Today News
کراچی کے مسائل پر سیاست
میئرکراچی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کو کراچی میں جاری میرے کام نظر نہیں آرہے، یہ دونوں جماعتیں کہیں نظر نہیں آتی ہیں ۔ انھیں کراچی کے مسائل سے کوئی دلچسپی ہے نہ یہ کام کرتے ہیں ، صرف مجھ پر تنقید کرتے آرہے ہیں۔
ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت بلدیاتی حلقوں کی تشکیل کے وعدے سے انحراف کی مرتکب ہوئی ہے۔ نئی مردم شماری میں 70لاکھ نفوس کا اضافہ ایم کیو ایم کی جدوجہد کا ثمر ہے۔ پیپلزپارٹی بلدیاتی اداروں کو آئین کے مطابق اختیارات دے رہی ہے اور نہ ہی کراچی کی درست مردم شماری ہونے دیتی ہے تاکہ آبادی کے مطابق کراچی کو فنڈز اور اس کے جائز حقوق نہ مل سکیں۔ سندھ حکومت کو کراچی کے مسائل کی فکر ہے نا حل کرنا چاہتی ہے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا ہے کہ بارشوں نے کراچی میں سندھ حکومت اور بلدیہ کراچی کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ کمزور کارکردگی کی سزا عوام کو دی جارہی ہے۔ سندھ سالڈ ویسٹ بورڈ بروقت کچرا نہ اٹھانے اور شہر میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیروں کا ذمے دار ہے جس کی وجہ سے کراچی کے شہری عذاب میں مبتلا ہیں۔
پیپلزپارٹی پہلی بار بلدیہ عظمیٰ کراچی کے لیے اپنا میئر منتخب کرانے میں کامیاب ہوئی ہے جب کہ جماعت اسلامی کے یو سی ناظمین کی تعداد زیادہ ہے، جماعت اسلامی پی ٹی آئی کی مدد سے اپنا میئر لاسکتی تھی مگر تحریک انصاف کے کئی یوسی چیئرمینز پیپلزپارٹی سے جا ملے اور یوں جماعت اسلامی کا میئر نہیں آسکا حالانکہ جماعت اسلامی سنگل لارجسٹ پارٹی تھی لیکن پی ٹی آئی کے لوگ دوسری طرف چلے گئے اور بلدیہ عظمیٰ پر جیالے میئرکو اکثریت دلا دی تھی جو کام تو کرتے آئے ہیں مگر ان کے سیاسی مخالفین الزام تراشیاں کرتے آ رہے ہیں اور کراچی کے نو ٹاؤنز میں جماعت اسلامی کے چیئرمینوں نے جو کام کیے ہیں، وہ بھی عیاں ہیں اور پیپلزپارٹی کے بلدیاتی ادارے جماعت اسلامی کے ٹاؤنز میں ترقیاتی کاموں کے مقابلے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے، یہ جماعت کا موقف ہے۔
کراچی میں ایم کیو ایم کا ایک بھی یوسی چیئرمین نہیں ہے۔ اس کے باوجود ایم کیو ایم کراچی میں بااختیار شہری حکومت کے قیام کی حامی ہے اور اسی لیے جدوجہد کررہی اور بااختیار شہری حکومت ہی کراچی کے مسائل حل کراسکتی ہے مگر سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی ایسا نہیں ہونے دے رہی اور نا بلدیاتی اختیارات دے رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ اور وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی اور وفاقی وزیر اور سابق سٹی ناظم کراچی مصطفیٰ کمال اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں کرچکے ہیں اور یہ بات درست ہے کہ کراچی میں ایم کیو ایم کے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی ہیں اور ایم کیو ایم نے گزشتہ بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اور ماضی میں جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان اور عبدالستار افغانی اور ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق سربراہ رہے ہیں اور جنرل پرویز کے با اختیار ضلعی حکومتوں کے نظام میں ایک بار جماعت اسلامی اور بعد میں ایم کیو ایم کے کراچی کے بااختیار سٹی ناظمین رہے جن کے دور میں زبردست تعمیری و ترقیاتی کام ہوئے تھے اور مصطفی کمال نے کراچی کو دنیا کے 13میگا سٹیز میں شامل ہونے کا اعزاز دلایا تھا جب کہ سندھ حکومت کے 18سالوں میں کراچی کچرے کا شہر کہلایا اور پورے شہر میں نکاسی آب سسٹم تباہ اور سڑکیں زیر آب رہنا معمول ہے اور کراچی کے پی پی پی کے میئر عوام کی توقعات پر پورے اتر سکے جب کہ سندھ حکومت کراچی میں فراہمی آب کا مسئلہ حل اور شہری مسائل حل کرانے میں ناکام رہی ہے۔ پی پی کے کراچی کے پہلے میئر جنھیں سندھ حکومت نے منتخب کرایا شہریوں کو بڑی توقعات تھیں مگر کراچی سے تعلق کے باوجود وہ کراچی کے مسائل حل کرانے میں ناکام رہے حالانکہ انھیں کراچی میں کام کرکے اور شہری مسائل حل کرکے دکھانے چاہئیں اور ایسی اچھی کارکردگی دکھانا چاہیے جیسی دو سابق بااختیار سٹی ناظمین نعمت اللہ خان اور سید مصطفیٰ کمال نے اپنے دور میں دکھائی تھی جسے شہریوں نے ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں تسلیم کیاگیا تھا ۔
سندھ حکومت میئر کراچی ہی نہیں جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کراچی مسائل پر ایک ہوکر مسائل حل کرانے کی بجائے منفی سیاست کررہے ہیں اور ایک دوسرے پر الزام تراشی ہی میں پورے ہیں۔ کراچی کے مسائل کے حل کی ذمے داری جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم سے زیادہ سندھ حکومت اور میئر کراچی پر عائد ہوتی ہے ۔
Today News
مشرق وسطیٰ بحران،عالمی خطرات کا پیش خیمہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ منگل کا دن ایران کی تباہی کا دن ہوگا،آبنائے ہرمز نہ کھولی تو ایران میں بجلی گھروں، پلوں کو اڑا کر رکھ دیں گے اور ان کے تیل پر قبضہ کرلیں گے، ایران پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ دوسری جانب تہران نے ٹرمپ کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکا و اسرائیل کو بڑا سرپرائز دیں گے۔ امریکی وزیرجنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکی فوجی حضرت عیسیٰ کے لیے لڑ رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ جیتنے کے لیے پیٹ ہیگسیتھ نے حضرت عیسیٰ کے واسطے سے پوپ لیو کو دعا کی درخواست کردی جس پر پوپ لیو نے اس طرح کی دعا سے اظہار لاتعلقی کردیا اور کہا کہ غلبے کے لیے کرسچین مشن کو مسخ کیا جاتا ہے، ایسی باتیں حضرت عیسیٰ کے طریقہ کار سے بالکل ہٹ کر ہیں۔ پوپ لیو نے کہا کہ خدا نے زندگیاں تباہ کرنے کی نہیں، انھیں بنانے کی ترغیب دی ہے، جب کہ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے باحفاظت گزرنے کے لیے بحری جہاز ایران کو 20 لاکھ ڈالر تک ادائیگی کر رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ اس وقت جس بھاری اور غیر یقینی کیفیت سے گزر رہا ہے، وہ محض ایک روایتی جنگی منظرنامہ نہیں بلکہ عالمی نظام کی گہرائی میں پیدا ہونے والی دراڑوں کا عکاس ہے۔ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشمکش نے دنیا کو ایک ایسے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے جہاں ہر فیصلہ صرف ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات بیک وقت کئی براعظموں میں محسوس کیے جاتے ہیں۔
یہ تنازع طاقت، خوف، انا اور بقا کے پیچیدہ امتزاج میں ڈھل چکا ہے۔اس بحران کی سب سے نمایاں جہت وہ لب و لہجہ ہے جو ٹرمپ کی جانب سے اختیار کیا جا رہا ہے۔ جب طاقتور ممالک کے رہنما تحمل اور تدبر کی جگہ دھمکی اور تیزی کو ترجیح دیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ معاملات قابو سے نکلنے کے قریب ہیں۔ حالیہ بیانات میں جس انداز سے فوری نتائج کی خواہش ظاہر کی گئی ہے، وہ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹتا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں ہر نیا بیان، ہر نئی وارننگ اور ہر نئی ڈیڈ لائن صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے، کیونکہ یہ سفارتی راستوں کو محدود کر دیتی ہے اور عسکری تصادم کے امکانات کو بڑھا دیتی ہے۔
ایران کی جانب سے اختیار کی گئی مزاحمت اس تنازع کو ایک نئی جہت دے رہی ہے۔ یہ صرف دفاعی ردعمل نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا پیغام ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ کے آگے سرنگوں ہونے کے لیے تیار نہیں۔ اس مزاحمت نے نہ صرف جنگ کے دورانیے کو بڑھایا ہے بلکہ اس کی نوعیت کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ اب یہ محض ایک طرفہ کارروائی نہیں رہی بلکہ ایک ایسا تصادم بن چکی ہے جس میں ہر قدم کے جواب میں دوسرا قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ اس عمل نے غیر یقینی کو بڑھا دیا ہے اور کسی بھی ممکنہ انجام کو مزید دھندلا کر دیا ہے۔
اس صورتحال میں عالمی طاقتوں کا کردار نہایت اہم ہونا چاہیے تھا، مگر جو منظر سامنے آ رہا ہے وہ اس کے برعکس ہے۔ بڑی طاقتیں محتاط بیانات تک محدود ہیں اور عملی اقدامات سے گریزاں دکھائی دیتی ہیں۔ یہ خاموشی ایک طرح کی بے بسی یا مصلحت کا اظہار ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی نظام اپنے بنیادی مقصد یعنی امن کے قیام کو پورا کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔ جب عالمی سطح پر کوئی موثر قوت ثالثی کے لیے آگے نہ بڑھے تو تنازع خود بخود شدت اختیار کر لیتا ہے، کیونکہ فریقین کو روکنے والا کوئی نہیں ہوتا۔
معاشی اعتبار سے اس جنگ کے اثرات پہلے ہی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ توانائی کی منڈی میں بے چینی، تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں اور تجارتی راستوں پر خطرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ تنازع عالمی معیشت کو متاثر کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے کی غیر یقینی صورتحال نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ جب اس طرح کے اہم راستے خطرے میں پڑ جائیں تو اس کا اثر صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ ہر اس صنعت کو متاثر کرتا ہے جو عالمی سپلائی چین کا حصہ ہے۔ نتیجتاً مہنگائی میں اضافہ، پیداوار میں کمی اور اقتصادی سست روی جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔
اس تنازع کا ایک اور حساس پہلو وہ بیانیہ ہے جس کے ذریعے اسے پیش کیا جا رہا ہے۔ جب جنگ کو نظریاتی یا مذہبی رنگ دیا جائے تو اس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کی زبان نہ صرف جذبات کو بھڑکاتی ہے بلکہ تنازع کو ایک ایسے دائرے میں داخل کر دیتی ہے جہاں سے واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔ تاریخ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں مذہبی جذبات کو جنگ کے ساتھ جوڑنے سے حالات مزید بگڑ گئے اور امن کی راہیں مسدود ہو گئیں۔
پسِ پردہ جاری سفارتی کوششیں اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ ابھی بھی مکمل تباہی سے بچنے کا امکان موجود ہے۔ جنگ بندی کی بات چیت اور عارضی معاہدوں کی تجاویز اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ فریقین مکمل تصادم سے گریز چاہتے ہیں، مگر ان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا یہ کوششیں سنجیدہ ہیں یا محض وقت حاصل کرنے کا ذریعہ۔ عارضی جنگ بندی اگرچہ فوری کشیدگی کو کم کر سکتی ہے، مگر مستقل امن کے لیے ضروری ہے کہ بنیادی مسائل کو حل کیا جائے اور ایک ایسا فریم ورک تیار کیا جائے جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس جنگ کے اثرات خطے کے دیگر ممالک پر بھی پڑ رہے ہیں۔ خلیجی ریاستیں، جنوبی ایشیا اور یورپ تک اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ توانائی کی فراہمی میں خلل، تجارتی راستوں کی بندش اور سیکیورٹی خدشات نے عالمی سطح پر بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اگر یہ تنازع مزید پھیلتا ہے تو اس کے اثرات عالمی کساد بازاری کی صورت میں بھی سامنے آ سکتے ہیں، جو پہلے ہی مختلف بحرانوں سے دوچار دنیا کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔
عالمی سیاست کے تناظر میں یہ بحران ایک بڑے رجحان کی نشاندہی بھی کرتا ہے، جہاں طاقتور ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے زیادہ جارحانہ انداز اختیار کر رہے ہیں۔ اس رجحان نے بین الاقوامی تعلقات میں عدم توازن پیدا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں چھوٹے ممالک خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو عالمی سطح پر کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور نئے تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔دوسری جانب عسکری میدان میں ہونے والی پیش رفت، جیسے میزائل حملے، ڈرون کارروائیاں، اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صورتحال محض بیانات تک محدود نہیں رہی۔ اگرچہ ابھی تک یہ کارروائیاں محدود پیمانے پر ہیں، مگر ان کا تسلسل ایک بڑے تصادم کی بنیاد بن سکتا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔اس تمام صورتحال میں قیادت کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ ایسے وقت میں جب جذبات غالب ہوں، فیصلوں میں سنجیدگی اور دوراندیشی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وقتی برتری حاصل کرنا آسان ہو سکتا ہے، مگر اس کے نتائج طویل المدتی ہو سکتے ہیں۔ اگر فیصلے صرف طاقت کے اظہار کے لیے کیے جائیں تو وہ نہ صرف موجودہ بحران کو گہرا کرتے ہیں بلکہ مستقبل میں مزید مسائل کو جنم دیتے ہیں جب کہ انسانی پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جنگ کا سب سے زیادہ اثر عام لوگوں پر پڑتا ہے، جو نہ اس کا حصہ ہوتے ہیں اور نہ ہی اس کے فیصلوں میں شامل ہوتے ہیں۔ ان کے لیے یہ تنازع خوف، عدم تحفظ اور مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ ان کی زندگیاں متاثر ہوتی ہیں، ان کے روزگار خطرے میں پڑتے ہیں اور ان کا مستقبل غیر یقینی ہو جاتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو ہر جنگ کو ایک انسانی المیے میں تبدیل کر دیتا ہے۔
اگر موجودہ صورتحال کا بروقت اور موثر حل نہ نکالا گیا تو اس کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ توانائی کا بحران، معاشی بدحالی، سیاسی عدم استحکام اور سکیورٹی خدشات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ایک مسئلہ دوسرے کو جنم دیتا ہے۔
اس سلسلے کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری فوری اور سنجیدہ اقدامات کرے۔ دنیا اس موقع پر صحیح فیصلے کرنے میں کامیاب ہو گئی تو یہ بحران ایک سبق بن سکتا ہے، جو مستقبل میں ایسے حالات سے بچنے میں مدد دے گا۔ مگر اگر یہ موقع ضایع ہو گیا تو اس کے نتائج نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی سنگین ہوں گے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ کا دھارا تبدیل ہوسکتا ہے اور یہ فیصلہ آج کے رہنماؤں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اسے کس سمت لے جاتے ہیں۔
Today News
بلوچستان میں بھی کفایت شعاری کے پیش نظر مارکیٹوں اور شادی ہالز کے اوقات کار محدود کرنے کا فیصلہ
کوئٹہ:
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان نے کفایت شعاری اور توانائی کے تحفظ کے پیش نظر صوبے بھر میں مارکیٹوں اور شادی ہالز کے اوقات کار محدود کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ان کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں مارکیٹیں رات 8 بجے جبکہ شادی ہالز رات 11 بجے بند ہوں گے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
کوئٹہ میں ڈپٹی کمشنر آفس میں انجمن تاجران بلوچستان کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مہر اللہ بادینی نے کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ ملکی مفاد، توانائی بچت اور عوامی ریلیف کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں کفایت شعاری اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے اور تاجر برادری کو حکومت کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے رات 8 بجے مارکیٹیں بند کرنے جبکہ شادی ہالز کو رات 11 بجے تک کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عوامی ضروریات اور تاجروں کے تحفظات دونوں کو مدنظر رکھا جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ حکومت کے فیصلے کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی اور ضلعی انتظامیہ کارروائی کے لیے متحرک رہے گی مہر اللہ بادینی نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ نے اس حوالے سے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے بھی ملاقات کی ہے اور تاجروں کے تحفظات حکومت تک پہنچائے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ عوام اور تاجروں دونوں کے مفادات کا خیال رکھتے ہوئے متوازن فیصلے کر رہی ہےانہوں نے کرایوں میں اضافے کی شکایات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ ٹرانسپورٹ کرایوں میں غیر قانونی اضافے کی فوری تحقیقات کی جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کو کسی صورت مافیا کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گاپیٹرول سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ منی پیٹرول پمپس کی نگرانی جاری ہے جبکہ ایران سے آنے والا غیر قانونی پیٹرول فروخت کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ مہنگا پیٹرول فروخت کرنے والے عناصر کے خلاف سخت ایکشن لیا جا رہا ہےپریس کانفرنس میں مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ اور رحیم آغا نے حکومت کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
رحیم کاکڑ نے کہا کہ ملکی مفاد کے لیے تاجر برادری ہر ممکن قربانی دینے کے لیے تیار ہے اور تاجروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ حکومت کے فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ تاجروں نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ملاقات میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا، تاہم قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کیا گیا ہے
Today News
کراچی، خمیسو گوٹھ میں گھر سے نوجوان لڑکی کی گلے میں پھندا لگی لاش برآمد
کراچی:
شہر قائد میں نیو کراچی صنعتی ایریا کے علاقے خمیسو گوٹھ میں گھر سے نوجوان لڑکی کی گلے میں پھندا لگی لاش ملی جسے ایدھی کے رضا کاروں عباسی شہید اسپتال پہنچائی۔
اس حوالے سے ایس ایچ او نیو کراچی صنعتی ایریا رضوان قریشی نے بتایا کہ متوفیہ کی شناخت 22 سالہ مسکان کے نام سے کی گئی۔
ابتدائی معلومات کے مطابق متوفیہ کی لاش اس کا بھائی اور والدہ اسپتال لیکر گئے تھے جبکہ پولیس کو اسپتال سے ہی واقعے کی اطلاع ملی تھی۔
تاہم شواہد حاصل کرنے کے لیے متوفیہ کی رہائش گاہ پر کرائم سین یونٹ کو روانہ کیا ہے جبکہ اہلخانہ نے ابتدائی طور پر پولیس کو بیان دیا ہے کہ مسکان نفسیاتی مسائل کا شکار تھی جبکہ واقعہ گلے میں خود کو پھندا لگا کر خودکشی کا بتا رہے۔
جس وقت واقعہ پیش آیا متوفیہ گھر میں اکیلی تھی تاہم پولیس اس حوالے سے مزید معلومات حاصل کر رہی ہے ۔
-
Sports2 weeks ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Sports1 week ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Magazines1 week ago
The secret life of insects in the urban world
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go
-
Sports1 week ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Today News2 weeks ago
ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز