Connect with us

Today News

کرپشن کی تلاش – ایکسپریس اردو

Published

on


اس دن ’’کرپشن‘‘پر ایک بہت بڑے دانا دانشور کا دانش اوردانائی سے بھرپورکالم بلکہ مضمون بلکہ مقالہ پڑھ کر منہ سے بے اختیار عش عش نکلنا شروع ہوگیا اوراس وقت تک نکلتا رہا جب تک ہم پر غشی طاری نہیں ہوئی لیکن غشی میں بھی پہلے کی طرح یہ سوال ٹونگیں مارتا رہا کہ آخر یہ کرپشن ہے کیا؟جس کے اتنے چرچے ہیں اورہربار ہماری یہی کیفیت ہوجاتی ہے جب اس ناہنجار، نابکار، خدائی خوار،سراسر آزار اور سب کے سر پر سوار کرپشن کا نام سنتے ہیں یاکسی کالم میں پڑھتے ہیں یاکسی بیان میں دیکھتے ہیں کہ ایک مدت سے ہم اس کاذکر تو سنتے آئے ہیں لیکن کبھی سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ کرپشن آخر چیز کیا ہے ؟ جو ہے بھی اورنہیں بھی بلکہ جہاں ہوتی ہے وہاں نہیں ہوتی ہے اورجہاں نہیں ہوتی وہاں ہوتی ہے کیا یہ کوئی پھل ہے ؟ سبزی ہے ، پکوان ہے؟ چرند ہے، پرند ہے یا خزند و درند ۔ بالکل وہی صورت حال ہے جو کسی شاعر کو کسی چیز کے بارے میں درپیش تھی کہ

 کوئی جھنکار ہے نغمہ ہے صدا ہے کیا ہے ؟

تو کرن ہے کہ کلی ہے کہ صبا ہے کیا ہے ؟

 نام ہونٹوں پہ ترا آئے تو راحت سی ملے

 تو تسلی ہے دلاسہ ہے دعا ہے کیا ہے ؟

بلکہ کبھی شک ہوتا ہے کہ دوا بھی ہے شفا بھی اورنشہ بھی ، صرف اتنا ہی پتہ چلا ہے کہ جن لوگوں نے چکھی ہے وہ اسے میٹھا،بہت میٹھا اوربہت ہی میٹھا بتاتے ہیں ، کہ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ شاید یہ کوئی نشہ ہو۔ اورہماری اس سے عدم واقفیت اورناآشنائی کی ایک وجہ تویہ ہے کہ ہماری سمجھ دانی بہت چھوٹی ہے اوریہ بہت بڑی شے ہے ،آخر جب ساری دنیا پر چھائی ہوئی ہے تو وہ کوئی معمولی چیز تو ہوہی نہیں سکتی ، دوسرے یہ کہ ہم ٹھہرے اردومیڈیم اوریہ ہے میم یعنی انگلش میڈیم بلکہ اس سے بھی اونچی کیٹگری کی چیز، اورتیسری سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں یہ بالکل بھی نہیں ہوتی کہیں بھی نہیں ہوتی اورذرہ بھربھی نہیں ہوتی ، ظاہرہے کہ جب کوئی چیز ملک میں ہوتی ہی نہیں تو اس ملک کے لوگ اس کے بارے میں کیسے جانتے ہوں گے ،آپ کسی افغان سے ریل کے بارے میں، کسی عرب سے مچھلیوں کے بارے میں اورکسی تاجک سے ہاتھی کے بارے میں پوچھیں گے تو وہ آپ کو کیابتائے گا ؟ ہمارے ملک میں سب کچھ اتنا شفاف ہے کہ ذرا سادھبہ بھی پڑے تو دور سے نظر آجائے گا۔

سنا ہے اس سلسلے میں ہماری حکومت نے بلکہ حکومتوں نے بھی بہت کوشش کی ہے، بڑے بڑے محکمے بنائے، ادارے قائم کیے اوربڑے ماہرین کو تعینات کیا لیکن نہ تو اس کاکوئی سراغ ملا ، نہ کوئی کلیو اورنہ اتہ پتہ ، بلکہ کہیں شائبہ بھی نہیں پایا گیا، ہم نے خود اپنا ٹٹوئے تحقیق اتنا دوڑایا اتنادوڑایا کہ بیچارے کی سانس پھول گئی لیکن کم بخت کہیں بھی نہیں ملی، اس ملک میں جو کچھ بھی ہوتا ہے صاف وشفاف اورکرپشن لیس ہوتا ہے، مثال کے طور پر سیاست کو لے لیجیے ، بالکل صاف وشفاف جمہوریت دودھ کی دھلی ہوئی اورپارٹیاں اورلیڈر ، گنگا شنان۔

 الیکشن کو لے لیجیے ، سنا ہے دوسرے ملکوں میں جب ہوتے ہیں ،کرپشن بھرے ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں، دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضوکریں، ہمارے الیکشن اتنے شفاف ہوتے ہیں کہ شیشہ بھی اس کے آگے خجل ہوجائے اورپھر اس الیکشن کے نتیجے میں جو جمہوری شہنشاہ جلوہ گر ہو جاتے ہیں، وہ اتنے شفاف ہوتے ہیں کہ ایج جی ویلز کا ناول ’’ان وزیبل مین ‘‘ یاد آجاتا ہے اوران کے پاس جو مینڈیٹ ہوتا ہے واہ جی واہ ، اس میں کرپشن کا نام و نشان تک نہیں ہوتا اورہاں فنڈز۔

 زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا

 کہ میرے نطق نے بوسے میری زباں کے لیے

کسی نے بتایا تھا کہ کرپشن کو سرکاری محکمے اور ادارے بہت پسند ہوتے ہیں لیکن یہ بھی صرف افواہ نکلی، الزام نکلا جھوٹ نکلا، کیوں کہ ہم خود اپنا ٹٹوئے تحقیق لے کر سرکاری دفاتر میں گئے ، محکموں میں ڈھونڈا، اداروں میں دیکھا ،کہیں بھی کرپشن کا نام ونشان نہیں پایا بلکہ ہمارے کہنے پر ہمارے ٹٹوئے تحقیق نے اپنی ناک کااستعمال بھی کیا لیکن کہیںسے ہلکی سی ’’سمیل‘‘ (smell)بھی کرپشن کی نہیں آئی۔ اس کے بعد ہم نے تھانوں پٹوارخانوں میں تلاش کیا وہاں تو کوئی اس کے نام سے بھی واقف نہیں تھا ہم نے جب اس کانام لیاتو لوگ کانوں کو ہاتھ لگا لگا کرتوبہ توبہ کرنے لگے کہ اس منحوس ، ایمان چوس ، ضمیر بھوس کرپشن کا یہاں کیا کام؟ یہاں آئے تو ہم اس کی ٹانگیں توڑ کر اس کے ہاتھوں میں نہ دیں ، اس کی آنکھیں نکال کر کانوں میں نہ لٹکا دیں ۔یہاں مایوس ہوکر ہم نے کچہریوں کا رخ کیا کہ اکثر ایسے ویسے لوگ یہاں آتے جاتے رہتے ہیں، شاید یہاںاس کاکوئی سراغ ملے ، لیکن یہاںبھی کم بخت نہیں ملی ،ایسے ویسے لوگوں کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا ہے کہ ایسے ویسے لوگ یہاں آکر نیک یعنی سدھرجاتے ہیں کیوں کہ یہاں جو ’’صالحین ‘‘ بیٹھے ہوتے ہیں ان کی صحبت اتنی پرتاثیر ہوتی ہے کہ اگر کالا چور بھی آئے تو سفید ہوجاتا ہے بلکہ اس تلاش میں ہمیں یہ پتہ چلاکہ صرف ہم ہی اسے تلاش نہیں کررہے ہیں بلکہ اوربھی بہت سارے لوگ اسے کھوج رہے ہیں، کئی سرکاری ادارے بھی اس کی ڈھونڈ میں پریشان ہیں تاکہ اسے ڈھونڈکر کیفرکردار تک پہنچایا جاسکے، اس کے ساتھ آہنی ہاتھ کے ساتھ نمٹیں۔ مطلب یہ کہ

تمام شہر ہی اس کی تلاش میں گم تھا

 میں اس کے گھر کاپتہ کس سے پوچھتا یارو

اب آپ ہی انصاف بلکہ تحریک انصاف سے کام لے کر بتائیں کہ ایسے صاف وشفاف ’’کرپشن لیس‘‘ ملک میں ہم اس بدمعاش ، بدقماش اورعیاش وفحاش کرپشن کو کہاں ڈھونڈیں اورجب کرپشن یہاں ہے ہی نہیں تو ہم کیاجانیں کہ کرپشن کیاہوتی ہے ، کیسی ہوتی ہے اورکہاں ہوتی ہے ؟

نہ شعلہ میں کرشمہ نہ برق میں یہ ادا

 وئی بتائے کہ وہ شوخ تندخو کیا ہے ؟

اب آپ سے انصاف بلکہ تحریک انصاف کرکے بتائیں کہ ہم ایسے صاف وشفاف ملک میں اس بدمعاش اورعیاش وفحاش کرپشن کو کہاں ڈھونڈیں اور جب یہاں کرپشن ہے ہی نہیں تو ہم کیا بتائیں کہ کرپشن کیسی ہوتی ہے ۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

وائب کوڈنگ کا پھیلاؤ، آئی ٹی سیکٹر کیلیے نیا سائبر خطرہ

Published

on



کراچی:

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردارکیاہے کہ ”وائب کوڈنگ “کابڑھتا رجحان آئی ٹی سیکٹرکے لیے نیاسائبرخطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔

وائب کوڈنگ“میں صارفین صرف تحریری ہدایات دے کر مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایپلی کیشنز تیارکرتے ہیں، جوپاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے آئی ٹی اور فری لانس سیکٹرکیلیے نئے خطرات پیداکررہاہے۔

سائبر سیکیورٹی ریسرچر اعتزاز محسن کے مطابق جدید”ایجنٹک “اے آئی سسٹمزنہ صرف خود کوڈ لکھ سکتے ہیں، بلکہ اسے تبدیل اور اجرابھی کرسکتے ہیں،جس سے سیکیورٹی کے روایتی خطرات مزید پیچیدہ ہوگئے ہیں۔

اگر ان پلیٹ فارمز میں خامیاں موجودہوں تو وہ”زیروکلک “حملوں کاذریعہ بن سکتی ہیں،جہاں صارف کی کسی کارروائی کے بغیر ہی سسٹم ہیک ہوسکتاہے۔

پاکستان، جودنیاکی بڑی فری لانس مارکیٹس میں شامل اپ ورک اور فیوور جیسے پلیٹ فارمز پر کام کرنیوالے ڈیولپرز تیزی سے اے آئی کوڈنگ ٹولز اپنارہے ہیں۔

مالی سال 2025-26 کے پہلے نصف میں پاکستانی فری لانسرز نے 500 ملین ڈالرسے زائدزرمبادلہ کمایا،جس میں ان ٹولز نے اہم کرداراداکیا۔

ای سافٹ حب کے شریک بانی ثوبان حنیف کے مطابق وائب کوڈنگ ایک ایساطریقہ ہے،جس میں صارف عام زبان میں ہدایات دے کر اے آئی سے مکمل ایپلی کیشن تیارکرواسکتاہے، تاہم انہوں نے خبردارکیاکہ اس عمل میں ”پرومپٹ انجیکشن“ اورنقصاندہ سافٹ ویئرکے خودکار اجراجیسے خطرات بھی شامل ہیں،جس سے غیرمجازرسائی ممکن ہوسکتی ہے۔

اعتزاز محسن کاکہناتھاکہ مسئلہ صرف اے آئی ماڈلز تک محدودنہیں، بلکہ ان پلیٹ فارمزکے بنیادی ڈھانچے میں موجودکمزوریاں بھی بڑاخطرہ ہیں،اگر ایک ڈیولپرزکاسسٹم متاثر ہوجائے تووہ بیک وقت کئی بین الاقوامی کلائنٹس کے ڈیٹاکوخطرے میں ڈال سکتاہے،جو ٹیکنالوجی پہلے صرف ریاستی سطح پر استعمال ہوتی تھی،اب عام سطح پر دستیاب ہورہی ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں اے آئی سے جڑے نئے خطرات کیلیے مناسب حکمت عملی موجودنہیں،پی ٹی اے کی موجودہ پالیسیوں میں بھی اے آئی ڈویلپمنٹ پلیٹ فارمزکیلیے واضح رہنمااصولوں کافقدان ہے۔

ماہرین نے حکومت اورآئی ٹی اداروں پر زوردیاہے کہ وہ جلد اے آئی سیکیورٹی سے متعلق قوانین اور حفاظتی اقدامات متعارف کروائیں، تاکہ آئی ٹی ایکسپورٹ سیکٹرکوممکنہ نقصانات سے بچایاجاسکے۔





Source link

Continue Reading

Today News

مکران کی نسیمہ کریم بلوچ کمرشل پائلٹ بننے کے لیے تیار

Published

on



کراچی:

بلوچستان کے ساحلی علاقے مکران کی نسیمہ کریم بلوچ کی ساحل سے آسمان کی بلندیوں تک اڑان، کمرشل پائلٹ بننے کا خواب کچھ دوری پررہ گیا. 

صنف نازک ہونے کے باوجود مردوں کیلیے مخصوص سمجھے جانیوالے شعبہ ہوابازی میں قدم رکھا،نسیمہ اپنی فلائنگ ٹریننگ کے 130 گھنٹے مکمل کر چکی ہیں، 200 فلائنگ آورزمکمل کرنے کے بعد وہ باقاعدہ طورپرکمرشل پائلٹ بن جائیں گی.

نسیمہ سیمو لیٹر اور ابتدائی گھنٹوں کی اڑان کے بعد پرائیوٹ پائلٹ لائسنس(پی پی ایل)حاصل کرچکی ہیں، اگلے مرحلے میں کمرشل پائلٹ لائسنس(سی پی ایل)کاامتحان دینگی۔

بلوچستان کے دورافتادہ ساحلی علاقے سے تعلق رکھنے والی باہمت اورباصلاحیت نوجوان لڑکی نسیمہ کریم بلوچ اپنے عزم اورہمت کی بدولت وہ مقام حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکی ہیں، جس کے بارے میں شاید خواب وخیال میں بھی نہیں سوچا جاتا ہو گا.

نسیمہ بلوچ کے مطابق ابتدائی فلائنگ گھنٹوں کی تکمیل اورامتحان کے وہ پرائیوٹ پائلٹ لائسنس حاصل کرچکی ہیں، حالیہ فلائنگ کمرشل پائلٹ لائسنس کے حصول کیلیے ہیں،جس میں سے130گھنٹے مکمل ہوچکے ہیں۔

نسیمہ بلوچ کے مطابق ان کا تعلق بھی پاکستان کے ان پسماندہ ترین علاقوں میں شامل مقام سے ہے،جہاں خواہش کے مطابق عملی طورپربڑھناجوئے شیرلانے کے مترادف ہے.

مگران کی خوش قسمتی کہہ لیں کہ ابتدائی اوربیشتر تعلیم متحدہ عرب امارات میں ہوئی،جس کی وجہ سے کئی مراحل بہت زیادہ پیچیدہ نہیں رہے،وہ اس لحاظ سے بہت زیادہ خوش قسمت رہیں کہ انھیں نہ صرف گھروالوں اورپورے خاندان کی بھرپورسپورٹ ملی۔

ان کا کہنا ہے کہ اسے آسمان کی بلندیوں پراڑنے والے پرندوں سے خصوصی شغف رہا۔ ماہرین ہوابازی کے مطابق پاکستان میں عموماہوابازی کے شعبے میں خواتین کارحجان بہت زیادہ نہیں ،تاہم نسیمہ یاان جیسی دیگرخواتین کاشعبے کوچنناخوش آئندہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایران جنگ سے کراچی کی فضا میں زہریلے مواد کی افواہیں بے بنیاد ہیں، ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ موسمیات

Published

on



محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر انجم نذیرضیغم نے ایران جنگ کی وجہ سے کراچی کی فضا میں زہریلے مواد اور ہوا کا معیار خراب ہونے کی افواہوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا ماحول فی الحال کسی بھی قسم کےخطرے سے باہرہے، ماضی کے مقابلے میں آج جدید آلات کے ذریعے زہریلے مادوں اور دھویں کے بادلوں کا پتا لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر انجم نذیر ضیغم نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کراچی میں کہیں آلودہ اور کہیں کالی بارش جیسی صورت حال پیدا ہونے کے معاملے میں کوئی صداقت نہیں ہے، نئے مغربی سلسلے کے زیراثر بلوچستان کے مختلف مقامات پر بارش ریکارڈ ہو رہی ہے تاہم کسی بھی جگہ سےکوئی غیرمعمولی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بارش کےعلاوہ ایک اور تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ مشرق وسطی اور ایران میں جنگی صورت حال کی وجہ سےکراچی میں ہواؤں کا معیار انتہائی خراب ہوسکتا ہے لیکن یہ تبصرے بھی بے بنیاد ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں داخل ہونے والے مغربی سسٹم کی وجہ سے سمندری ہواؤں کی مختصر وقت کے لیے بندش اور شمال مغربی ہواؤں کے اثرات کی وجہ سے ہواؤں میں معلق گردوغبار کی وجہ سےائیرکوالٹی انڈیکس میں اگر کسی وقت اضافہ محسوس ہوتا ہے، تو وہ معمول کی صورت حال کا نتیجہ ہوگا۔

انجم نذیر ضیغم نے کہا کہ بمباری ایران کے شمال مغربی حصے میں ہو رہی ہے، پاکستان کا بارڈر ایران کے جنوبی حصے سے ملتا ہے جہاں حالات معمول کے مطابق ہیں، ایران کی صورت حال 1992 کی خلیجی جنگ جیسی نہیں ہے جب بڑے پیمانے پر تیل کے کنوؤں کو آگ لگائی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات بلوچستان، پنجاب اور بالائی سندھ میں ہونے والی بارش میں کوئی منفی اثرات نہیں دیکھے گئے تاہم محکمہ موسمیات بارش کے پانی کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہےکہ پانی میں غیرمعمولی ذرات تو شامل نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 1992 کے برعکس آج ہمارے پاس جدید سیٹلائٹ ٹیکنالوجی موجود ہے، سیٹلائٹ فضا میں کسی بھی زہریلے مادے یا دھوئیں کے بادلوں کا فوری پتا لگانےکی صلاحیت رکھتے ہیں، اب تک کی سیٹلائٹ تصاویر پاکستان کی فضائی حدود کو بالکل صاف ظاہر کر رہی ہیں۔

ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ موسمیات نے کہا کہ عوام افواہوں پر کان نہ دھریں، حکومت اور متعلقہ ادارے صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، بارش فضا کو ہر قسم کی گرد اور آلودگی سےصاف کر دیتی ہے۔



Source link

Continue Reading

Trending