Today News
کراچی میں گل پلازہ ایک بار پھر سج گیا
گل پلازہ کے دکانداروں نے اپنی اپنی کاروباری اشیاء فروخت کے لیے پیش کردی ہیں جبکہ کراچی کے شہریوں نے بھی بڑی تعداد میں اس عارضی گل پلازہ مارکیٹ کا رخ کرلیا ہے۔
یہ مارکیٹ قیوم آباد اور ڈیفنس کے سنگم پر ایک بینکیوٹ میں لگائی گئی ہے اور اس کا اہتمام کراچی کی سطح پر کام کرنے والی نوجوانوں پر مشتمل ایک این جی او “ہمدرد ہاتھ” نے کیا ہے۔
اس موقع پر 140 کے قریب گل پلازہ کے دکانداروں نے اپنی اشیاء کے اسٹال لگائے ہیں جس میں “وال کلاک، کراکری، ہوم ڈیکوریشن، بیٹ شیٹ، بچوں کے کپڑوں اور کچن الیکٹرونک اپلائنسز سمیت بہت سی اشیاء کے اسٹال لگائے گئے ہیں۔
اس موقع پر شہر کے مختلف علاقوں سے فیمیلز یہاں خریداری کے لیے آرہی ہیں گلستان جوہر سے یہاں آئی ہوئی ایک خاتون نے ” ایکسپریس نیوز” سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ “وہ کئی کلومیٹر دور سے صرف اس لیے آئی ہیں کہ اس عید پر گل پلازہ متاثرین کی مدد کرسکیں ان سے تعاون کرسکیں اور اسی لیے وہ یہاں خریداری کررہی ہیں۔
اس موقع پر گل پلازہ کے متاثرہ دکانداروں کا کہنا تھا کہ ہمارے گزرے ہوئے رمضان تو اب واپس نہیں آسکتے نہ ہی ہماری کو فزیکل شاپ موجود یے ہم صرف آن لائن کام کررہے ہیں لیکن آن لائن کام کا اتنا ریسپانس نہیں ہے جو گل پلازہ کی مارکیٹ کا تھا لیکن ہم نے ہمت نہیں ہاری ہے۔
Today News
اسرائیل کا ایرانی صدر کے دفتر پر بڑا حملہ؛ متضاد اطلاعات
اسرائیلی فوج نے تہران میں واقع ایرانی صدر کے کمپاؤنڈ پر بڑا حملہ کردیا ہے جہاں مرکزی حکومت کے مرکزی دفاتر ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع سپریم لیڈر شپ کمپاؤنڈ پر فضائی حملے کیے جہاں صدارتی دفتر اور اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے عمارتیں موجود ہیں۔
اس حملے کا مقصد ایران کی اعلیٰ قیادت اور فیصلہ ساز اداروں کو براہِ راست نشانہ بنانا ہے۔ صدر ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران پر حملے کے مقاصد کے مکمل حصول میں 3 ہفتے لگ سکتے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حکومتی ترجمان نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہیں۔
بین الاقوامی برادری نے بھی اس معاملے کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے فریقین نے تشدد میں اضافے سے بچنے کی اپیل کی ہے۔
تاحال اسرائیل کے صدارتی دفتر پر حملے میں کسی قسم کے نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای اپنے اہل خانہ سمیت آرمی چیف اور دیگر اعلیٰ سیکیورٹی حکام کے ہمراہ میں شہید ہوگئے تھے۔
جس کے بعد ایران میں حکومتی امور ایک کونسل کے ذمے ہے جو نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک کام کرتی رہے گی۔
Today News
ایران؛ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد سپریم لیڈر کا انتخاب کیسے ہوگا؟
ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد یہ سوال پوری دنیا میں اٹھ رہا ہے کہ اب اس ملک کا نظامِ اقتدار کس کے پاس جائے گا؟
ایران کا سیاسی ڈھانچہ کسی عام آمریت یا موروثی بادشاہت کی طرح نہیں، بلکہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور ادارہ جاتی آئینی نظام ہے جو کسی بھی بڑے بحران کے لیے دہائیوں سے تیار کیا گیا ہے۔
ایران کے آئین کے مطابق، سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل مکمل طور پر “مجلسِ خبرگان” یعنی ‘اسمبلی آف ایکسپرٹس’ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ یہ مجلس 88 جید علمائے دین اور فقہا پر مشتمل ہوتی ہے، جن کا انتخاب ہر آٹھ سال بعد براہِ راست عوامی ووٹوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
مجلسِ خبرگان کا بنیادی کام ہی یہ ہے کہ وہ سپریم لیڈر کی وفات یا استعفے کی صورت میں نئے جانشین کا انتخاب کرے۔ جب تک یہ مجلس کسی ایک نام پر حتمی فیصلہ نہیں کر لیتی، ملک کا انتظام ایک عبوری کونسل کے سپرد کر دیا جاتا ہے، جس میں صدرِ مملکت، چیف جسٹس اور پارلیمنٹ کا اسپیکر شامل ہوتے ہیں۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ایران کا یہ نظام عوامی شرکت اور مذہبی اتھارٹی کا ایک انوکھا امتزاج ہے۔ ایران میں ٹرن آؤٹ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں عوامی شرکت عموماً 40 سے 70 فیصد کے درمیان رہی ہے، جو اس سیاسی ڈھانچے پر عوام کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
اس وقت جانشینی کے لیے چند بڑے نام زیرِ بحث ہیں: پہلے آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای، جو نظامِ حکومت میں گہرا اثر و رسوخ رکھتے ہیں، تاہم وراثتی جانشینی کی مخالفت ان کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے. دوسرے امام خمینی کے پوتے حسن خمینی۔ اسی طرح علی رضا عرفی جو ملک بھر کے مدارس کے ڈائریکٹر اور عبوری کونسل کے رکن ہیں، ایک مضبوط امیدوار کے طور پر ابھرے ہیں۔
تاہم، ایران کا آئین واضح ہے کہ نیا رہبر وہی بنے گا جس کے پاس بلند ترین مذہبی درجہ یعنی ‘مرجع’ کا مقام اور سیاسی بصیرت ہوگی۔
ایران کے اس نظام میں تین اہم ستون متوازی کام کرتے ہیں۔ پہلا عوامی ستون ہے جس میں پارلیمنٹ اور صدر شامل ہیں۔ دوسرا مذہبی ستون ہے جس کی سربراہی سپریم لیڈر کرتے ہیں، اور تیسرا دفاعی ستون ہے جس کی ذمہ داری پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے پاس ہے، جو نہ صرف ملک کا دفاع کرتی ہے بلکہ پورے خطے میں ایران کے نظریاتی اثر و رسوخ کی محافظ بھی ہے۔
یہی وہ ادارہ جاتی استحکام ہے جس کی وجہ سے قیادت کی اچانک تبدیلی کے باوجود ایران کے ریاستی ڈھانچے میں انتشار کا خطرہ کم سے کم رہتا ہے کیونکہ وہاں فیصلے افراد نہیں بلکہ ایک مکمل نظام کرتا ہے۔
Today News
ایرانی حملوں کے بعد عالمی شہرت یافتہ فٹبالر رونالڈو نے سعودی شہر ریاض چھوڑ دیا
ایرانی حملوں کے بعد عالمی شہرت یافتہ فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نجی طیارے کے ذریعے سعودی عرب کے شہر ریاض سے میڈرڈ روانہ ہوگئے۔
برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق رونالڈو کا نجی طیارہ رات آٹھ بجے ریاض سے روانہ ہوا اور تقریباً ایک بجے میڈرڈ پہنچ گیا۔ فلائٹ ٹریکر کے مطابق طیارہ مصر اور بحیرۂ روم کے اوپر سے گزرا۔
فٹ بال اسٹار کرسٹیانو رونالڈو کا نجی طیارہ پیر کی رات سعودی عرب سے میڈرڈ کے لیے روانہ ہوا کیونکہ ایشین فٹ بال کنفیڈریشن نے ایران جنگ شروع ہونے کے بعد خلیجی خطے میں ہونے والے آٹھ میچوں کو معطل کر دیا تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جس نجی طیارے کے ذریعے رونالڈو میڈرڈ گئے ہیں اسکی مالیت تقریباً 61 ملین پاؤنڈ ہے۔ رونالڈو ریاض میں اپنی اہلیہ اور پانچ بچوں کے ساتھ مقیم ہیں۔
تاہم برطانوی اخبار کے مطابق یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا ان کا خاندان بھی اس پرواز میں ان کے ہمراہ موجود تھا یا نہیں۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا
-
Today News2 weeks ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition