Today News
کفایت شعاری مہم، کس کی تنخوا سے کتنی کٹوتی ہوگی؟ نوٹی فکیشن جاری
وفاقی حکومت نے ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری پالیسی کے تحت مزید اقدامات نافذ کرتے ہوئے آئندہ دو ماہ کے لیے تمام سرکاری غیر ملکی دوروں پر مکمل پابندی عائد کردی۔
تفصیلات کے مطابق حکومت نے سرکاری کارپوریشنز، خودمختار اداروں، ریگولیٹری اتھارٹیز اور سرکاری ملکیتی اداروں کے اعلیٰ افسران کی تنخواہوں میں دو ماہ کے لیے کٹوتی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔
نوٹی فکیشن کے مطابق یہ رقم وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ 2026 میں جمع کرائی جائے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر اعظم نے کابینہ ڈویژن کی 9 اور 10 مارچ 2026 کی جاری کردہ ہدایات کے تسلسل میں مانیٹرنگ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں نئے اقدامات کی منظوری دی ہے۔
ان اقدامات کے تحت سرکاری کارپوریشنز، خودمختار اداروں، ریگولیٹری اتھارٹیز اور سرکاری ملکیتی اداروں کے اعلیٰ افسران کی تنخواہوں میں دو ماہ کے لیے کٹوتی کی جائے گی اور یہ رقم وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ 2026 میں جمع کرائی جائے گی۔
کتنی تنخواہ پر کتنی کٹوتی ہوگی؟
نوٹیفکیشن کے مطابق تین لاکھ سے دس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے افسران کی تنخواہ سے 5 فیصد، دس لاکھ سے بیس لاکھ روپے تنخواہ والوں سے 15 فیصد، بیس لاکھ سے تیس لاکھ روپے تنخواہ والوں سے 25 فیصد جبکہ تیس لاکھ روپے سے زائد تنخواہ لینے والوں سے 30 فیصد کٹوتی دو ماہ تک کی جائے گی۔
اسی طرح سرکاری نامزد افراد کو سرکاری و نجی کمپنیوں کے بورڈ اجلاسوں میں ملنے والی 100 فیصد فیس بھی آئندہ دو ماہ کے لیے وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ 2026 میں جمع کرائی جائے گی۔
وزارت خارجہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ 23 مارچ 2026 کو بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں میں تقریبات کے بجائے سادہ پرچم کشائی کی جائے گی، علاوہ ازیں بیرون ملک مشنز کے بجٹ میں بھی چوتھی سہہ ماہی کے لیے 20 فیصد کمی اور افسران کی دو روزہ تنخواہ کی کٹوتی لاگو ہوگی۔
نوٹی فکیشن کے مطابق کرایوں، تعلیمی اخراجات اور طبی سہولیات سے متعلق ادائیگیاں جاری رہیں گی۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور ریونیو ڈویژن پر ورک فرام ہوم اور چار روزہ ورک ویک کی پابندیاں لاگو نہیں ہوں گی تاکہ محصولات کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
اسی طرح کسٹمز انفورسمنٹ اور ان لینڈ ریونیو انفورسمنٹ نیٹ ورک کے آپریشنل گاڑیوں پر ایندھن میں کمی اور گاڑیوں کو بند رکھنے کی پابندی لاگو نہیں ہوگی تاہم مجموعی طور پر ایندھن کی بچت کے اہداف پورے کیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سول آرمڈ فورسز کو بھی سکیورٹی ضروریات کے باعث ورک فرام ہوم اور چار روزہ ورک ویک سے استثنیٰ دیا گیا ہے تاہم وہ شعبے جو براہ راست فیلڈ آپریشنز میں شامل نہیں ہیں ان پر ایندھن میں پچاس فیصد کمی اور ساٹھ فیصد سرکاری گاڑیوں کو بند رکھنے کی پابندی لاگو ہوگی۔
حکومت نے آئندہ دو ماہ کے لیے تمام سرکاری غیر ملکی دوروں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے البتہ ایسے تربیتی پروگرام جو مکمل طور پر بین الاقوامی اداروں کے فنڈ سے ہوں اور جن کے لیے باقاعدہ انتخابی عمل مکمل ہو چکا ہو، انہیں اس پابندی سے استثنی حاصل ہوگا۔
مزید برآں سرکاری گاڑیوں کے استعمال کو صرف سرکاری امور تک محدود کرنے، حساس شخصیات کے سکیورٹی قافلوں کو محدود کرنے اور اجلاسوں کے لیے زیادہ سے زیادہ ویڈیو لنک اور ٹیلی کانفرنسنگ استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے ان اقدامات پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے تمام وفاقی و صوبائی اداروں کو ہفتہ وار رپورٹ ایک ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے جمع کرانے کی ہدایت کی جبکہ انٹیلی جنس بیورو ایندھن میں کمی اور سرکاری گاڑیوں کی بندش کے اقدامات کا آڈٹ کرکے وزیر اعظم کو ہفتہ وار رپورٹ پیش کرے گا۔
اس کے علاوہ کفایت شعاری اقدامات سے حاصل ہونے والی بچت کو وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ 2026 میں منتقل کرنے کے لیے وفاق اور صوبوں کے مالیاتی سیکریٹریز پر مشتمل ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو آئندہ اجلاس میں اپنی سفارشات پیش کرے گی۔
Source link
Today News
جنگی جنون اور اقوام متحدہ کی حیثیت کا سوال
امریکا اسرائیل کے ایران پر حالیہ حملوں کے نتیجے میں خلیج کے خطے میں جاری جنگ کے حوالے سے اقوام متحدہ میں روس کی جانب سے جنگ بندی کی قرار داد کو امریکا نے ویٹو کرکے مذکورہ خطے کو جنگ و جدل میں مبتلا رکھنے کا عندیہ دے کر دنیا کے امن پسند اور جنگی جنون سے نفرت کرنے والوں کو پیغام دیا ہے کہ امریکا اور اس کے سرمایہ دار حلیف ممالک اپنے سرمائے کے تحفظ اور دنیا کے معدنی ذخائر کو طاقت اور سرمائے کی بنیاد پر نگلنا چاہتا ہے۔
جس میں امریکی سرمایہ دارانہ مفادات کا ساتھ یورپ سے لے کر خلیج،برصغیر کے ممالک دے رہے ہیں جب کہ ایران، روس اور چین امریکی جارحیت کے خلاف دنیا میں ایک ایسا ماحول تیار کرنے کی جستجو میں ہیں جو امریکی و اسرائیلی ہٹ دھرمی کے خلاف تو نظر آتا ہے۔
مگر ’’امپریل ازم‘‘ یا عالمی سامراج کی سرمایہ دارانہ لوٹ کھسوٹ یا اتحاد پر دنیا کے عوام کی توجہ نہیں مبذول کرانا چاہتا ہے اور نہ ہی عالمی سامراج کے جبر پر کوئی واضح بیانیہ دینا چاہتا ہے۔
سوشلسٹ روس کے ابتدائی سالوں میں پہلی عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والی ریاست ہائے متحدہ Nation of the leagueبنیادی طور سے انگلستان، فرانس اور جرمنی کے نو آبادیاتی مفادات کو تحفظ دینے کے لیے قائم کی گئی تھی۔
جس پر لینن نے ’’سوشلسٹ انقلاب‘‘ نامی پمفلٹ میں ریاست ہائے متحدہ بننے کے بارے میں کہا تھا کہ ’’اس قسم کے ادارے سرمایہ داری کے انتہائی ارتقا کے دور میں مٹھی بھر عظیم طاقتوں کے ہاتھوں کرہ ارض کے اربوں افراد کی لوٹ کھسوٹ کے لیے منظم کیے جاتے ہیں اور ایسے اداروں کے ذریعے یہ سامراجی ممالک اپنی نو آبادیوں کے حصے بخرے کرنے کے لیے سرمایہ دارانہ گٹھ جوڑ کرتے ہیں۔
لینن نے دنیا کو اس وقت ہی خبردار کیا تھا کہ،ناہموار اور غیر مساوی معاشی اور سیاسی ارتقا سرمایہ داری کا اٹل قانون ہے،جس کا خاتمہ سوشلزم کی فتح ہی سے ممکن ہے‘‘۔
لینن کی یہ باتیں جنگ عظیم دوم کے بعد آج بھی نہ صرف درست بلکہ دنیا میں سرمایہ دارانہ لوٹ کھسوٹ کا بھیانک چہرہ دکھانے کے لیے آج کی حقیقت ہیں،یاد رہے کہ دنیا میں امریکی تسلط کو امپریل ازم کی طاقتوں کے تحت جب نافذ کیا گیا تو اقوام متحدہ نامی ادارہ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد 1945بنا یا گیا،جس میں دنیا کے 50امریکی زیر اثر ممالک شریک تھے، جب کہ اقوام متحدہ کی مخالفت اس وقت کی تمام سوشلسٹ ریاستوں نے کی تھی۔
وینزویلا کے صدر کو اغوا کرنے یا ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف قرارداد نہ لانے پر سامراجی ممالک اور ان کے لے پالک بادشاہتیں ایران پر جنگ مسلط کرنے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے۔
تو کیا اس حقیقت کو مان لیا جائے کہ آج کی جدید اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں بھی اقوام متحدہ کا ادارہ امریکا اور اس کے سرمایہ دار حلیف ممالک کی ایسی لونڈی بنا ہوا ہے،جو خریدے ہوئے ووٹ کی طاقت سے کسی بھی ملک پر نہ صرف حملہ کر سکتا ہے بلکہ امپیریل ازم کی بقا کے لیے کسی بھی ملک پر قابض ہو کر اپنی مرضی و منشا کی حکومت لا سکتا ہے۔
جب کہ پوری اقوام متحدہ امپریلسٹ قوتوں کے نمائندے امریکا کے سامنے عضو معطل بنا ہوا ہے، عالمی دنیا کے خط افلاس میں مبتلا عوام کے سامنے یہ وہ سوال ہے جو ایک صدی پہلے مفاد پرست سامراجی اداروں کے بارے میں روس کے انقلابی رہنما لینن اٹھا چکے ہیں جب کہ یہ سامراجی ممالک امریکا کی فرمانبرداری اور عوام کے سرمائے کی لوٹ کھسوٹ کے ساتھ ترقی پذیر ممالک کی آزادی و خود مختاری کو دھڑلے سے چبا رہے ہیں۔
اور دوسری جانب اقوام متحدہ کا ادارہ اپنے مجرمانہ سلوک سے اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے جب کہ اقوام متحدہ کے قیام کے وقت چارٹر میں واضح طور پر درج ہے کہ ’’اقوام متحدہ کا بنیادی مقصد دنیا میں امن و سلامتی برقرار رکھنا اور نسلی جنگوں سے بچنا ہے‘‘۔
سوال یہ ہے کہ کیا اقوام متحدہ اپنے بنیادی مقصد امن و سلامتی اور جنگیں روکنے پر عمل کر رہا ہے،اگر ایسا نہیں ہے تو لینن کا یہ کہنا بالکل درست ثابت ہوتا ہے کہ ’’ایسے ادارے صرف اربوں عوام کی معاشی لوٹ کھسوٹ اور وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے قائم کیے جاتے ہیں‘‘۔
امریکا اسرائیل اور ایران کی حالیہ جنگی ماحول میں تینوں فریق اپنی اپنی سبقت کی خبریں چلانے میں مصروف ہیں جب کہ آبنائے ہرمز پر ایرانی پاسداران انقلاب کے فوجی اپنی دسترس قائم کیے ہوئے ہیں جس سے پوری دنیا تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے نہ صرف پریشان ہے بلکہ دنیا کی معیشتوں پر آبنائے ہرمز کے راستوں پر پڑی بارودی سرنگیں جہاں تیل کی ترسیل میں رکاوٹ کا سبب بن رہی ہیں۔
وہیں عالمی طور سے ملکوں کے عوام پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے جس سے عالمی طور سے معاشی بد حالی سر ابھار رہی ہے،جس سے مختلف ممالک کی حکومتوں کی بقا خطرے میں دکھائی دیتی ہے۔
جب کہ تیل کی آسان رسد کے نہ ہونے سے امریکا کی عالمی طاقت عالمی طور سے عوام کے اندر ایک منفی رجحان پیدا کر رہی ہے،جس کا مکمل فائدہ ایران کی حکومت نہ صرف اٹھا رہی ہے بلکہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کی گئی جارحیت کو ایران اور اس کا اتحادی میڈیا بڑھ چڑھ کر بیان کر رہا ہے جس سے عالمی طور پر جہاں امریکی طاقت کی ساکھ خراب ہو رہی ہے۔
وہیں دنیا اور خاص طور پر خلیجی ممالک کا امریکا پر انحصار بھی ایک سوال پیدا کر رہا ہے، اس تناظر میں مستقبل میں خلیجی ممالک اپنے دفاع کی جنگ کس طرح لڑیں گے یا اپنی بادشاہتوں کو کس طرح محفوظ بنائیں گے۔
اس وقت یہ سوال خلیج و فارس اور امریکا اسرائیل جنگ کے ضمن میں اہم بن چکا ہے،گو اقوام متحدہ میں امریکا نے اپنے اثر و رسوخ سے خلیجی ممالک کی ایرانی حملوں کے ضمن میں قرارداد منظور کر والی ہے،مگر یہ قرارداد ایران کے جوابی حملوں میں کوئی کمی اب تک نہیں لا سکی ہے۔
امریکا اسرائیل اور ایران کی حالیہ جنگ میں عالمی طور سے مختلف تبصروں میں یہ ضرور کہا جا رہا ہے کہ امریکا کی جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی کی طاقت کو شکست دینا کم از کم ایران کے بس کا روگ نہیں۔
مگر دوسری جانب یہ بات بھی منظر عام پر لائی جا رہی ہے کہ ایران کی میزائل اور ڈرون میزائل کی صلاحیت اور دباؤ کے پیش نظر یہ جنگ امریکا کو زر مبادلہ کے حوالے سے نہ صرف مہنگی پڑ رہی ہے بلکہ اس کی جدید ترین ٹیکنالوجی بھی سوالات کی نذر ہورہی ہے۔
اسی کے ساتھ اس امکان کو بھی خارج نہیں کیا جا سکتا کہ امریکی مہنگے ہتھیاروں کے تباہ ہونے یا غیر موثر ہونے سے امریکی معیشت کسی بھی وقت ایک شدید بحران سے دوچار ہو سکتی ہے۔
امریکا اسرائیل اور ایران کی موجودہ جنگ میں اس خیال کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ طویل جنگی حکمت عملی ایران کے مفاد اور سلامتی کے لیے ضروری تصور کی جا رہی ہے جب کہ امریکا اور اسرائیل کی یہ خواہش ہے کہ جلد سے جلد جنگ ختم کی جائے تاکہ امریکا اور اسرائیل نہ صرف بڑی تباہی سے بچ سکیں بلکہ مستقبل کے حملے کے نئے زاویے بھی تلاش کریں۔
Today News
روس انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایران امداد بھیجنے والا پہلا ملک بن گیا
روس حالیہ علاقائی جنگ کے دوران ایران کو انسانی امداد بھیجنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کی جانب سے بھیجی گئی امداد کھیپ ایک Il-76 کارگو طیارہ 13 ٹن سے زائد طبی سامان لے کر آذربائیجان پہنچا ہے جہاں سے یہ امداد ٹرکوں کے ذریعے سرحد پار کر کے ایرانی حکام کے حوالے کی جائے گی۔
اس امدادی کھیپ میں ہنگامی طبّی سامان، آلات اور ادویات شامل ہیں۔ جس کا مقصد حالیہ کشیدگی کے دوران ایران میں متاثرہ افراد کو فوری طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
روسی وزارت ہنگامی حالات نے بتایا کہ یہ امدادی مشن روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی ہدایت پر شروع کیا گیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ روس خطے میں انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے امدادی اقدامات جاری رکھے گا۔
روس کا یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے اور خطے میں متعدد مقامات پر حملوں اور فوجی کارروائیوں کی اطلاعات مل رہی ہیں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ مجھے معلوم ہے، روس تھوڑی بہت ایران کی مدد کر رہا ہے جیسے ہم یوکرین کو کرتے ہیں۔
Today News
عالمی یوم القدس، مزاحمت کا استعارہ ہے
دنیا بھر میں رمضان المبارک کا آخری جمعہ قبلہ اول بیت المقدس یعنی القدس شریف کے نام سے منسوب ہے۔ دنیا بھر میں لوگ اس دن کو یوم القدس مناتے ہیں۔
دنیا بھر میں ہر سال ماہِ رمضان کے آخری جمعہ کو منایا جانے والا یوم القدس صرف ایک علامتی دن نہیں ہے بلکہ ایک عالمی بیداری، مزاحمت اور مظلوموں سے یکجہتی کی علامت بن چکا ہے۔
اس دن کا آغاز ایران میں اسلامی انقلاب کے بانی حضرت امام خمینی ؒ کے حکم پر شروع ہوا تھا۔ امام خمینی نے رمضان کے آخری جمعہ کو یوم القدس قرار دیا اور دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس ایک دن کو فلسطین کی آزادی اور قدس کی بازیابی کے لیے متحد ہوکر ہم آواز ہوجائیں اور دنیا کو پیغام دیں کہ فلسطین کی آزادی کے لیے مسلمان دنیا بھر میں متحد ہیں۔
امام خمینی ؒ کی اس اپیل پر آج بھی دنیا بھر میں بالخصوص فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں بھی رمضان کے آخری جمعہ یوم القدس منایا جاتا ہے۔
یہ دن مسلمانوں کے لیے اتحاد کی علامت بن چکا ہے اور دنیا بھرکے حریت پسندوں کے لیے ایک مرکزی دن کی حیثیت اختیارکرچکا ہے۔
اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دنیا کے مسلمان اور آزادی پسند افراد فلسطین کے مسئلے کو زندہ رکھیں اور مقبوضہ فلسطین و القدس کی آزادی کے لیے اپنی آواز بلندکریں۔
امام خمینی نے اپنے فرامین میں لوگوں کو تاکید کی کہ یوم القدس ایک عام دن نہیں۔ انھوں نے اس دن کو ظالم طاقتوں کی نابودی کا دن قرار دیا۔ انھوںنے یوم القدس کو فلسطین کی آزادی کا دن قرار دیا اورکہا کہ اسرائیل عالم اسلام کے قلب میں ایک خنجر کی مانند ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے یوم القدس دنیا کے مختلف ممالک میں جلسوں، ریلیوں اورکانفرنسوں کی صورت میں منایا جاتا رہا ہے، تاہم 7 اکتوبر 2023 کے بعد اس دن کی اہمیت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اس تاریخ کو حماس کی جانب سے اسرائیل کے خلاف شروع ہونے والی بڑی دفاعی کارروائی جسے طوفان الاقصیٰ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، نے پورے خطے کی سیاست کو بدل کر رکھ دیا۔
اس کے بعد غزہ میں جاری جنگ نے دنیا کو ایک مرتبہ پھر فلسطین کے مسئلے کی سنگینی کا احساس دلایا۔7 اکتوبر کے بعد سامنے آنے والی صورتحال نے یہ واضح کر دیا کہ فلسطین کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک انسانی اور عالمی مسئلہ ہے۔
غزہ میں جاری جنگ، ہزاروں شہریوں کی شہادت اور انسانی بحران نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوم القدس اب پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے کیونکہ یہ دن صرف فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار نہیں بلکہ ظلم کے خلاف اجتماعی آواز بلند کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
حالیہ رمضان المبارک میں آنے والا یوم القدس جوکہ 23رمضان المبارک کو دنیا بھر میں منایا گیا۔ ایسے حالات میں آیا کہ جب امریکا و اسرائیل اور مغربی دنیا نے فلسطین اور لبنان میں نسل کشی کے بعد اب ایران کا رخ کر رکھا ہے۔
ایران خطے میں گریٹر اسرائیل کے راستے کا ایک مضبوط پتھر اور رکاوٹ ہے جسے امریکا و اسرائیل اور ان کے حواری گرانا چاہتے ہیں، اگر آج ایران کو شکست ہوئی تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فلسطین پر اسرائیل کا مکمل قبضہ آسان ہوجائے گا اور ساتھ ساتھ خطے میں دیگر ممالک میں بھی گریٹر اسرائیل کی سرحدیں کھینچ دی جائیں گی۔
یوم القدس کا اصل پیغام مزاحمت، استقامت اور عوامی بیداری ہے۔ فلسطینی عوام نے گزشتہ کئی دہائیوں میں جس صبر اور حوصلے کے ساتھ اپنی سرزمین کے دفاع کی جدوجہد جاری رکھی ہے، وہ دنیا کے مظلوم عوام کے لیے ایک مثال بن چکی ہے۔
غزہ اور مغربی کنارے کے عوام سمیت لبنان کے عوام نے یہ ثابت کیا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود آزادی کی جدوجہد کو زندہ رکھا جا سکتا ہے۔ آج غزہ وفلسطین سمیت لبنان اور یمن کے عوام نے القدس کی آزادی کے لیے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔
حال ہی میں ان قربانیوں میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے رفقاء اور اہل و عیال نے بھی اس راستے میں جام شہادت نوش کرلیا ہے۔
یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ کسی بھی تحریک کی کامیابی صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ عوامی شعور اور عالمی رائے عامہ میں بھی طے ہوتی ہے۔ 7 اکتوبر کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں فلسطین کے حق میں بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آئے۔
یورپ، امریکا، ایشیا اور افریقہ کے کئی شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکیا۔ یہ عالمی بیداری اس بات کا ثبوت ہے کہ یوم القدس کا پیغام سرحدوں سے بالاتر ہو چکا ہے۔
عوام کا کردار اس جدوجہد میں انتہائی اہم ہے۔ حکومتوں کی پالیسیوں کے باوجود عوامی دباؤ اکثر بین الاقوامی سیاست کا رخ بدل دیتا ہے۔ اسی لیے یوم القدس کو منانے کا مقصد صرف احتجاج نہیں بلکہ شعور پیدا کرنا، نئی نسل کو مسئلہ فلسطین سے آگاہ کرنا اور عالمی ضمیرکو بیدار رکھنا بھی ہے۔
جب دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں افراد فلسطین کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں تو یہ پیغام واضح طور پر سامنے آتا ہے کہ حق کی جدوجہد کو دبایا نہیں جا سکتا۔ یہ بات ہمارے تمام شہداء نے تکرارکی ہے کہ حق کی آوازکو دبایا نہیں جا سکتا۔
آج یوم القدس حق کی آواز ہے جو گونج رہی ہے اور دنیا کے با ضمیر انسانوں کو بیدارکرنے کا کام کر رہی ہے، اگرچہ آج ہمارے درمیان امام خمینی اور امام خامنہ ای کی شخصیات موجود نہیں ہیں لیکن ان کے افکار موجود ہیں۔
ان کا راستہ ہمارے لیے واضح ہے، اگر آج اس راستے میں اسماعیل ہانیہ، یحیٰ سنوار، محمد ضیف اور حسن نصر اللہ سمیت ہاشم صفی الدین اور دیگر اہم رہنماؤںنے اپنی جان قربان کر دی ہے لیکن پھر بھی راستہ وہی ہے اور ہدف بھی واضح اور دقیق ہے کہ اس خون کی برکت سے اسرائیل کی نابودی۔
یوم القدس حقیقت میں شہدائے اسلام کے خون کا تسلسل ہے۔یہی وہ پس منظر ہے جس میں یوم القدس کی اہمیت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ آج یوم القدس صرف ایک مذہبی یا سیاسی دن نہیں بلکہ عالمی ضمیرکی بیداری کا دن بن چکا ہے۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ فلسطین کی سرزمین پر جاری ظلم کے خلاف خاموش رہنا دراصل ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ آج جب دنیا ایک نئے سیاسی دور سے گزر رہی ہے اور خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے، ایسے میں یوم القدس کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہے۔
ظلم کے خلاف مزاحمت، مظلوموں کے ساتھ یکجہتی اور انصاف کے لیے اجتماعی جدوجہد جاری رکھی جائے یہی یوم القدس اور امام خمینی کا عالمگیر پیغام ہے۔ پاکستان سمیت مسلم دنیا کے ممالک میں یوم القدس کی تقریبات خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔
پاکستان میں یہ دن تمام شہروں میں بھرپور مذہبی عقیدت اور جذبہ کے ساتھ منایا جاتا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان کے غیور عوام فلسطین اور مزاحمت کے ساتھ ہیں۔
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Magazines1 week ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Business2 weeks ago
With presidential ordinance set to lapse, Senate passes bill for regulating virtual assets
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Magazines2 weeks ago
THE ICON INTERVIEW: THE FUTURE’S ALWAYS BRIGHT FOR HIM – Newspaper