Today News
کراچی: سندھ میں ہفتہ وار اضافی چھٹی دینے اور اسکول 2 ہفتےکےلیے بندکرنے کا فیصلہ
سندھ کابینہ نے اجلاس میں متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دے دی۔ کابینہ نے حسن سلیمان میموریل اسپتال کے لیے اضافی 7.6 ملین ڈالر یعنی تقریباً 2 ارب 14 کروڑ روپے کی منظوری دی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ تعمیراتی لاگت میں 30 فیصد اضافے اور اراضی میں اضافے کے باعث مزید فنڈنگ درکار تھی۔ 312 بستروں پر مشتمل جدید اسپتال نیشنل ہائی وے پر شہریوں کو جدید طبی سہولیات فراہم کرے گا۔
اجلاس میں اسپیشل اکنامک زونز سے متعلق مجوزہ ترامیم پر بھی غور کیا گیا جبکہ سندھ حکومت نے ’ایگزیکٹو زونز‘ اور ’ایگزیکٹو این او سی‘ کے قیام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات صوبائی اختیارات کو نظر انداز کرتے ہیں۔ تاہم کابینہ نے اسپیشل اکنامک زونز اپیلیٹ ٹریبونل کے قیام کی حمایت کی جس کے تحت ٹریبونل تین ماہ کے اندر مقدمات کے فیصلے کرنے کا پابند ہوگا تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد اور قانونی یقین دہانی برقرار رکھی جا سکے۔
سندھ کابینہ نے سندھ ویمن ایگریکلچرل ورکرز رولز 2026 کی منظوری بھی دے دی جس کے تحت خواتین زرعی محنت کشوں کو مساوی اجرت، زچگی کی سہولیات اور ہراسانی و امتیاز سے تحفظ کے لیے قانونی اقدامات فراہم کیے جائیں گے۔
اس مقصد کے لیے بینظیر ویمن ایگریکلچرل ورکرز کارڈ جاری کرنے اور خواتین محنت کشوں کی فلاح کے لیے 50 کروڑ روپے کا انڈومنٹ فنڈ قائم کرنے کی بھی منظوری دی گئی جبکہ قواعد کی خلاف ورزی کی صورت میں مقدمات لیبر کورٹس میں چلائے جائیں گے۔
کابینہ نے ای او بی آئی بورڈ آف ٹرسٹیز کی ازسرنو تشکیل کی بھی توثیق کی اور سندھ کی نمائندگی کے لیے سیکریٹری لیبر اینڈ ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ کو نامزد کیا گیا، نئے بورڈ کی مدت دو سال ہوگی۔
تعلیم کے شعبے میں کابینہ نے اسٹوڈنٹ اٹینڈنس مانیٹرنگ اینڈ ریڈریس سسٹم (SAMRS) پالیسی کی منظوری دی جس کے تحت موبائل ایپ اور ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کے ذریعے طلبہ کی حاضری اور داخلوں کا ریکارڈ رکھا جائے گا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس نظام سے طلبہ کی غیرحاضری اور ڈراپ آؤٹ ریٹ کم کرنے میں مدد ملے گی اور ایک سال کے اندر سندھ کے تمام اسکولوں میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم نافذ کیا جائے گا۔
کابینہ اجلاس میں کفایت شعاری اقدامات بھی منظور کیے گئے جن کے تحت سرکاری افطار پارٹیوں پر پابندی عائد کر دی گئی، سرکاری دفاتر ہفتے میں صرف چار دن کھلے رہیں گے اور ایک اضافی چھٹی دی جائے گی جبکہ سرکاری اداروں کے فیول اخراجات میں 50 فیصد کٹوتی کی منظوری دی گئی۔ مزید برآں وزیراعلیٰ، صوبائی وزراء، مشیران اور خصوصی معاونین نے تین ماہ تک تنخواہیں نہ لینے کا فیصلہ کیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سندھ میں اسکول کل سے 31 مارچ تک دو ہفتوں کے لیے بند رہیں گے۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی صدارت میں سندھ کابینہ کے اجلاس میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے، شرجیل میمن
سینئر صوبائی وزیر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اجلاس میں سندھ ایگریکلچر ویمن ورکرز رولز کی منظوری دی گئی جس کے تحت خواتین زرعی محنت کشوں کو مساوی اجرت، زچگی کی سہولیات اور ہراسانی و امتیاز سے تحفظ کے لیے قانونی اقدامات فراہم کیے جائیں گے۔
کابینہ نے بینظیر ویمن ایگریکلچرل ورکرز کارڈ جاری کرنے اور خواتین محنت کشوں کی فلاح کے لیے 50 کروڑ روپے کا انڈومنٹ فنڈ قائم کرنے کی بھی منظوری دی۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ خواتین کو سماجی تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور وزیر محنت و صنعت اس سلسلے میں مشترکہ طور پر کام کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ کابینہ نے ملیر میں حسن سلیمان میموریل اسپتال کے لیے اضافی فنڈز کی منظوری بھی دی ہے، یہ جدید اسپتال نیشنل ہائی وے پر شہریوں کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرے گا۔
شرجیل انعام میمن کے مطابق بین الاقوامی اور علاقائی صورتحال کے پیش نظر سندھ میں تعلیمی اداروں کو 16 مارچ سے 31 مارچ تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم کوئی بھی امتحان ملتوی نہیں ہوگا۔
اس کے علاوہ سرکاری دفاتر کے لیے نئے انتظامات کے تحت جمعے کے روز ورک فرام ہوم ہوگا جبکہ باقی چار دن ملازمین دفاتر میں کام کریں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ کابینہ نے کفایت شعاری اقدامات کے تحت فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ دو ماہ تک سرکاری دفاتر میں ہر قسم کی سرکاری ریفریشمنٹ بند رہے گی۔ رمضان المبارک کے دوران چائے، ناشتے یا دیگر سرکاری ریفریشمنٹ فراہم نہیں کی جائے گی جبکہ ملازمین اگر ذاتی طور پر پانی یا دیگر اشیاء استعمال کرنا چاہیں تو وہ اپنی ذمہ داری پر کریں گے۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش معاشی اور انتظامی چیلنجز کے پیش نظر سب کو مل کر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
Today News
ایران جنگ کب ختم ہوگی؟ ٹرمپ کا بڑا بیان سامنے آگیا
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے عالمی تیل کی ترسیل متاثر کرنے کی کوشش کی تو امریکا پہلے سے کہیں زیادہ سخت حملے کرے گا۔
فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں تیل کی سپلائی روکنے کی کوشش کی تو ایران پر بیس گنا زیادہ سخت حملے کریں گے۔
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے بعض اہم اہداف خصوصاً بجلی پیدا کرنے کے مراکز ابھی تک نشانہ نہیں بنائے گئے لیکن ضرورت پڑی تو انہیں بھی تباہ کیا جاسکتا ہے۔
ایران جنگ خاتمے کے سوال پر صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ جنگ کا خاتمہ جلد ہوسکتا ہے تاہم یہ رواں ہفتے ممکن نہیں ہے۔
ادھر امریکی صدر نے فوکس نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ وہ ایران کے ساتھ بات چیت پر تیار ہیں تاہم یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ مذاکرات کی شرائط کیا ہوتی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔ اگر مناسب شرائط ہوں تو امریکا بھی ایران کے ساتھ بات کرنے پر غور کرسکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ نئے سپریم لیڈر خطے میں امن کے ساتھ رہ سکیں گے۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ جنگ کب ختم ہوگی اس کا فیصلہ ایران کرے گا۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو خطے سے ایک لیٹر تیل بھی برآمد نہیں ہونے دیا جائے گا۔
ایران جنگ سے عالمی منڈیوں میں بھی جنگ کے اثرات دیکھنے میں آئے جہاں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتیں عارضی طور پر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں تاہم بعد میں کمی آکر تقریباً 90 ڈالر تک آگئیں۔
Today News
انصاف کے مطابق فیصلے ہوتے تو ابھی تک عمران خان کی رہائی ہو چکی ہوتی، چیئرمین پی ٹی آئی
چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ حکومت نے ہمارے مطالبات کے باوجود اپنی پالیسی اسٹیٹمنٹ نہیں دی، خیبرپختونخوا کے لوگ مخلص ہیں اور کہیں کوئی پناہ گاہ موجود نہیں ہے۔ ہم نے افغانستان کو کہا تھا پراکسی نہ بنے، ایران پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
اڈیالہ روڈ داہگل ناکہ پر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر خان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں یہ میسج دیا گیا تھا کہ وزیر اعظم جب اسمبلی آئین گے تو ملاقات ہو جائے گی، رانا صاحب انجم صاحب بھی آئے مگر ملاقات نہیں ہو سکی، ملاقاتیں ہو یا مزاکرات اس میں سنجیدگی ضروری ہے، مزاکرات پر کوئی شرائط نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ تحفظات کا اظہار کیا مگر مئی میں بھی پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوئے، ایسی کامیابیاں اللہ نے دے دیں جس پر تاریخ رقم ہوئی ہے، ہماری ملاقات ہوئی دعوت دی گئی تو ہم نے کہا کہ بہتر ہے اس بارے میں ایوان کو بھی بتایا جائے ہم نے بس اتنی سے شرط رکھی تھی، پی ٹی آئی خطے کے حوالے سے موقف دے چکی جو پاکستان کے دشمن ہیں وہ دہشتگرد ہیں۔ لیڈر شپ رجیم چینج کی بات غط ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمتوں پر اسٹاک حکومت کے پاس ہوتا تو ایسے حالات نہ ہوتے، آپ بیشک زوم پر کام کروا لیں مگر اپنی شاہ خرچیوں کو بند کریں، اسمبلی اہم ترین فورم ہے یہ کہنا کہ وزیراعظم ہاؤس میں لے کر جاتے ہیں سمجھ نہیں آتا؟ آپ چند لیڈروں کو بریف کرنے کے بجائے ایوان کو بریف کر دیجیئے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے بطور پارٹی ایران سے درخواست کی ہے کہ مسلم ممالک کو نشانہ نہ بنائے دشمن چاہتا ہے ہم آپس میں لڑیں۔ ہم نے تو صرف یہ کہا تھا کہ افغانستان کے لوگوں کو تھوڑا سا وقت دیجیئے تاکہ یہاں سے جا سکیں۔نیشنل ایکشن پلان کے چودہ نکات پر من و عن عمل ہونا چاہیئے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ اس وقت کی صورتحال میں انڈیا افغانستان کے پیچھے کھڑا ہے، ایک ملک کے اگر پانچ قونصلیٹ ہیں تو سب ایک جیسے ہوتے ہیں، قونصلیٹ کی آڑ میں بھارت دہشتگردی کروا رہا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اگر انصاف کے مطابق فیصلے ہوتے تو ابھی تک بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہو چکی ہوتی۔ ان بھی فیملی باہر کھڑی ہے آپ انہیں اور وکلاء کو ملنے دیں۔ انہوں نے پیٹرول بڑھا دیا نیٹ میٹرنگ ختم کر دی آپ خدارا کچھ تو خیال کرو۔
Today News
شفعہ کا قانون اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے، سپریم کورٹ
اسلام آباد:
سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ میں شفعہ کے قانون کو غیر شرعی قرار دینے سے متعلق اپیل پر سماعت ہوئی۔
دورانِ سماعت عدالت نے قرار دیا کہ شفعہ کا قانون اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے اور اسے قرآن یا حدیث کی روشنی میں غیر اسلامی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب ثنا اللہ نے عدالت کو بتایا کہ شفعہ کا قانون اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ ہے اور قرآن یا حدیث کے مطابق اسے غیر اسلامی قرار دینے کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔
انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پنجاب کے شفعہ کے 1991 کے قانون کو اس سے قبل وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ وفاقی شرعی عدالت نے 2019 میں اپنے فیصلے میں شفعہ کے قانون کو شریعت کے مطابق قرار دیا تھا۔
بعد ازاں وفاقی شرعی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف قاضی محمد امین الدین نے سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ سے رجوع کیا تھا۔
آج اپیل کی سماعت سپریم کورٹ کے 5 رکنی شریعت اپیلیٹ بینچ نے کی جس کی سربراہی جسٹس جمال خان مندوخیل نے کی۔
-
Tech2 weeks ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Magazines1 week ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Business2 weeks ago
Petrol, diesel prices likely to rise by Rs7 for next forthnight
-
Magazines1 week ago
Story time: The dog without a leash!
-
Magazines1 week ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Magazines1 week ago
Story time: The diary of an octopus
-
Today News2 weeks ago
سپر ایٹ مرحلہ: پاکستان اور انگلینڈ کے میچ سے متعلق بڑی خبر!