات کم یا دیر سے شروع کر دیتے ہیں تاکہ طلبہ عبادت، صحت اور تعلیم کے درمیان توازن قائم رکھ سکیں۔
چند ہفتے قبل موسمِ سرما میں طلبہ کی سہولت کے لیے سندھ کے وزیر تعلیم سردار شاہ نے اسکول کے اوقات صبح نو بجے مقرر کیے تھے، جسے والدین، اساتذہ اور طلبہ نے سراہا۔
یہ قدم اس بات کا ثبوت تھا کہ اگر پالیسی ساز طلبہ کی فلاح اور آسانی کو ترجیح دیں تو مثبت تبدیلی ممکن ہے۔ اسی سوچ کو رمضان میں بھی اپنانے کی ضرورت ہے۔
خصوصاً رمضان میں دیر سے اسکول شروع کرنا (صبح 10 یا 11 بجے) ایک عملی اور متوازن حل ہے۔ اس سے بچے مکمل نیند لے سکیں گے، روزے کے دوران جسمانی توانائی برقرار رہے گی اور عبادات میں بھی شریک رہ سکیں گے۔
امتحانی شیڈول کو مختصر کرنا یا نصف دن کے اوقات مقرر کرنا بھی ایک متوازن حل ہے۔
اساتذہ بھی روزے کی حالت میں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ طویل اوقات کار ان کی کارکردگی متاثر کرتے ہیں، جس کا براہ راست اثر طلبہ پر پڑتا ہے۔
اصلاح نہ صرف بچوں کے لیے بلکہ پورے تعلیمی ماحول کے لیے ضروری ہے۔ والدین، اساتذہ اور سماجی کارکن اس بات پر متفق ہیں کہ بچوں کی صحت اور ذہنی سکون کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
آج کے بچے ہی کل کا مستقبل ہیں، اگر ہم ان کی جسمانی توانائی اور ذہنی سکون کو نظر انداز کریں گے تو مستقبل کی بنیاد کمزور ہوگی۔
نجی اسکولوں کی طرف سے اکثر کہا جاتا ہے کہ تعلیمی سال مکمل کرنا ضروری ہے اور امتحانات ملتوی نہیں کیے جا سکتے۔
مگر کیا واقعی یہ ممکن نہیں کہ رمضان کے دوران امتحانات یا کلاسز کے اوقات کو مؤخر کیا جائے؟ کم از کم صبح دیر سے شروع کرنا اور روزانہ کے دورانیے کو نصف دن رکھنا نہ صرف بچوں کی صحت بلکہ تعلیم کے معیار کے لیے بھی مفید ہے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ رمضان میں صرف بچے ہی نہیں بلکہ اساتذہ بھی روزے کی حالت میں کام کرتے ہیں۔
طویل اوقات کار اور سخت امتحانی شیڈول ان کی تدریسی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے، جس کا براہ راست اثر بچوں کی تعلیمی کارکردگی پر پڑتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ گورنمنٹ آف سندھ رمضان المبارک کے لیے واضح اور یکساں پالیسی ترتیب دے۔
نجی و سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے ایسے اصول وضع کیے جائیں جس کے تحت دیر سے اسکول کا آغاز، مختصر اوقات اور امتحانات کے مناسب شیڈول کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ اقدام نہ صرف طلبہ بلکہ پورے سماج کے لیے مثبت پیغام ہوگا۔
رمضان ہمیں صبر، برداشت اور دوسروں کی مشکلات سمجھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر ہم اپنے ہی بچوں کی نیند، صحت اور ذہنی سکون کو نظر انداز کریں تو رمضان کی اصل روح سے دور ہو جائیں گے۔ بچوں کی خوشی، صحت اور تعلیم میں توازن ہی اسلام کے اصولوں کے مطابق ہے۔
تعلیمی پالیسی بنانے والوں کے لیے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ ایک ایسا فیصلہ کریں جو نہ صرف طلبہ بلکہ پورے معاشرے کے لیے مثال بنے۔
اسکول کے اوقات میں نرمی، امتحانات کے شیڈول میں تبدیلی اور طلبہ کے لیے سہولتیں فراہم کرنا کمزوری نہیں بلکہ ایک ذمے دار ریاست کی پہچان ہے۔آخر میں کہنا چاہتی ہوں کہ رمضان کو بچوں کے لیے امتحان نہیں بلکہ آسانی، تربیت اور رحمت کا مہینہ بنایا جانا چاہیے۔ جب بچے خوش، صحت مند اور مطمئن ہوں گے تو تعلیم اور معاشرہ دونوں مضبوط ہوں گے۔
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Entertainment1 week ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Sports2 weeks ago
How PSL has reignited the passion for cricket in Hyderabad
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Stars Land From Karachi To Lahore For Basant