Connect with us

Today News

کراچی میں پہلی بارش ہی قیامت بن گئی، شوبز شخصیات کا شدید ردعمل

Published

on



پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں مون سون کی پہلی ہی بارش نے تباہی کے مناظر دکھا دیے، جس کے بعد نہ صرف شہری بلکہ شوبز شخصیات بھی شدید متاثر ہوئیں اور سوشل میڈیا پر اپنے تاثرات کا اظہار کرنے لگیں۔

رپورٹس کے مطابق ملک کے مختلف حصوں، خصوصاً اسلام آباد اور پنجاب کے کئی علاقوں میں گزشتہ چند دنوں سے بارش کا سلسلہ جاری تھا، تاہم کراچی میں گزشتہ رات ہونے والی گرج چمک کے ساتھ پہلی بارش نے سنگین صورتحال پیدا کر دی۔ اس ایک ہی بارش کے دوران مختلف حادثات میں 15 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے۔

شہر میں کمزور انفرااسٹرکچر ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا۔ چاند رات کے موقع پر لگایا گیا بڑا ایونٹ ’’کراچی کامنز‘‘ تیز آندھی اور بارش کے باعث مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جہاں کئی اسٹالز اور سجاوٹ کا سامان اڑ کر بکھر گیا۔

 

 

 

 

View this post on Instagram

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اسی طرح حیدری مارکیٹ سے بھی تباہی کی ویڈیوز سامنے آئیں، جہاں پانی جمع ہونے اور تیز ہواؤں نے معمولات زندگی درہم برہم کر دیے۔

 

 

 

 

View this post on Instagram

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اس ہنگامی صورتحال نے شوبز انڈسٹری کو بھی متاثر کیا۔ معروف اداکارہ ماہرہ خان اور اداکار فہد مصطفیٰ سمیت کئی فنکار کام سے واپسی کے دوران سڑکوں پر پھنس گئے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی مشکلات اور شہر کی خراب حالت پر تشویش کا اظہار کیا۔

 

 

 

 

View this post on Instagram

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

فنکاروں اور شہریوں کی جانب سے ایک بار پھر حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کراچی کے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے تاکہ ہر بارش کے بعد پیدا ہونے والی ایسی خطرناک صورتحال سے بچا جا سکے۔

 

 

 

 

View this post on Instagram

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

View this post on Instagram

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

View this post on Instagram

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پاکستان ایئرٹریفک کنٹرول نے 30 مسافر طیاروں کو وار زون میں داخل ہونے سے بچا لیا

Published

on


پاکستان ایئرٹریفک کنٹرول نے 30 مسافر طیاروں کو وار زون میں داخل ہونے سے بچا لیا۔

رپورٹ کے مطابق طیارے  خراب موسم کے باعث ایران کے وار زون ایئر اسپیس میں داخل ہونے کے قریب  پہنچ چکے تھے، ائیر ٹریفک کنٹرولر کی بروقت کارروائی سے بچ گئے، پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی زرائع کے مطابق 
ایئر ٹریفک کنٹرولر  کراچی ریجن کی بروقت مختلف ائیر لائنز کے طیاروں  کی رہنمائی سے بڑے حادثے سے بچالیا۔

ایران کے بارڈر کے انتہائی قریب بیشتر طیارے موسم کی خرابی کی زد میں آگئے تھے ایئر ٹریفک کنٹرولر کی پیشہ وارانہ مہارت اور حاضر دماغی سے طیاروں کو وار زون میں جانے سے بچایا گیا۔

اس سلسلے میں تہران ایئرٹریفک کنٹرول سے بارہا رابطوں  کے باوجود جواب نہیں ملا، ذرایع نے بتایا کہ سعودیہ عرب، دبئی اور دیگر ممالک سے آنیوالی اور جانے والی  پروازوں کو رہنمائی کرکے بڑے خطرے سے بچایا۔

ایئر ٹریفک کنٹرولر کراچی فلائٹ انفارمیشن ریجن نے جہازوں کی رہنمائی کی اور خراب موسم میں انھیں نکلنے میں مدد فراہم کی پاکستان کے سیکٹر ویسٹ قلات سے پنجگور گوادر کی طرف آتا ہے اس روٹ پر موسم انتہائی خراب ہوگیا تھاجہاز وں کا کنٹرول آوٹ ہورہا تھا اور وہ جہاز ایرانی ایئراسپیس کی طرف بھٹک رہے تھے جو کہ انتہائی خطرناک تھا

وار زون ہونے کی وجہ سے ایرانی اسپیس بند تھی، ایئر ٹریفک کنٹرولر نے بہت مہارت کے ساتھ ان جہازوں کو وہاں سے بچایا، مشرق کی جانب جہاز موسم کی خرابی کے باعث نہیں جاپارہے تھے پائلٹ کنٹرول ٹاور کو آگاہ کر رہے تھے کہ اس خراب موسم میں ہم نہیں جاسکتے۔

تمام جہاز پنجگور کی جانب جا کر موسم کی زد میں آرہے تھےکراچی فلائٹ انفارمیشن ریجن نے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے طیاروں  کو بڑے حادثے سے بچایا ہے اور طیاروں  کو وار زون میں داخل ہونے نہیں دیا طیاروں  کو رہنمائی کرتے ہوئے ان کو انکے روٹس پر واپس لایا گیا۔





Source link

Continue Reading

Today News

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث مہنگائی 12 فیصد تک جانے کا خدشہ

Published

on



مشرق وسطی کی صورت حال اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل کی سپلائی میں خلل سے پاکستان میں مہنگائی 12 فیصد تک جانے کا خدشہ ہے اور تیل کی ترسیل میں رکاوٹ سے قیمتیں فوراً بڑھ سکتی ہیں۔

حکام کے مطابق پاکستان انسٹیٹوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس( پائیڈ) نے آبنائے ہرمز کی بندش کے پاکستان کی معیشت پر ممکنہ اثرات سے متعلق اسٹڈی رپورٹ جاری کردی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ہرمز کے راستے 20 ملین بیرل تیل روزانہ گزرتا ہے، تیل کی ترسیل میں رکاوٹ سے قیمتیں فوراً بڑھ سکتی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس صورت میں پاکستان میں مہنگائی اور بیرونی کھاتہ متاثر ہوسکتا ہے، تیل کی سپلائی میں خلل سے مہنگائی 8.8 فیصد سے 12 فیصد تک جانے کا خدشہ ہے۔

پائیڈ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ 6 ماہ میں مہنگائی 8.8 فیصد، درمیانی شاک سے 10.4 فیصد تک جانے اور شدید شاک کی صورت میں مہنگائی 12 فیصد تک بھی جاسکتی ہے اور پاکستان کا تیل کی درآمدات کا ماہانہ بل 384 ملین تک بڑھ سکتا ہے، جس کی وجہ سے سالانہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس سے 4.6 ارب ڈالر خسارے میں جانے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان کی 22 فیصد درآمدات توانائی کی مصنوعات پر مبنی ہیں، شپنگ، انشورنس، روپے کی قدر میں کمی اور ٹیکسوں سے بھی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔

پائیڈ نے منفی اثرات سے بچنے کے لیے اپنی رپورٹ میں ہنگامی پالیسی اقدامات کی سفارش بھی کردی ہے، اسی طرح ٹرانسپورٹ، زراعت اور خوراک میں استعمال ہونے والا ڈیزل زیادہ اہم ہے پائیڈ نے فیول پرائسنگ خصوصاً ڈیزل کی نگرانی کی بھی سفارش کر دی ہے اور سپلائی چین میں بہتری سے ڈیزل پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو کی منتقلی سو فیصد اسکیننگ سے مشروط کردی گئی

Published

on



اسلام آباد:

حکومت نے بین الاقوامی تجارت کو شفاف، محفوظ اور موثر بنانے اور بے قاعدگیاں روکنے کے لیے کارگو کی تفصیلات میں ایچ ایس کوڈ، اشیا کی وضاحت اور مقدار کو لازمی قرار دے دیا ہے اور بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو کی منتقلی کو سو فیصد اسکیننگ سے شروط کردیا۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری کردہ بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ رولز میں مترامیم کے نفاذ کے نوٹی فکیشن میں بتایا گیا ہے کہ گراؤنڈ ہینڈلنگ ایجنٹس اور آف ڈاک ٹرمینلز کو بھی اس نظام میں باقاعدہ شامل کردیا گیا ہے، کارگو کی نقل و حرکت کے دوران کسٹمز سیل، اسکیننگ اور معائنے کے عمل کو مزید سخت کردیا ہے جبکہ سنگین خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ شپنگ لائن یا ایئرلائن کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جس کیلئے بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ رولز میں ترامیم کردی ہیں۔

نئے قواعد کے مطابق کنٹینرائزڈ اور ایل سی ایل کارگو کی ترسیل کے طریقہ کار میں تبدیلیاں کی گئی ہیں جس کے تحت مختلف آپریٹرز جیسے ٹرمینل آپریٹرز، آف ڈاک ٹرمینلز اور گراؤنڈ ہینڈلنگ ایجنٹس کے کردار کو واضح کیا گیا ہے اس کے علاوہ، کارگو کی نقل و حرکت کے دوران کسٹمز سیل، اسکیننگ اور معائنہ کے عمل کو مزید سخت بنایا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کو روکا جا سکے۔

ترامیم میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو کو 100 فیصد اسکیننگ کے بعد ہی منتقل کیا جائے گا اور اگر اسکیننگ کے دوران کسی قسم کا فرق پایا گیا تو مکمل جسمانی معائنہ کیا جائے گا سنگین خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ شپنگ لائن یا ایئرلائن کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی مزید یہ کہ کارگو کی حفاظت اور درست معلومات فراہم کرنے کی ذمہ داری شپنگ لائنز، ایئرلائنز اور متعلقہ آپریٹرز پر عائد کی گئی ہے کسی بھی قسم کی چوری، غلط بیانی یا رد و بدل کی صورت میں ڈیوٹی اور ٹیکس کی ادائیگی کے ساتھ دیگر قانونی ذمہ داریاں بھی انہی اداروں پر عائد ہوں گی۔

ایف بی آر نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر کسی آف ڈاک ٹرمینل یا گراؤنڈ ہینڈلنگ ایجنٹ کی کارکردگی میں خامیاں پائی گئیں یا وہ قواعد کی خلاف ورزی میں ملوث پایا گیا تو متعلقہ چیف کلیکٹر کو اختیار ہوگا کہ وہ ٹرانس شپمنٹ کارگو کی نقل و حرکت کو معطل کرسکے اس کے ساتھ ساتھ تمام متعلقہ اداروں کو ہر ماہ کارگو کی تفصیلی رپورٹ بھی جمع کروانا ہوگی۔

ایف بی آر کا کہا ہے کہ ان ترامیم کا مقصد بین الاقوامی تجارت کو شفاف، محفوظ اور موثر بنانا ہے تاکہ پاکستان کے کسٹمز نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔





Source link

Continue Reading

Trending