Connect with us

Today News

کراچی؛ عید سے قبل گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

Published

on



محکمہ موسمیات نے شہر میں بدھ اورجمعرات کو گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند مقامات پرموسلادھاربارش ہوسکتی ہے اور بارش کے دوران معمول سے تیزہوائیں چل سکتی ہیں۔

محکمہ موسمیات ارلی وارننگ کی جانب سے جاری الرٹ کے مطابق بدھ اورجمعرات کو شہر میں مطلع ابرآلود رہنے اور گرج چمک کےساتھ بارش کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات نے بتایا کہ اس دوران کہیں کہیں موسلادھاربارش بھی متوقع ہے، بارش کے دوران بعض علاقوں میں تیز ہوائیں چل سکتی ہیں، جس سے کمزور انفرا اسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

مزید بتایا گیا کہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے جبکہ کم سے کم درجہ حرارت 21 سے 23 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہے گا، ہوا میں نمی کا تناسب 75 سے 85 فیصد تک رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

بند ہوتی گزرگاہیں اور دنیا کو درپیش نیا خطرہ

Published

on


عالمی سیاست کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ طاقت کے بے جا استعمال اور یکطرفہ فیصلوں نے ہمیشہ دنیا کو عدم استحکام کی طرف دھکیلا ہے۔ حالیہ صورتحال بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے جہاں امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو ایک نئے بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

یہ محض دو یا تین ممالک کے درمیان کشیدگی نہیں بلکہ ایک ایسا پیچیدہ تنازع ہے جس کے اثرات عالمی معیشت، بین الاقوامی اتحادوں، توانائی کی فراہمی اور عالمی امن پر براہِ راست مرتب ہو رہے ہیں۔

امریکا کی جانب سے اسرائیل کی حمایت میں ایران کے خلاف کارروائی کا آغاز دراصل ایک بڑی اسٹرٹیجک غلطی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بظاہر یہ اقدام اپنے اتحادی کے دفاع کے لیے کیا گیا، مگر اس کے نتائج توقعات کے برعکس نکلے۔

ایران نے براہِ راست عسکری تصادم کے بجائے ایک ایسی حکمت عملی اپنائی جس نے عالمی نظام کو ہلا کر رکھ دیا اور وہ ہے آبنائے ہرمز کی بندش۔ یہ گزرگاہ دنیا کی توانائی سپلائی لائن کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے یومیہ لاکھوں بیرل تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے نہ صرف صنعتی ممالک بلکہ ترقی پذیر معیشتوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔

توانائی کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست پیداواری لاگت میں اضافے کا باعث بنتا ہے، جس کا نتیجہ مہنگائی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ دنیا بھر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، سپلائی چین متاثر ہو رہی ہیں اور اقتصادی ترقی کی رفتار سست پڑ رہی ہے۔

ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر تباہ کن ہے۔ ایسے ممالک جو پہلے ہی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، ان کے لیے مہنگی توانائی درآمد کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔

ان ممالک میں کرنسی کی قدر میں کمی، تجارتی خسارے میں اضافہ اور مالیاتی عدم استحکام جیسے مسائل شدت اختیار کر رہے ہیں۔ غریب طبقات کے لیے زندگی مزید دشوار ہو چکی ہے، جہاں بنیادی ضروریات کا حصول بھی ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

پاکستان جیسے ممالک اس بحران سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی معیشت بڑی حد تک درآمدی تیل پر انحصار کرتی ہے، اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ملک کے مالیاتی نظام پر فوری دباؤ ڈالتا ہے۔

اس کے نتیجے میں نہ صرف پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں بلکہ بجلی، ٹرانسپورٹ اور خوراک کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ مہنگائی کی یہ لہر عوامی سطح پر بے چینی کو جنم دیتی ہے اور حکومتوں کے لیے معاشی استحکام برقرار رکھنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھتا ہے اورکرنسی کی قدر میں کمی واقع ہوتی ہے، جس سے بیرونی قرضوں کی ادائیگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔

صنعتی پیداوار متاثر ہوتی ہے اور بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ یوں ایک عالمی تنازع ایک مقامی معاشی بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے، جس کا خمیازہ عام شہری کو بھگتنا پڑتا ہے۔دوسری جانب اس بحران نے نیٹو جیسے اہم عسکری اتحاد کی اندرونی سیاست کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔

نیٹو، جو طویل عرصے سے مغربی اتحاد کی علامت رہا ہے، اب اندرونی اختلافات کا شکار نظر آ رہا ہے۔

امریکا کی جانب سے اتحادی ممالک پر دباؤ ڈالنا کہ وہ اس کی فوجی کارروائی میں شامل ہوں، ایک ایسے رویے کی عکاسی کرتا ہے جو شراکت داری کے اصولوں کے برعکس ہے۔ یورپی ممالک کا اس دباؤ کو مسترد کرنا، اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اب عالمی سیاست میں یکطرفہ قیادت کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔

جرمنی، فرانس اور برطانیہ جیسے ممالک نے کھل کر یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اس تنازع میں براہِ راست شامل نہیں ہوں گے۔

ان ممالک کا کہنا ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی سے قبل اس کے مقاصد، حکمت عملی اور ممکنہ نتائج کے بارے میں مکمل وضاحت ہونی چاہیے۔ یہ موقف نہ صرف ایک محتاط پالیسی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ یورپی ممالک اب اندھا دھند امریکی پالیسیوں کی پیروی کرنے کے لیے تیار نہیں۔

نیٹو کے اندر پیدا ہونے والے یہ اختلافات اس اتحاد کے مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہے ہیں، اگر ایک اتحاد کے رکن ممالک ایک اہم عالمی بحران پر متفق نہ ہو سکیں تو اس اتحاد کی افادیت پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔

امریکا کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات کہ اگر اتحادی ساتھ نہ دیں تو نیٹو کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے، دراصل اس اتحاد کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کی جیو اسٹرٹیجی بھی اس بحران میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔

یہ خطہ نہ صرف توانائی کے وسائل سے مالا مال ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے لیے اسٹرٹیجک اہمیت بھی رکھتا ہے۔ یہاں ہونے والی ہر تبدیلی عالمی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ایران، سعودی عرب، اسرائیل اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان طاقت کا توازن ہمیشہ سے ایک حساس مسئلہ رہا ہے۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بطور دباؤ کے استعمال کرنا ایک اہم اسٹرٹیجک اقدام ہے، جس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ روایتی جنگ کے علاوہ بھی ایسے ذرائع موجود ہیں جن کے ذریعے عالمی طاقتوں کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک غیر روایتی حکمت عملی ہے جس کے اثرات براہِ راست عالمی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔

چین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کا محتاط رویہ بھی قابلِ غور ہے۔ یہ ممالک توانائی کے لیے مشرقِ وسطیٰ پر انحصار کرتے ہیں، مگر اس کے باوجود انھوں نے اس تنازع میں براہِ راست شامل ہونے سے گریز کیا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس بحران کو مزید بڑھانے کے بجائے اسے محدود رکھنے کے خواہاں ہیں۔ چین کی جانب سے سفارتی کردار ادا کرنے کی پیشکش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں اب جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دینے لگی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کو اس وقت سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ امن، استحکام اور اقتصادی ترقی ہے، اگر خطے کے ممالک مسلسل جنگ اور کشیدگی میں الجھے رہیں گے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑے گا۔

ایسے حالات میں پاکستان جیسے ممالک کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے جو ایک متوازن اور اصولی سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتے ہیں۔ پاکستان کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ وہ عالمی فورمز پر امن، مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہے۔

یہ تمام صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ عالمی برادری فوری طور پر مؤثر اقدامات کرے۔ سب سے پہلے آبنائے ہرمز کو کھولنا ضروری ہے تاکہ عالمی توانائی کی فراہمی بحال ہو سکے اور معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سنجیدہ سفارتی کوششیں کی جانی چاہئیں۔

اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو اس معاملے میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہیں چاہیے کہ وہ غیر جانبدارانہ ثالثی کے ذریعے فریقین کے درمیان مذاکرات کو فروغ دیں اور ایک ایسا حل تلاش کریں جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔

اس کے علاوہ بڑی عالمی طاقتوں کو بھی اپنی ذمے داری کا احساس کرنا ہوگا اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جو صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ جنگیں صرف تباہی، انسانی جانوں کا ضیاع اور معاشی نقصان لاتی ہیں۔

اس کے برعکس مذاکرات اور سفارت کاری ہی وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے پائیدار امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ اگر دنیا نے اس بحران سے سبق نہ سیکھا تو مستقبل میں ایسے مزید تنازعات جنم لے سکتے ہیں جو عالمی نظام کو مزید کمزور کردیں گے۔

اس لیے ضروری ہے کہ اس موقع کو ایک انتباہ کے طور پر لیا جائے اور عالمی سطح پر ایسے اقدامات کیے جائیں جو نہ صرف موجودہ بحران کو حل کریں بلکہ مستقبل میں ایسے حالات پیدا ہونے سے بھی روکیں۔

حرف آخر یہی ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھلوانا اور ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کو ختم کرنا، وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو عالمی معیشت کو استحکام فراہم کر سکتا ہے۔ 

نیٹو جیسے اتحادوں کو ٹوٹنے سے بچا سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر انسانیت کو ایک بڑے سانحے سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کا استعمال وقتی برتری تو دے سکتا ہے مگر مستقل امن صرف مکالمے، برداشت اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

حکمت اور دانائی – ایکسپریس اردو

Published

on


بلاشبہ حکمت اور دانائی کسی انسان سے نہیں قرآن سے ملتی ہے۔ خالق نے کتابِ حق کو سراسر ہدایت اور حکمت قرار دیا ہے۔ میرے سامنے سورہ آلِ عمران کی آیات ہیں جس میں فرمایا گیا ہے ’’درحقیقت اہلِ ایمان پر اﷲ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انھی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا ہے جو اس کی آیات انہیں سناتا ہے، ان کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت ودانائی کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے‘‘۔

دورِ حاضر کی سامراجی طاقتوں کے سامنے جس طرح ایران کے راہبر سیّد علی خامینائی اور ان کے ساتھی سینہ تان کر کھڑے رہے اور دنیا کی سپر پاور کے مہلک ترین بموں اور میزائلوں کے خوف سے ان کے پائے استقامت میں ذرا سی بھی لرزش پیدا نہ ہوئی۔ 

لگتا ہے سورہ آل عمران کی آیات خالق نے اپنے ایسے ہی جانثار مجاہدوں کے بارے میں اتاری ہیں۔ فرمایا ’’اور وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں، ان سے ڈرو، تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور انھوں نے جواب دیا کہ ہمارے لیے اﷲ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔‘‘

پھر آگے چل کر فرمایا، ’’(اے پیغمبر) جو لوگ آج کفر کی راہ میں بڑی دوڑ دھوپ کر رہے ہیں، ان کی سرگرمیاں تمہیں آزردہ نہ کریں، یہ اﷲ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے۔۔۔۔ جو لوگ ایمان کو چھوڑ کر کفر کے خریدار بنے ہیں، وہ یقیناً اﷲ کا کوئی نقصان نہیں کررہے، ان کے لیے درد ناک عذاب تیار ہے۔

