Today News
کراچی، گاڑی چھین کر فرار ہونے والے ملزمان کو پولیس نے پکڑ لیا، شہریوں نے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا
کراچی:
شہر قائد میں صدر کے علاقے میں ملزمان ایک خاتون کی گاڑی چھین کر فرار ہو گئے تھے تاہم بعد ازاں شہریوں اور پولیس نے انہیں پکڑ لیا۔
ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر شیخ کے مطابق خاتون اپنے شوہر کے ہمراہ دکان سے سامان خرید رہی تھی کہ اس دوران ملزمان گاڑی چھین کر فرار ہو گئے۔
پولیس کے مطابق گاڑی کی پچھلی نشست پر خاتون کے تین چھوٹے بچے بھی موجود تھے جن پر ملزمان کی نظر نہیں پڑی۔
ملزمان گاڑی لے کر نمائش چورنگی کے قریب پہنچے تو بچوں کو گاڑی سے اتارنے لگے۔
اسی دوران وہاں موجود ایک سپاہی نے ملزمان کو مشکوک سمجھ کر قابو کرنے کی کوشش کی جس پر اردگرد موجود شہری بھی مشتعل ہو گئے اور دونوں ملزمان کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
اطلاع ملنے پر پولیس کی مزید نفری موقع پر پہنچ گئی اور زخمی ملزمان کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق بچوں کو بحفاظت ان کے والدین کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
Today News
پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر نے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کیلیے منفرد مثال قائم کر دی
پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر سید محسن گیلانی نے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کیلٸے منفرد مثال قائم کر دی ، اپنے الاؤنسز ابھرتے ہوئے باصلاحیت کھلاڑیوں کو دینے کا اعلان کر دیا۔
پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر سید محسن گیلانی نے کانگریس اجلاس میں شرکت کا اپنا الاؤنس پاکستان انڈر 20 ٹیم کے کھلاڑی محمد عبداللہ کو دے دیا۔ انہوں نے یہ انعام اسلام آباد میں جاری ساف انڈر 20فٹبال چیمپین شپ کی تیاری کے موقع پر محمد عبداللہ کی حوصلہ افزاٸی کرتے ہوے دیا۔
واضح رہے کہ محمد عبداللہ ساف انڈر 17 چیمپئن شپ میں پاکستان کے لیے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے چھ گول کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے تھے۔
محسن گیلانی کا اس موقع پر کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد باصلاحیت کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے اور یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وہ صرف فیڈریشن کے صدر نہیں بلکہ تمام کھلاڑیوں کے بھی صدر ہیں اور ہر باصلاحیت کھلاڑی کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی۔امید ہے کھلاڑی ملک کا نام روشن کرینگے۔
دوسری جانب پاکستان انڈر 20 فٹبال ٹیم ساف انڈر 20 چیمپئن شپ میں شرکت کے لیے 21 مارچ کو مالدیپ روانہ ہوگی جہاں گروپ مرحلے میں پاکستان کا مقابلہ بھارت اور بنگلا دیش سے ہوگا۔
Source link
Today News
ایرانی حملے میں نیتن یاہو کی ہلاکت کی خبر کے بعد اسرائیلی وزیراعظم کی ویڈیو جاری
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایرانی حملے میں ہلاکت کی خبروں کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ویڈیو جاری کرکے تردید کردی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے عبرانی زبان میں جاری ویڈیو میں ان کی ہلاکت کی خبروں کو جھوٹ قرار دیا اور کہا کہ میں کافی کے لیے مر رہا ہوں۔
نیتن یاہو کو ایک کافی شاپ میں کافی آرڈر کرتے ہوئے اور پیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، اسرائیلی میڈیا کے مطابق مذکورہ شاپ یروشلم ہلز میں واقع ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے ‘وہ کہتے ہیں میں کیا ہوں’ کے عنوان سے جاری ویڈیو میں کہا کہ میں اپنی قوم سے بہت محبت کرتا ہوں اور جس طرح سے وہ حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو نے ویڈیو میں اپنے دونوں ہاتھ دکھائے اور کہا کہ کیا آپ میری انگلیاں گننا چاہتے ہیں اور واضح کیا کہ ان کی 10 انگلیاں ہیں جبکہ اس سے قبل متعدد اکاؤنٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کے ہاتھ کی 6 انگلیاں ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے عوام کو پیغام میں کہا کہ اسرائیلیوں کو تازہ ہوا کھانے کے لیے اپنے گھروں سے باہر نکلنا چاہیے لیکن ہر وقت پناہ گاہوں کے قریب رہنا چاہیے کیونکہ ایران سے بلیسٹک میزائل اور لبنان سے راکٹ حملوں کا خطرہ ہے۔
אומרים שאני מה? צפו >> pic.twitter.com/ijHPkM3ZHZ
— Benjamin Netanyahu – בנימין נתניהו (@netanyahu) March 15, 2026
خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو ایرانی حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں اور وہ پریس کانفرنس میں بھی دکھائی نہیں دے رہے ہیں تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے فوری طور پر ان خبروں کی تردید کی تھی لیکن نیتن یاہو خود سامنے نہیں آئے تھے۔
ایران نے ان افواہوں کے دوران دھمکی دی تھی کہ اگر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو زندہ ہے تو اس کو نشانہ بنایا جائے گا۔
Source link
Today News
چادر، تصویر اور نوحہ : ’’ زندہ شہید‘‘ کی تزویراتی ولادت
تاریخ کے مقتل میں جب بھی کسی بڑی علامت کا خون گرتا ہے، تو وہ صرف زمین کو سرخ نہیں کرتا، بلکہ وقت کی لکیروں کو ہمیشہ کے لیے ٹیڑھا کر دیتا ہے۔ آج دنیا جس موڑ پر کھڑی ہے، وہاں سوال صرف ایک ریاست کے سربراہ یا ایک مسلک کے پیشوا کا نہیں ہے، بلکہ اس مابعد الطبیعیاتی ڈھانچے کا ہے جسے مادی طاقتیں اپنی عقلی حدوں میں ماپنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مغربی دارالحکومتوں کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے تزویراتی منصوبہ سازوں نے شاید نقشوں پر سرخ لکیریں کھینچتے ہوئے یہ سمجھا ہوگا کہ وہ ایک بوڑھے فقیہ کو ہٹا کر مشرقِ وسطیٰ کے پیچیدہ گورکھ دھندے کو سلجھا دیں گے، لیکن سچ یہ ہے کہ اس ایک فیصلے نے عالمی امن کی رہی سہی بنیادیں بھی ہلا دی ہیں۔ خامنہ ای کا قتل ایران کو کمزورکرنے کا نسخہ نہیں، بلکہ اس نظام کو وہ ابدی ایندھن فراہم کرنے کا عمل ہے جس کی اسے بقا کے لیے سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ آپ اس تہذیب کو کبھی شکست نہیں دے سکتے جس نے مرنے کی آمادگی کو ایک باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دے دی ہو۔ جب شہادت ایک نظریہ بن جائے اور موت ایک تزویراتی انتخاب، تو وہاں میزائلوں کی گھن گرج اور ٹیکنالوجی کی برتری محض ایک شور بن کر رہ جاتی ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای محض ایک سیاسی لیڈر نہیں تھے، وہ ’ولی فقیہ‘ تھے۔ ایک ایسا منصب جو کروڑوں انسانوں کے لیے حقیقت کی وہ ساخت متعین کرتا ہے جس کے بغیر ان کا وجود ادھورا ہے۔ ایران کی 40 سے 50 فیصد آبادی کے لیے ولایتِ فقیہ کوئی پارلیمانی بحث کا موضوع نہیں، بلکہ ایک روحانی ستون ہے ۔
تاریخ شاہد ہے کہ جب آپ کسی روحانی پیشوا کو قتل کرتے ہیں، تو آپ اس فرقے اور مسلک کا خاتمہ نہیں کرتے بلکہ ایک ’شہید‘ کو جنم دیتے ہیں جو مرنے کے بعد پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور اور ناقابلِ تسخیر ہو جاتا ہے۔ واشنگٹن اور تل ابیب کے تھنک ٹینکس شاید یہ بھول گئے کہ شیعہ سیاسی فکر کی جڑیں کربلا کے اس لق و دق صحرا میں پیوست ہیں جہاں شکست، فتح کا استعارہ بن گئی تھی۔ وہاں لہو بہنا فنا نہیں، بلکہ بقا کی ضمانت ہے۔ اس قتل کے بعد اب دنیا پہلے سے کہیں زیادہ غیر متوقع اور خطرناک ہوچکی ہے،کیونکہ اب مقابلہ ایک ریاست سے نہیں بلکہ ایک ایسے ’’ زخمی تقدس‘‘ سے ہے جو انتقام کی زبان میں بات کرے گا۔
اعداد و شمارکی بے رحم زبان میں بات کریں تو ایران کا دفاعی بجٹ جو سالانہ تقریباً 15 سے 20 ارب ڈالرکے درمیان رہتا ہے، اب اس کا ایک بڑا حصہ براہِ راست غیر روایتی جنگ کی طرف منتقل ہو جائے گا۔ تہران کے پاس موجود 3,000 سے زائد بیلسٹک میزائلوں کا ذخیرہ اب صرف ایک دفاعی ڈھال نہیں رہا، بلکہ اس غصے کا اظہار بن چکا ہے جو تہران کی گلیوں میں ایک چادر پوش خاتون کی آنکھوں میں لرز رہا ہے۔ عالمی معیشت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی کل پیٹرولیم تجارت کا 21 فی صد گزرتا ہے، اب ایک ایسی بارود کی ڈھیر بن چکی ہے جہاں ایک چنگاری عالمی خام تیل کی قیمتوں کو 150 ڈالر فی بیرل سے اوپر لے جا سکتی ہے۔ یہ صرف معاشی اعداد و شمار نہیں ہیں، یہ اس بے چینی کا گراف ہے جو اب ہر سرحد پر محسوس کی جائے گی۔ لبنان سے یمن تک اور عراق سے شام تک، ایران کے حامی گروہوں کی افرادی قوت جو کم و بیش 5 لاکھ مسلح جنگجوؤں پر مشتمل ہے، اب ایک ایسی ’’ مرکز گریز‘‘ طاقت بن جائے گی جسے کنٹرول کرنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔ جب مرکزکا سرکٹتا ہے، تو جسم کے ہر حصے میں اپنی اپنی جنگ شروع کرنے کی وحشت جاگ اٹھتی ہے۔
سماجی سطح پر اس قتل نے ایران کے اندر موجود نظریاتی خلیج کو پاٹ دیا ہے۔ وہ نوجوان جو شاید تہران کی سڑکوں پر اصلاحات کے لیے آواز اٹھاتے تھے، اب اس بیرونی وار کے بعد اپنی قومی شناخت کے گرد اکٹھے ہو رہے ہیں۔ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ بیرونی دشمن کا بڑا وار اندرونی اختلافات کو مٹا کر ایک آہنی دیوارکھڑی کردیتا ہے۔ اس منظرکو سمجھنے کے لیے کسی ماہرِ سیاسیات کی ضرورت نہیں، بس اس ایک تصویرکو دیکھنا کافی ہے جس میں ایک بوڑھی عورت، جس کے چہرے کی جھریوں میں صدیوں کا دکھ بسا ہے، خامنہ ای کی تصویر سینے سے لگائے کھڑی ہے۔ اس کے چہرے پر جو کیفیت ہے، وہ اداکاری نہیں، وہ کسی ریاست کا حکم نامہ نہیں، وہ اس کی روح کی پامالی کا نوحہ ہے۔ یہ وہ چہرہ ہے جسے اس خطے کی مٹی سے وابستہ ہر شخص پہچانتا ہے۔ یہ ’’ مظلومیت‘‘ کی وہ صنف ہے جو مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایٹم بم سے زیادہ مہلک ثابت ہوتی ہے۔ جب غم غصے میں بدلتا ہے اور غصہ تقدس کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے، تو پھر ڈپلومیسی کے تمام راستے بند ہو جاتے ہیں۔
مغرب نے ہمیشہ مشرق کو ایک مشین کی طرح سمجھا ہے جس کا کوئی پرزہ نکال دینے سے وہ رک جائے گی، لیکن وہ یہ بھول گئے کہ یہ ایک نامیاتی وجود ہے جو اپنے زخموں سے توانائی کشید کرتا ہے۔ خامنہ ای کا قتل ایران کو مفلوج نہیں کرے گا، بلکہ اسے وہ ’’ زندہ شہید‘‘ فراہم کر دے گا جس کی داستانیں اگلی کئی دہائیوں تک مزاحمت کے استعارے بن کر گونجتی رہیں گی۔ امریکی منصوبہ سازوں نے نظام کا سرکاٹنے کی کوشش کی، مگر وہ یہ بھول گئے کہ کچھ سر کٹنے کے بعد آسمان کی وسعتوں میں پھیل جاتے ہیں اور ہر طرف سے سنائی دینے والی آواز بن جاتے ہیں۔ اب دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے۔
الوداعی جملہ اس گہرے صدمے اور مابعد الطبیعیاتی حقیقت کا نچوڑ ہے جس کا ادراک مادی آنکھ نہیں کر سکتی۔ وہ جو زندگی کی بقا کے لیے لڑتے ہیں، وہ تو شاید مٹ جائیں، لیکن جو موت کو زندگی کا دیباچہ بنا لیں، انھیں کون فنا کر سکے گا؟ جب خونِ تمنا خاک میں ملتا ہے، تو وہ فنا نہیں ہوتا بلکہ اس مٹی کی تاثیر بن جاتا ہے جو غاصبوں کے پاؤں تلے سے زمین نکال لیتی ہے۔ اب انتقام صرف ایک لفظ نہیں، ایک ایسی دعا بن چکا ہے جو ہر سجدے میں لہو بن کر ٹپک رہی ہے اور یاد رکھنا کہ جب زمین سے آسمان تک صرف لہوکی پکار ہو، تو تخت گرائے جاتے ہیں اور تاج اچھالے جاتے ہیں۔
آسمانِ تہران پر سسکتی ہوئی ہوا اب وہ قصیدہ پڑھے گی جو لفظوں میں نہیں، سسکیوں میں لکھا گیا ہے، کیونکہ جب کسی کے قبلہِ عقیدت کو لہو لہان کیا جاتا ہے، تو پھرکائنات کی ہر شے مرثیہ خواں بن جاتی ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے تباہی کا وہ سفر شروع ہوتا ہے جس کی کوئی واپسی نہیں۔
-
Magazines1 week ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Sports2 weeks ago
Samson’s 97 puts India into T20 World Cup semi-final against England – Sport
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Sports1 week ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Entertainment1 week ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Sports2 weeks ago
Milan consolidate top-four credentials with win at Cremonese – Sport