Connect with us

Today News

کراچی میں طوفانی بارش، بلدیاتی اداروں کی ناکامی

Published

on


کراچی میں ہلاکت خیز طوفان اور بارش سے 19 افراد جاں بحق ہوگئے، شاہراہ فیصل پر ہواؤں کی رفتار90 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی، شہر میں طوفان اور بارش کے بعد 645 فیڈرز متاثر ہوئے، جس کے باعث کراچی کے بیشتر علاقے رات گئے تک بجلی سے محروم رہے۔

کراچی ایک ایسا شہر ہے جو اپنی وسعت، آبادی اور معاشی اہمیت کے باعث ملک کا دل کہلاتا ہے، مگر ہر بارش اور ہر طوفان اس دل کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ شاہراہ فیصل پر 90 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں نے نہ صرف درخت اکھاڑے، بجلی کے کھمبے گرائے بلکہ شہری زندگی کے اس نظام کو بھی بے نقاب کر دیا جو پہلے ہی کمزور بنیادوں پر کھڑا ہے۔

یہ سوال اب پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آ رہا ہے کہ آخر ایک میگا سٹی، جو ملک کی معیشت کا انجن سمجھا جاتا ہے، وہ معمول کی بارش اور تیز ہواؤں کا مقابلہ کرنے سے کیوں قاصر ہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ اچانک ہوا؟ کیا انتظامیہ کو اس طوفان کی پیشگی اطلاع نہیں تھی؟ اگر تھی، تو پھر حفاظتی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟طوفان کے بعد 645 فیڈرز کا متاثر ہونا اور شہر کے بیشتر علاقوں کا رات گئے تک بجلی سے محروم رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بجلی کا نظام بھی کسی بڑے امتحان کے لیے تیار نہیں۔ اندھیرے میں ڈوبے ہوئے علاقے، بند ٹریفک سگنلز، اور سڑکوں پر جمع پانی ایک ایسا منظر پیش کرتے ہیں جو کسی ترقی پذیر نہیں بلکہ ایک بے یار و مددگار شہر کا عکاس ہے۔نالوں کی صفائی نہ ہونا، سیوریج کا نظام ناکارہ ہونا، سڑکوں کا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونا، اور غیر قانونی تعمیرات کا پھیلاؤ، یہ سب عوامل مل کر ایک ایسا بحران پیدا کرتے ہیں جو ہر بارش کے ساتھ شدت اختیار کر لیتا ہے۔ شہری انتظامیہ کی نااہلی کا ایک اور پہلو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔

کسی بھی بڑے شہر میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایک اہم جزو ہوتا ہے، مگر کراچی میں اس کا فقدان واضح نظر آتا ہے۔ نہ تو فوری ریسکیو کے مؤثر انتظامات ہیں، نہ ہی عوام کو بروقت آگاہی فراہم کرنے کا کوئی مربوط نظام۔ سوشل میڈیا اور نجی ذرائع کے ذریعے معلومات کا حصول ایک عارضی حل تو ہو سکتا ہے، مگر ایک منظم اور قابل اعتماد نظام کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے۔یہ سوال اب ناگزیر ہو چکا ہے کہ آخر کب تک کراچی کے شہری اسی طرح ہر بارش اور طوفان کے سامنے بے بس رہیں گے؟ کیا یہ شہر صرف ٹیکس دینے اور معیشت کو سہارا دینے کے لیے ہے یا اس کے شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا بھی ریاست کی ذمے داری ہے؟اس کے ساتھ ساتھ، شہری منصوبہ بندی کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔

غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور زمینوں کے استعمال کے قوانین پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نظام کو مضبوط بنایا جائے، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے، اور عوام کو بروقت آگاہی فراہم کرنے کے لیے ایک مؤثر نظام قائم کیا جائے۔کراچی کے شہریوں نے ہمیشہ مشکلات کا مقابلہ کیا ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ انھیں ہر بار آزمائش سے گزرنا پڑے۔ یہ شہر بہتری کا مستحق ہے، اس کے لوگ محفوظ زندگی کے حق دار ہیں، اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے گئے، تو آنے والا مون سون سیزن ایک بار پھر اسی تباہی کی داستان دہرائے گا اور شاید اس بار نقصان اس سے بھی زیادہ ہو۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پاکستان میں دہشت گردی کے لیے ٹھکانے فراہم کرنے پر افغان طالبان کیخلاف عوام کا شدید ردعمل

Published

on


پاکستان کے غیور عوام نے پاک فوج کیخلاف افغان طالبان رجیم کے گمراہ کن پروپیگنڈا کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

پاکستان کے شہریوں کا کہنا تھا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خاتمے یا حوالگی کے حوالے سے پاکستان کی ڈیمانڈ بالکل جائز ہے۔ افغان طالبان کی سرپرستی میں فتنہ الخوارج پاکستان میں معصوم شہریوں کو مساجد میں شہید کرتے ہیں۔ 

شہری کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کابل میں اسلحہ کے ڈیپو کو تباہ کیا یہی اسلحہ پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال ہوتا تھا، پاک فوج کا حق ہے کہ پاکستان کیخلاف دہشت گردوں کے ہاتھوں استعمال ہونے والے بارودی ڈیپو کو تباہ کرے۔ 

پاکستانی عوام نے کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ نہ دیں یا ہمارے حوالے کریں، افغان طالبان یہ نہیں کریں گے تو پاک فوج بھرپور کارروائی کرے گی۔ دہشت گردی کا فروغ کسی ملک کے مفاد میں نہیں ہے افغان طالبان کو چاہیے کہ امن کیلئے پاکستان کی شرائط پر عمل کرے۔

شہری نے کہا کہ افغان طالبان کو پتہ ہونا چاہیے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور ہم ہرگز کمزور ملک نہیں ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

کاسا۔1000منصوبے میں  پاکستان کی اہم اقتصادی کامیابی، 27 ملین ڈالر کی نمایاں بچت

Published

on



اسلام آباد:

کاسا۔1000 منصوبے میں پاکستان کو اہم اقتصادی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جس میں 27 ملین ڈالر کی نمایاں بچت ہوئی ہے۔

وزارت توانائی (پاور ڈویژن) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سویڈن میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے  مذاکرات میں پاکستان نے کاسا-1000 منصوبے کے کنٹریکٹر کے تخمینہ شدہ اخراجات میں کمی لا کر 27 ملین ڈالر سے زائد کی بچت کی ہے۔

بیان کے مطابق سویڈن میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کے مفادات کا مؤثر تحفظ کیا گیا۔ پہلے پاکستان کے لیے کیئر اینڈ کسٹڈی کی لاگت 32.9 ملین ڈالر تھی، اب یہ 9 ملین ڈالر ہو کر پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تقسیم ہوگی، جس سے پاکستان کو نمایاں مالی بچت حاصل ہوگی۔

افغانستان کی صورتحال کے باعث تاخیر کا شکار کاسا-1000 منصوبے کی نئی ٹائم لائن کے مطابق ایچ وی ڈی سی نظام کی تکمیل ستمبر 2027 تک متوقع ہے۔ حکام نے اہم تنصیبات کی عبوری حفاظت اور فعالیت برقرار رکھنے اور فروری 2028 تک توسیع پر اتفاق کیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں اور اضلاع میں جمعے کو عید منانے کا اعلان

Published

on



مرکزی اور مقامی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے باوجود خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں اور اضلاع میں 20 مارچ کو عید الفطر منانے کے اعلانات کردیے گئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق مرکزی اور مقامی رویت ہلال کمیٹی کی طرف سے عید الفطر 21 مارچ کو ہو جانے کے اعلان کے باوجود خیبر پختون کے بعض علاقوں اضلاع کی مساجد میں آج عید الفطر منانے کے اعلانات ہو گئے ہیں۔

جس کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع مردان اس کے متصل علاقوں، بنوں، باجوڑ اور پشاور کے حیات آباد، سفید سنگ میں جمعے کو عید منائی جائے گی۔

مرکزی اور مقامی کمیٹی کے اعلانات کے مطابق پشاور میں آج 30 واں روزہ مکمل ہو جائے گا۔

قبل ازیں مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے رات ساڑھے 8 بجے عید 21 مارچ بروز ہفتے کا اعلان کیا جبکے مقامی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس رات ساڑھے 10 بجے تک جاری رہا۔

مقامی کمیٹی کے اجلاس میں مختلف علاقوں سے چاند نظر آنے کی شہادتیں موصول ہوئی تھیں جس کا قائمقام چیئرمین کمیٹی مولانا خیرالبشر نے شہادتوں کا شرعی جائزہ لیا اور ان شہادتوں کو غیر شرعی قرار دیا۔

اس دوران مردان اور سے اس متصل علاقوں میں گواہوں کی روشنی میں عید الفطر کا اعلان کیا گیا۔اس کے ساتھ پشاور ہی کے بعض مضافاتی علاقوں میں بھی چاند کی رویت کا اعلان مقامی مسجد کی جانب سے کردیا گیا۔

واضح رہے کہ پشاور کے جن علاقوں میں عید اور روزہ سعودی عرب کیساتھ ہوتا ہے وہاں پر چاند کا اعلان کیا گیا ہے۔

 

 



Source link

Continue Reading

Trending