Today News
کراچی میں طوفانی بارش، مختلف حادثات میں ہلاکتوں پر وزیراعلیٰ نے فوری نوٹس لے لیا
کراچی:
کراچی میں طوفانی بارشوں اور تیز ہواؤں کے باعث پیش آنے والے افسوسناک حادثات میں بلدیہ ٹاؤن سیکٹر 11 میں عمارت گرنے اور مواچھ گوٹھ میں دیوار گرنے کے نتیجے میں اب تک 13 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کی ہدایت جاری کر دی۔
وزیراعلیٰ نے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن تیز کرنے اور زخمیوں کو فوری و بہترین طبی امداد فراہم کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار بھی کیا۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے مواچھ گوٹھ میں دیوار گرنے کے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک 13 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ ریسکیو اور ریلیف ادارے موقع پر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شہر بھر میں صفائی ستھرائی، نالوں کی صفائی اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
شرجیل میمن کے مطابق بعض علاقوں میں درخت اور بجلی کے پول گرنے کے باعث بجلی کی بندش نے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیدا کیں، تاہم متعلقہ ادارے صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔
دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب بلدیہ مدینہ کالونی مواچھ گوٹھ پہنچے جہاں انہوں نے جائے حادثہ کا معائنہ کیا اور حکام سے بریفنگ لی۔
اس موقع پر انہوں نے ریسکیو اداروں کو امدادی کارروائیاں مزید تیز کرنے اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی اور تمام متعلقہ ادارے امدادی کارروائیوں میں مکمل تعاون فراہم کر رہے ہیں اور متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
ادھر اپوزیشن لیڈر سندھ علی خورشیدی نے بھی شدید بارشوں کے باعث ہونے والے جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مزید تیز کی جائیں اور زخمیوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
Today News
سوشل میڈیا کا دور، عید کارڈز کا برسوں پرانا رواج ختم
لاہور:
جدید ٹیکنالوجی اورسوشل میڈیا کی گہماگہمی سے دلکش اور دل کوچھو جانے والی شاعری سے مزین عید کارڈز کا برسوں پرانا رواج دم توڑ گیا۔
کچھ عرصہ قبل جب سوشل میڈیا کا دور نہیں تھا تو رمضان المبارک شروع ہوتے ہی دکانوں، بازاروں اور جگہ، جگہ عیدکارڈزکے اسٹالز سج جاتے تھے۔
لوگ عید کارڈز خرید کر ان پر محبت بھرے پیغامات اور شاعری تحریرکرتے اور انہیں ڈاک، خود یاکسی کے ذریعے اپنے دوستوں،عزیز و اقارب کو بھیجتے تھے۔
ڈاک خانوں پر عید کارڈزکی بکنگ عید سے تقریباً ایک ہفتہ قبل بند کردی جاتی تھی، تاکہ کارڈز بروقت منزل تک پہنچ سکیں۔
عیدکارڈ موصول ہونے پر لوگوں کی خوشی دوبالاہوجاتی تھی اور وہ اسے یادگارکے طور پر سنبھال کر بھی رکھتے تھے۔
اب واٹس ایپ، ایس ایم ایس، فیس بک اوردیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے عید کی مبارکباد چند لمحوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتی ہے۔
پوسٹ ماسٹر جنرل سینٹر پنجاب ضیاء اللہ کاکہناہے کہ ایک دور تھاکہ رمضان شروع ہوتے ہی پوسٹ آفس میں تھیلوں کے تھیلے صرف عید کارڈز کے ہوتے تھے۔
Today News
وائب کوڈنگ کا پھیلاؤ، آئی ٹی سیکٹر کیلیے نیا سائبر خطرہ
کراچی:
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردارکیاہے کہ ”وائب کوڈنگ “کابڑھتا رجحان آئی ٹی سیکٹرکے لیے نیاسائبرخطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔
وائب کوڈنگ“میں صارفین صرف تحریری ہدایات دے کر مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایپلی کیشنز تیارکرتے ہیں، جوپاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے آئی ٹی اور فری لانس سیکٹرکیلیے نئے خطرات پیداکررہاہے۔
سائبر سیکیورٹی ریسرچر اعتزاز محسن کے مطابق جدید”ایجنٹک “اے آئی سسٹمزنہ صرف خود کوڈ لکھ سکتے ہیں، بلکہ اسے تبدیل اور اجرابھی کرسکتے ہیں،جس سے سیکیورٹی کے روایتی خطرات مزید پیچیدہ ہوگئے ہیں۔
اگر ان پلیٹ فارمز میں خامیاں موجودہوں تو وہ”زیروکلک “حملوں کاذریعہ بن سکتی ہیں،جہاں صارف کی کسی کارروائی کے بغیر ہی سسٹم ہیک ہوسکتاہے۔
پاکستان، جودنیاکی بڑی فری لانس مارکیٹس میں شامل اپ ورک اور فیوور جیسے پلیٹ فارمز پر کام کرنیوالے ڈیولپرز تیزی سے اے آئی کوڈنگ ٹولز اپنارہے ہیں۔
مالی سال 2025-26 کے پہلے نصف میں پاکستانی فری لانسرز نے 500 ملین ڈالرسے زائدزرمبادلہ کمایا،جس میں ان ٹولز نے اہم کرداراداکیا۔
ای سافٹ حب کے شریک بانی ثوبان حنیف کے مطابق وائب کوڈنگ ایک ایساطریقہ ہے،جس میں صارف عام زبان میں ہدایات دے کر اے آئی سے مکمل ایپلی کیشن تیارکرواسکتاہے، تاہم انہوں نے خبردارکیاکہ اس عمل میں ”پرومپٹ انجیکشن“ اورنقصاندہ سافٹ ویئرکے خودکار اجراجیسے خطرات بھی شامل ہیں،جس سے غیرمجازرسائی ممکن ہوسکتی ہے۔
اعتزاز محسن کاکہناتھاکہ مسئلہ صرف اے آئی ماڈلز تک محدودنہیں، بلکہ ان پلیٹ فارمزکے بنیادی ڈھانچے میں موجودکمزوریاں بھی بڑاخطرہ ہیں،اگر ایک ڈیولپرزکاسسٹم متاثر ہوجائے تووہ بیک وقت کئی بین الاقوامی کلائنٹس کے ڈیٹاکوخطرے میں ڈال سکتاہے،جو ٹیکنالوجی پہلے صرف ریاستی سطح پر استعمال ہوتی تھی،اب عام سطح پر دستیاب ہورہی ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں اے آئی سے جڑے نئے خطرات کیلیے مناسب حکمت عملی موجودنہیں،پی ٹی اے کی موجودہ پالیسیوں میں بھی اے آئی ڈویلپمنٹ پلیٹ فارمزکیلیے واضح رہنمااصولوں کافقدان ہے۔
ماہرین نے حکومت اورآئی ٹی اداروں پر زوردیاہے کہ وہ جلد اے آئی سیکیورٹی سے متعلق قوانین اور حفاظتی اقدامات متعارف کروائیں، تاکہ آئی ٹی ایکسپورٹ سیکٹرکوممکنہ نقصانات سے بچایاجاسکے۔
Today News
مکران کی نسیمہ کریم بلوچ کمرشل پائلٹ بننے کے لیے تیار
کراچی:
بلوچستان کے ساحلی علاقے مکران کی نسیمہ کریم بلوچ کی ساحل سے آسمان کی بلندیوں تک اڑان، کمرشل پائلٹ بننے کا خواب کچھ دوری پررہ گیا.
صنف نازک ہونے کے باوجود مردوں کیلیے مخصوص سمجھے جانیوالے شعبہ ہوابازی میں قدم رکھا،نسیمہ اپنی فلائنگ ٹریننگ کے 130 گھنٹے مکمل کر چکی ہیں، 200 فلائنگ آورزمکمل کرنے کے بعد وہ باقاعدہ طورپرکمرشل پائلٹ بن جائیں گی.
نسیمہ سیمو لیٹر اور ابتدائی گھنٹوں کی اڑان کے بعد پرائیوٹ پائلٹ لائسنس(پی پی ایل)حاصل کرچکی ہیں، اگلے مرحلے میں کمرشل پائلٹ لائسنس(سی پی ایل)کاامتحان دینگی۔
بلوچستان کے دورافتادہ ساحلی علاقے سے تعلق رکھنے والی باہمت اورباصلاحیت نوجوان لڑکی نسیمہ کریم بلوچ اپنے عزم اورہمت کی بدولت وہ مقام حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکی ہیں، جس کے بارے میں شاید خواب وخیال میں بھی نہیں سوچا جاتا ہو گا.
نسیمہ بلوچ کے مطابق ابتدائی فلائنگ گھنٹوں کی تکمیل اورامتحان کے وہ پرائیوٹ پائلٹ لائسنس حاصل کرچکی ہیں، حالیہ فلائنگ کمرشل پائلٹ لائسنس کے حصول کیلیے ہیں،جس میں سے130گھنٹے مکمل ہوچکے ہیں۔
نسیمہ بلوچ کے مطابق ان کا تعلق بھی پاکستان کے ان پسماندہ ترین علاقوں میں شامل مقام سے ہے،جہاں خواہش کے مطابق عملی طورپربڑھناجوئے شیرلانے کے مترادف ہے.
مگران کی خوش قسمتی کہہ لیں کہ ابتدائی اوربیشتر تعلیم متحدہ عرب امارات میں ہوئی،جس کی وجہ سے کئی مراحل بہت زیادہ پیچیدہ نہیں رہے،وہ اس لحاظ سے بہت زیادہ خوش قسمت رہیں کہ انھیں نہ صرف گھروالوں اورپورے خاندان کی بھرپورسپورٹ ملی۔
ان کا کہنا ہے کہ اسے آسمان کی بلندیوں پراڑنے والے پرندوں سے خصوصی شغف رہا۔ ماہرین ہوابازی کے مطابق پاکستان میں عموماہوابازی کے شعبے میں خواتین کارحجان بہت زیادہ نہیں ،تاہم نسیمہ یاان جیسی دیگرخواتین کاشعبے کوچنناخوش آئندہے۔
-
Magazines2 weeks ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Today News2 weeks ago
prime minister contact Lebanon counterpart solidarity against israeli aggression
-
Entertainment2 weeks ago
Muneeb Butt Reveals Reason Of Blessings in His Income
-
Magazines5 days ago
Story time: The price of a typo
-
Sports2 weeks ago
‘There will be nerves’: India face New Zealand for T20 World Cup glory – Sport