Today News
کراچی؛ رینجرز کی کارروائی، لوٹ مار کی وارداتوں میں ملوث 5 ملزمان گرفتار
رینجرز نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر چھاپہ مار کارروائی کے دوران مسافر بس میں جیب تراشی اور لوٹ مار کی متعدد وارداتوں میں ملوث 5 ملزمان کو گرفتار کرلیا اور ان کے قبضے سے موبائل فونز اور رقم بھی برآمد کرلی۔
ترجمان رینجرز کے مطابق بلدیہ ٹاؤن مواچھ موڑ کے قریب مسافر بس میں لوٹ مار کی اطلاع پر رینجرز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 5 ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے 4 موبائل فونز اور نقدی برآمد کرلی۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کا گروہ 10 سے 12 افراد پر مشتمل ہے جو پچھلے دو سال سے کراچی کے مختلف علاقوں سے موبائل فون چھیننے اور جیب تراشی کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ گرفتار ملزمان روزانہ کی بنیاد پر 5 سے 6 موبائل فونز چھین کر انھیں فروخت کے بعد رقم آپس میں تقسیم کرلیا کرتے تھے۔
ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان نے انکشاف کیا ہے کہ گرفتاری کی صورت میں پولیس کے معطل اہلکار انہیں چھڑوانے میں کردار ادا کرتے ہیں جس کے عوض اہلکاروں کو روزانہ کی بنیاد پر کچھ رقم فراہم کی جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان کو برآمد کیے جانے والے مسروقہ سامان کے ہمراہ مزید قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
Source link
Today News
زرخیز موتی – ایکسپریس اردو
مجھے اپنی فیلڈ کو سمجھنے کے لیے کم از کم دو سال لگے تھے۔ الیکٹرانکس میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن اس سے منسلک کوئی اور فیلڈ نہ تھی لہٰذا مجھے یہی لینا پڑا۔
مجبوری تھی پھر اس کو میں نے سمجھنا شروع کیا تو جا کر مجھے اس میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ پھر مجھے پتا چلا کہ میں نے اپنے آپ کو ہی کمتر سمجھا تھا میں تو بہت بہتر ہوں اور یہ بات مجھے فیلڈ میں اترنے سے پتا چلی ہے۔
جب تک ہم فیلڈ میں کسی کام کو لگن اور شوق سے نہیں کرتے تب تک ہمیں اس میں مزہ نہیں آتا ۔ کسی بھی اچھے سے اچھے کام کو بغیر دلچسپی اور بددلی سے کیا جائے تو وہ انسان کو کوئی خوشی نہیں دیتا۔ خوشی تب ہی حاصل ہوتی ہے جب کوئی بھی کام پورے شوق اور دل جمعی سے کیا جائے۔
’’کیا طالب علم اپنی پسند کی فیلڈ میں بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں؟‘‘
اس کی ایک مثال میری اپنی ایک کلاس فیلو تو نہیں، اسکول فیلو کی ہے اسے لٹریچر سے انتہا کی حد تک عشق تھا، اسکول میں وہ ایسی باتیں کرتی تھی کہ ہم کہتے تھے کہ بہن ذرا آسان زبان میں بات کرتاکہ دوسرے بھی آسانی سے سمجھ سکیں‘اتنی مشکل زبان میں بات کرو گی تو دوسروں کو خاک سمجھ آئے گی۔
بہرحال اس نے پہلی پوزیشن لی اور اس نے ڈگری لے کر گھر میں لا کر اپنے والدین کو پکڑائی اور کہا کہ یہ ڈگری حاصل کرنا آپ کا شوق تھا تو میں نے حاصل کر لی، اب میں وہ کروں گی جو میرا دل چاہتا تھا۔
لہٰذا اس نے وہ کام پروفیشنلی اختیار کیا، وہ کالج کے زمانے سے ہی بلاگز لکھتی تھی، پھر اس نے باہر کے میگزین کے لیے کام کرنا شروع کر دیا، وہی شوق جو وہ اسکول کے زمانے میں رکھتی تھی۔ اس کی زبان ایسی لٹرل تھی اور ایسا ہی وہ لکھتی تھی۔
’’کس یونیورسٹی سے پڑھا اس لڑکی نے؟‘‘ سوال پوچھا گیا تو جواب نے ششدر کر دیا۔ کراچی کی نمبر ون سرکاری انجینئرنگ یونیورسٹی۔
اسی کے سیکنڈ پوزیشن ہولڈر کی بات سنیں وہ بھی ہمارے اسکول کا ہی تھا (کراچی کا مایہ ناز اسکول جس کا نظام کئی اسکولوں میں رائج ہے) اسے سرکار کے محکمے میں نوکری ملی تھی، پھر اسے ایک انجینئرنگ کمپنی میں جاب ملی۔
اس نے فوراً سرکاری کنٹریکٹ کی جاب چھوڑ کر انجینئرنگ کمپنی میں نوکری اختیار کر لی۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک ٹاپر کو انجینئرنگ کی جاب ملی ہوگی، جی نہیں، اسے ٹیکنیکل سیلز میں جاب ملی ہے اور وہ کر رہا ہے۔
یہ تو حیران کن بات ہے کہ ہمارے یہاں کے ٹاپرز کو بھی اس طرح کی جابس کرنا پڑتی ہیں، لیکن ایسا کیوں ہے کہ بڑے سرکاری اداروں میں نااہلی، کرپشن کی باتیں سنتے ہیں، ایسے ذہین بچوں کے ساتھ ایسا سلوک سمجھ نہیں آتا۔
صرف یہی نہیں ایسے ایسے ذہین نوجوان کہ ان کے ٹیچرز ان سے گھبراتے ہیں۔ میں اپنے ایک سینئر کی بات بتاتا ہوں، وہ تین سال تک بے روزگار رہے، اب جا کر کہیں جاب کر رہے ہیں، وہ بھی ان کی اہلیت کے لائق نہیں۔
میں نے خود ان سے ایک مضمون پڑھا تھا، انھوں نے مجھے بہت اچھی طرح سمجھایا تھا، پھر انھوں نے مجھ سے کہا کہ تمہیں کون ٹیچر پڑھا رہا ہے، میں نے نام لیا تو انھوں نے مجھ سے کہا کہ ان سے اس ٹرم کا مطلب پوچھنا اور اگر وہ بتا دیں تو مجھے ضرور بتانا۔
اس ٹرم میں ایسا کیا تھا آخر؟
اس ٹرم میں ایسا کیا تھا، دراصل ان موصوف کو اس کا علم نہیں تھا اور اسی بات پر ان سے بحث ہوئی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انھیں فیل کردیا گیا۔ یہ صرف ان کے ساتھ ہی نہیں بلکہ اکثر طالب علموں کے ساتھ ہوتا ہے لیکن کیوں ہوتا ہے سوال یہ ہے۔
آپ ان کی قابلیت کے بارے میں ایسے اندازہ لگائیں کہ فلاں ( ایک نجی نامی گرامی یونیورسٹی) میں ان سے لوگ ہل جاتے ہیں۔
ہلنے کا مطلب؟ مطلب یہ کہ لوگ کنفیوژ ہو جاتے ہیں کہ اب یہ کوئی ایسا سوال نہ پوچھ لے کہ جس کا جواب ہمیں نہ آتا ہو۔ ایسے ذہین طالب علموں کو بھی جاب نہیں ملتی۔
اس کی کیا وجہ ہے؟ ( جواب مسکراہٹ کے ساتھ ملا)۔ اس لیے کہ جو انٹرویو لیتے ہیں انھیں بھی اپنی سیٹ بچانی ہوتی ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ باہر کی دنیا بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور ہم اور ہمارا سلیبس بہت پیچھے ہے۔
اب جو باہر کی دنیا کو فالو کرتا ہے کیونکہ بہت کچھ آپ کو انٹرنیٹ کے ذریعے مل جاتا ہے تو جن کے ذہن کو پالش ہونا ہی ہوتا ہے وہ ہو جاتے ہیں، ان کا معیار بڑھ جاتا ہے جب کہ ہمارے پڑھانے والے اپنے پرانے تعلیمی نظام اور سلیبس کو پڑھ کر آتے ہیں تو دونوں میں ٹکراؤ ہوتا ہے۔ کیا ایک ڈگری یافتہ نوجوان ایک اچھی نوکری کا اہل ہوتا ہے؟
بالکل ہوتا ہے بشرطیکہ اس نے عملی طور پر بھی کام کیا ہو، صرف رٹو طوطا اور لکیر کے فقیر بن کر آپ اچھی جی پی لے کر نمایاں ہو جاتے ہیں لیکن پڑھائی اور پریکٹیکل دو الگ الگ معیار ہیں، یہ ضرور ہے کہ اگر آپ پڑھائی میں اچھے ہیں اور اسے اپنے پریکٹیکل میں اپلائی کرتے ہیں تو کامیاب ہیں لیکن صرف کتابیں پڑھ لینا خاص کر سائنس اور ٹیکنیکل میدان میں کارگر نہیں۔
یہ ایک نوجوان کے خیالات تھے۔ ہمارے ہاں طالب علم کے ذہن کو نہیں دیکھتے کہ اس کا رجحان کس طرف ہے، وہ اپنے والدین کی خواہشات کے مطابق ہی فیلڈ اختیارکرتا ہے، پڑھتا ہے اس طرح ہم ناکارہ سسٹم تعمیر کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ہمارے یہاں اوسط درجے کی ذہانت والے لوگ ہر فیلڈ میں گھسے نظر آئیں گے۔
کچھ عرصہ قبل ایک صاحبہ اردو کے حوالے سے نظر آئیں، ان کی سرکاری ملازمت کے گریڈ کا کیا ہی کہیں لیکن جب ان کے املا کی عام سی غلطیاں دیکھیں تو دل پر ملال تھا۔ ایسا کیوں؟ انگریزی کے ٹیچر انگریزی تو کیا اردو بھی صحیح سے نہیں بول سکتے، اسی طرح اردو اور دوسرے مضامین کی کہانی ہے۔
ہم اوسط درجے کی ذہانت سے بھی گر گئے ہیں اور اپنی اس کرپشن پر رنجیدہ نہیں بلکہ بے باک ہو گئے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر ایک ہیرا تھے، جن کی ذہانت، قابلیت اور حب الوطنی جتنا بھی سراہا جائے کم ہے لیکن کیا ڈاکٹر عبدالقدیر کے بعد ہم ان جیسے ذہین پاکستانی کی تلاش ترک کردیں جو اپنے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
کیا ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ ہمیں سوچنا ہوگا، کہیں ہم اپنے زرخیز ذہنوں کو ڈپریشن، مایوسی اور ناکامی کے کانٹوں میں الجھا کر ناشکری کے مرتکب تو نہیں ہو رہے؟
Today News
ایپسٹین فائل : سوال فرد پر نہیں نظام پر ہے
کچھ عرصہ قبل سے عالمی میڈیا پر ایک لفظ چھایا ہوا ہے ’’ایپسٹین فائل‘‘ یہ جیفری ایپسٹین نامی ایک مجرم کی کہانی، جو مبینہ طور پر دنیا کی طاقتور ترین شخصیات کو اپنے جال میں لپیٹے ہوئے تھا۔
تفصیل اِس اجمال کی بہت ہے، بہت کچھ سامنے آگیا ہے اور بہت کچھ سامنے آنا ابھی باقی ہے۔ 30 جنوری 2026 کو امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ 3.5 ملین صفحات، 2000 ویڈیوز اور تقریباً 180,000 تصاویر نے اس معاملے کو ایک نیا اور انتہائی خطرناک موڑ دے دیا ہے، لیکن اب تک اِس تمام معاملے کو ایک فرد کی خطا کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ محض ایک فرد کے قبیح جرائم کی روداد ہے؟ ہماری رائے میں ان دستاویزات نے سب سے بڑا انکشاف یہ کیا ہے کہ ایپسٹین جیسے شیطان کو پروان چڑھانے والا کوئی فرد نہیں، بلکہ ایک پورا نظام ہے۔
سوال اب فرد پر نہیں، بلکہ اس نظام پر ہے جس نے ترقی، آزادی اور مساوات کے دعوے کرتے ہوئے انسانیت کو شرمسارکیا۔
