Today News
کراچی میں 11 مارچ سے 16 مارچ تک جان لیوا خونی حادثات میں 19 افراد زندگی سے محروم
کراچی:
شہر قائد میں ہیوی اور دیگر نامعلوم گاڑیوں سے بڑھتے ہوئے جان لیوا خونی حادثات میں 11 مارچ سے 16 مارچ تک 19 افراد زندگی سے محروم ہوگئے۔
جس کے بعد رواں سال ٹریفک کے جان لیوا ٹریفک حادثات میں زندگی سے محروم ہونے والوں کی مجموعی تعداد 225 ہوگئی جس میں 10 افراد ہیوی گاڑیوں کے بے رحم پہیوں سے کچلے گئے۔
حادثات میں خواتین ، بچے اور بچیاں بھی شامل ہیں ، ٹریفک پولیس افسران کی جانب سے ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کے دعوے تو ضرور سامنے آتے ہیں لیکن زمینی حقائق اس کے بلکل ہی برعکس دکھائی دیتے ہیں جس میں شہری ہیوی ٹریفک سمیت دیگر نامعلوم گاڑیوں کی ٹکر اور ان کے بے رحم پہیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔
رواں ماہ 11 مارچ کو چھیپا فاؤنڈیشن کے ترجمان چوہدری شاہد کی جانب سے شہر میں ٹریفک کے جان لیوا خونی حادثات کے اعداد و شمار جاری کیے گئے تھے جس میں شہر کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے دوران خواتین ، بچوں اور بچیوں سمیت مجموعی طور پر 206 افراد جاں بحق اور 2080 افراد زخمی ہوئے۔
جبکہ ہیوی گاڑیوں سے 67 افراد لقمہ اجل بنے تاہم 11 مارچ سے 16 مارچ (5) روز میں شہر میں جان لیوا خونی ٹریفک حادثات میں مزید 19 افراد زندگی سے محروم ہوگئے۔
ترجمان چھیپا فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال ٹریفک کے جان لیوا خونی حادثات میں 225 افراد زندگی سے محروم ہوگئے جس میں 162 مرد ، 31 خواتین ، 23 بچے اور 9 بچیاں شامل ہیں۔
جبکہ ٹریفک حادثات میں مجموعی طور پر 2 ہزار 254 افراد زخمی ہوئے جس میں 1768 مرد ، 363 خواتین ، 90 بچے اور 33 بچیاں شامل ہیں۔
ترجمان چھیپا فاؤنڈیشن کے مطابق رواں سال کے 75 روز میں اب تک ہیوی گاڑیوں کے جان لیوا خونی حادثات میں مجموعی طور پر 76 افراد لقمہ اجل بن گئے جس میں سب سے زیادہ 36 جان لیوا حادثات ٹریلر کی ٹکر سے پیش آئے۔
جبکہ واٹر ٹینکر سے 21 افراد ، بس کی ٹکر سے 8 افراد ، مزدا کی ٹکر سے 7 افراد جبکہ ڈمپر کی ٹکر سے 4 افراد زندگی سے محروم ہوگئے۔
ایک جانب ٹریفک پولیس کے افسران ٹریفک قوانین پر عملدر آمد کے دعوے کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں تو دوسری جانب زمینی حقائق ان کے دعوؤں کی نفی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
Today News
مالی سال کے 8 ماہ میں 700 ملین ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ
کراچی:
پاکستان کے بیرونی شعبے پر ایک بار پھر دباؤ کے آثار سامنے آئے ہیں، کیونکہ فروری میں بہتر کارکردگی کے باوجود مالی سال 2026 کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں چلا گیا، جو حالیہ معاشی استحکام کی کمزوری کو ظاہرکرتا ہے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیلنس آف پیمنٹس کے تازہ اعدادوشمارکے مطابق جولائی تا فروری 2026 کے دوران پاکستان کاکرنٹ اکاؤنٹ 700 ملین ڈالر خسارے میں رہا،جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 479 ملین ڈالرکاسرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا۔
تاہم فروری 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ میں 427 ملین ڈالرکاسرپلس ریکارڈکیاگیا،جو فروری 2025 کے 85 ملین ڈالر خسارے اور جنوری 2026 کے 68 ملین ڈالر سرپلس کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مارچ 2025 کے بعد سب سے بڑاماہانہ سرپلس ہے۔ اعداد وشمارکے مطابق پاکستان کے بیرونی کھاتے پر سب سے بڑادباؤاشیاء کی تجارت کے خسارے کی وجہ سے ہے۔
فروری میں تجارتی خسارہ بڑھ کر 2.67 ارب ڈالر تک پہنچ گیا،کیونکہ برآمدات 2.48 ارب ڈالررہیں، جبکہ درآمدات 5.15 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ جولائی تا فروری مالی سال 2026 کے دوران مجموعی تجارتی خسارہ بڑھ کر 21.08 ارب ڈالر ہوگیا،جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 16.49 ارب ڈالر تھا۔
اس عرصے میں برآمدات 20.74 ارب ڈالر رہیں،جبکہ ایک سال پہلے یہ 21.94 ارب ڈالر تھیں، دوسری جانب درآمدات بڑھ کر 41.82 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
جولائی تا فروری کے دوران ترسیلاتِ زر 26.49 ارب ڈالر رہیں، جو پاکستان کے بیرونی کھاتے کیلیے بڑاسہارا ثابت ہوئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ترسیلات نہ ہوتیں تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کہیں زیادہ ہوسکتا تھا، صرف ترسیلاتِ زر اور بیرونی قرضوں پر انحصار معیشت کے دیرپااستحکام کیلیے کافی نہیں، پاکستان کی برآمدات اب بھی زیادہ ترکم ویلیو ایڈڈ شعبوں خصوصاً ٹیکسٹائل تک محدود ہیں،جہاں علاقائی ممالک سے سخت مقابلہ ہے۔
اسی طرح پرائمری انکم اکاؤنٹ میں بھی دباؤ برقراررہا، جولائی تافروری کے دوران اس کھاتے میں 5.64 ارب ڈالرکاخسارہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے منافع کی منتقلی اور بیرونی قرضوں پر ادائیگیاں ہیں۔
مالیاتی کھاتے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی محدود رہی۔ معاشی ماہرین کے مطابق جب تک برآمدات میں تنوع، صنعتی پیداوار میں بہتری اور توانائی کے مؤثر استعمال کیلیے بنیادی اصلاحات نہیں کی جاتیں، پاکستان کا بیرونی کھاتہ عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور درآمدی دباؤ کے باعث غیر مستحکم ہی رہے گا۔
Today News
بادشاہی مسجد میں لیلتہ القدر کی روح پرور محفل، ملکی سلامتی اور امتِ مسلمہ کے لیے خصوصی دعائیں
لاہور:
بادشاہی مسجد میں لیلتہ القدر کی بابرکت رات کے موقع پر اجتماعی دعا کا روح پرور اہتمام کیا گیا جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور ملک و قوم کی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
تقریب میں صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امور شافع حسین نے خصوصی شرکت کی جبکہ مولانا عبد الخبیر آزاد، امام و خطیب بادشاہی مسجد نے اجتماعی دعا کروائی۔
اجتماعی دعا کے دوران پاکستان کی ترقی، امن و استحکام اور امتِ مسلمہ کے اتحاد و سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔
اس موقع پر ملک میں امن، خوشحالی اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے بھی دعا کی گئی۔
لیلتہ القدر کی بابرکت ساعتوں میں شہریوں کی بڑی تعداد نے تاریخی بادشاہی مسجد کا رخ کیا اور عبادات کے ساتھ اجتماعی دعا میں شرکت کی، جس سے مسجد کا ماحول انتہائی روحانی اور پُرکیف ہوگیا۔
Today News
کراچی میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کب ہو گی؟ محکمہ موسمیات نے بتا دیا
کراچی:
شہر قائد میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کے حوالے سے محمکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی سامنے آ گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری الرٹ کے مطابق بدھ کو شہر میں گرج چمک کے ساتھ بارش اورژالہ باری کا امکان ہے۔
پیشگوئی کے تحت مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ آج سے ملک کے مغربی علاقوں میں داخل ہوگا،جس کے اثرات سندھ کے مختلف اضلاع میں بھی محسوس کیے جائیں گے۔
اعلامیے کے مطابق جامشورو، حیدرآباد، ٹھٹھہ، سجاول، بدین، مٹیاری، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہیار، عمرکوٹ، تھرپارکر، سانگھڑ، میرپورخاص، نوشہروفیروز، شہید بینظیرآباد، دادو میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ بعض مقامات پر ژالہ باری کا بھی امکان ہے۔
اسی طرح لاڑکانہ، قمبر شہدادکوٹ، شکارپور، جیکب آباد، کشمور، گھوٹکی اور سکھر میں 18 اور 19 مارچ کے دوران وقفے وقفے سے آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اس دوران بعض علاقوں میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات بھی پیش آسکتے ہیں۔
کسانوں کو موجودہ موسمی صورتحال کے مطابق اپنی فصلوں کے تحفظ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق پیر کو شہر میں بلوچستان کی شمال مغربی سمت کی ہوائیں چلنے کے سبب گرم وخشک موسم ریکارڈ ہوا،دوپہر کے وقت گرم ہواوں کے تھپیڑے چلے،جس کے نتیجے میں گرمی محسوس کی گئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 17 فیصد رہا۔
-
Magazines1 week ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Sports2 weeks ago
Sadaf, Fatima star as Pakistan thrash South Africa for consolation victory – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Muneeb Butt Reveals Reason Of Blessings in His Income