Connect with us

Today News

کراچی اس وقت بدترین رہنے والے شہروں میں آتا ہے، ایم کیو ایم رہنما علی خورشیدی

Published

on



سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا ہے کہ ہم عوامی لوگ ہیں جو بات عوام کرتی ہے ہم وہی کرتے ہیں۔ کراچی اس وقت بدترین رہنے والے شہروں میں آتا ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے اراکینِ اسمبلی کے ہمراہ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی خورشیدی کا مزید کہنا تھا کہ جب جمہوریت کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ رہے تو عوام سوال کرتی ہے ہم کیا کریں ایسی جمہوریت کا؟ ہماری بات کسی کو بری لگتی ہے تو لگنے دو۔ پری بجٹ سیشن پچھلے سال نہیں ہوا پھر بھی پیپلز پارٹی خود کو جمہوری جماعت کہتی ہے۔

علی خورشیدی نے کہا کہ شہر میں جب لوگ ڈمپر گردی کا شکار ہو رہے تھے اس وقت مسئلے کو لسانی رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ جب ڈمپر گردی کے حادثات بڑھے تب سندھ حکومت نے تمام تر سیاسی جماعتوں کو بلایا تھا۔ ہم نے ہمیشہ مسائل کو سیاسی نہیں بنایا بلکہ حل بتایا۔ ہم نے اس وقت بھی بتایا کہ ہم سندھ حکومت کو ڈمپر گردی کے حادثات پر مکمل سپورٹ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر کراچی والے ڈمپر گردی کا شکار ہو رہے ہیں، کیوں اس جیسے سانحات پر حکومت خاموش ہے؟ جب بات کرو تو کہتے ہیں کہ سیاست کر رہے ہیں۔ ہم اس طرح کہانی کو چلنے نہیں دیں گے۔ عیدالفطر کے موقع پر بارش کا بتایا گیا تھا لیکن تیاریاں نہیں کی گئی تھیں۔ بیشر مقامات پر شہری عید گاہوں پر نماز عید ادا نہیں کر سکے۔

علی خورشیدی نے کہا کہ بجٹ کے موقع پر تمام تر حکومتی اراکین کو فنڈ دیا گیا لیکن ہمیں نظر انداز کیا گیا۔ کراچی میں بھی جو حکومتی اراکین ہیں انہیں فنڈ جاری ہوا۔ اگر میں غلط کہہ رہا ہوں تو وزیر اعلی صاحب کی تقریر نکال کر دیکھ لیں۔ بلائیں سندھ اسمبلی کا اجلاس اور پری بجٹ پر بات کرلیں۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے کراچی پر سودے بازی کی۔ گلیوں کی ذمے داری ٹاؤنز کے پاس ہے جو جماعت اسلامی لیڈ کر رہی ہے۔

علی خورشیدی نے کہا کہ وفاق کہہ رہا ہے کہ کے فور پر کام ہورہا ہے لیکن کام نہیں ہو رہا۔ گل پلازہ پر جوڈیشل کمیشن ایم کیو ایم کے مطالبے پر بنا۔ گل پلازہ میں دوبارہ آگ لگی یہ کیسے ممکن ہے؟

ایک سوال کے جواب میں علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کی قیادت سب کے لیے قابل احترام ہوتی ہے۔ خالد مقبول صدیقی اور صدر پاکستان کا ملنا اچھی بات ہے۔ ایم کیو ایم نے آصف علی زرداری سے صدر مملکت کی حیثیت میں ملاقات کی تھی۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

جب قوانین مقصد کو کچل رہے ہوں

Published

on



جب دنیا میں ایڈز کی بیماری تیزی سے پھیل رہی تھی، ہزاروں لاچار مریض علاج کی راہ تک رہے تھے۔ اس دوران امید کی کرن دوا زیڈوویڈین پر تحقیق جاری تھی مگر اس وقت کلینیکل ٹرائلز اور منظوری کے ضابطے سخت اور سست رفتار تھے کہ منظوری کوسوں دور نظر آتی تھی۔ مریضوں کی بے چینی میں شدت کا پھیلنا اور ڈاکٹروں میں اضطراب و کوفت اپنے عروج پر تھا۔

تحقیقی اداروں کا مؤقف تھا کہ مکمل سائنسی ثبوت کے بغیر دوا کو عام استعمال کی اجازت دینا خطرناک ہوگا۔ دوسری طرف مریضوں کا سوال یہ تھا کہ جب بیماری مہلک ہے اور متبادل علاج موجود نہیں تو کیا ضابطوں کی سختی انسانوں کی فوری ضرورت سے زیادہ اہم ہو سکتی ہے؟

اس کشمکش نے بالآخر ریگولیٹری نظام کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ کیا ہر صورتحال کے لیے ایک ہی قسم کا ضابطہ مناسب طریقہ ہے۔ بعد میں اسی دباؤ کے نتیجے میں فاسٹ ٹریک اور ہمدردانہ استعمال کی اجازت جیسے راستے تراشے گئے، جنہوں نے شدید بیماریوں کے علاج میں نئی ادویات تک رسائی کو نسبتاً تیز کیا۔

یہ ہمیں ایک قدیم استعارے کی یاد دلاتا ہے۔ یونانی دیومالا کا تصوراتی کردار کچھ یوں ہے کہ پروکرسٹس اپنی چارپائی کے سائز کے مطابق مسافروں کو زبردستی ڈھالنے کی کوشش کرتا تھا۔ جو مسافر چارپائی سے زیادہ لمبا ہوتا اس کے پاؤں کاٹ دیتا اور جو چارپائی سے چھوٹا ہو اسے کھینچ کر لمبا کرتا۔ اسی سے پروکرسٹین اپروچ کی اصطلاح پیدا ہوئی، یعنی حقیقت کو سمجھنے کے بجائے اسے ایک پہلے سے طے شدہ سانچے میں سمونے کی کوشش۔

ادویاتی اور حیاتی علوم کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے یہ استعارہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ دوا کی تیاری، کلینیکل ٹرائلز اور منظوری کا عمل یقیناً انتہائی احتیاط کا متقاضی ہے۔ انسانی صحت سے جڑے معاملات میں ذرا سی لاپرواہی سنگین اور ناقابل تلافی نتائج پیدا کرسکتی ہے۔ اسی لیے دنیا بھر میں سخت ریگولیٹری نظام مریضوں کے مفادات کے تحفظ کےلیے کام کرتے ہیں۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ضابطے مقصد کے بجائے خود مقصد بن جائیں۔

سائنس کی فطرت مسلسل تبدیلی اور دریافت پر مبنی ہے۔ نئی بائیولوجیکل تھراپیز، جین پر مبنی علاج اور ذاتی نوعیت کی ادویات پرسنالائنز میڈیسن جیسے میدان روایتی فریم ورک سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ اگر ہر نئی تحقیق کو پرانے پیمانوں میں ناپنے پر اصرار کیا جائے تو بعض اوقات تحقیق کی رفتار غیر ضروری طور پر سست ہوجاتی ہے۔

ایک پیشہ ور کی حیثیت سے یہ احساس بار بار سامنے آتا ہے کہ ضابطوں کا اصل مقصد تحقیق کو روکنا نہیں بلکہ اسے محفوظ اور ذمے دار بنانا ہے اور یہی رہنا چاہیے۔ جب قوانین لچکدار ہوں، سائنسی فہم کے ساتھ ترقی کریں اور مختلف حالات کے مطابق ڈھل سکیں تو وہ علم کی ترقی میں رکاوٹ نہیں بنتے بلکہ ترقی کی ضمانت کے محافظ بن جاتے ہیں۔

مشکل یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف ادویاتی علوم تک محدود نہیں۔ تعلیم، معیشت، شہری منصوبہ بندی اور انتظامی ڈھانچوں میں بھی اکثر یہی رجحان دیکھنے کو ملتا ہے کہ ایک ہی طریقہ ہر مسئلے پر نافذ کر دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نظام بظاہر منظم نظر آتا ہے مگر حقیقت کی پیچیدگیوں کو سنبھال نہیں پاتا۔ شاید اسی لیے پروکرسٹس کی کہانی آج بھی ہمارے لیے ایک تنبیہ ہے۔ 

ضابطے ضروری ہیں، مگر ان کا مقصد زندگی اور علم کو ایک تنگ بستر میں فٹ کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اصل حکمت یہی ہے کہ نظام، حقیقت کے مطابق ڈھلے، کیونکہ جب حقیقت کو نظام کے مطابق کاٹا چھانٹا جاتا ہے تو نہ صرف تحقیق متاثر ہوتی ہے بلکہ انسانی فلاح کا مقصد بھی کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔

اکیسویں صدی میں بیسویں صدی کے اوزار یا معیار استعمال نہ کریں۔ ہر ایک کی انفرادی خصوصیات کو دوسرے کی معیار میں گڈمڈ نہ کریں۔ پرندوں کی آنکھ سے اونچائی پر جاکر مشاہدہ کریں، مطالعہ کریں، گفت و شنید کریں، نکتے جوڑ کر بڑی تصویر کے مصور بنیں اور دانشمندانہ فیصلے میں شواہد و معقولیت کو جگہ دیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔



Source link

Continue Reading

Today News

چینی کی درآمد پر رعایتی ٹیکس کی مدت میں اضافہ

Published

on



اسلام آباد:

حکومت نے چینی کی درآمد پر رعایتی ٹیکس کی مدت میں اضافہ کردیا جس کا اطلاق 28 فروری 2026 تک درآمد کی گئی چینی پر ہوگا۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے سیلز ٹیکس قوانین میں ترامیم کا نوٹی فکیشن جاری کردیا جس کے مطابق رعایتی مدت نومبر 2025ء سے بڑھا کر فروری 2026ء کردی گئی ہے، ٹریڈنگ کارپوریشن، متعلقہ کمپنیاں درآمدی چینی پر 0.25 فیصد ٹیکس دیں گی۔

ایف بی آر کے مطابق پاکستان میں جنرل سیلز ٹیکس کا اصل اسٹینڈرڈ ریٹ 18 فیصد ہے، رعایت میں تین ماہ کی توسیع کا مقصد چینی کی مقامی قیمتیں کنٹرول کرنا ہے، ٹیکس چھوٹ میں توسیع وفاقی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں کی گئی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

اونلی فینز  کے مالک لیونیڈ ریڈونسکی 43 سال کی عمر میں انتقال کر گئے

Published

on



دنیا کے معروف ڈیجیٹل پلیٹ فارم ’’اونلی فینز‘‘ کے مالک لیونیڈ ریڈونسکی 43 سال کی عمر میں کینسر سے طویل جدوجہد کے بعد انتقال کرگئے۔

کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق لیونیڈ ریڈونسکی طویل علالت کے بعد پُرسکون انداز میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ان کے اہل خانہ نے اس مشکل وقت میں نجی زندگی کے احترام کی اپیل کی ہے، جبکہ دنیا بھر سے ان کے لیے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔

یوکرین کے شہر اوڈیسا میں پیدا ہونے والے اور شکاگو میں پرورش پانے والے ریڈونسکی نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنی پہچان بنائی۔ انہوں نے 2004 میں ویب کیم پلیٹ فارم ’’مائی فری کیمز‘‘ قائم کیا، جس کے بعد 2018 میں انہوں نے ’’اونلی فینز‘‘ کی پیرنٹ کمپنی خرید کر اس کے بڑے شیئر ہولڈر اور ڈائریکٹر بن گئے۔

ان کی قیادت میں ’’اونلی فینز‘‘ دنیا کے کامیاب ترین سبسکرپشن پلیٹ فارمز میں شامل ہوگیا، جہاں کریئیٹرز کو براہ راست اپنے مداحوں سے آمدن حاصل کرنے کا موقع ملا۔ اگرچہ یہ پلیٹ فارم بالغ مواد کی وجہ سے زیادہ مشہور ہوا، تاہم وقت کے ساتھ اس نے دیگر شعبوں میں بھی اپنی موجودگی بڑھائی۔

لیونیڈ ریڈونسکی عوامی سطح پر کم ہی نظر آتے تھے اور نسبتاً سادہ پروفائل رکھتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ فلاحی سرگرمیوں میں بھی سرگرم رہے، خاص طور پر کینسر ریسرچ اور انسانی ہمدردی کے منصوبوں کی معاونت کرتے رہے۔



Source link

Continue Reading

Trending