مغرب کی بلند و بالا اخلاقی عمارتیں جب زمیں بوس ہوتی ہیں تو ان کی دھول دور دور تک اڑتی ہے اور آج کل ’ ایپسٹین فائلز‘ کی صورت میں یہی گرد پوری دنیا کے ایوانوں میں بیٹھی دکھائی دے رہی ہے۔ مغرب نے ہمیشہ تین بڑے نعروں پر اپنی برتری کی بنیاد رکھی۔
آزادی، ترقی اور مساوات۔ لیکن ایپسٹین کیس نے ثابت کردیا ہے کہ یہ ستون محض ریت کی دیواریں تھیں۔
مغرب، خاص طور پر امریکا اور برطانیہ، نے صدیوں سے خود کو روشن خیالی کا علم بردار قرار دیا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ عقل و دانش کی روشنی میں انسانیت کو ایک بہتر مستقبل کی طرف لے جا رہے ہیں، مگر ایپسٹین فائل نے اس دعوے کی نہ صرف دھجیاں بکھیر دی ہیں، بلکہ ایک مرتبہ پھر یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ یہ روشن خیالی محض ایک ہے۔
یہ کیسا نظام ہے جہاں 1996 میں پہلی بار ایک نوجوان لڑکی نے ایف بی آئی کے سامنے جنسی زیادتی کا الزام لگایا، مگر اس کی آواز کو سننے والا کوئی نہ تھا؟
یہ کیسا نظام ہے جہاں 2008 میں ایک مجرم کو صرف 13 ماہ کی سزا ہوئی اور وہ بھی اس شرط پرکہ وہ دن میں 12 گھنٹے باہرگزار سکتا ہے؟ یہ کیسا نظام ہے جہاں 2019 میں اس مجرم کو جیل میں مردہ پایا گیا اور قتل یا خودکشی کے حالات آج تک ایک معمہ بنے ہوئے ہیں؟
یہ صرف بدقسمتی نہیں یہ نظام کا دیا ہوا تحفہ ہے۔ امریکی محکمہ انصاف، ایف بی آئی اور عدلیہ کا وہ عظیم الشان ڈھانچہ جس پر دنیا کو ناز تھا، ایک درجن سے زائد مرتبہ ناکام ہوا۔
اس ناکامی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ہزار سے زائد متاثرین کو اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کو سہنا پڑا۔ آپ دیکھیں حالیہ دستاویزات میں بھی سیکڑوں ناموں کو خفیہ رکھا گیا ہے، کیوں؟
کانگریس کے دو اراکین تھامس میسی اور روکھنہ کو جب خود جا کر محکمہ انصاف کے دفاتر کا معائنہ کرنا پڑا تو پتہ چلا کہ کم ازکم چھ افراد کے نام جان بوجھ کر چھپائے گئے تھے۔ کیا یہ ہی انصاف ہے؟ اسے ہی شفافیت کہتے ہیں؟
اب ذرا مغرب کے ان ترقی یافتہ معاشروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں، جنھوں نے اپنے آپ کو انسانیت کا امام کہلوایا۔ ایڈلمین ٹرسٹ بیرومیٹر 2025 کے مطابق، صرف 30 فیصد امریکی شہری اپنے روشن مستقبل پر یقین رکھتے ہیں، جب کہ کئی نسبتاً غیر ترقی یافتہ ممالک میں یہ تناسب 70 فیصد تک ہے۔
فرانس میں صرف 9 فیصد، جرمنی میں 14 فیصد اور برطانیہ میں 17 فیصد لوگوں کو اپنے مستقبل پر بھروسہ ہے۔کیا یہ وہی ممالک نہیں، جو دنیا کو جمہوریت، آزادی اور مساوات کا درس دیتے ہیں؟
اعداد و شمار مزید بھیانک حقائق پیش کرتے ہیں۔ امریکا اور برطانیہ میں شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے جب کہ ترقی پذیر ممالک میں یہ مسلسل گر رہی ہے۔
امریکا اور برطانیہ میں متوقع عمر میں کمی واقع ہوئی ہے۔ نیویارک اور واشنگٹن کے امیر ترین طبقے میں تو لوگ 100 سال بھی جی رہے ہیں، مگر سفید فام غریب طبقے میں مردوں کی متوقع عمر بہ مشکل 60 سال ہے۔
شراب، منشیات اور موٹاپے کی وبا نے اس تباہی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ امریکا میں 16 سے 24 سال کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد فوج میں بھرتی ہونے کے قابل نہیں ہے، کیونکہ وہ جسمانی طور پر صحت مند نہیں ہیں۔ یہ وہ قوم ہے جو دنیا پر فوجی تسلط کی خواہاں ہے۔
ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ایپسٹین کا یہ پورا نیٹ ورک اخلاقی اقدار کے مکمل فقدان کی عکاسی کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جن ملحدین نے اپنی زندگیوں کو اس قدر آلودہ کر لیا کہ ان کی اپنی تنہائیاں بے راہ روی سے پاک نہ رہ سکیں، وہ مذہب پر سوال اٹھانے کے حق دار کیسے ٹھہرے؟
رچرڈ ڈاکنز جیسے نام نہاد روشن خیال مفکرین نے برسوں سے مذہب کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مذہب انسان کو جکڑتا ہے، اس کی عقل کو پائمال کرتا ہے اور اسے عدم برداشت کا خوگر بنا دیتا ہے، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
’’ جدید الحاد کے سب سے بڑے وکیل ریچرڈ ڈاکنز سے جب پوچھا گیا کہ اگرکائنات میں کوئی ’’ اخلاقی مطلق‘‘ نہیں تو اچھے برے کی تمیزکیسے ہوگی؟ تو ان کا سرد جواب تھا کہ کائنات میں نہ کوئی خیر ہے نہ شر، بس ایک بے رحم بے حسی ہے۔
یہ اعتراف دراصل ایپسٹین جیسے درندوں کے لیے ایک فکری جواز فراہم کرتا ہے، اگر اخلاقیات محض ایک ’ انسانی ایجاد‘ ہیں، تو پھر اس نظام پر اعتراض کیسے کیا جا سکتا ہے جو طاقتور کو اپنی مرضی کی اخلاقیات ایجاد کرنے کی چھوٹ دیتا ہے؟ ‘‘
یہ کوئی اتفاق نہیں کہ دوستوفسکی نے کہا تھا ’’ اگر خدا نہیں ہے تو سب کچھ جائز ہے‘‘ ایپسٹین فائل اس جملے کی عملی تفسیر ہے۔ یہ وہ منطق ہے جس نے ہزاروں بچیوں کو ایک شیطان کے حوالے کردیا۔ یہ وہ فلسفہ ہے جس نے امریکی محکمہ انصاف کو بتایا کہ ’’ مسٹر ایپسٹین کے ساتھ پارٹی کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔‘‘
آج مغربی نظام عدل پر اعتماد کا بحران طاری ہے۔ بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے سینئر فیلو ڈیرل ویسٹ کہتے ہیں کہ ’’ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مزید تفتیش نہیں ہوگی، مزید فردِ جرم عائد نہیں کی جائے گی، لیکن برے رویے کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ لوگ اس طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہیں۔‘‘
یہ سوال صرف ایپسٹین تک محدود نہیں۔ یہ سوال پورے نظام سے ہے۔ یہ وہ نظام ہے جس نے 1996 سے 2019 تک آنکھیں بند رکھیں۔ یہ وہ نظام ہے جس نے ایک غیر قانونی معاہدے کے تحت مجرم کو بچایا۔
یہ وہ نظام ہے جس نے حالیہ دستاویزات میں بھی طاقتوروں کے نام چھپائے… اور… اور یہ تاریخ کا وہ بدترین نظام ہے جہاں ایپسٹین جیسے افراد کا وجود و نمو ممکن ہے، وہ نظام جس نے مجرموں کو پروان چڑھایا، ان کی حفاظت کی اور آج بھی ان کے نام چھپا کر انسانیت کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ طاقت ہی اصل سچ ہے۔ سوال فرد پر نہیں، نظام پر ہے اور یہ نظام پوری انسانیت کے لیے ننگِ عظیم ہے۔
یہ ہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہم اس نظام کو قبول کریں گے جہاں اخلاقیات کا کوئی مطلق نہیں، جہاں ’’ سب کچھ جائز‘‘ ہے، یا پھر ہم اس راستے پر واپس جائیں گے جہاں انسانیت کی فلاح کے لیے اخلاقی اقدارکا احترام ضروری ہے۔
Today News
حوا کی بیٹیاں اور آٹھ مارچ ( حصہ اول )
عورت کے حقوق کے تحفظ کے لیے اسلامی و غیر اسلامی قوانین موجود ہیں، باقاعدہ طور پر عورت کی مکمل آزادی یا مادر پدر آزادی کی راہیں ہموار تو کی گئی ہیں لیکن ذرا کم کم، غلاف چڑھا کر، چوری چھپے قانون بنانے والے اور اس کے محافظ اسے مکمل اور ہر طریقے سے بے حیائی اور عریانی کی راہ پر لگا کر مطمئن ہیں۔
اسے بینرز پر سجا کر، اشتہارات میں پیش کرکے اور نائٹ کلب میں نچا کر خوش ہوتے ہیں اور آزادی اور وہ بھی مغربی آزادی کے علم بردار بن کر ایک جیتا جاگتا نمونہ پیش کرتے ہیں۔
آج جو عورت کی ذلت و رسوائی اور اس کے حقوق کی روگردانی کی گئی ہے اور اسے سونے کا تاج اور اطلس کا جوڑا پہنا کر ایک ایسی دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے جہاں سے نکلنا اب اس کے لیے ممکن نہیں ہے، وہ بڑھتی ہوئی آزادی کی اسیر ہو چکی ہے۔
وہ پرتعیش دنیا اور تعیشات زندگی کی ہی طالب ہے، اگر صاحب ثروت ہے تو صبح و شام اس کے ہوٹل اور کلبوں میں ناچتے گاتے یا پھر ایسے پروگراموں کا حصہ بن کر ہی گزرتے ہیں، وہ نائٹ کلب سے سگریٹ پیتی، دھواں اڑاتی اپنے بوائے فرینڈ کی سنگت میں اپنے عالی شان گھر کے گیٹ پر اترتی ہے، اسے کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔
اس کی یہ حالت دیکھ کر والدین کو دکھ تو ضرور ہوتا ہے کہ انھوں نے ایسا تو نہیں سوچا تھا، ہاں آزادی ضرور دی تھی۔ اب سوائے صبر کے کچھ ہو نہیں سکتا۔
پھر بہت جلد اس آزادی کا انجام سامنے آ جاتا ہے، جب تازہ پھولوں کے طالبوں کی تعداد زیادہ بڑھ جاتی ہے، تب وہ راستہ بدل لیتی ہے، ایک انار سو بیمار۔
ان حالات میں رقیب رو سیاہوں کے ہاتھوں میں تلواریں، چاقو، پستول اور خنجر آ جاتے ہیں پھر انجام وہی جو ہمیشہ سے ہوتا ہے، قتل و غارت، کمرے میں تو کبھی کسی ویرانے میں لے جا کر اس سے اپنی محبت کی توہین کا بدلہ لے لیا جاتا ہے، یہ ہے آزادی کی قیمت۔
دوسری طرف وہ خواتین بھی ہیں جو متوسط یا غریب طبقے سے تعلق رکھتی ہیں لیکن ان کے پاس وہ زندگی نہیں ہے جو ڈراموں میں، فلموں اور اسٹیج پر دکھائی جاتی ہے لیکن نادان اور بھولی لڑکیاں اسے ہر قیمت پر حاصل کرنے کی تمنا کرتی ہیں، والدین، بھائیوں کے منع کرنے کے باوجود وہ گھروں سے ملازمت کے لیے نکلتی ہیں چونکہ ان کا مسئلہ گھر کی غربت مٹانا اور آسودہ حال زندگی کا حاصل ہے۔
ان کا تعلق ایسے گھرانوں سے ہے جہاں تعلیم اور شعور کی کمی ہے لہٰذا وہ بھی اپنی بیٹیوں کی سوچ اور ان کے خیالات کو سمجھ نہیں پاتے ہیں لہٰذا پہلے ملازمت کی اور پھر ڈراموں کی ہیروئن بننے کی آزادی انھیں گھر سے مل جاتی ہے یا وہ پھر زبردستی ہی حاصل کر لیتی ہیں جو کہ ان کے مستقبل اور والدین و بہن بھائیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔
اکثر ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے دولت پیسے کی چمک اس کے محافظوں کی آنکھوں پر پٹی باندھ دیتی ہے، ان مواقعوں پر این جی اوز اور عورت کے تحفظ کی بات کرنے والے کچھ کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں نہ وہ گھروں میں جا کر بھولا ہوا سبق یاد دلاتے ہیں اور نہ ہی اسلام کے زریں اصولوں سے آگاہ کرتے ہیں۔
ہاں اتنا ضرور کرتے ہیں قتل یا زیادتی کا شکار ہونے والی اور گھروں سے فرار ہونے والی لڑکی کا ساتھ دیتے ہیں، مقدمات کے ساتھ ساتھ احتجاج بھی کرتے ، روڈوں، سڑکوں اور پریس کلب آ کر نعرے بازی یا ریلی نکالتے ہیں، اب ایک طریقہ سالہا سال سے اور نکل آیا ہے، وہ ہے عورت مارچ۔
ہر سال 8 مارچ پوری دنیا میں عورت کے حقوق کے تحفظ کے لیے باقاعدہ دن منایا جاتا ہے، تقاریر اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتا ہے، میری مرضی کے حوالے سے خواتین عجیب و غریب باتیں کرتی ہیں اور خوب چیخ پکار کرتی ہیں، مرد کو مورد الزام ٹھہراتی ہیں، اسے گھر کا سربراہ ماننے سے انکار کرتی ہیں گویا اسلامی اور معاشرتی و سماجی رسم و رواج سے بالکل منکر نظر آتی ہیں، ان کے ساتھ انھی جیسے مرد بھی ان کے ہم خیال ہوتے ہیں۔
ان میں سے اکثریت آزادی کی چاہت یا عذاب الٰہی کو آواز دینے کے لیے قوم لوط کی طرز زندگی پر چلنے کے خواہاں اور اس کا پرچار کرنا چاہتے ہیں، کچھ لوگ ان غیر فطری، غیر اخلاقی اور غیر انسانی طریقوں کو اپنا کر فخر محسوس کرتے ہیں۔
ایسے لوگوں کے لیے قوانین کے مطابق کارروائی تو کی جاتی ہے لیکن بہت جلد یعنی دو چار گھنٹوں میں آزادی کا پروانہ دے کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ گویا انسان ہونا اور انسانیت کے عظیم مقصد کی نفی کرنا ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔
ان حالات میں ہر باشعور شخص یہ کہنے کا حق دار ہے کہ انسانوں اور جانوروں میں بالکل فرق نہیں ہے۔ اگر فرق ہے بھی یا پھر موازنہ کیا جائے تو جانور زیادہ بہتر، بااصول اور باحیا نظر آتے ہیں، کسی کا حصہ نہیں کھاتے، کسی کے حق پر ڈاکہ نہیں ڈالتے ہیں اپنی فیملی، اپنا خاندان اور عزت کے پہرے دار، باحیا اور غیور ہیں۔
اس کی مثال جنگل کا شیر ہے۔ حالات بد سے بدتر ہیں لیکن اس کے ساتھ ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ اس دور آزادی اور وہ بھی بے جا آزادی کے دور میں بے شمار مدارس، مکاتب اور اسکولوں میں جہاں دینی تعلیم، قرآنی علوم سے آشنا کیا جاتا ہے اور عورت کے تقدس اور عزت، شرم و حیا کے سبق کا اعادہ کیا جاتا ہے۔
(جاری ہے ۔)
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims
-
Entertainment1 week ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Sports2 weeks ago
How PSL has reignited the passion for cricket in Hyderabad