Connect with us

Today News

کراچی شہر یا بارود کا ڈھیر؟

Published

on


کراچی شہر میں عمارتوں کا گرنا، عمارتوں میں آگ لگنا اب کوئی اتفاقی حادثات نہیں بلکہ معمول کے واقعات بن گئے ہیں۔ صرف فروری کے مہینے میں دو گیس دھماکوں میں بہت سا جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ ایک خبر کے مطابق 22 فروری کو عین سحری کے آخری لمحات میں کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد، بلاک ڈی فائیو اسٹار چورنگی کے قریب واقع ایک رہائشی فلیٹ میں گیس سلنڈر دھماکے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی جس میں ایک لڑکا جاں بحق اور دو شدید زخمی ہوگئے۔

قریبی فلیٹ اور کھڑی گاڑیوں کو بھی سخت نقصان پہنچا۔ اس واقعے سے قبل 19 فروری کی خبر کے مطابق کراچی کے علاقے سولجر بازار میں گیس لیکیج کے باعث دھماکے کے نتیجے میں دو منزلہ رہائشی عمارت کا ایک حصہ منہدم ہوگیا، حادثے میں ایک بچی سمیت 16 افراد جاں بحق جب کہ 14 افراد زخمی ہوگئے۔ اس واقعے کا متاثرہ خاندان چند برس قبل غربت اور بے روزگاری سے تنگ آ کر بہتر روزگار کی امید میں کراچی منتقل ہوا تھا۔ خاندان کے سربراہ انور لغاری رکشہ چلا کر اہلخانہ کا پیٹ پالتے تھے جب کہ ان کی 7 اولادوں میں سے 3 بیٹیاں گھروں میں کام کاج کر کے باپ کا ہاتھ بٹاتی تھیں۔ یوں صرف ان دو واقعات میں کئی خاندانوں کا رمضان اور عید کا تہوار بھی غارت ہوگیا۔

کراچی شہر میں سلنڈرز سے دھما کے ہونے کے واقعات اب تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں۔ مثلاً ایک وجہ گیس کی معمول کی سپلائی میں کمی اور لوڈشیڈنگ ہے، لٰہذا جن شہریوں کے گھروں میں گیس کے کنکشن موجود ہیں، انھیں بھی پکانے کے لیے الگ سے سلنڈر استعمال کرنے پڑ رہے ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو اب تقریباً تمام شہریوں کو ہی سلنڈرز استعمال کرنے کی ضرورت پیش آگئی ہے، اس طرح سے بازار میں ان کی مانگ بھی بڑھ گئی ہے جس کے سبب بازار میں غیر معیاری سلنڈرز کثرت سے فروخت ہو رہے ہیں۔ ایک ٹی وی رپورٹ کے مطابق بازار میں جو غیر معیاری سلنڈر فروخت ہو رہے ہیں، ان کی لائف تقریباً ایک سے ڈیڑھ سال ہوتی ہے اور اس کے بعد وہ دھماکے سے پھٹ سکتے ہیں۔ ان اطلاعات کے باوجود حکومت کی طرف سے کبھی کوئی توجہ اس طرف نہیں دی گئی، نہ کوئی مہم چلائی گئی کہ یہ غیر معیاری سلنڈر کیسے بازار میں فروخت ہو رہے ہیں؟

 بات یہ ہے کہ عوام تو سلنڈر کے حوالے سے اتنی آگہی نہیں رکھتے اور مہنگائی کی وجہ سے پہلے ہی مسائل کا شکار ہیں، لہٰذا اگر وہ ایک سستا سلنڈر فروخت ہوتا دیکھتے ہیں تو اسی کو اپنی ترجیح بنا لیتے ہیں۔ پھر اس کی ہر سال مینٹیننس اور چیکنگ پر بھی توجہ نہیں دی جاتی۔ ایسے میں استعمال ہونے والے سلنڈر کسی وقت بھی پھٹ سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ اس سلسلے کو روکا جاتا، حکومتی ادارے اس کو چیک کرتے، لیکن ہمارے ادارے اس اہم معاملے پر بھی خاموش ہیں جب کہ عوام کو شعور بھی نہیں۔

 دوسری ایک اہم خطرناک بات یہ ہے کہ اب رہائشی عمارتیں کراچی شہر میں انتہائی اونچی تعمیر ہو رہی ہیں، کہیں کئی منزلہ پورشن ہیں تو کہیں بلند وبالا فلیٹ ہیں۔ اب ظاہری سی بات ہے، ان تمام عمارتوں میں کھانا پکانے کی ضرورت تو ہے اب چونکہ گیس کی سپلائی مستقل نہیں ہے تو لوگوں نے فلیٹ کے اندر بھی سلنڈر رکھ لیے ہیں جو کہ انتہائی خطرناک ہیں جیسا کہ حال ہی میں حیدری کے قریب دسویں فلور پہ دھماکے سے فلیٹ کو نقصان پہنچا، ہلاکتیں ہوئی اور آگ لگ گئی۔ خدانخواستہ یہ اگر نیچے کی منزل میں واقعہ ہوتا تو اوپر جتنے بھی فلیٹ تھے وہ اس کی لپیٹ میں آ سکتے تھے۔ دیکھا جائے تو یہ ایک خطرناک معاملہ شہر میں چل رہا ہے، جس پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

جب سے شہر کراچی میں گیس کی لوڈ شیڈنگ شروع ہوئی ہے، اس سے نت نئے مسائل پیدا ہوگئے ہیں مثلاً مذکورہ بالا واقعات میں گیس کی لیکیج کا پہلو بھی سامنے آیا ہے، جس کے مطابق لوڈ شیڈنگ کے بعد جب گیس اچانک تیزی کے ساتھ آئی تو دھماکے کا باعث بنی۔ عموماً اس قسم کے بھی واقعات ہوئے ہیں کہ گیس بند تھی لیکن جب لوڈ شیڈنگ ختم ہوئی تو اچانک سے گیس آنے سے، گیس گھر میں بھر گئی اور گھر کے افراد دم گھٹنے سے ہلاک ہوگئے۔ یہ بڑا خطرناک مسئلہ ہے کیونکہ شہریوں کو ابھی اتنی آگاہی نہیں ہے، کوئی بھی غلطی سے چولہا کھلا چھوڑ دیتا ہے، اس سے بھی جب گیس آتی ہے تو پتہ نہیں چلتا جس کے باعث گیس گھر میں بھر جاتی ہے اور حادثات ہوتے ہیں۔ یہ معاملات انتہائی خطرناک ہو چکے ہیں۔

ان اہم مسائل کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ بڑا خطرناک ہے کہ کراچی میں بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر اب بھی جاری ہے اور اب بھی ہم مغرب کی نقالی میں (یا صرف پیسہ کمانے کی خاطر) اونچی اونچی رہائشی عمارتیں تیزی سے تیار کر رہے ہیں مگر افسوس کہ ہم ان عمارتوں میں مناسب طریقے سے گیس بھی نہیں پہنچا پا رہے۔ ہم کمانے کے لیے مغرب کی نقالی تو کر رہے ہیں مگر یہ بھول گئے کہ مغرب میں تو عوام کی ہر چیز کا خیال رکھا جاتا ہے حتیٰ کہ باقاعدگی سے شہریوں کا میڈیکل چیک اپ بھی ہوتا ہے جب کہ ہمارے ہاں غیر معیاری سلنڈر فلیٹوں میں بھی استعمال ہو رہے ہیں اور کوئی دیکھنے والا نہیں ہے کہ مارکیٹ میں یہ کس طرح سے فروخت ہو رہے ہیں؟ کون ان کو فروخت کر رہا ہے؟ اور اگر بلند و بالا عمارت بنائی ہیں تو ان میں مناسب سہولیات کیوں نہیں ہیں؟ گیس کیوں فراہم نہیں کی جا رہی؟ ایمرجنسی گیٹ کہاں ہیں؟ فائر بریگیڈ کی کیا صورتحال ہے؟ ان عمارتوں میں ایمرجنسی آلات کس حد تک ہیں؟ کیا سب کچھ اللہ پر چھوڑ دیا ہے؟

کس قدر احمقانہ بات ہے کہ فلیٹوں میں بھی رہنے والے گیس کے سلنڈر استعمال کر رہے ہیں اور یہ حال اب صرف لیاری یا موسیٰ کالونی جیسے غریب علاقوں کا نہیں۔ نارتھ ناظم آباد، حیدری جہاں دھماکے میں فلیٹ میں آگ لگ گئی وہ کراچی کا ایک بہت اچھا علاقہ تصور کیا جاتا ہے جہاں ایک چھوٹے سے چھوٹے فلیٹ کی قیمت کروڑ سے کم نہیں ہوتی۔ افسوس ہم ابھی تک اس طرف توجہ نہیں دے رہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سے قبل کے اسی طرح کے مزید واقعات آیندہ ہوں اور شہریوں کی قیمتی جانیں ضایع ہوتی رہیں، فوری طور پہ اس حوالے سے حکومت سخت ایکشن لے اور حکومتی ذمے دار ادارے تمام مارکیٹ کا سروے کریں۔ تمام مارکیٹ میں چیکنگ کی جائے کہ کہاں کہاں غیر معیاری سلنڈر فروخت ہو رہے ہیں ان پر پابندی لگائی جائے۔ اس کے علاوہ محکمہ گیس کو بھی پابند کیا جائے کہ جہاں جہاں انھوں نے قانونی کنکشن دیے ہیں وہاں بغیر کسی لوڈ شیڈنگ کے بلا تعطل گیس فراہم کی جائے یا گیس کی جن علاقوں میں لوڈ شیڈنگ ضروری ہو، وہاں ایک یونیفارم پالیسی کے تحت ہی لوڈ شیڈنگ کی جائے اور یہی پالیسی سب کے لیے ہو، کیونکہ عموماً لوڈ شیڈنگ کے بدلتے شیڈول سے شہریوں کو پریشانی بھی ہوتی ہے اور انھیں اس کی ٹائمنگ بھی یاد نہیں رہتی جس کے باعث بھی حادثات رونما ہوتے ہیں۔

ہماری صوبائی حکومت، متعلقہ اداروں اور خاص کر منتخب نمائندوں کو اس اہم مسئلے پر فوری توجہ دینا چاہیے کیونکہ یہ شہریوں کی جان اور مال کا مسئلہ ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

برطانیہ فضائی حملوں کے ذریعے کسی ملک میں رجیم چینج پر یقین نہیں رکھتا؛ وزیراعظم

Published

on


برطانو وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ کسی ملک پر فضائی حملوں کے ذریعے حکومت کی تبدیلی (ریجیم چینج) کے نظریے پر یقین نہیں رکھتا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیراعظم نے مزید کہا کہ اسی وجہ سے ایران کے خلاف جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں میں براہِ راست حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

برطانوی وزیرِاعظم نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرتی جس میں فضائی حملوں کے ذریعے کسی ملک کی حکومت گرانے کی کوشش کی جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تاریخ کے تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ اس نوعیت کے فیصلوں سے پہلے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ برطانیہ کی کسی بھی کارروائی کے لیے واضح قانونی جواز موجود ہو۔

سر کیئر اسٹارمر نے کہا کہ وہ برطانوی فوجیوں کو کسی فوجی کارروائی میں اس وقت تک شامل نہیں کریں گے جب تک انہیں یقین نہ ہو کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے۔

تاہم برطانوی حکومت نے امریکا کی درخواست پر اپنے فوجی اڈوں کو دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

برطانوی وزیرِاعظم کے مطابق امریکی افواج کو برطانوی اڈوں سے ایران کے میزائل مقامات کے خلاف دفاعی نوعیت کی کارروائیاں کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

اس فیصلے کے بعد وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو اندرونِ ملک سیاسی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ امریکی جنگ میں شامل نہ ہونے کے ابتدائی اعلان کو سراہا البتہ برطانوی اڈوں کے استعمال کی اجازت پر تنقید کی۔

یاد رہے کہ برطانیہ کے فوجی اڈے کے استعمال کی اجازت نہ دینے پر امریکی صدر نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی وزیراعظم کا رویہ مایوس کن ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

ایک پرانا قصہ – ایکسپریس اردو

Published

on


مولانا خان رشید جب دارالعلوم دیوبند سے فاضل ہوکر اپنے گاؤں آیا تو اس کا ارادہ یہ ہر گز نہیں تھا کہ وہ دین کو ذریعہ روزگار بنائے گا۔ اول تو اس کی تھوڑی بہت خاندانی زرعی زمین تھی، اس میں کاشت و برداشت کرنے کا ارادہ تھا۔ دارالعلوم دیوبند میں اس نے درزی کا کام سیکھا تھا کیونکہ وہاں دینی علوم کے ساتھ ساتھ ہنر بھی سکھائے جاتے تھے۔لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا، گاؤں کی مسجد کا پیش امام جو کسی کوہستانی علاقے کا تھا، فوت ہوگیا تو گاؤں والوں نے اسے اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک وہ امامت کے لیے رضامند نہیں ہوگیا لیکن امامت شروع کرکے بھی وہ اپنی زمین میں کاشت و برداشت خود کرتا تھا۔رمضان کی آمد تھی، دس پندرہ دن رہ گئے تھے کہ اس کے پاس ایک سردار کا بلاوا آگیا۔ سردار گاؤں کے قریب ایک گڑھی کا رہائشی تھا۔ بہت بڑی جائیداد کا مالک اور دولت مند آدمی تھا۔ مولانا خان رشید نے اسے صرف دور سے دیکھا تھا اور سنا تھا کہ اچھا آدمی نہیں ہے، ہر ایسا کام جسے لوگ برا سمجھتے تھے ، وہ دھڑلے سے کرتا تھا۔

اس کے ڈیرے میں ہر وقت کھیل تماشے ہوا کرتے تھے اور بے شمار جرائم پیشہ لوگ اس کے پاس موجود رہتے تھے۔ پولیس اور سرکار دربار میں بھی اس کی پہنچ تھی اور بڑے لوگوں سے بھی یارانے تھے۔نہ وہ کبھی مسجد آیا تھا اور نہ مولانا خان رشید اس سے کبھی ملا تھا۔ اس طاقتور شخص کے بلانے پر اس کا جی تو نہیں چاہتا تھا لیکن پھر بھی یہ سوچ کر گیا کہ شاید اس میں کچھ سدھار آگیا ہو۔ وہ جب موصوف کے وسیع و عریض ڈیرے میں پہنچا تو بہت سارے لوگ ڈیرے کی سجاوٹ میں لگے ہوئے تھے ۔کچھ صفائی کررہے تھے ،کچھ چونا سفیدی اور کچھ رنگین کاغذوں کے پھریرے لگا رہے تھے۔ ڈیرے دار بیچ میں ایک سجے ہوئے پلنگ پر بیٹھا تھا۔آس پاس گاو تکیے تھے۔اس وقت ایک نوکر اسے حقہ پلارہا تھا۔مولانا خان رشید کو دیکھ کر وہ زور سے چلاتے ہوئے بولا،آہاہاہا ’’ملا صیب‘‘ آگئے ہیں ، آؤ آؤ ملا صیب۔مولانا

 اس کے پاس گیا، طاقتور شخصیت نے مصافحے کے لیے صرف ایک ہاتھ بڑھایا، مصافحہ کرتے ہوئے مولانا کو اس سے نہایت ہی ناگوار بدبُو محسوس ہوئی، مولانا نے چادر کے پلو کو ناک پر رکھا۔ وڈیرے نے اپنی پائنتی کو ہاتھ مارتے ہوئے کہا،بیٹھو ’’ملاصیب‘‘۔ مولانا بیٹھ گیا، بدبُو اور تیز ہوگئی لیکن اس نے اپنی ناگواری کو ظاہر نہیں ہونے دیا۔آپ نے بلایا تھا؟ اس نے پوچھا۔’’ہا ں ہاں میں نے اس لیے بلایا تھا کہ روزے پھر آرہے ہیں،ویسے ان روزوں کا اور کوئی کام ہی نہیں ہے، ابھی گئے نہیں ہوتے کہ پھر آجاتے ہیں، ٹک سلامالیکم

ہاں رمضان المبارک آنے والا ہے

یہ رمضان اور مبارک کون؟

میں روزوں کی بات کررہا ہوں بہت برکتوں والا مہینہ ہے خان۔ہوگا مجھے برکتوں کی کوئی ضرورت نہیں خدا کا دیا ہوا سب کچھ موجود ہے بس آپ کسی طرح ان روزوں سے چھٹکارا دلا دو۔یہ آپ کیا کہہ رہے روزے فرض ہیں میں کون ہوتا ہوں چھٹکارا دلانے والا۔سنا ہے تم بہت کچھ پڑھ کر آئے ہو۔ مجھے تو ان روزوں سے چھڑاؤ۔دیکھو میں سحری بھی خوب کرتا ہوں اور افطاری کے وقت تو یہاں پوری عید ہوتی ہے لیکن نشئی آدمی ہوں روزے نہیں رکھ سکتا۔روزے تو فرض ہیں خان۔کوئی اس سے معافی نہیں دلاسکتا۔ارے تم ملا لوگوں کے پاس وہ جو کتاب ہوتی ہے اس سے مسئلہ نکالونا۔ کتاب تو قرآن ہے اور اس میں روزے فرض ہیں۔نہیں میں قرآن کی نہیں اس دوسری کتاب کی بات کررہا ہوں دوسری کتاب؟

ہاں وہ جس سے تم ملا لوگ خاص لوگوں کے لیے مسئلے نکالتے ہو۔میں ایسی کسی کتاب کے بارے میں نہیں جانتا ہوں ۔ میرے داداجی خدا ان کو بارہ جنتیں نصیب کرے۔جنتیں بارہ نہیں آٹھ ہیں۔جتنی بھی ہیں سب ان کو نصیب کرے میرے داداجی کو جب اپنی بیوہ بہو سے شادی کرنے کی خواہش ہوئی تو اس وقت ملا نے اسی کتاب سے مسئلہ نکالا تھا اور میرے باباجی جب اپنی بھانجی سے…۔ایسی کوئی کتاب نہیں ہے۔

ہے ہے ہے تم نئے ہو تم کو پتہ نہیں ہوگا غم نہ کرو جتنے بھی روپے میں ملتی ہو میں دے دوں گا تم وہ کتاب ڈھونڈ کر لاؤ اور اس میں سے مسئلہ نکال کر مجھے ان روزوں سے چھٹکارا دلادو ۔میں نے کہا نا کتاب صرف قرآن ہے۔ایسی کوئی کتاب ہے ہی نہیں۔ یہ کہہ کر مولانا خان رشید کھڑا ہوگیا۔معافی چاہتا ہوں خان۔اور جانے کو قدم بڑھایا۔ٹھہرو، خان نے کہا پھر زور سے آواز دی منشی۔ آواز پر اندرسے ادھیڑ عمر کا آدمی نکلا اور خان کے پاس دوڑ کر پہنچا۔جی خان جی۔دس ہزار روپے لاؤ۔منشی نے واسکٹ کی جیب سے بنڈل نکالا۔ملا صیب کو دے دو۔اور بولا۔ ملاصیب یہ پیسے لو اور آج ہی جہاں سے بھی ہو وہ کتاب ڈھونڈ کر لاؤ۔مولانا خان رشید نے نوٹوں کے لینے سے انکار کیا۔بولے خان مجھے معاف کرنا کسی اور سے یہ کام کراوئیں اور تیزی سے باہر نکل گیا۔ لیکن کچھ دنوں بعد اس نے سنا کہ پاس کے گاؤں کے مولانا نے خان کو روزے معاف کردیے۔

خان رشید اس مولانا کو جانتا تھا کافی عالم فاضل اور نیک آدمی تھا۔یہ کیسے ممکن ہے؟اس نے سوچا اور سیدھا اس مولانا کے پاس پہنچا۔استاذجی کیا یہ سچ ہے کہ آپ نے اس سردار کو روزے نہ رکھنے کا کہہ دیا؟ ہاں مولانا نے ہنستے ہوئے کہا۔مگر کیسے؟خان رشید حیران تھا۔وہ ایسے کہ اسے کلمہ آتا ہے نہ نماز، دنیا میں ایسا کوئی صغیرہ کبیرہ گناہ نہیں جو وہ نہ کرتا ہو بغیر نکاح کے بیویاں رکھے ہوئے ہے۔اس میں مسلمان ہونے کا عمل ہے کیا، جو میں اس مبارک مہینے کی اس سے توہین کراؤں۔





Source link

Continue Reading

Today News

جنگ کے بادل اور امن کی فاختائیں

Published

on


بالآخر امن بورڈ کا پہلا اجلاس منعقد ہوگیا۔ اس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی اور اعلان کیا کہ امریکا غزہ کی تعمیر نو کے لیے دس ارب ڈالر امداد دے گا۔یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی ہے کہ غزہ کی بربادی میں بھی امریکا کی خاموش امداد کو بڑا دخل تھا۔ وہ اسرائیل کی سرپرستی کرتا رہا اسے مہلک ہتھیار فراہم کرتا رہا، اسے غزہ پر حملے کرنے کی کھلی چھٹی دینے میں بھی اس کا ہاتھ رہا اور اب جب کہ غزہ کھنڈر میں تبدیل ہو گیا ہے اور اس کے باسی اب خیمہ نشیں ہو چکے ہیں تو امریکا کو ان پر ترس آ گیا ہے اور ان کی تعمیر نو کے لیے اس نے آواز بلند کی ہے۔

یہ تعمیر نو اس طرح ہو گی کہ مغربی کنارے کے بعض حصوں پر اس جنگ کے دوران اسرائیل نے غاصبانہ قبضہ کر لیا ہے اور اس طرح اسرائیلی مملکت کی سرحدوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ کیا تعمیر نو میں یہ بات شامل ہوگی؟ اسرائیل سے حالیہ مقبوضات کو چھڑایا جا سکے اور فلسطین کی واحد ریاستی حیثیت کو تسلیم کیا جائے اگر یہ نہ ہو سکے تو غزہ کی تعمیر نو اسرائیل کے لیے نئے دسترخوان کی طرح ہوگی۔

غزہ امن بورڈ کے اجلاس میں روس، چین اور اقوام متحدہ کے مستقل ممبران کی اکثریت نے شمولیت اختیار نہیں کی۔ جو ممالک اس اجلاس میں شریک ہوئے انھوں نے 7 ارب ڈالر کی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔پاکستان نے بھی ہچکچاہٹ کے ساتھ اس بورڈ میں شرکت کا اعلان کیا اور واضح کر دیا کہ پاکستان ایک اور صرف ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے اور وہ مغربی کنارے پر اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تسلط کو کسی طور تسلیم نہیں کرے گا، لیکن اب یہ تو وقت بتائے گا کہ یہ موقف تسلیم بھی کیا جائے گا یا یہ سب باتیں آگے چل کر ہوا ثابت ہوں گی۔

اپنی صدارتی تقریر میں صدر ٹرمپ اپنے کارناموں کی تفصیل پر خود ہی روشنی ڈالتے رہے۔ کہا کہ انھوں نے 8 جنگیں رکوائی ہیں جن میں ایک جنگ ایسی بھی تھی جو سالہا سال سے جاری تھی اور خوں ریزی کے علاوہ اس کا کچھ حاصل نہ تھا، میں نے اسے بھی رکوایا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ پاک بھارت جنگ کو بھی انھوں نے رکوایا۔ اس جنگ میں 11 طیارے مار گرائے گئے تھے مگر پاکستانی قیادت نے میرے کہنے پر جنگ سے گریز کیا اور اس طرح دونوں ممالک مزید تباہی سے بچ گئے۔اسی سلسلے میں انھوں نے پاکستانی قیادت کی تعریف و توصیف بھی کی، جو ان کی طرف سے سرٹیفکیٹ کی حیثیت رکھتی تھی۔ کہا کہ وزیر اعظم پاکستان ایک معاملہ فہم انسان ہیں، انسانی اقدار کو سمجھتے ہیں۔ جنگ کی تباہ کاریوں سے آشنا ہیں، اس لیے انھوں نے میری جنگ بندی اپیل کو تسلیم کیا اور یوں یہ جنگ صرف تین روز میں ہی اختتام پذیر ہوئی۔

انھوں نے پاکستانی افواج کے سپہ سالار اعلیٰ کو غیر معمولی خراج عقیدت پیش کیا۔ کہا وہ جرأت مند انسان، بہادر فوجی اور نڈر سپہ سالار ہیں اور ان کی فیلڈ مارشل کی حیثیت میں خدمات لائق تحسین ہیں ان کی جنگی قیادت بہت اہم رہی مگر وہ بھی امن کے شناسا تھے اس لیے انھوں نے بھی میری امن کی تجاویز سے اتفاق کیا۔ پاکستان کی مدح سرائی کچھ بے معنی نہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ انھوں نے قیام امن کی یہ تحریک جو شروع کی ہے یہ دراصل سلامتی کونسل کا کام تھا مگر خود سلامتی کونسل کے ممبران ہی اس تحریک میں ان کے ہم نوا نہیں بن سکے۔ صدر ٹرمپ نے اس پر سرسری سا تبصرہ کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ یہ کام ان کے کرنے کا تھا تو مگر اب یہ ذمے داری گویا ان کے سر آ پڑی ہے اور وہ اسے نبھا رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایک طرف امن کی فاختائیں اڑائی ہیں تو دوسری طرف دھمکیاں دینے سے بھی باز نہیں آئے۔ انھوں نے توقع ظاہر کی ہے اور یہ صرف توقع نہیں بلکہ ایران پر لازم کر دیا ہے کہ وہ چند دن کے اندر اندر امریکا سے معاہدہ امن کرے ورنہ۔۔ ۔ ۔اسی طرح انھوں نے حماس سے بھی ’’ توقع‘‘ ظاہر کی ہے کہ وہ جلد ازجلد اپنے ہتھیار پھینک دے گی۔ اور یہ پھینکنا اس طرح ہوگا کہ امریکا کو اطمینان ہوجائے کہ حماس اب ہتھیاروں سے پاک ہو چکی ہے۔صدر ٹرمپ کی یہ توقعات کس حد تک پوری ہو سکیں گی اور اگر پوری نہ ہوئیں تو ان کی ان امن کی کوششوں کا کیا ہوگا جو انھوں نے اقوام متحدہ کو نظرانداز کرکے خود اپنے ذمہ لے لی ہیں۔ یہ وقت ہی بتا سکے گا۔

دریں اثنا خود صدر ٹرمپ نے بتایا ہے کہ غزہ کے لیے عالمی استحکامی فورس کا قیام بھی عمل میں آیا ہے جس کے تحت مراکش، البانیہ، کوسوو اور قازقستان اپنی فوج اور پولیس غزہ بھیجیں گے اور مصر اور اردن وہاں متعین فوج اور پولیس کو تربیت فراہم کریں گے۔ ترکیہ نے بھی بین الاقوامی امن فوج کے لیے اپنی فوج ارسال کرنے کا اعلان کیا ہے جب کہ قطر نے قیام امن کے اقدامات کے لیے ایک ارب ڈالرکی امداد دی ہے۔ دنیا بھر کے ممالک کی نیک خواہشات اور تعاون سے قیام امن تو ممکن ہو سکے گا مگر اہل غزہ کو اس جنگ میں لگنے والے زخم کون مندمل کر سکے گا۔





Source link

Continue Reading

Trending