Connect with us

Today News

کراچی؛ نوسربازوں نے نوجوان کا اے ٹی ایم کارڈ قبضے میں لیکر 9 لاکھ روپے سے محروم کر دیا

Published

on



گلشن اقبال میں نوسربازوں نے نوجوان کا اے ٹی ایم کارڈ قبضے میں لے کر مختلف ٹرانزکشن کے ذریعے 9 لاکھ روپے سے محروم کر دیا جبکہ نوجوان کے والد نے عزیز بھٹی تھانے میں واردات سے متعلق درخواست جمع کرا دی۔

عزیز بھٹی تھانے میں میں درخواست گزار کامران خان چشتی نے پولیس کو بیان دیا کہ وہ گلشن اقبال بلاک 8 کا رہائشی ہیں اور ان کا بیٹا گلشن اقبال بیت المکرم مسجد کے قریب نجی بینک کے اے ٹی ایم سے پیسے نکلوانے کے لیے قطار میں باہر کھڑا تھا کہ اس دوران اے ٹی ایم روم میں پہلے سے موجود شخص باہر آیا اور اس نے میرے بیٹے سے کہا کہ میرا اے ٹی ایم کارڈ کام نہیں کر رہا ہے ، شاید مشین خراب ہے یا پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے اور اس نے میرے بیٹے سے کہا کہ تم زرا اپنا کارڈ اے ٹی ایم میں استعمال کر کے چیک کرو۔

انہوں نے بتایا کہ میرا بیٹا اس شخص کے بلانے پر اے ٹی ایم روم میں چلا گیا اسی دوران مزید 2 مشبتہ افراد بھی اندر آگئے اور اس دوران جس شخص نے میرے بیٹے کو اندر بلایا تھا اس نے میرے بیٹے سے کارڈ لے کر کہا کہ میں اسے چیک کرتا ہوں جس پر میرے بیٹے نے بے دہانی میں اپنا اے ٹی ایم کارڈ اس شخص کو دے دیا جبکہ دیگر دو افراد نے بیٹے کو اپنی جانب متوجہ کیا اس دوران اس شخص نے کمال ہوشیاری سے اے ٹی ایم کارڈ اپنے جیب میں ڈال لیا۔

درخواست گزار نے کہا کہ ملزمان نے میرے بیٹے سے کہا کہ اپنا پن کوڈ لگاؤ جبکہ اس شخص نے میرے بیٹے کا اے ٹی ایم کارڈ مشین میں ڈالا ہی نہیں تھا اور میرے بیٹے نے پن کوڈ بھی ان کے سامنے استعمال کیا، جسے انہوں نے نوٹ کرلیا، میرا بیٹا پن کوڈ ڈالتا رہا جبکہ کارڈ تو مشین میں تھا ہی نہیں اس دوران تینوں افراد نے بیٹے سے کہا کہ تمھارا کارڈ مشین میں پھنس گیا ہے صبح بینک آکر اسے نکلوا لینا۔

 پولیس کو بیان میں انہوں نے مزید بتایا کہ اس کے بعد میرے اکاؤنٹ سے ٹرانزیکشنز شروع ہوگئیں جبکہ میں اعتکاف میں تھا اور اس دوران میں نے ٹرانزیکشن میسجز نہیں دیکھے، نوسربازوں نے 16 مارچ سے 17 مارچ کی صبح رات بارہ بج کر 10 منٹ تک میرے اکاؤنٹ سے مجموعی طور پر 9 لاکھ روپے نکال لیے۔

درخواست گزار کے مطابق ایک ٹرانزیکشن 16 مارچ کی رات 9 بج کر 28 منٹ پر اسی نجی بینک کے دوسرے اکاؤنٹ میں دو لاکھ روپے کی رقم عبیدالرحمان نامی شخص کے اکاؤنٹ میں بھیجی گئی جبکہ دوسری بار  دو لاکھ، تیسری بار 17 مارچ کی صبح دو لاکھ، چوتھی اور پانچویں بار حیدر آباد سیٹزن کالونی سے بالترتیب دو لاکھ اور 50،50 ہزار روپے 2 بار نکالے گئے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

برطانیہ نے ایران پر حملوں کیلیے امریکا کو اپنے فوجی اڈّے دینے کی منظوری دیدی

Published

on


برطانیہ نے آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے لیے امریکا کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے تاکہ ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں میں مدد دی جا سکے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے قبل بھی امریکی افواج کو برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فوجی اڈوں کا استمعال خاص طور پر ایسے اقدامات کے لیے جن کا مقصد ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل حملوں کو روکنا اور برطانوی مفادات کا تحفظ کرنا تھا۔

تاہم اب آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے بھی فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے تاکہ عالمی منڈی میں پیٹرول کی قلت پر قابو پایا جا سکے۔

خیال رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر نے نیٹو اتحادیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھیں ڈرپوک اور کاغذی شیر قرار دیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے نیٹو اتحادی ممالک کے لیے فوجی کارروائی کرنا بہت آسان ہے مگر وہ اس سے گریز کر رہے ہیں۔

ادھر ایرانی وزارت خارجہ نے برطانیہ کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر اس نے امریکی حملوں کے لیے اپنے فوجی اڈے فراہم کیے تو اس عمل کو جارحیت میں براہ راست شمولیت تصور کیا جائے گا۔

دوسری جانب برطانوی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کے ردعمل میں امریکا کو اپنے دفاعی آپریشنز کے لیے برطانوی فوجی اڈے دینے پر مجبور ہوئے ہیں۔

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

اسکاٹ لینڈ میں برطانوی بحری اڈّے میں گھسنے کی کوشش پر ایرانی مرد و خاتون گرفتار

Published

on


اسکاٹ لینڈ میں ایران سے تعلق رکھنے والے جوڑے کو سنگیں الزامات پر حساس علاقے سے حراست میں لیا گیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ گرفتاری برطانیہ کے بحری اڈے فاسلین سے عمل میں لائی گئی تھی۔ گرفتار ہونے والے 34 سالہ مرد اور 31 برس کی خاتون کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

اسکاٹ لینڈ پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ اس جوڑے کو ایچ ایم بحری اڈے کلائڈ میں شام پانچ بجے گرفتار کیا گیا تھا اور ان سے تفتیش ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔

برطانوی رائل نیوی کا کہنا ہے کہ ایک مرد اور خاتون نے بحری اڈّے میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی اور اپنے حساس علاقے میں ہونے کا کوئی جواز پیش کرنے میں بھی ناکام رہے تھے۔

نیوی کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ تحقیقات جا رہی ہیں، تاحال جوڑے کے مقصد کا تعین نہیں کیا جا سکا۔ دونوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ جس کے بارے میں جلد آگاہ کیا جائے گا۔ 

واضح رہے کہ فاسلین بیس برطانوی رائل نیوی کی تمام جوہری آبدوزوں کا مرکز ہے جن میں وینگارڈ کلاس بیلسٹک میزائل آبدوزیں بھی شامل ہیں جو کہ ٹرائڈنٹ نیوکلیئر میزائلوں سے لیس ہیں۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

آسٹریلوی وزیراعظم نے عید کی نماز کے اجتماع میں شرکت کی؛ شدید احتجاج کا سامنا

Published

on


آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز کو سڈنی کی معروف مسجد میں عیدالفطر کی نماز کے اجتماع میں شرکت کی جہاں انھیں شدید احتجاج اور نعرے بازی کا سامنا کرنا پڑا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز اور وزیر داخلہ ٹونی برکے نے جمعے کے روز لکیمبا مسجد میں عید کی نماز کے اجتماع میں شرکت کے لیے پہنچے جہاں ہزاروں نمازی موجود تھے۔

تاہم اس دوران کچھ افراد نے دونوں رہنماؤں کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔ جس کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔ جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مظاہرین نے “گیٹ آؤٹ” (یہاں سے چلے جاؤ) اور “شرم کرو” جیسے نعرے لگائے۔

احتجاج کرنے والوں نے آسٹریلوی وزیراعظم اور وزیر داخلہ کو نسل کشی کا حامی قرار دیتے ہوئے شدید نعرے بازی جاری رکھی یہاں تک کہ ایک شخص کو سیکیورٹی اہلکاروں کو پکڑ کر باہر نکالا۔

مسجد انتظامیہ نے مشتعل مجمع کو پُرسکون رہنے کی اپیل کی اور یاد دلایا کہ یہ عید کا خوشیوں بھرا دن ہے تاہم اس کے باوجود احتجاج وقفے وقفے سے جاری رہا۔

دوسری جانب آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے واقعے کو مجموعی طور پر مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ تقریب میں تقریباً 30 ہزار افراد موجود تھے اور چند افراد کی نعرے بازی کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

انھوں نے مزید کہا کہ بعض افراد حکومتی فیصلوں پر ناراض ہوسکتے ہیں لیکن وسیع پیمانے میں دیکھیں تو یہ اجتماع پُرامن رہا۔

یاد رہے کہ آسٹریلیا کی مسلم آبادی میں حکومت کی مشرق وسطیٰ، خصوصاً غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق پالیسی پر ناراضگی پائی جاتی ہے۔

علاوہ ازیں حال ہی میں آسٹریلوی حکومت نے حزب التحریر کو ایک ممنوعہ تنظیم قرار دیا ہے جس پر بھی بعض حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
 

 





Source link

Continue Reading

Trending