Today News
کراچی: تیز رفتار ٹینکر نے راہ گیر خواتین کو کچل دیا، ماں جاں بحق، بیٹی شدید زخمی
کراچی:
کورنگی سنگر چورنگی کے قریب تیز رفتار واٹر ٹینکر نے راہ گیر خواتین کو کچل دیا جس کے نتجے میں ایک خاتون جاں بحق اور اُس کی بیٹی زخمی ہوگئی۔
تفصیلات کے مطابق پیر کی صبح عوامی کالونی تھانے کے علاقے کورنگی سنگر چورنگی الحسن اسٹاپ کے قریب تیز رفتار واٹر ٹینکر نے راہ گیر خواتین کو کچل دیا جس کے نتیجے میں ایک خاتون موقع پرجاں بحق اوربچی زخمی ہوگئی، دونوں کو فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کردیا گیا۔
حادثے کے بعد مشتعل شہریوں نے واٹر ٹینکرکو آگ لگادی جبکہ واٹر ٹینکر کا ڈرائیور موقع سے فرارہو رہا تھا کہ شہریوں نے اسے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد رینجرز کے حوالے کردیا۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پرپہنچ گئی اور فوری طور پر واٹر ٹینکر میں لگی آگ بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کے عملے کو طلب کرلیا جس پر فائربریگیڈ کے عملے نے موقع پر پہنچ کر واٹر ٹینکر میں لگی آگ بھجادی، اس دوران واٹر ٹینکرکا اگلا حصہ مکمل طورپر خاکسترہوگیا۔
حادثے میں جاں بحق ہونے والی خاتون کی شناخت 40 سالہ زبیدہ خانم زوجہ محمد حسین اور زخمی بچی کی شناخت 12 سالہ کونین دختر محمد حسین کے نام سے کی گئی، حادثے میں جاں بحق خاتون اور زخمی بچی آپس میں ماں بیٹی اور کورنگی عوامی کالونی کی رہائشی تھیں۔
رینجرز نے حادثے کے ذمہ دار واٹر ٹینکر کے ڈرائیور فقیر محمد کو مزید قانونی کارروائی کے لیے عوامی کالونی پولیس کے حوالے کردیا، عوامی کالونی تھانے کے ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ پولیس نے حادثے کامقدمہ متوفیہ خاتون کے شوہر محمد حسین کی مدعیت میں واٹر ٹینکرکے ڈرائیور کے خلاف درج کرکے واقعے کی مزید تفتیش شروع کردی ہے۔
ادھرمنگھوپیر ناردرن بائی پاس اورنگی کٹ کے قریب مزدا ٹرک اورچنگچی رکشے کے درمیان تصادم کے نتیجے میں بچوں اورخواتین سمیت 7 افراد زخمی ہوگئے جنہیں فوری طورپرعباسی شہید اسپتال منتقل کردیا گیا، زخمیوں میں 30 سالہ سمیری زوجہ شفیق اس کی2 بیٹیاں 3 سالہ عنایہ دختر شفیق ،4 سالہ سمیہ دختر شفیق، 27 سالہ پیر بخش ولد لال دین، 8 سالہ حلیم ولد لال دین، 35 سالہ عجیبہ زوجہ گھیدل اور 40 سالہ کریمہ زوجہ حنیف شامل ہیں۔
حادثے میں زخمی ہونے والے افراد ناردرن بائی پاس اورنگی کٹ کے قریب کے رہائشی ہیں۔ ایس ایچ او انیس شیخ کے مطابق حادثے کے بعد مزدا ٹرک کا ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا، پولیس نے مزدا ٹرک کو تحویل میں لیکر اس کے ڈرائیور کی تلاش شروع کردی ہے۔
Today News
عالمی حالات نے تھر کوئلے کے زیادہ استعمال کی ضرورت کو اجاگر کردیا
کراچی:
امریکہ اور ایران کے جاری تنازع نے ایک بار پھر درآمدی ایندھن پر شدید انحصار کو نمایاں کر دیا ہے جس کے باعث معیشت کے اہم شعبوں میں تھر کوئلے کے استعمال کو تیز کرنے کی ضرورت دو چند ہو گئی ہے۔
اس وقت پاکستان تھر بلاک ون اور ٹو سے 2640 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے جبکہ سب سے کم لاگت والے چھ پاور پلانٹس میں سے چار تھر کوئلے پر چل رہے ہیں۔ آزاد اقتصادی اور سرمایہ کاری کے تجزیہ کار اے اے ایچ سومرو کے مطابق بلاک ٹو کی توسیع کے ساتھ 660 میگاواٹ کا لکی پاور پلانٹ بھی تھر کوئلے پر منتقل کیا جائے گا۔ حکومت تین دیگر درآمدی کوئلے پر چلنے والے آئی پی پیز میں تھر کوئلے کے آمیزے پر بھی کام کر رہی ہے تاہم اس کے امکانات صرف بجلی کے شعبے تک محدود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ تھر کوئلے کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے حکومت کو مقامی منصوبہ جاتی مالیات، مشینری و آلات کی درآمد، گردشی قرضے اور ٹیرف سے متعلق رکاوٹیں دور کرکے تھر کوئلے کے منصوبوں کے آپریشن اور توسیع میں سہولت فراہم کرنا ہوگی۔
اے اے ایچ سومرو کے مطابق تھر کوئلے کے منصوبوں کی قومی اہمیت اور عالمی قرض دہندگان کی عدم دستیابی کے پیش نظر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو مقامی کمرشل بینکوں کو بلاک ون اور ٹو کی توسیع کے لیے زیادہ مالی معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کرنی چاہیے۔ اسی طرح حکومت کو درآمدی کوئلے پر چلنے والے پاور پلانٹس میں لازمی آمیزہ ہدف متعارف کرانے پر بھی غور کرنا چاہیے تاکہ معیشت کے دیگر شعبوں میں تھر کوئلے کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
انکا کہنا تھا کہ بجلی اور سیمنٹ کے شعبے اب بھی بڑی حد تک درآمدی کوئلے پر انحصار کرتے ہیں، جس کے باعث معیشت عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور جغرافیائی سیاسی خطرات سے متاثر ہوتی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں درآمدی کوئلے کی قیمتیں 2025 کے مقابلے میں 20 فیصد سے زیادہ بڑھ کر تقریباً 110 ڈالر فی ٹن (ایف او بی) تک پہنچ گئی ہیں۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی ایک تحقیق کے مطابق آبنائے ہرمز میں طویل تعطل کی صورت میں پاکستان کی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے، جس سے ماہانہ پیٹرولیم درآمدی بل میں 3.5 سے 4.5 ارب ڈالر تک اضافہ اور صارفین کی مہنگائی 15 سے 17 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تھر کوئلے کے وسیع استعمال کے لیے ایک اہم پیش رفت تھر کول ریل کنیکٹیویٹی منصوبہ ہوگا، جس کے 2026 کے آخر تک فعال ہونے کی توقع ہے۔ اس ریل رابطے کے ذریعے تھر سے ملک بھر کے صنعتی صارفین، خصوصاً سیمنٹ اور پاور پلانٹس تک کوئلے کی بڑی مقدار میں ترسیل ممکن ہو سکے گی۔
اے اے ایچ سومرو نے تجویز دی کہ سیمنٹ بھٹیوں میں تبدیلی، پاور پلانٹس کی ریٹروفٹنگ اور 1.1 ارب ڈالر کے مجوزہ تھر کوئلہ گیسفیکیشن منصوبے کے لیے حکومتی ضمانت یافتہ مالی معاونت یا اسٹیٹ بینک کی گرین اور انرجی ٹرانزیشن کریڈٹ لائنز متعارف کرائی جائیں تاکہ تھر کوئلے کے استعمال میں اضافہ ممکن ہو۔ کانوں کی مزید توسیع کے لیے حکومت کو درآمدی بھاری مشینری پر ڈیوٹی اور ٹیکس میں چھوٹ یا کمی پر بھی غور کرنا چاہیے۔
اے اے ایچ سومرو کے مطابق جب تھر کوئلہ گیسفیکیشن منصوبہ عملی شکل اختیار کر لے گا تو پاکستان کے کھاد کارخانوں کو ایل این جی پر مبنی پلانٹس کی طرح گیس کی معطلی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جیسا کہ قطر کی جانب سے فورس میجر کے اعلان کے بعد دیکھنے میں آیا۔ اس منصوبے سے پاکستان کی غذائی سلامتی مضبوط ہوگی اور کسانوں کو سستی یوریا کی مسلسل فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے معدنیات کے شعبے میں اصل مواقع ڈاؤن اسٹریم پراسیسنگ میں ہیں، جہاں ریفائنریز اور ویلیو ایڈڈ صنعتوں میں سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے۔ تھر کوئلے کے منصوبوں کے قریب کاپر اسملٹنگ پلانٹ اور خصوصی اقتصادی زون قائم کر کے صنعتی سرگرمیوں اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی تیاری کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بجلی کے شعبے میں اصلاحات پر حکومت کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ گردشی قرضے کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا تاکہ تھر منصوبوں کو واجب الادا اربوں روپے کی وصولی ممکن ہو سکے۔ بروقت ادائیگیوں سے کیش فلو بہتر ہوگا اور منصوبوں کی مؤثر آپریشن اور مستقبل کی ترقی یقینی بنائی جا سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران مقامی آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں کی نئی سرمایہ کاری اور بہتر ریکوری مہمات کے باعث اس شعبے میں کئی سال کی کمی کا رجحان پلٹتا نظر آ رہا ہے۔ حال ہی میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے گیارہ آن شور بلاکس کی الاٹمنٹ اپ اسٹریم سرگرمیوں کے لیے مثبت پیش رفت ہے، تاہم اس شعبے کو درپیش مالی مشکلات کے حل کی فوری ضرورت ہے۔
Today News
رحیم یار خان: ریٹیلر شاپ کی چھت گرنے سے پانچ خواتین ہلاک، 30 زخمی
صوبہ پنجاب کے شہر رحیم یار خان میں عمارت کی چھت گرنے سے پانچ خواتین جاں بحق جبکہ 30 زخمی ہو گئی ہیں۔
ریسکیو 1122 کے مطابق رحیم یار خان کے چک 125 پی میں یہ واقعہ پیر کو اُس وقت پیش آیا جب کئی خواتین بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امدادی رقوم لینے کے لیے ایک ریٹیلر شاپ کی چھت موجود تھیں۔
ریسکیو 1122، ایدھی اور دیگر امدادی اداروں کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔
ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
ریسکیو 1122 کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت قسط وصول کرنے کے لیے 200 سے زائد خواتین چھت پر موجود تھیں جو کمزور ہونے کی وجہ سے گر گئی۔
زخمی خواتین کو شیخ زید ہسپتال منتقل کیا گیا ہے اور ہسپتال میں ایمرجنسی بھی نافذ کر دی گئی ہے۔
Today News
عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں، وزیر اعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت عالمی سطح پر کشیدگی کے پیش نظر ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا۔
اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ عالمی صورتحال کے پیش نظر عوام کو ریلیف دینے کے حوالے سے مزید اقدامات پر بھی مشاورت جاری ہے، حکومت کے بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے پیش نظر ملک میں معاشی استحکام قائم کرنے کے لیے بر وقت بنائی گئی کمیٹی کے فیصلوں کی بدولت عوام کے لیے تیل کی مسلسل فراہمی ممکن ہوئی، قومی سطح پر کفایت شعاری اور بچت کے لیے اقدامات کا نفاذ ہو چکا ہے اور مزید پر کام جاری ہے۔
وزیراعظم کی جانب سے کفایت شعاری اور بچت کے تمام نافذ العمل اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی ہدایت پہلے ہی جاری کی جا چکی۔
وزیراعظم نے کہا کہ معاشی استحکام اور عوام کے لیے ریلیف حکومت کی اولین ترجیح ہے، تمام اقدامات نہ صرف فوری ریلیف بلکہ طویل مدتی معاشی استحکام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے لیے جا رہے ہیں۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی تقسیم کار کمپنیوں کو حکومت کے تعین کردہ نرخوں پر تیل کی فروخت یقینی بنانے اور اس معاملے میں شفافیت برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں وزیراعظم کو ملک میں موجود تیل کے ذخائر، فیول کی مانگ پوری کرنے لے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات اور عوام کو عالمی کشیدگی کے پیش نظر ریلیف دینے کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ حکومت پاکستان تیل کی متعین قیمت پر فروخت کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے، تیل کی مسلسل فراہمی اور اس کی متعین قیمت پر فروخت کو یقینی بنانے کے لیے پاک ایپ Pak App میں صارفین کے لیے فیچر شامل کر دیا گیا ہے۔
اب صارفین پاک ایپ Pak App کے ذریعے ملک میں کہیں بھی تیل کی عدم دستیابی یا مہنگے داموں پر فروخت کے حوالے سے متعلقہ حکام کو آگاہ کر سکتے ہیں جس پر حکومت کی جانب سے فوری اقدامات لیے جائیں گے، بریفنگ
اجلاس کے شرکاء نے گزشتہ جمعہ کو وزیراعظم کے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہ کرنے کے فیصلے کو سراہا
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔
-
Magazines1 week ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Sports2 weeks ago
Sadaf, Fatima star as Pakistan thrash South Africa for consolation victory – Sport
-
Sports2 weeks ago
Milan consolidate top-four credentials with win at Cremonese – Sport