Today News
کراچی میں طبی فضلے کی غیر محفوظ تلفی سے خطرناک بیماریاں پھیلنے لگیں
کراچی:
اسپتالوں سے نکلنے والا 10 فیصد طبی فضلہ انتہائی خطرناک، ایک بستر سے یومیہ ڈھائی کلو طبی فضلہ نکلتا ہے جس میں ایک کلو انفیکشن پھیلانے والا فضلہ شامل ہوتا ہے۔
پاکستان کے کسی بھی سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے بستروں کے نکلنے والے طبی فضلے کے اعداد و شمار دستیاب ہی نہیں جس سے یہ معلوم کیا جاسکے کہ ایک مریض کے بستر سے یومیہ کتنا طبی فضلہ نکلتا ہے اور نکلنے والے طبی فضلے میں کتنے فیصد فضلہ انفیکیشن پھیلانے کا باعث بن رہا ہے اور انفیکشن پھیلانے والا طبی فضلہ یومیہ، ماہانہ کتنے فیصد صحت مند افراد کو متاثرکر رہا ہے۔
صوبائی محکمہ صحت اوربلدیہ عظمی کراچی کے ماتحت اسپتالوں میں ایسے اعداد و شمار ہی نہیں جبکہ انفیکیشن کنٹرول ڈیزیزکے ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ایک مریض کے بستر سے یومیہ ڈھائی سے تین کلوطبی فضلہ نکلتا ہے اس میں سے ایک کلوانفیکشن پھیلانے والا طبی فضلہ شامل ہوتا ہے جس میں مریض کا بلغم، استعمال شدہ سرنجز، استعمال شدہ ڈراپس سیٹ، کینولا، بلڈ بیگز، یورین کا فضلہ بھی شامل ہوتا ہے۔
کراچی کے 6 ضلعی اسپتالوں میں طبی فضلے کو سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے کے لئے کوئی انڈیکیٹر مشین سرے سے موجود ہی نہیں جبکہ اندرون سندھ صوبہ تمام سرکاری اسپتالوں سے نکلنے والاطبی فضلے کو سائنسی بنیادوں پر تلف کرنے کے لئے کوئی مشین دستیاب نہیں تاہم 2012 میں طبی فضلے کو تلف کرنے کیلیے پہلی بار ڈیپ ہیٹ اسٹیلائزیشن پلانٹ لگائے گئے تھے جو صرف 5 ٹیچنگ اسپتالوں کو فراہم کئے گئے تھے ان میں سے بیشتر غیر فعال ہوگئے تاہم سول اسپتال کراچی میں مکمل فعال ہے لیکن جناح اسپتال میں اس وقت خراب پڑا ہے جبکہ دیگر ٹیچنگ اسپتالوں کے ڈیپ پیٹ اسٹیلائزیشن بھی عدم توجہی کی وجہ سے غیر فعال پڑے ہیں۔
مریضوں کے بستروں کے نکلنے والے طبی فضلے کوڈیپ ہیٹ اسٹیلائزیشن پلانٹ میں ڈال کر ایک ہزار ڈگری سینٹی گریڈ پرتلف کیا جاتا ہے جس میں تمام اقسام کے بیکٹریا اوردیگرجراثیم تلف ہوجاتے ہیں جبکہ محکمہ صحت سندھ کراچی کے تمام ضلعی اسپتالوں میں طبی فضلے کو سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے کے کوئی انتظامات نہیں اسی طرح کے ایم سی کے ماتحت چلنے والے سرکاری اسپتالوں میں بھی اسی صورتحال کا سامنا ہے۔
ان اسپتالوں سے نکلنے والا طبی فضلہ کہاں جارہا ہے محکمے کے افسران اس بات سے لاعلم ہیں۔ معلوم ہوا ہے بعض اسپتالوں میں خاکروبوں کے ذریعے ایک منظم گروہ اس طبی فضلے کو اٹھواکر ری سائیکلینگ بھی کرایا جاتا ہے، اس وقت کراچی میں محکمہ صحت کے ماتحت چلنے والے اسپتالوں میں طبی فضلے کوسائنسی بنیادوں پر تلف کرنے کیلیے ڈیپ ہیٹ پلانٹ موجود ہی نہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ ان اسپتالوں کے بعض اہلکاروں کی مدد سے اسپتالوں سے نکلنے والے طبی فضلے کونامعلوم ٹھیکیداروں کے ذریعے نامعلوم افراد سے اٹھوایا جاتا ہے ہے اور نہ جانے اس فضلے کوکہاں پھینکا جاتا ہے اس غیر ذمہ داران اقدام سے طبی فضلے کوغیر سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے سے مختلف امراض جنم لیتے ہیں۔
دریں اثناء عالمی ادارہ صحت کے مطابق اسپتال کے ایک مریض کے ایک بستر سے 10 فیصد طبی فضلہ انتہائی خطرناک نکلتا ہے جومختلف انفیکیشن کا باعث بنتا ہے جبکہ باقی 90 فیصد فضلہ نارمل تصورکیاجاتا ہے،عالمی ادارہ صحت کی مطابق افر10فیصد انفیکیشن پھیلانے والے فضلے کو اگرسائنسی بنیادوں پر ٹھکانے نہ لگایا جائے تو پھر 100 فیصد طبی فضلہ انتہائی خطرناک ہوجاتا ہے۔
حکومت سندھ نے 2005 میں سرکاری، غیر سرکاری اسپتالوں، لیبارٹریوں اور ڈسپنسریوں سے نکلنے والے طبی فضلے کوسائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے کیلئے اسپتال ویسٹ مینجمنٹ رولز بنائے تھے، اسپتال ویسٹ مینجمنٹ رولز اور تحفظ ماحولیات ایکٹ 1997 ترمیم شدہ 2012 کے تحت محکمہ ماحولیات کے عملہ کو خصوصی اختیارات بھی دیے گئے تھے۔
ان رولزکے مطابق اسپتالوں سے نکلنے والے طبی فضلے کو سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے اور محفوظ و مناسب جگہوں پر ڈمپ کیا جائے لیکن یہاں صورتحال اس کے برعکس ہے، پاکستان میں قانون کے تحت اسپتالوں، دواخانوں، لیبارٹریوں، زچہ خانوں اوردیگر طبی خدمات فراہم کرنے والے ادارے ہرقسم کے مہلک، معتدی طبی مادوں کومجوزہ سائنسی طریقوں سے ٹھکانے لگانے کے پابند ہیں لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے، اسپتالوں کے طبی فضلے کوٹھکانے لگانے کیلیے حکومت نے ہاسپٹل منیجمینٹ گائیڈ لائنز بھی جاری کی ہیں تاہم اسے نظر انداز کیا جاتا ہے۔
اسپتالوں سے نکلنے والے کم اور چھوٹے طبی فضلے کو سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے کا دوسرا طریقہ آٹوکلیو ہے جس میں ایک خاص درجہ حرارت کے ساتھ نمی کے ذریعے طبی فضلے کے خطرناک جراثیم کوتلف کیا جاتا ہے، طبی فضلے کو مجوزہ طریقوں سے تلف کرنے کے بجائے عام گھریلو کوڑا کرکٹ کی طرح پھینکنے سے ماحولیاتی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا ہے اور معاشرے میں ایڈز، ہپاٹائٹس اور ٹائیفائیڈ جیسی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔
دنیا کے تمام ممالک اس مسائل سے دوچار ہیں مگرپاکستان میں یہ مسئلہ زیادہ گھمیر صورتحال اختیارکرچکا ہے۔ قواعد کے مطابق اسپتال میں ڈسپوزل ایبل استعمال ہونے والی اشیا کو سائنسی بنیادوں پر تلف کرنا ضروری ہے اور اسپتال کے ہر سیکشن میں انجکشن کٹرکا ہونا بھی لازم ہے لیکن لیبارٹریز اور بیشترپرائیویٹ اسپتالوں میں صورتحال مختلف ہے، پرائیویٹ اسپتالوں کاآلودہ ویسٹ تلف کرنے کے بجائے اس کوندی نالوں میں بہایاجارہا ہے جس سے آلودگی کے ساتھ ساتھ مضر صحت نقصانات بڑھ رہیں ہیں۔
واضع رہے کہ سرکاری اسپتالوں سے نکلنے والے طبی فضلے کو بیشتر سرکاری اسپتالوں میں غیر سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگایا جارہا ہے، بیشتر اسپتالوں میں کچرا جلانے والی انسیلئیٹر مشینین بھی ناکارہ پڑی ہیں جس کی وجہ سے ان سرکاری اسپتالوں سے نکلنے والا طبی فضلے کو منظم انداز میں مافیا فروخت کرنے میں مصروف ہے، اسپتالوں سے نکلنے والے طبی فضلے کو منظم انداز میں جمع کیا جاتا ہے اور اسپتالوں سے ٹرک کے ذریعے رات کے اوقات میں مخصوص مقامات پر لے جایا جاتا ہے جہاں تمام اسپتالوں کا طبی فضلہ جمع کیا جاتا ہے اور فروخت کیا جاتا ہے۔
پاکستان انفیکشن سوسائٹی کے سربراہ پروفیسر رفیق خانانی نے بتایا کہ طبی فضلے کو کھلے عام یا ابادی کے علاقوں میں پھینکنے یا جلانے سے مختلف انفیکشن کی وجہ جراثیم بھی جنم لیتے ہیں، پاکستان میں ایسی کوئی گائیڈ لائن نہیں جس سے اسپتالوں سے نکلنے والے طبی فضلے کے اعداد وشمار اکٹھے کیے جاسکیں۔ مریضوں کے بستر سے نکلنے والے طبی فضلے میں مختلف بیکٹریا اوروائرس موجود ہوتے ہیں۔
سندھ گورنمنٹ میرپور خاص کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ اور ماہر صحت ڈاکٹر پیر غلام نبی جیلانی شاہ نے بتایا کہ طبی فضلے کو سائنسی بنیادوں پر تلف کرنا لازمی ہوتا ہے۔ انفلوائینزا وائرس، ٹی بی کا جرثومہ، ہیپاٹائٹس بی، سی، ایچ آئی وی سمیت دیگر وائرس ایک سے دوسرے صحت مند افراد میں باآسانی منتقل ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، طبی فضلے کے نقصانات لاپرواہی کی وجہ سے سامنے آرہے ہیں اس کے لیے عوام اور اسپتالوں کے طبی عملے میں آگاہی ضروری ہے، طبی فضلے کو غیر سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے سے مختلف جراثیم اور وائرس ایک سے دوسری جگہ پھیلتے یا منتقل ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں عام کچرے اورطبی فضلے کو غیر سائنسی بنیادوں پر پھینکنے کی وجہ سے شہر میں مختلف امراض اور بیماریوں میں ہولناک اضافہ ہو رہا ہے، صوبائی محکمہ صحت میں 60 سال بعد بھی اسپتالوں سے طبی فضلے کے اعداد و شمار جمع کرنے کیلیے کوئی ادارہ ہے اور نہ ہی فوکل پرسن مقررکیا گیا۔
Today News
عراق میں تباہ ہونے والے فوجی طیارے میں سوار تمام 6 اہلکار ہلاک ہوگئے؛ امریکا کی تصدیق
امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ عراق کے مغربی علاقے میں کریش ہونے والے ری فیولنگ طیارے پر موجود تمام 6 اہلکار ہلاک ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک پوسٹ میں کہا کہ حادثے کے حالات کی تحقیقات جاری ہیں البتہ یہ بھی واضح کیا کہ طیارے کے گرنے کی وجہ حملہ نہیں تھا۔
خیال رہے کہ ابتدائی طور پر امریکی فوج نے طیارہ حادثے میں 4 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی جب کہ باقی 2 کے لیے ریسکیو آپریشن جاری تھا تاہم اب تمام 6 اہلکاوں کی ہلاکت کی تصدیق کردی گئی۔
سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ عملے کے ارکان کی شناخت ان کے اہل خانہ کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد جاری کی جائے گی۔
یاد رہے کہ ’’کے سی-135 ایک ری فیولنگ طیارہ ہے جو بنیادی طور پر دوسرے فوجی طیاروں کو فضائی ایندھن فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق یہ طیارہ مغربی عراق میں معمول کی ری فیولنگ آپریشن پر تھا، یعنی یہ کسی دوسرے طیارے کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے جا رہا تھا یا دوران پرواز ایندھن فراہم کر رہا تھا۔
تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ اس مخصوص پرواز میں کون سا طیارہ ری فیول ہو رہا تھا کیونکہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے صرف کہا کہ حادثہ دشمنانہ یا دوستانہ فائر کی وجہ سے نہیں ہوا اور تحقیقات جاری ہیں۔
Today News
لکی مروت میں ڈرون پروازیں پولیس نے ناکام بنا دیں، ملبہ گرنے سے دو افراد زخمی
معاون خصوصی اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے کوہاٹ میں ڈرون پروازوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس نے بروقت کارروائی کرکے ڈرون پروازوں کو ناکام بنا دیا تاہم ملبہ گرنے سے دو افراد زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
دفتر معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ حکومت خیبر پختونخوا سے جاری بیان کے مطابق شفیع جان نے کہا کہ کوہاٹ میں مشتبہ ڈرون پروازوں کی شدید مذمت کرتے ہیں جہاں پولیس کی خصوصی ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ ڈرون کو اینٹی ڈرون سسٹم کے ذریعے جام کر دیا۔
شفیع جان نے کہا کہ اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈرون کے سگنلز جام کیے گئے، موٹر بند ہونے سے ڈرون زمین پر گر گیا اور ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو افراد زخمی ہوئے، زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کی بروقت کارروائی جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کا ثبوت ہے، کوہاٹ سمیت پورے صوبے کے امن کو سبوتاژ کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے پولیس کے استعداد کار میں اضافے کے لیے 31 ارب روپے کے پیکج کی منظوری دی ہے، اب تک 7 ارب روپے سے زیادہ جدید اسلحہ، اینٹی ڈرون جیمنگ سسٹم اور جدید ٹیکنالوجی کی خریداری پر خرچ کیے گئے۔
شفیع جان نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے میں قیام امن کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
معاون خصوصی اطلاعات نے کہا کہ لکی مروت میں پولیس گاڑی کے قریب دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے واقعے کی رپورٹ آئی جی پولیس سے طلب کر لی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہدا کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں، انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
Today News
کوئٹہ: سرا غڑگئی کلی ملا خیل میں گھر پر مبینہ ڈرون حملہ، دو معصوم بچے زخمی
کوئٹہ کینٹ کے قریب مضافاتی علاقے سرا غڑگئی کلی ملا خیل محلہ کے ایک گھر پر نامعلوم ڈرون حملے کی اطلاع ہے جس کے نتیجے میں دو بچے زخمی ہو گئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق مذکورہ واقعہ شام کو پیش آیا جب ایک ڈرون گھر کی چھت پر گرا یا اس پر حملہ کیا گیا، دھماکے سے گھر کو جزوی نقصان پہنچا اور دو بچیاں بی بی آمنہ اور بی بی عالمہ زخمی ہوئیں۔
پولیس نے بتایا کہ زخمی بچوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ایکسپریس کو پولیس نے بتایا کہ زخمی بچوں کی حالت مستحکم ہے لیکن ابتدائی طور پر انہیں شدید زخم آئے ہیں، واقعے کی جگہ پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ٹیمیں پہنچ گئی ہیں اور علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
حکام نے بتایا کہ حملے کی نوعیت اور اس کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، ابھی تک کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ علاقہ مکینوں میں خوف و ہراس کی کیفیت پائی جا رہی ہے اور وہ سیکیورٹی اداروں سے فوری کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
Source link
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Entertainment2 weeks ago
Sidra Niazi Shares Details Of Her Marriage
-
Business2 weeks ago
With presidential ordinance set to lapse, Senate passes bill for regulating virtual assets
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Business2 weeks ago
Petrol, diesel prices likely to rise by Rs7 for next forthnight
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus