Connect with us

Today News

کراچی؛ یونیورسٹی روڈ کی صورتحال بدترین، گندے پانی اور گڑھوں میں حادثات معمول بن گئے

Published

on



یونی ورسٹی روڈ کی صورت حال بدترین ہوگئی ہے جہاں گزشتہ چند برسوں سے زیرتعمیر ریڈ لائن کی وجہ بنے ہوئے گڑھے گندا پانی جمع ہونے کی وجہ سے شہریوں کے لیے موت کے کنویں کا منظر پیش کر رہے ہیں اور حادثات معمول بن گئے ہیں۔

یونی ورسٹی روڈ پر ریڈ لائن کی تعمیرات گزشتہ ساڑھے چار سال سے جاری ہے اور منصوبے کی فوری تکمیل کے امکانات نہیں ہیں جبکہ ملیر ہالٹ سے نمائش چورنگی تک سڑک کی حالت بدترین ہوگئی ہے جگہ جگہ بڑے بڑے گڑھے پڑھے ہوئے جس میں شہری گر رہے ہیں۔

دوسری جانب حسن اسکوائر سے جیل چورنگی جانے والے راستے میں سیوریج کا پانی جمع ہوا ہے اور اسی مقام پر بڑے بڑے گڑھے پڑے ہوئے ہے جہاں موٹرسائیکل سوار اور رکشے گرنے کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔

ایکسپریس نیوز کی ٹیم جب اس مقام کی کوریج کر رہی تھی تو اس دوران ایک رکشہ ایسے ہی ایک گڑھے میں گرا اور چند ہی لمحے بعد ایک اور رکشہ اسی گڑھے میں گرا جس میں خواتین سوار تھیں جن کو شہریوں نے فوری طور مد د فراہم کی۔

اسی دوران ایک موٹرسائیکل سوار اس گڑھے میں گر کرزخمی ہوگیا، جس کے بعد فوری طور ایک اس مقام پر لکڑیاں لگا کر راستہ بند کردیا گیا تاکہ مزید کوئی حادثہ رونما نہ ہو۔

یونی ورسٹی روڈ پر بھی ایسی ہی صورت حال جگہ جگہ دیکھنے کو ملی وہاں موجود شہریوں نے ایکپسریس نیوز سے  گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ یہ صورت حال کئی دنوں سے ہے، پانی جمع ہے اور اس کے نیچے بڑے بڑے گڑھے ہیں جس کا شہریوں کو اندازہ نہیں ہوتا اور وہ حادثے کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اس حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کررہی ہے اور شہریوں نے اپیل کی ہے کہ ان مقامات کا مرمتی کام فوری مکمل کیا جائے تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔

واضع رہے کہ ریڈلائن کی تعمیر کی وجہ سے شہریوں کو اذیت ناک سفر کا سامنا ہے اور جہاں ایک جانب شہری منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرر ہے ہیں تو دوسری جانب گڑھوں میں گر کر حادثات کا شکار ہو ر ہے ہیں۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

قومی ہاکی ٹیم میں تقرریاں، اولمپئن سمیع اللہ چیف سلیکٹر مقرر

Published

on



اسلام آباد: پاکستان ہاکی فیڈریشن نے قومی مینز ہاکی ٹیم کے لیے اہم تقرریوں کا اعلان کر دیا اورسابق لیجنڈری کھلاڑی سمیع اللہ کو چیف سلیکٹر مقرر کر دیا گیا ہے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے مطابق فیڈریشن کی پروفیشنل ڈیولپمنٹ کمیٹی کی سفارش پر  تقرریاں کی گئیں، جس میں ماضی کے نامور اولمپئن حسن سردار اور اصلاح الدین صدیقی شامل ہیں۔

فیڈریشن کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد پاکستان میں ہاکی کے کھیل کو دوبارہ عروج پر لانا اور قومی ٹیم کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔

اس سلسلے میں ایک جامع منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے جس میں ٹیم کے نئے ڈھانچے کی تشکیل، کوچنگ اسٹاف کی تقرری اور باقاعدہ مقابلوں کا شیڈول ترتیب دینا شامل ہے۔

حکام کے مطابق کوچز، امپائرز اور آفیشلز کی فنی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی جبکہ ملک بھر سے نئے ٹیلنٹ کی تلاش کے لیے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ اسکولوں اور کالجوں کی سطح پر ہاکی کو فروغ دینے اور بین الادارہ جاتی مقابلوں کو دوبارہ فعال بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ کھلاڑیوں کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے ہائی پرفارمنس سینٹر قائم کرنے پر بھی کام جاری ہے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر نے اس موقع پر امید ظاہر کی کہ سمیع اللہ کی تقرری سے قومی ٹیم کو فائدہ ہوگا اور پاکستان ہاکی ایک بار پھر اپنی کھوئی ہوئی پہچان حاصل کرنے میں کامیاب ہو گی۔

فیڈریشن نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ تمام متعلقہ اداروں اور ہاکی سے وابستہ افراد کے تعاون سے اس منصوبے کو کامیاب بنایا جائے گا۔



Source link

Continue Reading

Today News

صدر مملکت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرلیا

Published

on



صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 2 مارچ کو بلانے  کی سمری کی منظوری دے دی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہر پارلیمانی سال کے آغاز پر بلایا جاتا ہے۔  یہ اجلاس 02 مارچ 2026 کو دوپہر تین بجے ہو گا۔

صدر آصف علی زرداری بطور صدرِ پاکستان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے 9ویں بار خطاب کریں گے۔

اعلامیے کے مطابق صدر کے خطاب میں قومی ترجیحات، جمہوری استحکام، آئینی بالادستی، پائیدار معاشی ترقی، خطے اور دنیا کی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف قومی عزم اور وطن میں بیرونی پشت پناہی میں سرگرم دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا احاطہ کیا جائے گا۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

امریکا کی ایران پر نئی پابندیاں، تیل کی برآمدات اور میزائل پروگرام کو نشانہ بنایا گیا

Published

on


امریکا نے جنگ کے دباؤ اور جوہری مذاکرات کے دوران ایک بار پھر ایران پر پابندیاں عائد کردیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کی ہیں جس میں خاص طور پر وہ جہاز نشانہ بنائے گئے ہیں جو ایرانی تیل فروخت کر کے ملک کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے لیے فنڈز فراہم کر رہے ہیں۔

پابندیوں کے تحت 12 جہازوں، متعدد کمپنیوں اور افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے جن کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے اور امریکی شہریوں کے لیے ان کے ساتھ مالی لین دین ممنوع ہو جائے گا۔

یہ پابندیاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتظامیہ کے “زیادہ سے زیادہ دباؤ” مہم کے تحت لگائی گئی ہیں۔

امریکی وزارت خزانہ کے سکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران غیر قانونی تیل کی فروخت کے ذریعے مالیاتی نظام کا غلط استعمال کرتا ہے جس سے ہتھیار خریدے جاتے ہیں اور دہشت گرد گروہوں کی مدد کی جاتی ہے۔

دوسری جانب امریکا نے خطے میں اپنے فوجی وسائل بھی بڑھا دیے ہیں جن میں دو ایئرکرافٹ کیریئرز اور بڑی لڑاکا ہوائی جہاز کی فلیٹس شامل ہیں تاکہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے تیاری کی جا سکے۔

امریکا نے یہ پابندیاں صدر ٹرمپ کی پہلی مدت میں 2018 میں ایران کے ساتھ جوائنٹ کمپریہنسیو پلان آف ایکشن (عالمی جوہری معاہدے) کو ختم کرنے کے بعد عائد کرنا شروع کیں۔

خیال رہے کہ اس عالمی جوہری معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام میں کمی کی تھی جس کے بدلے بین الاقوامی پابندیاں ختم کی گئی تھیں۔

صدر ٹرمپ کی 2025 میں دوبارہ صدارت سنبھالنے کے بعد ایران کے تیل کے برآمدات کو روکنے کے لیے معاشی دباؤ کی مہم کو دوبارہ تیز کیا گیا ہے۔
 

 

 





Source link

Continue Reading

Trending