Today News
کراچی میں 3 روز کے دوران اندھی گولیاں لگنے سے 9 افراد زخمی، 3 خواتین اور نوعمر لڑکا بھی شامل
شہر میں جاری اسلحے کے بے دریغ استعمال کا سلسلہ تھم نہ سکا اور 3 روز میں نامعلوم گولیاں لگنے سے 3 خواتین سمیت 9 افراد زخمی ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں پولیس کے دعوؤں کے باوجود اسلحے کے بے دریغ استعمال کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور تین روز میں 3 خواتین، نو عمر لڑکے سمیت 9 افراد زخمی ہوگئے،
پولیس افسران شہر میں جرائم کی کمی کا دعویٰ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں تو دوسری جانب شہر میں روز کی بنیاد پر اسلحے کے بے دریغ استعمال کا خمیازہ شہری سڑکوں اور گھروں میں نامعلوم سمت سے آنے والی گولیاں لگنے سے زخمی ہو کر برداشت کر رہے ہیں۔
زمان ٹاؤن کے علاقے کورنگی 5 نمبر غوث پاک روڈ ملک شاپ کے قریب فائرنگ سے 22 سالہ ایان شدید زخمی ہوگیا جسے چھیپا کے رضا کاروں نے تشویشناک حالت میں جناح اسپتال پہنچایا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ نوجوان کو سینے پر گولی لگی ہے جس کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ بلدیہ چوبیس کی مارکیٹ کے قریب فائرنگ 45 سالہ شیرینہ زوجہ عزیز الرحمٰن زخمی ہوگئی۔
لیاقت آباد کے علاقے 10 نمبر الاعظم اسکوائر کے قریب فائرنگ سے 52 سالہ جمیلہ بیگم زوجہ اقبال زخمی ہوگئی، نارتھ کراچی سیکٹر فائیو اے ٹو قادری مسجد کے قریب فائرنگ سے 27 سالہ بلال احمد زخمی ہوگیا۔
چاکیواڑہ غلام محمد بس اسٹاپ کے قریب فائرنگ سے 12 سالہ مزمل ولد محسن زخمی ہوگیا ، گبول ٹاؤن کے علاقے نیو کراچی میں فائرنگ سے 30 سالہ مرتضیٰ زخمی ہوا، چاکیواڑہ کے علاقے عثمان پارک کے قریب فائرنگ سے 28 سالہ نعمان زخمی ہوگیا۔
اس کے علاوہ پاپوش نگر میں چاندنی چوک کے قریب 74 سالہ نصیر زخمی ہوا ، اورنگی ٹاؤن سیکٹر 13 خضر مسجد کے قریب فائرنگ سے 39 سالہ نجمہ زوجہ نوید زخمی ہوگئی۔
فائرنگ سے 3 خواتین اور نوعمر لڑکے سمیت 9 افراد کے زخمی ہونے کے واقعات 4 اپریل سے 6 اپریل کے درمیان پیش آئے۔
اس حوالے سے ترجمان کراچی پولیس کی جانب سے جاری میسجز میں شہریوں کے زخمی ہونے کے واقعات نامعلوم سمت سے آنے والی گولیاں لگنے سے پیش آنے کے بتائے گئے ہیں جس کی متعلقہ تھانے کی پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک جانب عوام اسٹریٹ کرمنلز سے عاجز ہیں تو دوسری جانب نامعلوم سمت سے چلنے والی گولیوں سے بھی شہری خوف کا شکار ہیں جبکہ پولیس شہر میں روز کی بنیاد پر اسلحے کے بے دریغ استعمال پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے جس کا خمیازہ شہری نامعلوم سمتوں نے آنے والی گولیوں سے زخمی ہو کر برداشت کر رہے ہیں۔
Source link
Today News
ہائے !یہ مہنگائی مار دے گی
ایک جانب ہرن تھا جس کے لیے زندگی کی بقا کا مسئلہ درپیش تھا۔ دوسری جانب شکاری تھا جس کے ہاتھ میں بندوق تھی۔ اب شکاری کو ظالم لکھنا تو فضول کی سی بات ہوگی۔ بات صاف ہے جس کے ہاتھ میں بندوق ہوتی ہے۔ جس کو سامنے شکار نظر آرہا ہو اور وہ نشانہ لگانے کے لیے بے تاب بھی تو پھر وہ ظالم ہی کہلائے گا۔ چنانچہ کیفیت یہ تھی کہ ہرن جنگل میں نکلا تھا کہ اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے، یعنی اپنی خوراک کا انتظام کرسکے۔
وہ جنگل میں سرگرمی سے گھوم رہا تھا اور خوراک کی تلاش کررہا تھا۔ ممکن تھا کہ وہ خوراک تلاش کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتا کہ ایک شکاری جس کے ہاتھ میں بندوق تھی ،اس شکاری کی نظر اس ہرن پر پڑی جب کہ شکاری بے حد خوش ہوا کہ آج تو شکار بڑی آسانی سے ہاتھ آنے والا ہے، چنانچہ شکاری نے بندوق سیدھی کی اور ہرن کو نشانے پر لے لیا جب کہ ہرن نے بھی دیکھ لیا کہ شکاری اس کا نشانہ لے چکا ہے چنانچہ ہرن نے پوری قوت کے ساتھ بھاگنا شروع کردیا جب کہ شکاری بھی یہ سوچ کر کر ہاتھ آیا شکار چھوڑنا نہیں، اس ہرن کے پیچھے پیچھے بھاگنے لگا۔ بھاگنے میں دونوں اپنی اپنی پوری قوت استعمال کررہے تھے کہ ایک مقام پر جاکر ہرن تھک کے نڈھال ہوکر کھڑا ہوگیا گویا اب اس کے اندر مزید بھاگنے کی قوت جواب دے گئی تھی۔
اس کیفیت میں شکاری بھی اس کا پیچھا کرتے ہوئے وہاں آ پہنچا مگر یہ کیا جیسے ہی شکاری نے ہرن کا نشانہ لیا تو بے بس ہرن پکار اٹھا کہ ’’شکاری گولی مت چلانا ورنہ قیامت آجائے گی۔‘‘ شکاری پہلے تو سوچ میں پڑگیا کہ میرے گولی چلانے سے قیامت کا کیا تعلق ؟بالاخر اس شکاری نے گولی چلا دی جو کہ ہرن کی ٹانگ پر جا لگی۔ اس کیفیت میں ہرن زمین پر گرا اور تڑپنے لگا ۔ شکاری نے ہرن سے کہا ’’ دیکھو میں نے گولی چلا دی جو کہ تیری ٹانگ میں جاکر لگ بھی گئی مگر تیرے کہنے کے مطابق قیامت تو نہیں آئی۔‘‘ شکاری کی بات سن کر ہرن درد کی شدت سے کراہتے ہوئے بولا’’ میرے لیے تو قیامت آچکی ،اول تو تم مجھے زندہ چھوڑوگے نہیں، دوئم۔ اگر تم مجھے زندہ چھوڑ بھی دو جو کہ ناممکن سی بات ہے تو اس صورت میں بھی مجھے باقی ساری زندگی ایک ٹانگ کی معذوری کے ساتھ گزارنا ہوگی۔‘‘
تو دوستوں ہمارے حکمران یقین کریں یا نہ کریں، عوام کے لیے قیامت برپا ہوچکی ہے گو کہ عوام کے لیے پہلے ہی سے قیامت صغریٰ برپا ہوچکی تھی مگر اب حکومت وقت نے قیامت کبریٰ برپا کردی ہے۔ عوام کے لیے پہلے ہی مسائل کے سبب جسم و جان کا ناتا برقرار رکھنا ناممکن تھا، اب تو حالات ہی دگرگوں ہوگئے ہیں۔ یہ اسی مسلم لیگ ن کی حکومت ہے جس کے لیڈران کہہ رہے تھے کہ اگر دو روپے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت بڑھتی ہے تو قوم کے حقیقی لیڈر و قوم کے ہمدردوں کے آنسو جاری ہوجاتے ہیں ۔
ہم اگر کچھ عرض کریں گے تو شکایت ہوگی، بلکہ شکایت نہ ہوگی اور غدار وطن ٹھہرائے جائیں گے، کیونکہ عصر حاضر میں حکمرانوں پر تنقید کرنے کا مطلب لیا جاتا ہے وطن پر تنقید۔ بلاشبہ ہماری سب سے قیمتی متاع حیات بھی ایک بار نہیں، دو بار نہیں ہزار بار قربان ہے حالاں کہ موجودہ وزیراعظم صاحب جب وہ وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے 2018 میں اپنا دس سالہ دور حکومت مکمل کرنے کے بعد انتخابی مہم پر نکلے تو شاعر انقلاب حبیب جالب کی نظم دستور جلسۂ عام میں لوگوں کو سنا رہے تھے۔
دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا
میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زندان کی دیوار سے
ظلم کی بات کو جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
حبیب جالب صاحب کی یہ نظم ذرا طویل ہے، اسی باعث اس نظم دستور کے چند اشعار پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔گویا موجودہ حکمران اسی دستور سے بغاوت کا اعلان کررہے تھے جس دستور کے تحت وہ حکومت میں آتے رہے اور جس دستور کے تحت وہ آج بھی حکمران ہیں مگر جو طرز حکومت انھوں نے اختیار کیا ہے اس طرز حکمرانی نے قوم کی چیخیں نکال دی ہیں گویا دو چار دس بیس روپے نہیں 137 روپے یکمشت پٹرول پر اور 182 روپے ڈیزل پر بڑھا دیے۔ ایک لمحے کو فقط ایک لمحے کو تو غور کرتے کہ ہزاروں مشکلات کا شکار قوم یہ اس قدر اضافہ کیسے برداشت کرے گی اگرچہ پورے ملک میں بے روزگاری ہے ۔
اب اگر فقط کراچی ہی کی بات کریں تو جو محنت کش کورنگی، شیرشاہ، بلدیہ ٹاؤن یا گڈاپ یا اورنگی ٹاؤن سے صدر یا ملیر یا قائد آباد سے پورٹ قاسم جاتے ہیں وہ محنت کش کم سے کم یک طرفہ کرایہ 150روپے اور دو طرفہ 300 روپے کرایہ ادا کریں گے اور پھر ایک ہزار روپے کماسکیں گے اور جو لوگ روزانہ اجرت پر کام کرتے ہیں ان کا گزارا کیسے ہوگا جب کہ لاہور میں کیفیت یہ ہے کہ وہاں دیہی علاقوں سے لوگ روزانہ محنت کرنے آتے ہیں اور شام کو واپس جاتے ہیں اور گھریلو اخراجات پورے کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ان حالات میں جب مہنگائی کا طوفان برپا ہوگا تو وہ کیسے گزارا کریں گے کیوں کہ قیمتیں صرف پٹرول یا ڈیزل کی نہیں بڑھیں بلکہ اب تمام اشیاء ضروریہ کی قیمتیں بڑھیں گی۔
آٹا، دال، چاول، سبزیاں ، بسوں کے کرائے سمیت تمام چیزوں کے دام بڑھیں گے ۔ دوسری جانب حکومت کے حاشیہ بردار صحافی و میڈیا کے لوگ حکومت کے ان اقدامات کو حالات کا تقاضا وقت کی مجبوری قرار دیں گے اور طرح طرح کی تاویلیں پیش کریں گے، ہم ابھی تک انھی سطور تک رسائی حاصل کرپائے تھے کہ درمیان میں جمعۃ المبارک کی ادائیگی کا وقت آگیا چنانچہ جب نماز جمعہ سے فراغت پائی تو یہ خبر ہماری منتظر تھی کہ ٹرانسپوٹرز نے فوری طور پر بسوںکے کرایوں میں 65 فیصد تک اضافہ کردیا ہے یہ اضافی کرایہ فوری طور پر نافذ العمل بھی کردیاگیا ہے ابھی لاہور سے دیگر شہروں کے لیے اضافی رقم بڑھائی گئی ہے وہ تفصیلات کچھ یوں ہیں۔ لاہور سے اسلام آباد سابقہ کرایہ 3000 روپے ایک ہزار اضافہ کرائے کی یہ رقم ہوگی چار ہزار روپے۔ مری کا کرایہ سابقہ 3500 روپے اب یہ کرایہ ہوگا 4500 روپے کردیاگیا ہے گویا 11سو روپے بڑھادیاگیا۔
لاہور سے کراچی کا کرایہ 8600 سے بڑھا کر 12ہزار روپے کردیاگیا جب کہ دیگر چھوٹے بڑے شہروں کا بسوں کا کرایہ بھی لازمی بڑھے گا جب کہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے بلکہ قابل فکر ہے کہ ریلوے کے کرائے بھی لازمی بڑھائے جائیں گے گویا اب جو لوگ ایک برس میں ایک بار کراچی سے خیبرپختون خوا یا پنجاب کے مختلف شہروں میں اپنے پیاروں کے پاس خوشی غمی میں شرکت کرلیتے تھے اب وہ ریلوے کے سفر سے بھی محروم ہوگئے ہیں، یوں بھی گزشتہ چار برسوں میں جس قدر کرائے بڑھائے گئے ہیں وہ اضافی کرائے ہیں لوگوں کے لیے ناقابل برداشت تھے ۔ پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں کا ہی ذکر کیا، اگر ذکر کریں اہل پی جی گیس کا تو وہ جان لیں کہ اب وہ لوگ جو ایل پی جی گیس استعمال کرتے ہیں وہ لوگ اب کلہاڑیاں تھام لیں اور جنگلوں کی طرف چلے جائیں اور جلانے کے لیے لکڑیوں کا انتظام کرنے میں کامیاب ہوجائیںکیونکہ موجودہ صورت حال میں آٹا، دال کا حصول ایک ناقابل عمل محسوس ہوتا ہے بہرکیف آنے والے دوچار روز میں تمام صورتحال واضح ہوجائے گی ،اپنی بات کا اختتام صد قابل احترام حبیب جالب کے ان اشعار پر کریں گے کہ
بپا ہے کربلا مہنگائی ہے تخریب کاری ہے
وزارت پھر بھی قائم ہے حکومت پھر بھی جاری ہے
جدھردیکھو ادھر پانی نہ گھر پانی نہ در باقی
یہاں پر ہم رہا کرتے تھے یہ بستی ہماری ہے
حکومت ذات پر جو خرچ کرتی ہے انھیں دے دے
کہ جن کے دن گراں کٹتے ہیں جن پر رات بھاری ہے
Today News
ٹرمپ نے امریکی مشن اپنے پائلٹ کو نکالنے کیلیے نہیں بلکہ یورینیئم چُرانے بھیجا تھا، ایران
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کا لاپتا پائلٹ کو ریسکیو کرنے کے مشن کا اصل مقصد ہمارے افزودہ یورینیم چرانا تھا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس میں کیا۔ انھوں نے ایران میں امریکی فوج کے مشن کو ڈھونگ قرار دیا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ اس نام نہاد مشن کے نام پر امریکی فوجیوں نے جس مقام پر اترنے کی کوشش کی وہاں کسی پائلٹ کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔
انھوں نے مزید کہ امریکی دعوے کے برعکس پائلٹ کی مبینہ موجودگی کا مقام اس مشن کی جگہ سے بہت دور ہے۔ یہ ثابت ہوگیا کہ امریکی فوجی ایٹمی مواد تک رسائی چاہتے تھے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے امریکا کی ناکام سازش کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پائلٹ کے ریسکیو مشن کی آڑ میں ٹرمپ انتطامیہ نے عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے۔
اُنھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملکی سلامتی اور ایٹمی تنصیبات کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
قبل ازیں امریکی صدر نے ایران میں پھنسے اپنے فوجی اہلکاروں کو نکالنے کے لیے کیے گئے آپریشن کو تاریخی قرار دیا تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ میں نے فوج کو ہر ممکن اقدام کی ہدایت دی تھی تاکہ اپنے اہلکاروں کو بحفاظت واپس لایا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ اس ریسکیو مشن میں اکیس امریکی فوجی طیارے استعمال کیے گئے جبکہ دوسرے بڑے آپریشن میں ایک سو پچپن طیارے شامل تھے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق دوسرے مشن میں چار بمبار طیارے چونسٹھ لڑاکا طیارے اڑتالیس ایندھن فراہم کرنے والے طیارے اور تیرہ ریسکیو طیارے شریک تھے۔
Today News
سفارتی سرگرمیاں مزید تیز، اسحاق ڈار کے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے عالمی سفارتی سطح پر سرگرمیاں تیز کرتے ہوئے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام سے ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں مشرق وسطیٰ اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ نے جاپان کے وزیر خارجہ توشیمیتسو موتیگی سے گفتگو میں خطے میں فوری کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور پاکستان کے امن و استحکام کے لیے کردار کو اجاگر کیا۔
جاپانی وزیر خارجہ نے خطے میں مکالمے کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ اسی سلسلے میں پرتگال کے وزیر مملکت برائے خارجہ پاؤلو رینجل سے گفتگو کے دوران بھی خطے کی بدلتی صورتحال پر بات چیت ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور اعلیٰ سطح کے روابط جاری رکھنے پر اتفاق کیا جبکہ پرتگال نے پاکستان کے سفارتی کردار کی حمایت کا اعادہ کیا۔
برطانیہ کے وزیر مملکت حمیش فالکنر سے گفتگو میں بھی علاقائی صورتحال زیر بحث آئی برطانوی حکام نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہا اور دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
دریں اثناء کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کے ساتھ گفتگو میں بھی کشیدگی میں کمی، مکالمے اور سفارت کاری کے فروغ پر اتفاق کیا گیا، دونوں ممالک نے پاکستان-کینیڈا تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور اعلیٰ سطحی روابط برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق ان تمام رابطوں میں پاکستان نے خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت اور سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ عالمی رہنماؤں نے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہا۔
Source link
-
Sports2 weeks ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Sports1 week ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Magazines1 week ago
The secret life of insects in the urban world
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go
-
Today News2 weeks ago
ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka and Rybakina to clash again in Miami semi-final