Connect with us

Today News

کراچی میں زہریلا چارہ کھانے سے کروڑوں روپے مالیت کے 38 مویشی ہلاک

Published

on



شہر قائد کے علاقے لانڈھی بابر مارکیٹ کیٹل کالونی میں 38 مویشی زہریلی فیڈ (بھوسی ٹکڑے) کھانے سے ہلاک ہوگئے۔

اس حوالے سے صدر ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان شاکر عمر گجر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق لانڈھی بابر مارکیٹ (کیٹل کالونی) میں ڈیری فارمر مبشر کے فارم پر زہریلی فیڈ (بھوسی ٹکڑے) کھانے سے 38 بھینسیں اور گائے ہلاک ہوگئیں۔

انہوں نے بتایا کہ  18 قیمتی بھینسیں اور گائے موقع پر ہلاک جبکہ 20 جانوروں کو ہنگامی طور پر ذبح کرنا پڑا اس کے علاوہ 22 مویشی اب بھی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

 صدر ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی پوری ذمہ داری محکمہ لائیو اسٹاک سندھ اور کے ایم سی ویٹرنری ڈپارٹمنٹ پر عائد ہوتی ہے اور ان کا کوئی نمائندہ اب تک فارم پر نہیں پہنچا۔

انھوں نے کہا کہ حکومت سندھ فوری طور پر پنجاب کی طرز پر فیڈ ملز کی لائسنسنگ کا نظام بنائے اور ٹوکسن (Toxin) کی چیکنگ کو لازمی قرار دے ، حکومت متاثرہ فارمر کے کروڑوں روپے کے نقصان کا فوری ازالہ کرے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

بچی نے پیسے جمع کرکے دکان خرید لی، اپنی ماں کو ہی ملازم رکھ لیا

Published

on



عام طور پر 12 سال کی عمر میں بچے کھیل کود اور تعلیم تک محدود ہوتے ہیں، لیکن چین کے ایک صوبے میں ایک کم عمر بچی نے اپنی سمجھداری اور کاروباری ذہن سے سب کو حیران کر دیا۔ 

لی یوئی نامی اس بچی نے اپنی جمع پونجی سے دکان خرید کر نہ صرف کاروبار شروع کیا بلکہ اپنی والدہ کو تنخواہ پر کام بھی دے دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وسطی چین کے صوبے جیانگشی سے تعلق رکھنے والی لی یوئی نے گزشتہ چند برسوں کے دوران چینی نئے سال پر ملنے والی رقم کو خرچ کرنے کے بجائے بچت میں تبدیل کیا۔ اس نے تقریباً 44 ہزار یوآن، یعنی پاکستانی کرنسی میں 17 لاکھ روپے سے زائد رقم جمع کی اور اسے کسی کاروبار میں لگانے کا فیصلہ کیا۔

بچی کا خیال تھا کہ بینک میں رقم رکھنے سے حاصل ہونے والا منافع بہت کم ہوتا ہے، اس لیے اس نے مختلف مواقع تلاش کرنے شروع کیے۔ اسی دوران اسے ایک اسٹیشنری شاپ فروخت کےلیے دستیاب نظر آئی، جسے اس نے خریدنے کا فیصلہ کرلیا، حالانکہ اس کی والدہ نے اسے ممکنہ نقصان سے خبردار بھی کیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق فروری میں چینی نئے سال کے موقع پر لی یوئی نے دکان کو نئے سامان سے بھر کر باقاعدہ کاروبار کا آغاز کیا۔ مارچ میں اسکول کھلنے کے بعد اس نے اپنی والدہ کو ماہانہ 3 ہزار یوآن تنخواہ پر ملازم رکھ لیا، جو اب روزمرہ کے امور سنبھالتی ہیں۔

بچی خود کاروبار کے اہم فیصلے کرتی ہے، سپلائرز سے بات چیت کرتی ہے، قیمتیں طے کرتی ہے اور حکمت عملی بناتی ہے۔ وہ روزانہ صبح دکان کھولتی ہے، سامان کا جائزہ لیتی ہے اور پھر اسکول چلی جاتی ہے۔ اسکول کے بعد وہ دکان پر آکر ہوم ورک بھی کرتی ہے اور شام ساڑھے آٹھ بجے تک اپنی والدہ کا ہاتھ بٹاتی ہے۔

لی یوئی نے جدید تقاضوں کو سمجھتے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹولز کا استعمال بھی خود سیکھ لیا ہے تاکہ کاروباری امور کو بہتر انداز میں چلا سکے۔ جب کچھ عرصہ قبل دکان کی آمدنی میں کمی آئی تو اس نے قیمتوں میں کمی کا فیصلہ کیا، جس کے بعد اشیا کی قیمتیں تقریباً 50 فیصد کم کرنے سے خریداروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔

اگرچہ بچی نے اپنی آمدنی کی مکمل تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم بتایا جاتا ہے کہ اس نے دکان پر لگائی گئی ابتدائی سرمایہ کاری واپس حاصل کرلی ہے۔ دوسری جانب اس کی والدہ کا کہنا ہے کہ اگر کسی مرحلے پر بیٹی کی تعلیم متاثر ہوئی تو وہ کاروبار فوری طور پر بند کردیں گی۔



Source link

Continue Reading

Today News

امریکا کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنے والے علی لاریجانی شہید کون تھے؟

Published

on


ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت میں سب سے نمایاں مقام رکھنے والے علی لاریجانی کو بے خوف نڈر اور بہادر رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد امریکا کو للکارنے والے علی لاریجانی کو اسرائیل نے ہٹ لسٹ میں سرفہرست رکھا ہوا تھا۔ اس کے باوجود غیور و دلیر رہنما عوامی مقامات پر بھی نظر آتے تھے۔

علی لاریجانی اسرائیلی و امریکی قتل کی دھمکیوں کے باوجود چند ہی روز قبل یوم القدس کی ریلی میں ہزاروں شرکا کے ہمراہ ہاتھ ملاتے اور سیلفیاں لیتے نظر آئے۔ وہ مطمئن، پُرعزم اور بے خوف تھے۔

علی لاریجانی سیاست کے میدان کے بھی شہہ سوار تھے۔ طویل عرصے تک پارلیمنٹ کے اسپیکر بھی رہے اور ساتھ ہی ایران کے جوہری مذاکرات اور قومی سلامتی کے معاملات میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی اسرائیلی اور امریکی حملے میں شہادت پر علی لاریجانی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے دشمنوں کو اس عمل پر پچھتانے پر مجبور کردیں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ علی لاریجانی کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا تھا۔ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق ان پر حملہ ایک دن پہلے ہونا تھا لیکن آخری لمحے میں اسے مؤخر کر دیا گیا۔

بعد ازاں ان کے ایک خفیہ ٹھکانے پر حملہ کیا گیا جہاں وہ مبینہ طور پر اپنے بیٹے کے ساتھ موجود تھے۔ تاہم ابتدائی اطلاعات میں ان کی ہلاکت یا زندہ بچ جانے کے بارے میں واضح تصدیق سامنے نہیں آئی۔

عراق میں پیدا ہوئے

علی لاریجانی 1958 میں عراق کے شہر نجف میں پیدا ہوئے۔ بعد میں وہ ایران منتقل ہوئے اور تہران میں تعلیم حاصل کی۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد انہوں نے ریاستی اداروں میں تیزی سے ترقی کی اور مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے۔

اہم سرکاری عہدوں پر فائز رہے

اپنے طویل سیاسی کیریئر کے دوران علی لاریجانی کئی اہم عہدوں پر رہے، وزیر ثقافت بنے، سرکاری نشریاتی ادارے کی سربراہی کی ، ایک دہائی تک پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے اور ایران کے چیف نیوکلیئر مذاکرات کار کی کلیدی ذمہ داری بھی نبھائی۔

بطور چیف نیوکلیئر مذاکرات کار 2005 سے 2007 کے دوران انھوں نے عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔

2015 کے جوہری معاہدے کی حمایت بھی کی جسے عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا گیا تھا۔

ایرانی قومی سلامتی کونسل میں اہم کردار

2025 میں انھیں دوبارہ ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل یعنی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکریٹری مقرر کیا گیا۔ اس عہدے کے بعد وہ جنگ کے دوران تہران کی قیادت میں مرکزی شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔

امریکا نے گرفتاری پر انعام بھی رکھا

امریکا نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک اعلیٰ شخصیات کے بارے میں معلومات دینے والوں کے لیے ایک کروڑ ڈالر تک انعام کا اعلان بھی کیا تھا، جس میں علی لاریجانی کا نام بھی شامل بتایا جاتا ہے۔

علی لاریجانی کے خاندان کی سیاسی اہمیت

علی لاریجانی کا خاندان بھی ایران کی سیاست میں خاص اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ ان کے بھائی صادق لاریجانی بھی اسلامی جمہوریہ کے اہم ترین عہدوں پر فائز رہے ہیں۔

صادق لاریجانی اس وقت مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ ہیں، جو ایران کا ایک اہم ادارہ ہے اور پارلیمنٹ اور آئینی نگران ادارے گارڈین کونسل کے درمیان اختلافات کی صورت میں آخری فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

ایران کی سیاست میں اہم کردار

تجزیہ کاروں کے مطابق علی لاریجانی کو ایران کے ان رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے جو ریاستی اداروں، پارلیمنٹ اور سکیورٹی ڈھانچے کے درمیان رابطے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں ایران کی پالیسی سازی کے اہم چہروں میں شامل کیا جاتا ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

ملائشیین فٹبال فیڈریشن کو جعلی دستاویزات پر کھلاڑیوں  کو کھلانا مہنگا پڑ گیا

Published

on



ملائشیین فٹبال فیڈریشن کو جعلی دستاویزات پر کھلاڑیوں  کو کھلانا مہنگا پڑ گیا۔

ایشین کوالیفائنگ راونڈ سے چھٹی کے ساتھ پچاس ہزار ڈالر جرمانہ بھی ہوگیا، ملائیشیا نے سات غیرملکی کھلاڑیوں کو جعلی دستاویزات بناکر شہریت دےکر ٹیم کا حصہ بنایا تھا۔

رپورٹس کے مطابق  ایشین فٹبال کیفیڈریشن  نے ملائشین فٹبال فیڈریشن کو اپنے فیصلے سےآگاہ کردیاہے جس کے تحت ملائیشیا نے اے ایف سی ڈسپلنری اور ایتھکس  رولز  چھپن کی خلاف ورزی کی ہے۔

اس بنا پر نیپال اور ویتنام کے خلاف اے ایف سی کوالیفائر میں جن میچز میں ملائیشیا نے کامیابی پائی تھی، اس کے نتائج کو بدل کر فیصلہ تین صفر سے  ویتنام اور نیپال کو فاتح قرار دے دیا گیاہے۔

میچز سے محروم کرنے کے ساتھ ملائیشیا کی فٹبال فیدریشن کو ایک لاکھ چھیانوے ہزار ایک سو ایک انیس ملائیشین رنگٹ جرمانہ بھی کیاگیاہے۔



Source link

Continue Reading

Trending