Today News
کرکٹر کا مقدمہ – ایکسپریس اردو
کرکٹر نسیم شا ہ کو ایک متنازعہ ٹوئٹ کرنے پر پی سی بی نے دو کڑور جرمانہ کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ نسیم شاہ نے اس ٹوئٹ پر معافی بھی مانگ لی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا پی سی بی نے درست فیصلہ کیا ہے؟ کیا جرمانہ کافی سزا ہے۔
کچھ دوستوں کی رائے ہے کہ بات معافی پر ختم ہو جانی چاہیے تھی۔ لیکن کچھ دوستوں کی رائے ہے کہ جرمانہ کوئی سزا نہیں ہے بلکہ پی سی بی نے نسیم شاہ کے ساتھ کافی رعائت کر دی ہے۔
وہ دوست جن کا موقف ہے کہ رعائت ہوئی ہے، ان کا موقف ہے کہ پاکستان کرکٹ کا سب سے بڑا مسئلہ ڈسپلن کا فقدان ہے۔ جو کوئی اسٹار بن جاتا ہے، وہ خود کو ڈسپلن سے مبرا سمجھنے لگتا ہے۔
وہ ڈسپلن کے ماتحت نہیں رہتا بلکہ ڈسپلن اس کے ماتحت ہو جاتا ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ ماضی میںایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں بڑی بڑی باتوں کو صرف پلیئر کی ’’اسٹار ویلیو‘‘ کی وجہ سے نظر انداز کیا گیا ہے۔ اب بھی یہی ہوا ہے۔
نسیم شاہ ایک اسٹار ہیں، اس لیے نرمی کی گئی ہے۔ اگر کسی کمزور پلیئر نے یہی حرکت کی ہوتی تو اسے کہیں زیادہ سخت سزا دی جاتی، اس لیے پی سی بی میں پلیئر کی اسٹار ویلیو دیکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے، فیصلہ کرنے کا کوئی شفاف نظام نہیں ہے۔
اسی لیے پاکستا ن کرکٹ میں ڈسپلن کی کمی ہے۔ اب ایسا ہی چل رہا ہے۔ پلیئرز رات دیر تک مہمانوں کو کمروں میں آنے دیتے ہیں۔ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ پلیئرز ڈسپلن اور کوڈ آف کنڈکٹ کو کوئی زیادہ اہمیت نہیں دیتے ہیں ۔
کرکٹ اسٹارز عوام میں مقبول ہوتے ہیں۔ لوگ ان سے ان کی کرکٹ صلاحیتوں کی وجہ سے محبت کرتے ہیں۔ عوام کی محبت ان نوجوانوں کو خود سر بنا دیتی ہے، پھر کم عمری میں دولت بھی آجاتی ہے۔
ایسا صرف پاکستا ن میں نہیں ہے، دنیا بھر میں ایسا ہی ہے، اسی لیے ان نوجوانوں کو ڈسپلن میں رکھنے کے لیے سخت قواعد بنائے جاتے ہیں ، ان کے لیے کوڈ آف کنڈکٹ بنائے جاتے ہیں۔ یہ ملک کی نمائندگی کرتے ہیں، اس لیے ان کا کردار ملک کے لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔
دنیا پھر کی تمام کھیلوں جہاں سٹا ر ویلیو ہے، وہاں یہ مسائل ہیں۔ صرف کرکٹ میں یہ مسائل نہیں ہیں، فٹ بال میں بھی یہ مسائل ہیں۔
دیگر مقبول کھیلوں میں بھی یہ مسائل ہیں۔ اچھے کھلاڑی اپنے ا چھے کھیل کی وجہ سے خود کو ناگزیرسمجھنے لگتے ہیں۔ وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کے بغیر کام چل نہیں سکتا۔
یہیں سے ڈسپلن نافذ کرنے والوں کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ ریگولیٹر کا امتحان شروع ہوتا ہے، اس نے ڈسپلن کو بلا امتیاز نافذ کرنا ہوتا ہے۔ ورنہ اس کی رٹ کمزور ہو جاتی ہے۔ پاکستان کا سب سے مقبول کھیل کرکٹ ہے۔
یہاں پی سی بی کی رٹ ہمیشہ سے ’’پلیئر پاور‘‘ کے سامنے کمزور رہی ہے۔ ماضی میں پلیئرز نے کئی دفعہ پی سی بی کے خلاف بغاوت کی ہے۔ کپتانوں کے خلاف بغاوت کی گئی ہے، کھیلنے سے انکار کیا گیا۔ میچ فکسنگ کی گئی ہے۔
یہ سب کمزور رٹ کی وجہ سے ہوا ہے۔ اگر پی سی بی کا رعب اور خوف ہوتا تو کوئی کیسے جرات کر سکتا ہے۔ ایک کو عبرت کا نشان بنایا ہوتا تو دوسرے کو جرات نہیں ہوتی۔ آج بھی پاکستان کرکٹ کو ان مسائل کا سامنا ہے۔
آج بھی انھی مسائل کی وجہ سے ہماری کرکٹ آلود ہ ہے۔ ایک رائے ہے کہ نسیم شاہ کے معاملے پر نرمی کی گئی ہے۔ دو سال کی پابندی بھی لگنی چاہیے تھی، ان کا سینٹرل کنٹریکٹ بھی منسوخ ہونا چاہیے تھا۔
ادھر ایک اور رائے یہ بھی سامنے آئی ہے کہ محترمہ مریم نواز کو بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے نسیم شاہ کو معاف کر دینا چاہیے تھا۔ میں سمجھتا ہوں یہ کوئی درست بات نہیں۔
مریم نواز ایک سیاستدان ہیں، ان پر بہت لوگ تنقید کرتے ہیں، کئی صحافی ان پر تنقید کرتے ہیں بلکہ نسیم شاہ کی ٹوئٹ سے کہیں زیادہ سخت تنقید کرتے ہیں۔ ان کے مخالف سیاستدان ان پر اس سے کہیں زیادہ سخت تنقید کرتے ہیں۔
اس لیے ایک سیاستدان کے لیے تنقید اور مخالفت کوئی نئی چیز نہیں ہوتی۔ اسے مخالفت برداشت کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ایسا تو نہیں ہے کہ نسیم شاہ کوئی پہلا شخص ہے جس نے وزیراعلیٰ مریم نواز پر تنقید کی ہے۔
اس لیے سوال مریم نواز پر تنقید کا ہے ہی نہیں ۔ جو لوگ اس کو مریم نواز کی ذات سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ کھیل کے ڈسپلن سمجھتے نہیں ہیں یا کھیلوں کو سیاست کی نذر کرنا چاہتے ہیں۔
جیسے کوئی سرکاری ملازم سیاسی پوسٹ نہیں لگا سکتا، کیونکہ وہ ریاست کا ملازم ہے، اس پر ریاست کا کوڈ آف کنڈکٹ نافذ ہوتا ہے۔ ایسے ہی کھلاڑیوں سے بھی یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ کھیل کے دوران غیر سیاسی رہیں گے۔
اسی لیے تماشائیوں کے لیے بھی کوڈ آف کنڈکٹ بنایا جاتا ہے کہ سٹیڈیم میں کوئی سیاسی جھنڈا نہیںہوگا۔ سیاسی نعرہ بازی نہیں کی جائے گی۔ کیونکہ کھیل کا میدان کوئی سیاسی اکھاڑا یا جلسہ گاہ نہیں ہے۔ جب تماشائیوں پر کوڈ آف کنڈکٹ لاگو ہوتا ہے تو پھر کھلاڑیوں پر کیوں نہیں ہوگا۔ کھلاڑیوں پر ڈسپلنیری قوانین زیادہ سخت ہوتے ہیں۔
جب بھارت کھیل میں سیاست لیکر آتا ہے تو ہم سب بھارت کی مذمت کرتے ہیں اور ہمارا مشترکہ موقف ہوتا ہے کہ کھیل میں سیاست نہیں ہونی چاہیے، جب بھارتی کھلاڑی کھیل میں سیاست لاتے ہیں تو ہم ان کی بھی مذمت کرتے ہیں کہ کھیل میں سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
جب یہ ہم سب کا موقف ہے تو ہم نسیم شاہ کی دفعہ کیوں رعائت کی باتیں کیوں کرتے ہیں۔ یہاں بھی سخت سزا کی بات کی جانی چاہیے کیونکہ رعایت دینے کی بات ہمارے اجتماعی موقف کو کمزور کرتی ہے، ڈسپلن کو کمزور کرتی ہے۔ بس بات سمجھنے کی ہے۔
Today News
تربت، گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کے قریب راکٹ حملے میں شہر گونج اٹھا
بلوچستان کے ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت شہر میں منگل کی رات ایک بار پھر سیکیورٹی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا جب نامعلوم افراد نے یوبی جی ایل سے راکٹ فائر کیا۔
راکٹ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج تربت اور ایک قریبی سرکاری ادارے کے آس پاس گرا، جس کی زور دار دھماکے کی آواز شہر کے مختلف محلات میں دور دور تک سنائی دی۔
سرکاری ذرائع، مقامی انتظامیہ اور عینی شاہدین کے مطابق راکٹ کالج کی عمارت سے چند سو میٹر کے فاصلے پر ایک تعلیمی اور رہائشی زون میں گرا۔
خوش قسمتی سے اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور بڑے پیمانے پر مالی نقصان بھی نہیں ہوا۔
تاہم، راکٹ کے گرنے سے آس پاس کی دیواروں اور عمارتوں میں معمولی ہلچل اور دراڑیں پڑنے کی ابتدائی رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق منگل کی رات دیر گئے یہ واقعہ پیش آیا۔ راکٹ کی شدت اور آواز سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ ایک طاقتور چھوٹے فاصلے والا راکٹ تھا۔
حملہ آوروں نے جان بوجھ کر شہری آبادی اور لڑکیوں کے اہم تعلیمی ادارے کے قریب فائرنگ کی جو ایک بزدلانہ کارروائی قرار دی جا رہی ہے۔
گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج تربت بلوچستان کے جنوبی علاقوں میں لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کا ایک اہم مرکز ہے جہاں سینکڑوں طالبات مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔
یہ ادارہ خواتین کے بااختیار بنانے اور علاقائی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ایسا حملہ نہ صرف طلبہ و طالبات کی ذہنی سکون کو متاثر کرتا ہے بلکہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر بھی سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیر لیا اور وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
پولیس، لیویز فورس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ ٹیمیں گھر گھر چیکنگ،آس پاس کے علاقوں میں گشت اور ممکنہ ملزمان کی نقل و حرکت پر سخت نگرانی کر رہی ہیں علاقے میں سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
Today News
ایران ٹیبل پر آئے یا نہ آئے، ہم دو سے تین ہفتوں میں جنگ ختم کر کے نکل جائیں گے، صدر ٹرمپ
واشنگٹن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اپنے اختتام کے قریب ہے اور امریکا کسی بھی صورت میں اپنا مشن مکمل کر کے پیچھے ہٹ جائے گا چاہے ایران مذاکرات کی میز پر آئے یا نہ آئے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کو اس حد تک نقصان پہنچایا جا چکا ہے کہ وہ 20 سال پیچھے جا چکا ہے اور اگر امریکا کو یقین ہوگیا کہ ایرانی ایٹمی خطرہ ختم ہوچکا ہے تو وہ بغیر کسی معاہدے کے بھی جنگ سے نکل جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران میں بڑی تبدیلیاں آچکی ہیں اور وہاں ایک کم شدت پسند گروپ سامنے آیا ہے جبکہ ان کے مطابق امریکا کا مقصد رجیم چینج نہیں بلکہ صرف ایٹمی خطرے کا خاتمہ تھا۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں جنگ مکمل طور پر ختم ہوسکتی ہے تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر ڈیل ہوتی ہے تو ٹھیک ورنہ امریکا کو اس کی ضرورت نہیں کیونکہ ایران کو ڈیل کی زیادہ ضرورت ہے ہمیں نہیں۔
اپنی گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے داخلی معاملات پر بھی سخت مؤقف اپناتے ہوئے ڈیموکریٹس پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے سرحدیں کھول کر امریکا کو جرائم پیشہ افراد کے لیے آسان بنا دیا تھا تاہم اب سخت قوانین کے ذریعے حالات کو کنٹرول کرلیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ واشنگٹن ڈی سی میں جرائم کی شرح 98 فیصد تک کم ہوچکی ہے اور شہر امریکا کا محفوظ ترین علاقہ بن چکا ہے۔
اسی دوران انہوں نے صدارتی حکم نامہ جاری کرتے ہوئے میل ان ووٹنگ کے نظام کو مزید سخت اور محفوظ بنانے کی ہدایت دی جبکہ وائٹ ہاؤس کی سیکیورٹی کو بھی غیرمعمولی سطح تک بڑھانے کا اعلان کیا جس میں بلٹ پروف شیشے، ڈرون پروف چھت اور بم شیلٹرز شامل ہیں۔
ایرانی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ اب تک استعمال کرچکا ہوتا اس لیے امریکا نے بروقت کارروائی کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنایا جا رہا ہے اور دنیا کے ممالک وہاں سے باآسانی تیل حاصل کر سکتے ہیں۔
Today News
روس کا فوجی طیارہ پہاڑ سے ٹکرا کر تباہ، 29 افراد ہلاک
روس کا این 26 فوجی طیارہ کریمیا میں خوفناک حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں سوار تمام 29 افراد ہلاک ہوگئے۔
روسی میڈیا کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اُس وقت پیش آیا جب روسی فوج کا ٹرانسپورٹ طیارہ اچانک ریڈار سے غائب ہوگیا اور بعد ازاں ایک پہاڑی چٹان سے ٹکرا کر مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ حادثے میں 23 مسافر اور 6 عملے کے ارکان شامل تھے۔
روسی وزارتِ دفاع کے حوالے سے خبر ایجنسیوں نے بتایا کہ طیارے سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد تلاش شروع کی گئی جس کے بعد ملبہ کریمیا کے پہاڑی علاقے میں ملا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے میں کوئی بھی شخص زندہ نہیں بچا۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق جائے حادثہ سے ملنے والی معلومات میں بتایا گیا کہ طیارہ سیدھا چٹان سے ٹکرایا جبکہ ایک اور میڈیا نے ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے کہا ہے کہ حادثہ ممکنہ طور پر فنی خرابی کے باعث پیش آیا۔
حکام کی جانب سے واقعے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ اصل وجوہات سامنے لائی جا سکیں۔
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: BUILT FOR ACTION – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Sana Faysal Replies To Saba Faisal’s Viral Statement
-
Sports2 weeks ago
Buttler ready to continue England career despite ‘poor’ T20 World Cup – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Turning grief into purpose – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Rabeeca Khan’s Father’s Tips For Daughters Marriages
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Films Releasing In Cinemas & TV On Eid Ul Fitr 2026
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The woman in the red dress – Newspaper
-
Today News2 weeks ago
رمضان، عید اور پٹرول بم