Today News
کراچی میں بیوی سے جھگڑے کے بعد ڈاکٹر نے زہر کا انجکشن لگالیا
کراچی: نارتھ ناظم آباد میں ڈاکٹر شوہر نے بیوی سے جھگڑے کے بعد دلبرداشتہ ہو کر خود کو انجیکشن لگا کر زندگی کا خاتمہ کرلیا، متوفی 2 بیٹوں کا باپ تھا۔
تفصیلات کے مطابق نارتھ ناظم آباد بلاک سی مییں گھر کے اندر مبینہ طور پر غلط انجیکشن لگنے سے ایک شخص کو شدید تشویشناک حالت میں عباسی شہید اسپتال لایا گیا جہاں وہ دم توڑ گیا۔
متوفی کی شناخت 36 سالہ عزیز ولد معیز کے نام سے ہوئی۔
ایس ایچ او نارتھ ناظم آباد شاہد بلوچ نے بتایا کہ متوفی اینستھزیا کا ڈاکٹر اور متعدد نجی اسپتالوں میں اپنی خدمات انجام دے رہا تھا۔
متوفی کے ورثا نے پولیس کو بیان دیا کہ گزشتہ صبح معیز کا اپنی اہلیہ سے کسی بات پر جھگڑا ہوا جس کے بعد وہ کمرے سے چلی گئی اور جب کچھ دیر کے بعد واپس آئی تو معیز نے اسے بتایا کہ اس نے خود کو بے ہوش کرنے والا انجیکشن لگالیا ہے اور وہ 2 سے 3 منٹ کا مہمان ہے جس کے بعد اس کی زندگی ختم ہوجائیگی۔
اہلیہ نے فوری طور پر مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد معیز کو نیم بے ہوشی کی حالت میں پولیس موبائل کے ذریعے ہی عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج دم توڑ گیا۔
شاہد بلوچ نے مزید بتایا کہ متوفی 2 بیٹوں کا باپ تھا ، پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد متوفی کی لاش ورثا کے حوالے کر دی اور اس حوالے سے مزید چھان بین کی جا رہی ہے۔
Source link
Today News
مجسّم عدل و انصاف امیر المومنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ
فرمان الٰہی ہے، مفہوم: ’’ہم نے بھیجا اپنے رسولوں کو روشن دلیلوں کے ساتھ کتاب اور میزان دے کر تاکہ لوگ انصاف قائم کریں اور ہم نے لوہا نازل کیا جس میں بڑی طاقت ہے اور فائدہ ہے انسانوں کے لیے تاکہ ہم یہ بتائیں کہ اﷲ اور اس کے رسولوں کی بغیر دیکھے کون مدد کرنے والا ہے، بے شک! اﷲ قوت والا، غالب ہے۔‘‘ (سور الحدید)
یہ ان مختصر ترین آیات میں ہے جس میں خدا نے اپنے نظام ہدایت کا مکمل طور پر تعارف کرایا۔ کتاب، علم کا استعارہ ہے، میزان عدل کا اور لوہا مدافعت کا۔ ان استعاروں کے حوالے سے اس آیت میں خداوند عالم نے اپنے پیغمبروں کو عالم انسانیت کے لیے علم اور عدل کا پیغام دینے کے لیے بھیجا اور اس علم اور عدل کے پیغام کا مقصد یہ تھا کہ لوگ اپنے معاشرے میں انصاف قائم کریں۔ علم اور عدالت، اسلامی یا انسانی معاشرے کی پہچان ہیں اور پھر یوں بھی ہوتا ہے کہ جہل اور ظلم کے کارندے انسانوں پر اپنا غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، اس صورت میں انصاف پرور معاشروں میں اتنی توانائی بھی ہونی چاہیے کہ وہ مدافعت کرسکیں۔
ماہ صیام کے آخری عشرے کی ابتداء پر ہم امیرالمومنین علی ابن ابی طالبؓ کی شہادت کی یاد مناتے ہیں اور یہ یادیں اس لیے منائی جاتی ہیں کہ ہم ان شخصیات کی معرفت حاصل کریں۔ حضرت علیؓ کے بارے میں جناب رسالت مآب ﷺ فرماتے ہیں: ’’میں علم کا شہر ہوں اور علیؓ اس کا دروازہ ہیں۔‘‘ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والے علیؓ ہیں۔ علیؓ کی یوم خندق کی ایک ضربت عبادت ثقلین سے زیادہ افضل ہے۔ اور ان تینوں فضیلتوں کا مقصد جیسا کہ مندرجہ بالا آیت میں کہا گیا یہ ہے کہ لوگ انصاف کریں۔
خود جناب امیرؓ علم اور عدل کے حوالے سے اپنا منشور حیات اس طرح بیان فرماتے ہیں:
’’اس خدا کی قسم! جس نے دانے کو شگافتہ کیا اور ہر ذی روح کو پیدا کیا، اگر مددگاروں کی وجہ سے محبت تمام نہ ہوگئی اور علماء سے خدا کا عہد یہ نہ ہوتا کہ ظالم کی شکم سیری اور مظلوم کی بھوک سے سمجھوتا نہ کریں تو میں ناقۂ خلافت کی باگ ڈور اسی کی پشت پر ڈال دیتا۔‘‘
آپؓ نے فرمایا: ’’ملک کفر سے تو چل سکتا ہے لیکن ظلم سے نہیں چل سکتا۔‘‘
ایک اور موقع پر آپؓ طبقاتی نظام کا اس طرح تجزیہ کرتے ہیں:
’’میں نے کوئی وافر دولت ایسی نہیں دیکھی جس کے پہلو میں غصب شدہ حق نظر نہ آئے ہوں۔‘‘ ایک مرتبہ کسی نے آپؓ سے پوچھا: خدا کا قول ہے ہم نے زمین پر رہنے والے ہر ذی روح کے لیے روزی پیدا کی ہے تو پھر بعض لوگ بھوکے کیوں رہ جاتے ہیں۔۔۔ ؟
آپؓ نے جواب دیا: ’’اس لیے کہ مال دار نے اس کے حصے کی روزی غصب کرلی۔‘‘
ایک خط میں آپؓ طبقہ اشرافیہ کے کردار کا اس طرح تجزیہ فرماتے ہیں:
’’یاد رکھو! خوش حالی کے زمانے میں حاکم کے لیے سب سے بڑا بوجھ، معیشت کے وقت جی چرانے والا، بخشش و عطا کے موقع پر سب سے کم شکر گزار ہونے والا، محرومی پر کوئی عذرت نہ سننے والا۔‘‘
پھر آپؓ نے اپنے گورنر کو ہدایت فرمائی کہ زمانے کی ابتلاء میں سب سے کم ثابت قدم رہنے والا یہ خواص کا طبقہ ہی ہے۔ تمہیں وہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے جو حق کے لحاظ سے بہترین، انصاف کے لحاظ سے سب سے بہتر اور عوام کی مرضی کے مطابق ہو، کیوں کہ عوام کی ناراضی خواص کی رضا مندی کو بے اثر بنا دیتی ہے اور خواص کی ناراضی عوام کی رضامندی کے ہوتے ہوئے برداشت کرلی جاتی ہے۔
مسلمانوں کی اصل طاقت اور دشمنوں کے خلاف سب سے بڑا دفاع امت کے عوام ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے جس معاشرے میں بھی معاملات پر طبقہ اشرافیہ چھایا رہے گا وہاں طبقاتی خلیج بڑھتی ہی چلی جائے گی اور امیر زیادہ امیر اور غریب زیادہ غریب ہوتا چلا جائے گا۔ عوام کی حالت پر سب سے زیادہ اثر انداز حکومت کی ٹیکس کی پالیسیاں ہُوا کرتی ہیں۔ عوام کی معاشی حالت بہتر بنانے کے سلسلے میں حضرت علیؓ کی پالیسی کیا تھی؟ آپؓ فرماتے ہیں: ’’دیکھو! محکمۂ خراج سے زیادہ ملک کی آبادی پر توجہ دینا، کیوں کہ خراج بھی تو خوش حالی سے حاصل ہوتا ہے، جو حاکم تعمیر کے بغیر خراج چاہتا ہے اس کی حکومت یقیناً چند روزہ ثابت ہوگی۔ اگر کاشت کار خراج کی زیادتی کسی آسمانی آفت، آب پاشی میں خلل، رطوبت کی قلت، سیلاب یا خشکی کے سبب فصل کے خراب ہونے کی شکایت کریں تو ان کے لگان کو کم کردینا۔ ملک کی آبادی اور سرسبزی ہر بوجھ اٹھا سکتی ہے۔ لہذا ہمیشہ خیال رکھنا ملک کی بربادی کا سبب تو باشندوں کی غربت ہے اور غربت کا یہ سبب ہوتا ہے کہ حاکم دولت سمیٹنے پر کمر باندھ لیتے ہیں۔ کیوں کہ انہیں زوال کا خوف رہتا ہے اور وہ عبرتوں سے سبق نہیں حاصل کرنا چاہتے۔‘‘
اس گفت گو سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اسلام کی بنیاد عدالت یا سماجی انصاف کا قیام ہے اور حضرت علیؓ نے اپنا سب کچھ قربان کردیا لیکن قیام عدالت کے سلسلے میں ذرّہ برابر انحراف نہیں کیا۔ پرانے دوستوں نے آپؓ کے خلاف تلواریں اٹھالیں، رشتے دار برگشتہ ہوگئے، سلطنت کم زور ہوگئی، مصر کا علاقہ نکل گیا لیکن آپؓ نے انصاف کے خلاف کوئی مصلحت، کوئی سمجھوتا گوارا نہیں کیا۔
گورنر مالک دیکھ رہے تھے کہ لوگ آپؓ سے دور ہوتے جارہے ہیں، جناب امیرؓ کو لکھتے ہیں:
اگر آپؓ بھی بے دریغ مال دینا تقسیم کرتے اور جتھابند اور قابو یافتہ لوگوں کو دوسروں سے زیادہ دیں تو پھر دیکھیے کہ لوگوں کی گردنیں کس طرح آپؓ کی طرف جھکتی ہیں اور ان کی زبانیں آپ کے کیسے کیسے گن گاتی ہیں اور وہ کیسے آپ کے خیر خواہ بن جاتے ہیں۔
حضرت علیؓ کا جواب تھا: ’’اﷲ جانتا ہے، انھوں نے ہم سے علاحدگی اس لیے نہیں کی کہ ہم نے ان پر ظلم و جور کیا اور وہ ہم سے جدا ہوکر کسی عادل کی پناہ میں گئے ہوں۔ ہم سے جدائی کا سبب سوائے طلب دنیا کے اور کچھ نہیں اور دنیا زائل ہونے والی ہے۔‘‘
یہ وہ اصول ہیں جو صرف مسلمانوں تک ہی محدود نہیں بل کہ ہر معاشرے کی فلاح کے ضامن ہیں۔ خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب، کسی قوم یا کسی زمانے سے ہو۔ اب آخری بات ہم جو بہ زعم خود مسلمان ہیں، بل کہ بہترین مسلمان ہیں اور ہم جو اس وقت یعنی رمضان میں بے شمار تلاوت قرآن کے تحفے آپ کے حضور بھیج رہے ہیں، حضرت علیؓ کی شہادت کو یاد کرکے غم زدہ ہیں، ہمارا کیا رویہ ہے اور ہم نے عدالت کے قیام کے لیے کیا کِیا۔۔۔۔ ؟ ہمارا یہ کارنامہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد سے غریب اور زیادہ مفلوک الحال ہوتا جارہا ہے، ہماری بستیوں میں بھوک، بے روزگاری، بیماریاں، خودکشی کی تعداد بڑھتی جارہی ہے، مذہب کے نام پر سیاست تو دھوم دھڑکے سے ہو رہی ہے، مذہبی قوانین بھی بن رہے ہیں، نظام اسلام کے نفاذ کے نعرے روز زیادہ ہی بلند بانگ ہوتے جارہے ہیں لیکن سماجی انصاف کے قیام کے لیے کوئی قانون نہیں بنتا۔ بعض لوگوں کی گفت گو محض اپنی محبوب شخصیات سے وابستہ معجزات کے ذکر تک محدود رہتی ہے۔ لیکن یہ بھی تو سوچو کہ اس خانہ خدا میں پیدا ہونے والے نے زمین پر کیسی زندگی گزاری۔۔۔ ؟
Today News
’’ذاتِ اُودروازۂ شہرِ علوم‘‘
تاج دار اقلیم فقر و غنایت، نازش میدان جرأت و بسالت، سیدنا علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کے فضائل و کمالات، بے پایاں محامد و محاسن اور لامحدود اوصاف خصائص سے انکار یا پہلوتہی وہی کرسکتا ہے جسے روز محشر سرکار رسالت مآب ﷺ کی شفاعت کا انکار ہو، جو حضور سرور کائناتؐ سے محبت نہ رکھتا ہو، جو آقا ﷺ کی قُربت کا خواہش مند اور تمنائی نہ ہو، جو آپؐ کی زلف واللیل کی خُوش بُو سے مشام جاں معطر نہ کرنا چاہتا ہو، جو آپ ﷺ کے رخ والضحیٰ کی رعنائی سے تاریک دل کو منور کرنے کا آرزو مند نہ ہو، جو آپؐ کی چشم التفات سے محروم رہنا چاہتا ہو اور جو آپؐ کے اعزہ سے بہ باطن مخاصمت و عداوت رکھتا ہو۔ کیوں کہ حضور سیّد المرسلینؐ کا یہ واضح فرمان ذی شان اس بات کی عکاسی کررہا ہے: ’’علی ؓ سے محبت رکھنے کا مطلب اﷲ اور رسول ﷺ سے محبت رکھنا ہے اور علیؓ سے عداوت رکھنا اﷲ اور رسول ﷺ سے عداوت رکھنا ہے۔‘‘
غزوۂ خیبر کے موقع پر محسن انسانیت ﷺ کا یہ ارشاد گرامی جبین ارض و سما پر تابندگی بکھیر رہا ہے : ’’میں کل عَلمِ اسلام ایسے شخص کو دوں گا جو اﷲ اور رسول ﷺ سے محبت رکھتا اور اﷲ اور رسول ﷺ اس سے محبت رکھتے ہیں۔‘‘
آپؐ نے یہ بات شام کو اس وقت ارشاد فرمائی جب جیّد صحابہ ؓ کی سرتوڑ کوشش کے باوجود قلعہ یہود فتح نہیں ہو رہا تھا۔ یہ رات صحابہ کرام ؓ نے بڑے تذبذب میں گزاری کہ وہ خوش نصیب کون ہے، جس کے ہاتھ میں دست نبوت ﷺ علَم اسلام تھمائے گا۔ صبح ہوتے ہی آپؐ نے علی ابن ابی طالبؓ کو بلایا۔ اس وقت آپؓ کو آشوب چشم کا عارضہ تھا۔ رسول کریمؐ نے اپنا لعاب دہن علیؓ کی آنکھوں میں لگایا۔ تکلیف فوراً کافور ہوگئی اور پھر اہل دنیا نے دیکھا کہ حضور اکرم ﷺ کا فرمان ذی شان کتنا سچا، کتنا معتبر و محتشم ٹھہرا کہ ذوالفقار حیدری کی ایک ہی ضرب سے عَلم یہودیت ہمیشہ کے لیے سَر نگوں ہوگیا۔
حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جس کا میں مولا ہوں، علی ؓ بھی اس کے مولا ہیں۔‘‘ حضور ﷺ کے اس پُرجلال فرمان سے حرمت و شوکت علی المرتضیٰ طلوع آفتاب روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی، جس کا صاف مطلب ہے کہ سیدنا علی ؓ سے عداوت بہ راہ راست حضور ﷺ سے عداوت رکھنا ہے اور آپ ﷺ سے عقیدت و محبت کا صاف مطلب حضور ﷺ سے ارادت و محبت رکھنا ہے اور حضور ﷺ سے محبت رکھنا ازروئے قرآن خالق کائنات سے محبت رکھنا ہے۔ گویا اﷲ اور رسول اﷲ ﷺ اور علی ؓ سے محبت کی تکون اہل اسلام کے ایمان کا جز و لاینفک ہے۔ اسی لیے اقبال ؒ نے کہا ہے :
مُسلمِ اوّل شہہِ مرداں علیؓ۔ ( پہلے مسلمان اور مَردوں کے سردار علیؓ ہیں)
عشق را سرمایۂ ایماں علیؓ۔ (عشق کے لیے ایمان کا سرمایہ علیؓ ہیں)
اقبال نے اپنا ذاتی تعارف پیش کرتے ہوئے بانگ درا کی معروف نظم ’’زہد اور رندی‘‘ میں یہ کہا ہے:
ہے اس کی طبیعت میں تشیّع بھی ذرا سا
تفضیل علی ؓ ہم نے سنی اُس کی زبانی
تو فطرت و حقائق کے عین مطابق تھا کیوں کہ فضائل و مناقب علیؓ کا بیان سنت رسول مکرم ﷺ ٹھہرتا ہے۔ اقبالؒ نے سیدنا علیؓ کی ہمہ صفت و ہمہ جہت شخصیت کے حضور اپنے کلام میں جا بہ جا کیوں خراج عقیدت پیش کیا ؟ اس ضمن میں دو تین امور بڑے اہم نوعیت کے ہیں جس سے کوئی صاحب فہم و ذکاء اور حامل تدبر کسی صورت انکار نہیں کرسکتا۔ ایک تو یہ کہ علی ابن ابی طالبؓ کو عہد طفولیت سے ہی آغوش رسالت مآبؐ کی زینت بننے کا شرف حاصل ہوگیا۔ جب جناب عبدالمطلب کے بعد حضور سیدالکونینؐ کو والد گرامی علی المرتضیٰ جناب ابوطالب کا سایۂ عاطفت میسر آیا اس وقت سے چشم علیؓ حضور ﷺ کے معمولات کا مشاہدہ کرنے میں مصروف ہوگئی۔ حضور سیدالمرسلینؐ کے دل نواز اور سرتا پا شفقت و محبت چچا جناب ابوطالب حضور ﷺ کواپنے بستر پر لٹا لیتے، گلیوں میں چلتے ہوئے اس بات کی احتیاط اور خیال رکھتے کہ کہیں کوئی معمولی سا سنگ ریزہ یا نوک خار آپؐ کے نرم و نازک تلوؤں کے لیے موجب آزار نہ بنے، کوئی چشم بد میرے پاک باز و نفیس بھتیجے کو زخم حسد سے گزند نہ پہنچائے۔ باد سموم کا کوئی معمولی سا جھونکا بھی حضورؐ کے لطیف و نازک اندام جسم اطہر کے لیے باعث حدت نہ بنے، تمازت آفتاب کی غایت کہیں امانت عبدالمطلب کو رنج و غم میں مبتلا نہ کرے، آفات و بلیات زمن کہیں اس لکّہ حسن کبریا کو پریشان نہ کردیں۔ ریگ زار عرب کی دل خراش ہوائیں آمنہ کے دُرّیتیم اور جگر گوشہ عبداﷲ کی زلف عنبریں کے پیچ و خم کو الجھا نہ دیں۔
حضور ﷺ سے جناب ابوطالب کی کیف آور محبت ان کے صاحب زادے سیدنا علیؓ کے دل و دماغ میں گھر کرتی رہی۔ حضرت علی ؓ اس کیفیت محبت کا نظارہ گہرے غور و فکر سے کرتے رہے اور اسے اپنی زندگی کا جزو بناتے رہے۔ بعد ازاں ابوطالب کی وفات کے بعد حضور کے یہ چچازاد (علیؓ) بہ راہ راست آپؐ کے سایۂ باراں کی لطافت سے مفیض ہونے کے لیے آپؐ کے ہاں فروکش ہوگئے۔ اس لیے سیدنا علی ؓ کا یہ اعزاز و اکرام حضرت علامہ اقبالؒ کے لیے باعث کشش و محبت بنا کہ آپ کا عرصہ قربت نبوت سب سے زیادہ بنتا ہے۔ سیدنا علیؓ کا قربت نبوتؐ کا یہ اعزاز و عظمت تحرم و تقدم کسی اور کو حاصل نہیں ہے۔ یہ تو عہد طفولیت کی بات ہے حضورؐ کے وصال مبارک کے وقت بھی آقا کے وجود اقدس کو لحد میں اتارنے کا بھی عز و شرف آپؓ کو حاصل ہے۔ اس طرح یہ ہستی حضور ﷺ کے وصال مبارک تک آپؐ کے ساتھ رہی اور پھر حق رفاقت بھی بے مثال طریقے سے ادا کرتی رہی۔
حضرت علی ؓ کی ایک اور فضیلت و شان جو آپؓ کو اس کائنات ارضی کے ہر فرد سے ممیز کرتی ہے وہ جگر گوشہ رسولؐ سیدہ فاطمۃ الزھراءؓ کا شوہر نام دار ہونا ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس قابل صد فخر و مباہات اور قابل صد احترام جوڑے کے نکاح کا مژدۂ جاں فزا آسمان سے حضرت جبرائیل لے کر آئے تھے اور حکم خداوندی سے آپؐ نے اس کا اہتمام فرمایا تھا۔ اسی لیے مثنوی میں اقبالؒ نے اسی امتیاز و شرف کی جانب اشارہ کیا ہے۔
بانوے آں تاج دار ھل اتیٰ
مرتضیٰ، مُشکل کُشا، شیرِخدا
حضرت علامہ کے کلام کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے تو آپ کے نزدیک تفضیل علی کا ایک تاب ناک سبب ذوالفقار حیدری کی چمک ہے۔ اس ضمن میں ایک خصوصی بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ معرکۂ خیر و شر کے دوران بڑی سے بڑی ابتلا بھی آپؓ کے پائے ثبات میں ذرا سی جنبش پیدا نہ کرسکی اور آپ ؓ کی ہمیشہ کوشش یہ رہی کہ دشمنوں کی طرف سے پھینکا گیا معمولی سا ناوک نیم کش بھی بانی تحریک حق ﷺ کو نقصان نہ پہنچا دے۔ یہ ٹھیک ہے کہ دین محمد عربی ﷺ کی ترویج و اشاعت اﷲ کے فضل و رحمت، حضور کے وجود مسعود کے تصدق اور آپ کے موقر و محترم رفقاء کی اعانت کی رہین منت ہے مگر بدر و احد و خندق و خیبر کی صورت میں معرکہ ہائے حق و باطل میں ذوالفقار حیدری کچھ اس طرح سے چمکی کہ اس کی ہیبت سے دشت و جبل لرز اٹھے۔ باطل شکنی کے اعتبار سے سیدنا علیؓ کی تیغ براں کتاب جرأت و بسالت کا دل پذیر عنوان بن گئی۔ قدوم علیؓ جس طرف اٹھتے معاندین اسلام کے اجسام ریت کے ذرّوں اور نخل خزاں کے پتوں کی طرح فضائے بسیط میں اڑتے نظر آتے۔ بالخصوص فتح خیبر مسلمانان عالم کی کتاب زیست کے اوراق کو ابد الآباد تک جگ مگاتی رہے گی۔ ہجرت کی شب بستر نبوت پر دراز ہونا گویا اپنی متاع حیات کواپنے ہاتھوں دشمنوں کے سپرد کرنا تھا مگر سیدنا علی ؓ فرماتے ہیں:
’’میں نے اپنی زندگی کی سب سے تسکین آمیز شب حضورؐ کے بستر پر گزاری۔‘‘
علامہ اقبال کے نزدیک سیدنا علی ؓ کے بے عدیل محاسن میں ایک آپ ؓ کا فقر و غنا تھا۔ تہذیب علی المرتضیٰ کا یہ پہلو پرتو نبوت کی صحیح تصویر تھا۔ آپ ؓنے چوں کہ اوائل ہی سے فقر و غناء کے بوریا نشین شہنشاہ حضور سیّد المرسلین ﷺ کی حیات طیبہ کا بہت قریب سے مطالعہ و مشاہدہ کر رکھا تھا اس لیے آپؓ میں بھی خاک نشینی جھلکتی تھی اسی لیے آقا ﷺ نے ایک بار آپؓ کو بے تکلفانہ ابُوتراب کے پرجلال و پُروقار لقب سے نوازا۔
Source link
Today News
مصالحت نہ سکھاجبرِ ناروا سے مجھے
اِس وقت آدھی دنیا جنگ کی لپیٹ میں آ چکی ہے، دنیا بھرکی ایوی ایشن اور ٹورازم انڈسٹری برباد ہوچکی، اسرائیل، امریکا اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو کھربوں ڈالر کا نقصان ہوچکا،سیاحت اور شاپنگ کے عالمی مراکز ویران ہوچکے اور ہر ملک کی معیشت لڑکھڑا رہی ہے، کیا دنیا کے طاقتور ترین شخص کا ہدف یہی تھا کہ دنیا کا نقشہ ایسا ہوجائے۔ نہیں وہ ایسا نہیں چاہتا تھا۔
اگر سُپر پاور کی ہر خواہش پوری ہوتی تو آج ویت نام پر امریکی پرچم لہرا رہا ہوتا، افغانستان پر اس کا قبضہ ہوتا، کیوبا اس کی ریاست ہوتا اور ایران پر امریکا اور اسرائیل کا کوئی کٹھ پُتلی حکومت کررہا ہوتا۔ مگر ایسا نہیں ہے، حقیقت یہ ہے کہ سُپر پاور سے بڑی سپریم پاور بھی موجود ہے کہ پورے کرۂ ارض کا کنٹرول جس کے قبضۂ قدرت میں ہے اور اس جہانِ رنگ و بو میں بالآخر وہی ہوتا ہے جو اُس سپریم پاور کو منظور ہوتا ہے۔ یہ درست ہے کہ اسرائیل اور امریکا نے ایران کی رہائشی آبادی پر وحشیانہ بمباری کرکے ہزاروں بے گناہ شہریوں کو ہلاک کردیا ہے، سیکڑوں معصوم طالبات کو بھی خاک وخون میں نہلا دیا ہے، ایران کے راہبر سیّد علی خامینائی سمیت صفحۂ اوّل کے سول اور عسکری لیڈروں کو شہید کردیا ہے، مگر وہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
اس لیے کہ نہ ایران میں حکومت کی گرفت کمزور ہوئی ہے، نہ وہاں پھوٹ ڈالی جاسکی ہے اور نہ ہی کوئی کٹھ پتلی مسلّط کیا جا سکا ہے۔ ایرانی قوم نے آہنی عزم واستقلال کا مظاہرہ کرتے ہوئے قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی یاد تازہ کردی ہے۔ اکیسویں صدی کے چنگیز خان اور ہٹلر نہیں جانتے تھے کہ ایران وینزویلا نہیں ہے، اُن کا سامنا بدرو حنین کے ان سرفروشوں کی اولاد سے ہے جو اپنے سے دس گنا بڑی سپر پاور کو پیغام بھیجتے تھے کہ ’’یاد رکھو تمہارا مقابلہ اسلام کے ان جانثاروں سے ہے جنھیں موت اتنی ہی عزیز ہے جتنی تمہیں زندگی۔‘‘ نیتن اور ٹرمپ نہیں جانتے تھے کہ اُن کا پالا شہدائے کربلا کے وارثوں سے پڑا ہے جن کے لیے شہادت زندگی سے بڑا اعزاز ہے اور جن کا بچہ بچہ اب بھی پکار رہا ہے کہ
مصالحت نہ سکھا جبرِ ناروا سے مجھے
میں سر بکف ہوں، لڑا دے کسی بلا سے مجھے
اہلِ ایران کی بہادری اور ثابت قدمی کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے مگر ان کی ناکامیاں بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتیں۔ ان کی اپنی صفوں کے اندر دشمنوں کے آلۂ کار گھسے رہے اور وہ اپنے راہبر اور عسکری کمانڈروںاور ایٹمی سائنسدانوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہے۔ انھیں اس کمی پر قابو پانا ہوگا اور security lapses کے خطرناک شگافوں کو بھرنا ہوگا۔
کھربوں ڈالر کے خطرناک ترین بم اور میزائل گرانے کے باوجود آج کی زمینی صورتحال یہ ہے کہ ایران کی حکومت چل رہی ہے، وہاں روز مرہ زندگی رواں دواں ہے اور عوام کی اکثریت کی ہمدردیاں شہید راہبر اور ان کی فیمیلی اور ان کی حکومت کے ساتھ ہیں۔ اگر اس وقت ایرانیوں کے دل میں کسی کے لیے سب سے زیادہ نفرت ہے تو وہ اسرائیل اور امریکا ہے۔ ایران میں بغاوت کے کوئی آثار نہیں اور سابق شاہ کے بیٹے کوکسی کی حمایت حاصل نہیں۔ امریکی صدر نے طاقت کے گھمنڈ، تکبّر اور پوری دنیا کے وسائل کا مالک بننے کے جنون میں، جمہوریّت، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق جیسے اعلیٰ تصوّرات اور ملکوں کی جغرافیائی سرحدوں کے تقدّس کو روند ڈالا ہے اوروہ اکیسویں صدی میں بھی Might is Right کے صدیوں پرانے نظریئے کی تلوار اُٹھاکر دوسرے ملکوں پر چڑھ دوڑا ہے۔ افسوس ہے کہ کوئی ملک اس کو روکنے والا نہیں ہے۔ روس اور چین بھی حملہ آور کو سامنے آکر روکنے سے گریزاں ہیں۔ یورپی ممالک تماشہ دیکھ رہے ہیں مگر اسے روکنے کی جرات نہیں کرپائے۔ اقوامِ متحدہ تو اس کی باندی ہے، وہ انسانی حقوق کی بدترین پامالی پر معمولی سی قرارداد پاس نہیں کرسکی۔
ایران میںسکول کی معصوم طالبات کے بہیمانہ قتل پر ہمارے ملک کی این جی اوز یا دین بیزار لبرلز میں سے کسی نے اس کی مذمّت کرنے کی بھی زحمت نہیں کی۔ اسرائیل اور امریکا کی ننگی جارحیّت نے ہمارے ملک کے نام نہاد سوڈو لبرلز کا کردار بھی بالکل بے نقاب کردیا ہے۔ انھوں نے اسرائیل اور امریکا کے بلا جواز حملے کے نتیجے میں ایک خودمختار ملک کے سیاسی اور روحانی قائد سیّد علی خامینائی کے وحشیانہ قتل پر چپ سادھ رکھی ہے، یعنی ان کے نزدیک کسی ملک کے انسانی حقوق اور جغرافیائی سرحدوں کے تقدس کی کوئی اہمیّت نہیں۔
اس جنگ میں پاکستان کا کردار انتہائی نازک، حسّاس اور ہم ہے، اس کا کردار ایک Tight Rope پر چلنے کے مترادف ہے، ان حالات میں پاکستان کو جرات مندانہ مگر دانش مندانہ کردار ادا کرنا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران ہمارا بھائی بھی ہے اور ہمسایہ بھی، اس لیے اس پر امریکا اور اسرائیل کا حملہ ہمیںکسی صورت قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیئے۔
ایران کے خلاف جارحیت پر پاکستان نے اس کی مزمت کی ہے۔ ادھر ہم یہ بات بھی فراموش نہیں کرسکتے کہ ہمارے ملک میں چالیس ارب ڈالر کا زرِ مبادلہ (جو ہماری لائف لائن ہے) ہمارے وہ اوورسیز پاکستانی بھیجتے ہیں جو خلیجی ممالک میں محنت مزدوری کررہے ہیں، ان میں سے نوّے فیصد سعودی عرب اور یو اے ای میں ہیں۔ اگر کوئی ملک (چاہے ایران ہی کیوں نہ ہو) اگر ان ممالک پر حملہ کرتا ہے تو اس صورت میں بھی ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔ کوئی بڑا ملک ہو یا چھوٹا، سب سے پہلے وہ اپنا مفاد دیکھتا ہے، جس طرح ماضی میں ایران نے اپنے ملک کا مفاد دیکھتے ہوئے کئی بار پاکستان کے مقابلے میں بھارت کا ساتھ دیا (امید ہے کہ اب بھارت کے گھناؤنے کردار نے ایران کی آنکھیں کھول دی ہوںگی اور انھیں اپنے دوست اور دشمن کی پہچان ہوگئی ہوگی) اسی طرح پاکستان کی حکومت کو فیصلہ کرتے وقت پاکستان کا مفاد پیشِ نظر رکھنا ہوگا۔ ابھی تک ملنے والے شواہد سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے دانش مندی کا مظاہرہ کیا ہے، سعودی عرب اور ایران کے درمیان غلط فہمی دور کرانے میں پاکستان کا مصالحانہ کردار قابلِ تحسین ہے۔ ان کی کوششوں سے ایران کے صدر نے معذرت کرلی، اور سعودی عرب سمیت بہت سے عرب ممالک نے جنگ میں اسرائیل اور امریکا کا اتحادی بننے سے انکار کردیا ہے۔
بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی نے اپنے وی لاگ میں حالیہ جنگ کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ کوئی محدود فوجی آپریشن نہیں بلکہ بقا کی جنگ ہے۔ جب کسی ریاست کے سامنے وجود کا سوال کھڑا ہو جائے تو اس کی جنگ کی تعریف بدل جاتی ہے۔ ایران کے لیے امریکا یا اسرائیل کو مکمل طور پر شکست دینا ضروری نہیں، اسے صرف اپنے نظام، اور اپنی خودمختاری کو برقرار رکھنا ہے۔ اگر ریاست باقی رہتی ہے تو وہی اس کی فتح ہے۔ یہی وہ ذہنیت ہے جو طویل جنگوں میں فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایران نے کمانڈ اینڈ کنٹرول کو دانستہ طور پر غیر مرکزی بنایا ہے۔ اگر قیادت کو نشانہ بنایا جائے تب بھی نچلی سطح کے کمانڈر متحدہ کوشش کے ساتھ جنگ جاری رکھ سکتے ہیں۔ یہ ماڈل روایتی‘‘یونیٹی آف کمانڈ’’سے مختلف ہے۔ اس میں نظام کسی ایک شخصیت پر کھڑا نہیں ہوتا بلکہ ایک نظریاتی اور قومی ڈھانچے پر قائم ہوتا ہے۔ ساہنی کے مطابق یہی وجہ ہے کہ قیادت کو ہدف بنانے سے جنگ ختم نہیں ہوگی۔
وہ کہتے ہیں کہ جنگ اب صرف ٹینکوں اور لڑاکا طیاروں کی نہیں رہی بلکہ سگنل، ڈیٹا اور خلا کی ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق ایران نے امریکی جی پی ایس پر انحصار کم کر کے چینی سسٹم کو اختیار کیا ہے۔ اس سے میزائل اور ڈرون ہدف تک زیادہ درستگی سے پہنچ سکتے ہیں اور جیمنگ کے باوجود مواصلات برقرار رہتے ہیں۔ اصل ہتھیار اب ’’سگنل‘‘ہے۔ اگر آپ دشمن کے ریڈار کو دھوکہ دے سکیں، اس کے دفاعی نظام کو غلط شناخت پر مجبور کر دیں، تو بغیر روایتی فضائی برتری کے بھی نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔‘‘
ایرانی میزائلوں نے اسرائیل میں وہ تباہی مچائی ہے جس کا کوئی تصوّر بھی نہیں کر سکتا تھا۔ صاف نظر آرہا ہے کہ فرسٹرٹیڈ اور مایوس ٹرمپ اب فیس سیونگ کی تلاش میں ہے۔ اس ضمن میں اسلامی ممالک خصوصاً پاکستان، سعودی عرب، ترکی، انڈونیشیا اور مصر کو بڑا موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انھیں چاہیے کہ روس اور چین کو ساتھ ملاکر ٹرمپ کو جنگ بندی پر مجبورکریں۔ ایسا نہ ہوا تو پھر دنیا کو ایٹمی جنگ کی ہولناکیوں سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔
-
Tech2 weeks ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Business2 weeks ago
Petrol, diesel prices likely to rise by Rs7 for next forthnight
-
Entertainment2 weeks ago
Sidra Niazi Shares Details Of Her Marriage
-
Magazines1 week ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The dog without a leash!
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus