Connect with us

Today News

کراچی: آوارہ کتوں کے حملے میں 2 کمسن بہنیں زخمی

Published

on



کراچی:

منگھوپیر رمضان گوٹھ میں آوارہ کتوں کے حملے میں 2 کمسن بہنیں زخمی ہوگئیں۔

شہر قائد میں آوارہ کتوں کے خلاف متعلقہ اداروں کی جانب سے موثراقدامات نہ کیے جانے کی وجہ سے سگ گزیدگی کے واقعات میں روز بروزاضافہ ہونے لگا ہے۔

منگھو پیر رمضان گوٹھ کے قریب کتوں نے 2 کمسن بچوں پر حملہ کردیا جس کے نتیجے دونوں بچیاں زخمی ہوگئیں۔، جنہیں چھیپا ایمبولینس کے ذریعےعباسی شہید اسپتال منتقل کردیا گیا۔

زخمی بچوں کی شناخت 3 سالہ جمیلہ اور 8 سالہ حنا کے ناموں سے کی گئی، دونوں آپس میں سگی بہنیں ہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایپسٹین کا لڑکیوں کی اسمگلنگ کیلیے برطانوی ایئر فورس کے اڈوں کا استعمال؛ ہوشربا انکشاف

Published

on


کم عمر لڑکیوں اور خواتین کا جنسی ریکٹ چلانے والے بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل کے مجرم جیفری ایپسٹین نے ممکنہ طور پر برطانوی ایئربیس کا بھی استعمال کیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ جیفری ایپسٹین اپنے نجی طیاروں کے ذریعے خواتین کو برطانیہ لاتا تھا اور ممکنہ طور پر رائل ایئر فورس کے اڈوں پر لینڈنگ بھی کی ہو۔

ان رپورٹس کے مطابق ایک اہم واقعہ دسمبر 2000 کا بتایا جا رہا ہے جب ایپسٹین کا نجی گلف اسٹریم جیٹ برطانیہ کے علاقے نورفوک میں واقع ایک فوجی ایئر بیس پر اترا تھا۔

اس کے بعد ایپسٹین نے برطانیہ کے شہزادے پرنس اینڈریو کے ساتھ شاہی رہائش گاہ سندرنگھم ہاؤس کا دورہ کیا تھا۔

ان رپورٹس کے سامنے آنے پر برطانوی وزیرِ دفاع جان ہیلی نے جیفری ایپسٹین کے خواتین اور کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ کے لیے برٹش رائل ایئر فورس (RAF) کے اڈے استعمال کرنے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیدیا۔

برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع نے گزشتہ دو دہائیوں کے ریکارڈ کی مکمل جانچ کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے اور ہر ممکن ثبوت تلاش کیا جائے۔

برطانیہ کے سابق وزیر اعظم گورڈن براؤن نے بھی مطالبہ کیا کہ پولیس اس بات کی چھان بین کرے کہ آیا شہزادہ اینڈریو نے سرکاری فنڈز سے چلنے والی پروازوں یا برطانوی ایئر فورس کے اڈوں کو ایپسٹین سے ملاقاتوں کے لیے استعمال کیا تھا۔

یاد رہے کہ شہزادہ اینڈریو کو حال ہی میں سرکاری عہدے کے غلط استعمال کے الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور برطانوی تجارتی نمائندہ کام کرتے ہوئے خفیہ سرکاری دستاویزات ایپسٹین کو بھیجی تھیں۔

ادھر برطانیہ کی انٹیلی جنس و سکیورٹی کمیٹی نے کہا ہے کہ وہ جلد ایسی دستاویزات جاری کرے گی جن سے یہ واضح ہو سکے گا کہ سابق وزیر پیٹر مینڈلسن کو وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے امریکا میں برطانیہ کا سفیر کیوں مقرر کیا جب کہ ایپسٹین سے ان کے تعلقات پہلے سے سامنے آچکے تھے۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات کے دوران پیٹر مینڈلسن کو مختصر طور پر گرفتار بھی کیا تھا تاہم بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔

دوسری جانب یورپی یونین کے انسدادِ فراڈ ادارے نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ پیٹر مینڈلسن نے 2004 سے 2008 کے دوران یورپی کمیشن میں تجارتی کمشنر کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے کہیں ایپسٹین سے متعلق کوئی غیر قانونی سرگرمی تو نہیں کی۔

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

مغربی کنارے میں اسرائیلی کی مسماری مہم جاری، 6 ہفتوں میں 312 انفراسٹرکچر منہدم، 21 ہزار فلسطینی متاثر

Published

on


مقبوضہ مغربی کنارے میں 2026 کے آغاز سے اسرائیلی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

فلسطینی حقوق تنظیم Jerusalem Center for Legal Aid and Human Rights نے کہا ہے کہ سال کے پہلے چھ ہفتوں کے دوران اسرائیلی حکام نے 312 فلسطینی رہائشی اور زرعی ڈھانچے مسمار کیے۔

تنظیم نے اپنے بیان میں اقوام متحدہ کے ادارے اوچا کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یکم جنوری سے 18 فروری تک کی گئی انہدامی کارروائیوں سے تقریباً 21 ہزار فلسطینی متاثر ہوئے۔

زیادہ تر مسماری ایریا سی میں کی گئی، جو مغربی کنارے کا تقریباً 60 فیصد حصہ ہے اور مکمل طور پر اسرائیلی کنٹرول میں ہے۔

رپورٹ کے مطابق 16 سے 23 فروری کے درمیان غیر قانونی آبادکاروں کے 86 حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں 60 فلسطینی کمیونٹیز کو نشانہ بنایا گیا۔

ان حملوں کے نتیجے میں 186 افراد بے گھر ہوئے، 64 زخمی ہوئے، 39 گاڑیاں نذرِ آتش کی گئیں اور 800 زیتون کے درخت اکھاڑ دیے گئے۔

تنظیم نے کہا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی انسانی قانون، خصوصاً چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں، جو مقبوضہ علاقوں میں نجی املاک کی تباہی سے روکتا ہے۔

رپورٹ میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ مسماری اور جبری بے دخلی کا سلسلہ روکا جائے اور فلسطینی شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔





Source link

Continue Reading

Today News

پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے جو عزت کے ساتھ امن کا خواہاں ہے، سربراہ پاک فضائیہ 

Published

on



اسلام آباد:

سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے ایئر ہیڈکوارٹرز میں آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ کی ساتویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے جو عزت کے ساتھ امن کا خواہاں ہے۔

سربراہ پاک فضائیہ نے مزید کہا کہ سات سال قبل  دشمن نے پاکستان کی خودمختاری کو چیلنج کیا اور ہمیشہ کی طرح جھوٹے بیانیے پر مبنی اپنے اندازے میں ہماری صلاحیت اور عزم کا  غلط اندازہ لگایا۔ دشمن ہمارے پختہ عزم، جذبہ قربانی اور بے مثال حوصلے سے بے خبر ہو کر رات کی تاریکی میں بزدلانہ حملہ آور ہوا۔ دن کی روشنی میں نپی تلی اور مؤثر کارروائی کے ذریعے ہم نے عددی برتری رکھنے والے دشمن کے خلاف اپنی دفاعی قوت کا مظاہرہ کیا۔

سربراہ پاک فضائیہ  نے کہا کہ پیچیدہ عالمی و علاقائی ماحول اور جنگ کے تیزی سے بدلتے رجحانات  کے پیش نظر مالی مشکلات کے باوجود پی اے ایف  نے مارچ 2021 سے ایک جامع جدت طرازی اور مقامی سطح پر تیاری کے سفر کا آغاز کیا اور اسے بھرپور انداز میں جاری رکھا تاکہ پاک فضائیہ کو نیکسٹ جنریشن ایئر فورس میں تبدیل کیا جا سکے۔

اُنہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پی اے ایف  نے جدید جنگ کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اپنی آپریشنل ڈاکٹرائن کو فوری طور پر ازسرنو ترتیب دیا اور کم سے کم وقت میں جدید ترین حربی اور معاون صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ خصوصی نوعیت کی ٹیکنالوجیز کو شامل اور فعال کیا۔

ایئر چیف نے مزید کہا کہ پی اے ایف نے ریکارڈ وقت میں مقامی طور پر تیار کردہ بغیر پائلٹ  فضائی نظام، الیکٹرانک وارفیئر، خلائی اور سائبر وسائل کے استعمال سے ایک منفرد مقامی کل چین تیار کی جس کے نتیجے میں مربوط کثیر جہتی آپریشنل صلاحیتیں مضبوط ہوئیں۔

معرکہ حق کے دوران پاک فضائیہ کے جامع اور متوازن ردعمل کو اُجاگر کرتے ہوئے ایئر چیف نے کہا کہ جب مئی 2025 کے ابتدائی لمحات  میں جارح دشمن نے ایک بار پھر ہماری خودمختاری کو چیلنج کیا تو ہمارا جواب دشمن کی توقعات سے کہیں زیادہ حیران کن تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار پی اے ایف نے مکمل دائرہ کار پر مبنی کثیر جہتی آپریشنز انجام دیے  جو نہایت منظم اور بے نقص طریقے سے مکمل کیے گئے، جس کے نتیجے میں دشمن کو فیصلہ کن شکست ہوئی اور اس کے کئی جدید ترین پلیٹ فارمز جن میں متعدد رافیل طیارے، ایس یو-30 ایم کے آئی، میراج-2000، مگ-29 اور بغیر پائلٹ فضائی نظام شامل تھے، مار گرائے گئے۔

ایئر چیف  نے بتایا کہ پاک فضائیہ نے دشمن کے علاقے کے اندر گہرائی تک جا کر بیسز اور زمینی اثاثوں کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ جدید ترین ایس-400 فضائی دفاعی نظام اور ان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو بھی ناکارہ بنایا۔ آخر میں سر براہ پاک فضائیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایئر فورس اپنے بہادر اور ثابت قدم عوام کی توقعات پر پورا اترے گی اور ہمیشہ اس عظیم قوم کے لیے فخر کی علامت بنے رہے گی۔





Source link

Continue Reading

Trending