یہ ڈھیل جو ہم انہیں دیئے جاتے ہیں، اس کو یہ کافر اپنے حق میں بہتری نہ سمجھیں، ہم تو انہیں اس لیے ڈھیل دے رہے ہیں کہ یہ خوب بارِ گناہ سمیٹ لیں، پھر ان کے لیے سخت ذلیل کرنے والی سزا ہے۔‘‘

کتابِ حکمت نے دنیا کی دلکش زندگی کو متاعُ الغرور (ظاہر فریب چیز) قرار دیا ہے۔ فرمایا ’’اے محمدؐ! اگر یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو بہت سے رسول تم سے پہلے بھی جھٹلائے جاچکے ہیں جو کھلی کھلی نشانیاں اور صحیفے اور روشنی بخشنے والی کتابیں لائے تھے۔

آخر کار ہر شخص کو مرنا ہے اور تم سب اپنے اپنے پورے اجر قیامت کے روز پانے والے ہو۔ کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتشِ دوزخ سے بچ جائے اور جنّت میں داخل کردیا جائے۔ رہی یہ دنیا، تو یہ محض ایک ظاہر فریب چیز ہے۔‘‘

مفسّرین ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس دنیا کی زندگی میں جو نتائج رونما ہوتے ہیں، انھی کو اگر کوئی شخص اصلی اور آخری نتائج سمجھ بیٹھے اور انھی پر حق اور باطل اور نفع اور نقصان کے فیصلے کا مدار رکھے تو وہ سخت دھوکے میں مبتلا ہوجائے گا۔

دنیا میں کسی کو دولت، عزت اور شہرت کی صورت میں نعمتیں ملنا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ وہی حق پر بھی ہے اور اسی کو خالقِ کائنات کا قرب حاصل ہے اور ربِّ کائنات اس سے راضی ہے۔

اسی طرح یہاں کسی کا مصائب و مشکلات میں مبتلا ہونا بھی لازمی طور پر یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ باطل پر ہے اور خالق ومالکِ کائنات اسے ناپسند کرتے ہیں یا اس سے ناراض ہیں۔ کسی کے دنیاوی حالات سے نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔

اصل نتائج وہی ہوں گے جو حیاتِ ابدی کے مرحلے میں پیش آنے والے ہیں’’ کتابِ حکمت کے مصنّف نے انسانوں کو بار بار کہا ہے کہ تمہیں عقل اور شعور اسی لیے دیا گیا ہے کہ اسے استعمال کرو اور اپنے آس پاس پھیلی ہوئی خالقِ کائنات کی حیرت انگیز تخلیقات پر غور کرو تاکہ تم اﷲ کو پہچان سکو۔‘‘

اسی سورہ میں فرمایا گیا ہے ’’ زمین اور آسمان کی پیدائش میں اور رات اور دن کے بارے میں آنے میں ان ہوش مند لوگوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں جو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے، ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان وزمین کی ساخت میں غور وفکر کرتے ہیں۔

انہیں دیکھ کر وہ بے اختیار بول اٹھتے ہیں ’’پروردگار! یہ سب کچھ تو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا‘‘ یعنی جب وہ نطامِ کائنات کا بغور مشاہدہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت ان پر عیاں ہوجاتی ہے کہ یہ سراسر ایک حکیمانہ نظام ہے اور یہ بات سراسر حکمت کے خلاف ہے کہ جس مخلوق میں اﷲ نے اخلاقی حِس پیدا کی ہو، جسے تصوّف کے اختیارات دیئے ہوں، جسے عقل وتمیز عطا کی ہو، اس سے اس کی دنیاوی زندگی کے اعمال اور افعال کا حساب نہ لیا جائے اور بازپرس نہ کی جائے۔

عدل اور انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ہر انسان کو اس کے اچھے کام کی جزا اور برے کام کی سزا ضرور ملے۔ دنیا میں تو ایسا ممکن نہیں ہے، نہ ہی یہاں مکمّل انصاف کرنا کسی بڑے سے بڑے شہنشاہ کے بس میں ہے۔

فرض کریں کہ دنیا میں ایک شخص نے سو آدمیوں کو ہلاک کردیا ہے اور ایک دوسرے شخص نے جان پر کھیل کر کسی ٹرین کو حادثے سے بچالیا ہے اور سیکڑوں انسانوں کی جانیں بچالی ہیں، کیا دنیا میں ان دونوں کو عدل کے مطابق سزا اور جزا دی جاسکتی ہے۔

نہیں ایسا ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا پوری انسانیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے اور ربِّ کائنات کی شانِ عدل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ کوئی ایسی عدالت لگے، کوئی ایسا دن آئے کہ جب ہر ظالم کو اس کے کیے کی سزا ملے اور ہر متقی اور پاکیزہ کردار انسان کو اس کی نیکیوں کے مطابق جزا ملے۔

اسی تقاضے کا جواب ہے روزِ محشر یا روزِ حساب۔ جب ربِّ ذوالجلال کی عدالت لگے گی اور اب تک پیدا ہونے والے تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کرکے حاضر کیا جائے گا اور ان کے اعمال کے مطابق جزا اور سزا دے دی جائے گی اور سزا بھی ایسی ہوگی جس کے احوال سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

تاریخ میں جھوٹے نبی اور خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی گزرے ہیں مگر کبھی کوئی بڑے سے بڑا متکّبر شہنشاہ اور خدائی کا دعویٰ کرنے والا طاقتور حکمران بھی یہ دعویٰ کرنے کی جرات نہیں کرسکا کہ ’’میں تمام مردہ انسانوں کو ایک روز زندہ کروں گا، ان سب کا حساب ہوگا اور انہیں ان کے اعمال کے مطابق سزا اور جزا دی جائے گی‘‘۔ یہ دعویٰ صرف سچّے خدا نے ہی کیا ہے، اور یہ دعویٰ بھی اس کے سچّا ہونے کی بہت بڑی دلیل ہے۔

پھر اللہ کی نشانیوں پر غور وفکر کرنے والوں کے بارے میں فرمایا گیا ’’وہ بول اٹھتے ہیں کہ کوئی بے مقصد کام کرے۔ پس اے رب ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے، تو نے جسے دوزخ میں ڈال دیا، اسے درحقیقت بڑی ذلّت اور رسوائی میں ڈال دیا۔

پس اے ہمارے آقا! جو قصور ہم سے ہوئے ہیں، ان سے درگذر فرما، جو برائیاں ہم میں ہیں، انہیں دور کردے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔ یاالہٰی جو وعدے تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے کیے ہیں، ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہمیں رسوائی میں نہ ڈال۔

بیشک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے۔ جواب میں ان کے رب نے فرمایا ’’میں تم میں سے کسی کا عمل ضایع کرنے والا نہیں ہوں، خواہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو‘‘۔

آگے چل کر فرمایا ’’اے نبیؐ دنیا کے ملکوں میں خدا کے نافرمان لوگوں کی چلت پھرت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے، یہ محض چند روزہ زندگی کا تھوڑا سا لطف ہے۔ پھر یہ سب جہنّم میں ڈالے جائیں گے جو بدترین جائے قرار ہے‘‘۔

اِس وقت مختلف بلاکوں میں بٹے ہوئے اور مسلمانوں کے مشترکہ دشمن کے ہاتھوں استعمال ہونے والے مسلم حکمرانوں کو راہِ راست پر لانے اور اتفاق اور اتحاد قائم کرنے کے لیے ان آیاتِ الہٰی سے بڑھ کر اور کیا چیز relevant ہوسکتی ہے۔ خالقِ کائنات سورہ آلِ عمران میں ہی فرماتے ہیں،

’’اور سب مل کر اللہ کی (ہدایت کی) رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہنا اور فرقے فرقے نہ ہوجانا اور اپنے اوپر اللہ کی اس مہربانی کو یاد رکھنا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو اس نے تم کو بچالیا، اس طرح اللہ نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے تاکہ تم راہِ راست پر رہو‘‘۔

شاعرِ مشرق یاد آتے ہیں جو آخر دم تک مسلمانوں کو یہی تلقین کرتے رہے کہ

بتانِ رنگ وبو کو توڑ کر ملّت میں گم ہوجا

نہ تو رانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی

اور

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر

اگلی نشست میں حکمت اور دانائی کی کچھ مزید باتیں شیئر کی جائیں گی۔





Source link

Continue Reading

Today News

قصہ گورنر سندھ کی تبدیلی کا

Published

on


سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے وقت اور پھر میاں شہباز شریف کو وزیر اعظم اور آصف علی زرداری کو صدر کے عہدے پر فائزکرنے کے لیے متحدہ قومی موومنٹ سے جو معاہدے کیے گئے وہ کہیں کھو گئے۔

مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے ترجمانوں کا کہنا ہے کہ نئی حکومت بناتے وقت دونوں جماعتوں کے درمیان یہ طے ہوا تھا کہ سندھ کا گورنر مسلم لیگ کا ہوگا مگر دونوں جماعتوں کے ترجمان یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ جب ان کی جماعت کے رہنما وزیراعظم اور صدر کے انتخاب کے لیے ایم کیو ایم کے عہدیداروں کے پاس ووٹ لینے گئے تھے تو انھوں نے کیا معاہدے کیے تھے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی ایڈوائز پر صدر زرداری نے ایم کیو ایم کے نامزد کردہ گورنر کامران ٹیسوری کو سبکدوش کردیا اور نہال ہاشمی کو گورنر نامزد کرنے کی سمری منظور کر لی، مگر ایم کیو ایم کے پاس موجودہ ڈھانچے میں ساتھ رہنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آتا۔

سندھ کے نئے گورنر نہال ہاشمی پرانے سیاسی کارکن ہیں۔ انھوں نے اپنے آدرش کی پاسداری کے لیے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں مگر ان کے بھی وہی خیالات ہیں جو سابق گورنر کے تھے۔

کامران ٹیسوری کا انتخاب بھی کچھ عجیب ہی تھا، وہ گورنر بننے سے پہلے ایم کیو ایم کے رکن تک نہیں تھے اور ڈاکٹر فاروق ستار گروپ کے رکن تھے۔

اس سے پہلے وہ پیر پگارا کے حامیوں میں شمار ہوتے تھے۔ 2024ء کے انتخابات کے بعد ایم کیو ایم نے جن اپنے رہنماؤں کو گورنر بنانے کی سفارش کی تھی، ان میں نسرین جلیل نمایاں تھیں، ان کے علاوہ دو اور رہنما بھی شامل تھے مگر کامران ٹیسوری کو اس عہدے کے لیے منتخب کیا گیا۔

کامران ٹیسوری کا تعلق کاروباری طبقے سے ہے اورکراچی کے تاجروں میں وہ ایک منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے تاجروں کی مدد سے گورنر ہاؤس میں آئی ٹی کے کورسز شروع کروائے۔

ان کورسز سے ہزاروں طلبہ مستفید ہوئے۔ ان طلبہ میں کراچی میں رہنے والے تمام نسلی گروہوں کے نوجوان شامل تھے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے رمضان میں افطاریوں کا سلسلہ شروع کیا۔

ہر سال سیکڑوں افراد ان افطار پارٹیوں میں شرکت کرتے تھے۔ انھوں نے رمضان المبارک کے مہینے میں غریبوں میں خیرات بانٹنے کا سلسلہ شروع کیا۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے نوجوانوں میں موٹر سائیکلیں بلامعاوضہ تقسیم کیں۔

گورنر صاحب نے انتظامی معاملات میں مداخلت شروع کردی۔ کراچی اور اندرونِ سندھ ہونے والے حادثات کے بارے میں براہِ راست رپورٹیں طلب کرنے لگے، وہ حادثات میں جاں بحق ہونے والے افراد کے گھروں پر جانے لگے۔

گل پلازہ میں آتش زدگی کے واقعے کے بعد پہلے جو رہنما وہاں پہنچے تھے، ان میں گورنر کامران ٹیسوری بھی شامل تھے۔ انھوں نے اس موقع پر سخت بیانات دیے۔ کامران ٹیسوری سندھ حکومت کی کارکردگی پر ہمیشہ تنقید کرتے تھے۔

ان کی تقاریر میں لسانی پہلو نمایاں ہونے لگا۔ کسی عقل مند شخص کے مشورے پر اپنی دانش کو استعمال کرتے ہوئے انھوں نے گورنر ہاؤس کے مرکزی دروازے پر ایک بڑی گھنٹی لگوائی۔ اس گھنٹی کا مقصد مظلوموں کی مدد کرنا تھا۔

یوں گورنر صاحب مغل بادشاہوں کی پیروی کررہے تھے، اگرچہ کسی مظلوم کو اس گھنٹی بجانے کا فائدہ نہ ہوا مگر موصوف کے گھنٹی بجاتے ہوئے فوٹیج الیکٹرونک میڈیا پر کئی دنوں تک چلتے رہے۔

پیپلز پارٹی کی قیادت دبے دبے الفاظ میں کامران ٹیسوری اورگورنر ہاؤس میں ہونے والی سرگرمیوں پر تنقید کرتی رہی مگر پھر گورنر ٹیسوری نے صدر آصف زرداری، پنجاب اور خیبر پختون خوا کے گورنروں کی طرح زیادہ سیاسی بیانات دیے۔

گزشتہ سال گورنر صاحب نے کراچی کو صوبہ بنانے کا ایجنڈا سنبھال لیا۔ یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ انھیں یہ ایجنڈا ان قوتوں نے تجویز کیا تھا جن قوتوں نے انہیں گورنرکا عہدہ دلانے میں بنیادی کردار ادا کیا یا ایم کیو ایم کی قیادت کے دباؤ پر انھوں نے یہ ایجنڈا اختیار کیا تھا اور وہ اس ایجنڈے کے لیے اتنے جذباتی ہوگئے کہ گورنر ہاؤس میں ایک کانفرنس برپا کردی جس میں کچھ مقررین نے تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے ثابت کیا کہ کراچی کبھی سندھ کا حصہ نہیں تھا۔

مزید یہ طریقہ کار اختیار کیا کہ مہمانوں کو شال اور وہ کیپ تحفہ میں دینے لگے جو کبھی پاکستان کے بانی بیرسٹر محمد علی جناح نے کچھ جلسوں میں پہنی تھی۔ سندھ کی روایت اجرک اور سندھی ٹوپی ہے۔ کراچی کے لوگ جن میں خواتین بھی شامل ہیں یہ اجرک اوڑھتی بھی ہیں اور پہنتی بھی ہیں۔ شال تو کبھی اس خطے کے کلچر کا حصہ ہی نہیں تھی۔

 بہرحال ایم کیو ایم کی صورتحال بھی کچھ عجیب قسم کی ہے۔ کراچی اور حیدرآباد میں اب مقبول ترین جماعت تحریک انصاف ہے۔

ان دونوں شہروں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ایم کیو ایم لندن کا ہمدرد بھی ہے مگر کراچی اور حیدرآباد میں یہ لوگ منظم نہیں ہیں۔ چند لوگ اس گروپ کو منظم کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ مختلف قسم کیمشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں۔

بہرحال ایم کیو ایم پاکستان کے اندر بھی کئی دھڑے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال الگ الگ گروپ ہوا کرتے تھے ، پھر یہ گروپ ایم کیو ایم کے ساتھ مل گئے اور ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں متحد ہوگئے مگر عملی طور پر یہ گروپ علیحدہ علیحدہ نظر آتے ہیں۔

بعض حلقے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو ایک کمزور کنوینر سمجھتے ہیں۔ ادھر پیپلز پارٹی کے سینیٹر وقار مہدی کی سینیٹ میں کی گئی یہ تقریر اہم ہے کہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی وفاقی اردو یونیورسٹی کی حالت کو بہتر نہ کرسکے تو وہ کراچی کو صوبہ کیسے بنائیں گے۔

شاید یہی وجوہات ہیں کہ ایم کیو ایم نے اب ایک خود مختار بلدیہ کراچی کے قیام کے لیے کوشش کرنے سے زیادہ کراچی کو صوبہ بنانے کے ایجنڈے پر زور دینا شروع کیا۔ ایف بی آر کے سابق چیئرمین شبر زیدی کی یہ بات درست ہے کہ ملک میں کوئی نیا صوبہ نہیں بن سکتا۔

کراچی کو سندھ سے علیحدہ کرنے کا مطلب ایسے تضادات کو ابھارنا ہے جیسے تضادات تقسیمِ ہند کے وقت پیدا ہوئے تھے اور 1947ء میں پیدا ہونے والے تضادات آج بھی اس خطے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

ایم کیو ایم کے اندرونی ذرائع مسلسل کہہ رہے ہیں کہ ایم کیو ایم وفاقی حکومت سے علیحدہ ہونے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی ان ہی خیالات کا اظہارکیا۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نہال ہاشمی کو گرم جوشی سے مبارکباد تو دی ہے مگر پیپلز پارٹی کی قیادت یہ سوچ رہی ہے کہ کامران ٹیسوری کی گورنر ہاؤس سے رخصتی سے تمام خطرات ٹل گئے ہیں تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ کراچی کے عوام کی اکثریت اور سندھ کی حکومت میں فاصلے طویل ہیں۔

اگر بلاول بھٹو زرداری گل پلازہ حادثے کی تحقیقات کرنے والے ایک رکنی کمیشن کے سامنے پیش کیے جانے حقائق کا براہِ راست مطالعہ کریں تو انہیں صورتحال کی سنگینی کا انداز ہوگا۔

کراچی دنیا کے بڑے شہروں میں ایک ہے۔ اس شہر کا نظام چلانے کے لیے ایسے ہی بلدیاتی نظام کی ضرورت ہے جیسا نظام نیویارک، لندن، مبمئی، کلکتہ، چنائی اور شنگھائی وغیرہ میں ہے۔

اس بااختیار نظام سے گورننس کی صورتحال بہتر ہوسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک بڑا مسئلہ ملازمتوں کا ہے۔

سندھ پبلک سروس کمیشن کی کارکردگی پر سے تو کراچی والوں کا اعتماد عرصہ دراز پہلے ہی اٹھ چکا تھا، اب تو اندرونِ سندھ کے تعلیم یافتہ نوجوان بھی اس کمیشن کی کارکردگی سے مایوس ہیں۔

نوجوانوں کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ گریڈ 1 سے گریڈ 17 تک تمام تقرریاں سندھ پبلک سروس کمیشن کے تحت ہوں اور اس کمیشن کی جدید خطوط پر اس طرح تنظیمِ نو کی جائے کہ شفافیت اور میرٹ میں اس کی مثال بن جائے۔

بلاول صاحب محض یہ کہنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا کہ سندھ کا مقابلہ دیگر صوبوں سے نہیں بلکہ دنیا بھر سے ہے۔ اس کے لیے حقیقی اقدامات کی ضرورت ہے۔

بعض اینکر پرسن کی نئے گورنر نہال ہاشمی پر سخت تنقید سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ وزیر اعظم ہاؤس میں ہوا، اگر یہ مفروضہ درست ہے تو پھر مستقبل میں اس حکومت کے معاملات خراب ہوسکتے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending