Connect with us

Today News

کراچی میں دکان سے برآمد ہونے والے ’شیطانی‘ مجسمے کا معمہ حل

Published

on



کراچی: شہر قائد کے علاقے مہران ٹاؤن میں دکان سے برآمد ہونے والے ’شیطانی شکل‘ کے مجسمے کا معمہ حل ہوگیا۔

سماجی رابطے کی سائٹ پر شیطان کی شکل کا مجسمے کی ویڈیو وائرل ہوئی جس پر کورنگی صنعتی ایریا کی پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے مجسمے کو قبضے میں لے کر تھانے منتقل کردیا۔

پولیس کی کارروائی کے دوران دکاندار موجود نہیں تھا تاہم پولیس نے کچھ دیر بعد مجسمہ بنانے والے کاریگر کو پکڑ لیا۔

پولیس کے مطابق تھرمو پول سے بنا مجسمہ مذہبی اسکالر نے دکاندار کو بنانے کا ٹاسک دیا اور اسے یوم القدس کے لیے بنوایا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق دکاندار عمران نے بتایا کہ علامہ صاحب نے کہا جمعہ کے روز ہم نے یہ پتلا جلوس میں احتجاج کے طور پر نذر آتش کرنا تھا۔

پولیس نے مجسمہ ساز کا وضاحتی بیان ریکارڈ کرنے کے بعد اسے جانے کی اجازت دے دی۔

 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

جب آبنائے ہرمز نے پٹرول آدھا کر دیا(حصہ اول)

Published

on


آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کی قطار ایسے دکھائی دیتی ہے جیسے دنیا کی معیشت کی نبض انھی کے سینوں میں دھڑک رہی ہو۔ ان جہازوں میں لدا ہوا تیل آج عالمی سیاست، جنگ، معیشت اور عوامی زندگی کا سب سے بڑا کردار بن چکا ہے۔ ہرمز نامی سمندر سے اٹھنے والی ایک خبر نے اسلام آباد کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی اور یہ ایک حقیقت تھی کہ جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا تھا جوکہ 119 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی تھی۔ تازہ اطلاعات کے مطابق جی سیون ملکوں نے ہنگامی ذخائر کے استعمال کا اشارہ دیا اور قیمت میں کمی ہوئی۔

یہ وہی آبنائے ہرمز ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فی صد تیل کے ٹینکرز گزرتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ خبر کسی زلزلے سے کم نہیں۔ اس کے فوری اثرات یہ مرتب ہوئے کہ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے ایران، مشرق وسطیٰ اور خلیج سمیت پورے خطے میں جنگی صورت حال کے پیش نظر معیشت کے استحکام کے لیے کفایت شعاری، سادگی اور توانائی کی بچت کے لیے 14 نکاتی فیصلوں کا اعلان کیا ہے جن میں دو ماہ کے لیے فوری طور پر سرکاری گاڑیوں کے پٹرول کی مد میں 50 فی صد کٹوتی، سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں 60 فی صد کمی، 4 دن کام، تعلیمی ادارے 16 تا 31 مارچ بند اور دیگر کئی کفایت شعاری کے اہم فیصلے کیے گئے۔

آبنائے ہرمز کے تنگ سمندری راستے میں ذرا سی بھی رکاوٹ پیدا ہو جائے تو دنیا کی معیشت میں ہلچل مچ جاتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ خبر کسی زلزلے سے کم نہیں ہوتی۔ کیونکہ پاکستان اپنی ضرورت کا 85 فی صد تیل درآمد کرتا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے پہلے 7 ماہ کے دستیاب ڈیٹا کے مطابق پٹرولیم گروپ کی کل درآمدات 9 ارب 4 کروڑ ڈالرز کی رہیں۔ جب کہ ایل این جی کی درآمدات میں 26.20 اور ایل پی جی میں 4.98 فی صد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

سال 2024-25 کے مالی سال کے تجارتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر تقریباً 17 سے 18 ارب ڈالر خرچ کیے اور یہی درآمدی بل پاکستان کے تجارتی خسارے کو بڑھانے کا سب سے بڑا سبب ہے۔ جب عالمی منڈی میں خام تیل 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل ہو جائے تو اسلام آباد کی وزارت خزانہ میں فائلوں کے انبار لگ جاتے ہوں گے کیونکہ 10 ڈالر اضافے سے پاکستان کا سالانہ درآمدی بل تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر بڑھ جاتا ہے اور ایک ایک ارب ڈالر کی خاطر ہم آئی ایم ایف کے سامنے کس طرح گڑگڑاتے ہیں ،حکام بخوبی جانتے ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت نے نہایت ہی اہم فیصلہ کیا کہ سرکاری پٹرول آدھا کر دیا، اس 50 فی صد سرکاری پٹرول کی کٹوتی سے معیشت پر اچھا اثر پڑے گا۔

بعض ذرائع کے مطابق حکومت کے پاس سرکاری استعمال کے لیے ایک لاکھ سے زائد گاڑیاں موجود ہیں۔ ان گاڑیوں پر سالانہ اربوں روپے کا پٹرول خرچ ہوتا ہے۔ اب نصف سے زائد گاڑیاں خاموشی سے سرکاری اداروں کے احاطے میں کھڑی رہیں گی، لیکن ایک قباحت در آسکتی ہے۔ غیر استعمال شدہ گاڑیوں کو کچھ افراد اپنے استعمال کے لیے بھی لے کر جا سکتے ہیں۔ اس سے قبل بے شمار مثالیں ایسی ہیں کہ سرکاری گاڑیاں نجی استعمال میں نظر آتی رہی ہیں۔ اب اس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا کفایت شعاری کا مقصد فوت ہو جائے گا۔ پٹرول کی کھپت میں کفایت شعاری کی جا رہی ہے جب نجی استعمال میں اضافہ ہوگا تو ساتھ ہی ملک میں پٹرول کی کھپت میں بھی اضافہ ہوگا۔ پاکستان کے تجارتی خسارے میں سب سے اہم کردار تیل کی درآمد کا ہے کیونکہ صرف پٹرولیم مصنوعات ہی پاکستان کے درآمدی بل کا 30 فیصد سے زیادہ حصہ بن جاتی ہیں۔

کراچی کی بندرگاہ پر جب بھی کوئی تیل بردار جہاز لنگرانداز ہوتا ہے تو اس کے ساتھ صرف ایندھن نہیں آتا بلکہ ایک کمزور معیشت کی امیدیں اور خدشات بھی اس کے ساتھ بندھے چلے آتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے تیل محض توانائی کا ذریعہ نہیں بلکہ وفاقی بجٹ تجارتی خسارے درآمدات کی بڑھتی ہوئی ہولناکیوں کو کم یا زیادہ کرنے کا اہم ذریعہ اور غریب عوام کی زندگی پر اثر کرنے والی مہنگائی کو کم یا زیادہ کرنے کا ایک بنیادی عنصر ہے۔

جب تیل کی قیمت 60 سے 70 ڈالر فی بیرل تھی تو پاکستان اپنی ضرورت پر تیل کی درآمد کے لیے تقریباً 18 ارب ڈالر خرچ کرتا رہا ہے اور جب قیمت میں مسلسل اضافہ ہوگا تو معیشت پر شدید بوجھ پڑے گا۔ لہٰذا حکومت کا فیصلہ دو ماہ سے بھی زیادہ عرصے کا ہونا چاہیے۔ بشرطیکہ دیگر عوامل کو مدنظر رکھ کر فیصلے کی سختی میں کمی یا بیشی کی جا سکتی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کی لہروں نے ہمیں سکھا دیا ہے کہ معیشت کی بہتری کے لیے درآمدات کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے اور فضول سرکاری پٹرول کے خرچے کو کم کرنے کے لیے پٹرول آدھا کرنا ہوگا۔

(جاری ہے)





Source link

Continue Reading

Today News

ریاستی ڈھانچے کی تنظیمِ نو کی اشد ضرورت

Published

on


اس ملک کی تاریخ میں تین وزرائے اعظم ایسے اقتدار میں آئے جو حقیقی طور پر سادگی کا نمونہ تھے۔ ان میں سے ایک پیپلز پارٹی کے رہنما ملک معراج خالد تھے جب کہ دوسرے پیر پگارا کے نامزد کردہ محمد خان جونیجو تھے اور تیسرے عبوری وزیر اعظم ڈاکٹر معین قریشی تھے۔ جب سابق صدر فاروق لغاری نے اپنی پیپلز پارٹی کی تیسری حکومت کو برطرف کیا تو پیپلز پارٹی کے منحرف رہنما ملک معراج خالد کو عبوری وزیر اعظم بنایا گیا۔ ملک معراج خالد نے وزیر اعظم ہاؤس سے کچھ نہ لیا ۔اپنا پروٹوکول محدود کردیا، نہ اپنے کسی چہیتے کارکن کو پلاٹ الاٹ کیا۔ملک معراج خالد کیونکہ عبوری وزیر اعظم تھے اس بناء پر وہ نظامِ حکومت کو سادہ کرنے کے لیے کچھ نہ کرسکے۔

جب مسلم لیگ کے صدر اور پہلی دفعہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہونے والے میاں نواز شریف اور اس وقت کے بیوروکریٹ صدر غلام اسحاق خان کے درمیان جھگڑا بڑھ گیا اور غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی حکومت کو برطرف کردیا مگر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے میاں نواز شریف کی حکومت کو بحال کردیا تھا مگر میاں نواز شریف دوبارہ وزیر اعظم بنے تو پھر ان کا غلام اسحاق خان سے جھگڑا اس حد تک بڑھا کہ اس وقت نواز شریف اورغلام اسحاق خان دونوں کو اقتدار چھوڑنا پڑا اور سنگاپور میں مقیم ڈاکٹر معین قریشی کوعبوری وزیر اعظم کا عہدہ سونپ دیا گیا۔

ڈاکٹر معین قریشی نے پہلی دفعہ یہ شرط عائد کی کہ انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار کے بینکوں کے قرضوں کی ادائیگی کی دستاویز، تمام یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی کے علاوہ سرکاری رہائشی سہولتیں اختیار کرنے والے افراد کا ان سہولتوں کے چارجز ادا کرنا لازمی ہوگا، یوں بہت سے افراد اس شرط پر پورے نہیں اترے اور خاصی تعداد میں لوگوں نے سرکاری اخراجات ادا کیے۔ ڈاکٹر معین قریشی نے کسی فرد کو پلاٹ نہیں دیا۔ انھوں نے پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کو آزاد ادارہ بنانے کے لیے قانونی ضروریات پوری کیں مگر محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں اقتدار میں آنے والی پیپلز پارٹی کی حکومت نے ڈاکٹر معین قریشی کی اصلاحات کو رول بیک کردیا۔

 جنرل ضیاء الحق نے ایم آر ڈی کی تحریک کے بعد ملکی اور عالمی دباؤ پر ملک میں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرائے اور جنرل ضیاء الحق نے مسلم لیگ فنکشنل کے صدر پیر پگارا کے نامزد کردہ محمد خان جونیجو کو وزیر اعظم مقرر کیا۔ اگرچہ محمد خان جونیجو سیاسی طور پر ایک کمزور وزیر اعظم تھے مگر انھوں نے سب سے پہلے سیاسی جماعتوں کو بحال کیا اور تاریخ میں پہلی دفعہ سادگی اور سرکاری اخراجات میں زبردست کمی کا اعلان کیا۔ محمد خان جونیجو نے فیصلہ کیا کہ وزیر اعظم، وفاقی وزراء، وزراء اعلیٰ اور تمام سول و غیر سول سرکاری ملازمین کی بڑی گاڑیاں نیلام کردی جائیں گی اور تمام افراد چھوٹی گاڑیوں میں سفر کریں گے۔ حکومتی فیصلے کے تحت بڑی گاڑیوں کو سرکاری پول میں جمع کیا گیا، یوں ہزاروں گاڑیاں اس پول میں جمع ہوگئیں۔ جنرل ضیاء الحق نے کچھ عرصے بعد محمد خان جونیجو کی حکومت کو برطرف کردیا، نئے انتخابات ہوئے۔ پہلے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتیں بنیں۔ ہر حکومت نے کفایت شعاری کا نعرہ تو لگایا مگر عملی طور پر تمام ریاستی اداروں کے اخراجات بڑھتے چلے گئے۔

 جب 2002 میں نیویارک میں ٹوئن ٹاورز کو طیاروں کے حملے میں تباہ کیا گیا، یہ کارنامہ افغانستان میں مقیم سعودی منحرف اسامہ بن لادن کے حصے میں آیا ، تو امریکا نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ کابل پر حملہ کیا، یوں War on terror شروع ہوئی۔ پاکستان اس ’مقدس‘ جنگ کا حصہ بنا۔ امریکا اور اتحادیوں نے جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار کی طرح اربوں ڈالر بطور امداد لیے جس کا فائدہ سول و غیر سول بیوروکریسی کو ہوا، اور ان کا سائز بڑھتا چلا گیا۔

آئین میں کی گئی 18ویں ترمیم کے بعد قومی مالیاتی ایوارڈ کا فارمولہ تبدیل ہوا۔ صوبوں کی آمدنی میں کئی سو گنا اضافہ ہوا۔ اس اضافی رقم کا کچھ حصہ تو ترقیاتی کاموں پر صرف ہوا جب کہ باقی حصہ کہاںخرچ ہوا تمام صوبوںکے ترجمان اس سوال کا مختلف جواب دیتے ہیں۔ پاکستان کی معیشت ہمیشہ آئی سی یو میں رہی ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کی امداد سے ملک کی معیشت کا پہیہ چلتا ہے۔

 جب بھی کوئی عالمی تنازع ہوتا ہے تو سب سے پہلے پاکستان پر اس کے اثرات پڑتے ہیں۔ امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔ ایران نے زبردست مزاحمت کی۔ اس تنازع میں آبنائے ہرمز میں جہازرانی مشکل ہوئی۔ خلیجی ممالک میں تیل کی پیداوار رک گئی۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے لگیں۔ پاکستان نے پیٹرول کی قیمت بڑھا کر 322 روپے فی لیٹر کردی جب کہ ڈیزل کی قیمت 335.86 روپے فی لیٹر اور مٹی کے تیل کی قیمت 318.81 کردی گئی۔

البتہ بھارت کی حکومت نے پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا۔ وہاں مختلف شہروں میں پیٹرول 103.94 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 90.74 روپے فی لیٹر دستیاب ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش میں ڈیزل فی لیٹر 100 ٹکا، پیٹرول فی لیٹر 116 ٹکا اور کروسین آئل فی لیٹر 112 ٹکا پر دستیاب ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش کی کرنسی کی ویلیو پاکستان کی کرنسی سے زیادہ ہے۔ بنگلہ دیش نے پیٹرول کی راشننگ کا فیصلہ کیا۔ صدر ٹرمپ ہر ہفتے پاکستانی قیادت کے گن گاتے ہیں مگر امریکا نے بھارت کو روس سے تیل خریدنے کی خصوصی اجازت دیدی۔ بنگلہ دیش کے نئے وزیر اعظم طارق رحمن نے اپنا عہدہ سنبھالتے ہی فیصلہ کیا کہ وہ اپنی ذاتی کار میں سفر کریں گے اور اپنا پروٹوکول مختصر کردیا۔ حکومت پر یہ تنقید ہوئی کہ جب حکومت کے پاس 28 دن کا پیٹرول موجود تھا تو ابھی سے اس اضافے کی کیا ضرورت تھی؟ تو اس کا کوئی خاطرخواہ جواب نہیں آیا۔ مگر یہ اعداد و شمار وائرل ہوئے کہ اچانک پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ سے پیٹرول پمپ مالکان، ڈیلرز اور تیل فراہم کرنے والی کمپنیوں کو کروڑوں روپے مل گئے۔

اس کے ساتھ سازشی تھیوریاں بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے لگیں۔ ان سازشی تھیوریز کی اگرچہ کوئی حقیقت نہیں مگر غریب آدمی جس پر پیٹرول کا بم گرا ہے اپنے ناگفتہ بہ حالات کی بناء پر اس سازشی تھوریز پر یقین کرنے پر مجبور ہوئے، یوں عام آدمی اور حکومت میں فاصلے بڑھ گئے۔ عجیب حیرت کی بات ہے کہ جب وزیر خزانہ نے پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا تو حکومت نے سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے باقاعدہ طور پر کوئی اعلان نہیں کیا۔ خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ نے جب یہ اعلان کیا کہ ہر رجسٹرڈ موٹرسائیکل سوار کو 2 ہزار 200 روپے دیے جائیں گے تو وفاق ، پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے مختلف اعلانات کیے۔پیٹرول ملک میں بہت کم پیدا ہوتا ہے اور پیٹرول کی بیشتر مقدار درآمد ہوتی ہے۔ پاکستان سعودی عرب، خلیجی ممالک کے علاوہ ایران سے بھی تیل خریدتا تھا۔ پھر پیٹرولیم کے وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کی کوششوں سے روس سے بھی تیل منگوایا گیا۔ امریکا نے روس سے تیل منگوانے پر سخت اعتراض کیا۔ پاکستان کو پہلی دفعہ امریکا سے تیل خریدنا پڑا جس کی بناء پر ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بڑھ گئے۔

خارجہ تعلقات کے طالب علموں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے صدر ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کیا مگر پاکستان امریکا کو اس بات پر آمادہ نہ کرسکا کہ امریکا تیل رعایتی قیمتوں پر فراہم کرے۔ یہی صورتحال گلف اور سعودی عرب سے درآمد ہونے والے تیل کے بارے میں ہے۔ میڈیا کے امور پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر سعید عثمانی کاکہنا ہے کہ ہمارے حکمران اور وزرا مہینہ میں 20 سے 25 دن مختلف ممالک کے کامیاب دورہ پر ہوتے ہیں مگر پھر بھی پاکستان کو کہیں سے بھی ریلیف نہیں ملتا۔ وزیر اعظم نے پیٹرول کی بچت کے لیے جو اعلانات کیے ہیں وہ قابلِ ستائش ہیں مگر ان اعلانات سے عام آدمی کا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ اس پیٹرول بم کے متوسط اور نچلے متوسط طبقے پر گہرے اثرات رونما ہونگے۔ ڈاکٹر فاروق ستار کی یہ بات درست ہے کہ اس فیصلے سے غربت بڑھے گی اور لوگ خودکشیوں پر آمادہ ہونگے۔ اس کے علاوہ ملک میں جرائم میں اضافہ ہوگا۔ مسئلہ کا حل ریاست کے پورے نظام کی ازسرِنو تنظیمِ نو میں مضمر ہے۔ حکمران طبقہ اپنی ذاتی زندگیوں میں جب سادگی کو اپنالے گا تو عوام بھی اس بارے میں سوچنے پر مجبور ہونگے۔





Source link

Continue Reading

Today News

پاکستان میں پھل وسبزی کی سپلائی چین میں ٹیکنالوجی محدود

Published

on



کراچی:

دنیا بھر میں روایتی منڈیوں کو بدل دینے والی ٹیکنالوجی پاکستان کی پھل اورسبزی کی سپلائی چین میں تاحال نمایاں تبدیلی نہ لاسکی۔

ماہرین کے مطابق ملک میں زرعی پیداوارکی تجارت اب بھی بڑی حد تک روایتی تھوک منڈیوں اور درمیانی افرادکے نظام کے گردگھومتی ہے۔ صنعتی مبصرین کاکہناہے کہ شہری علاقوں میں ڈیجیٹل مارکیٹ پلیس اورکوئک کامرس سروسز کے تیزی سے پھیلاؤکے باوجودفارم سے صارف تک رسائی کانظام بنیادی طور پر وہی پراناہے،جس میں کمیشن ایجنٹس یعنی آڑھتی قیمتوں اور سپلائی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

کاشتکار تنظیموں کے نمائندوں کے مطابق آن لائن پلیٹ فارمز ابھی تک پھل اور سبزی کی مجموعی تجارت کا بہت چھوٹاحصہ سنبھال رہے ہیں۔

صدرسندھ آبادگار بورڈمحمودنوازشاہ نے کہاہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز مجموعی پیداوارکاصرف دو سے تین فیصد تک ہی سنبھال سکتے ہیں،جبکہ باقی تجارت روایتی نظام کے تحت ہی ہوتی ہے، مارکیٹ کی موجودہ ساخت بھی تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ ہے،قانون کے تحت خرید وفروخت مخصوص سرکاری طور پر منظورشدہ منڈیوں، یعنی سبزی منڈیوں میں ہی کی جاسکتی ہے،جہاں مارکیٹ کمیٹیاں نظام کوکنٹرول کرتی ہیں، نظام میں آڑھتی مرکزی کرداررکھتے ہیں۔

پاکستان میں منڈیوں کاانفراسٹرکچر بھی آبادی کے مقابلے میں محدودہے،کراچی جیسے بڑی آبادی والے شہرمیں بنیادی طور پر صرف ایک بڑی تھوک سبزی و فروٹ منڈی موجودہے،محدود انفراسٹرکچر سے تجارت چندہاتھوں میں مرتکز ہوجاتی ہے۔

ٹیکنالوجی کمپنیاں کہتی ہیں کہ ان کے پلیٹ فارمز طویل مدت میں متبادل نظام تیارکررہے ہیں، ڈیجیٹل مارکیٹ پلیس اورکوئک کامرس کمپنیاں براہ راست خریداری،کولڈچین لاجسٹکس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ضیاع کم کرنے اور معیار بہتر بنانے کادعویٰ کرتی ہیں۔

فوڈپانڈا پاکستان کے ڈائریکٹر سید طہٰ مغربی کے مطابق فارم سے صارف تک کے نظام کی پائیداری بڑی حد تک ضیاع کوکم کرنے پر منحصر ہے،سپلائی چین میں خراب ہونیوالی اشیا کم ہو جائیں تو اس سے کسانوں کو بہترقیمت اورصارفین کومناسب نرخ مل سکتے ہیں۔ 

ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کاحصہ ابھی بھی قومی سطح کی پیداوارکے مقابلے میں بہت کم ہے، پاکستان کے زرعی مارکیٹنگ نظام میں بنیادی اصلاحات، نجی شعبے کی شمولیت،بہترکولڈچین اورزرعی قرض تک آسان رسائی کے بغیرٹیکنالوجی کی بڑی تبدیلی ممکن نہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending