Connect with us

Today News

کفایت شعاری کا مذاق – ایکسپریس اردو

Published

on


ایران پر حملوں کے بعد پٹرولیم مصنوعات کے متوقع بحران کے پیش نظر حکومت نے ملک میں موجود آئل کی قیمت میں صرف پٹرول پر55روپے فی لیٹر کا بغیر کسی جواز کے اضافہ کیا تھا جب کہ عالمی سطح پر اضافہ بعد میں ہوا تھا ۔ عالمی سطح پر پٹرولیم بحران کے وقت سرکاری طور پر کہا گیا تھا کہ ملک میں فوری طور پر پٹرول اور ڈیزل کی قلت نہیں ہوگی اور ایک ماہ تک کوئی کمی واقع نہیں ہوگی مگر پٹرول پمپس ایسوسی ایشن نے حکومتی دعوے کے برعکس کہا تھا کہ پٹرول وافر مقدار میں موجود نہیں اور قلت کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے بعد لوگوں نے 55 روپے اضافے کے باوجود پٹرول ذخیرہ کرنا شروع کردیا تھا اور پمپس پر رش بڑھ گیا تھا۔

حکومت نے پٹرول کا استعمال کم کرنے کے لیے اسکول بندکرنے کا غیر متوقع اعلان کیا جب کہ پرائمری و مڈل اسکولوں کے امتحانات عید سے قبل مکمل ہوچکے تھے اور ہر سال رزلٹ آنے تک اسکولوں میں پڑھائی ویسے بھی نہیں ہوتی اور بورڈ کے امتحانات عید کے بعد ہی ہونے تھے مگر حکومت نے اسکول بندکرنے کا اعلان کیا جس پر عوامی تنقید بھی ہوئی۔

حکومت نے پٹرول بچت کے لیے سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں کمی اور سرکاری اداروں میں ہفتہ وار چھٹیاں دو سے بڑھاکر تین کردی تھیں اور دفتری اوقات میں بھی کمی کا اعلان کیا تھا جس سے سرکاری اداروں میں ایک روز کی چھٹی بڑھنے سے بجلی کی بچت کچھ ضرور ہوئی اور پٹرولیم مصنوعات کے استعمال میں کوئی کمی نہیں ہوئی کیونکہ ایک چھٹی بڑھ جانے سے تفریح کا ایک دن اور بڑھ گیا اور رمضان میں افطاری سے سحری تک رات بھر ہوٹل کھلے تھے اور عید کی تیاری اور خریداری بھی ہونی تھی۔ اس شہر کے باہر کے ہوٹلوں میں گاہکوں کا رش بڑھا اور کراچی میں شہر کے باہر سپرہائی وے پر ہوٹلوںکی رونقیں اور بچوں کو تفریح فراہم کرنے والے ہوٹلوں کے باہر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں نظر آئیں اور امیروں،گاڑیاں رکھنے والے متوسط طبقے والوں نے  کفایت شعاری کا ثبوت نہیں دیا اور زیادہ خرچ کیا۔

سرکاری گاڑیاں بھی عیدکے بعد تفریحی مقامات اور ہوٹلوں میں تہوار کی مناسبت سے زیادہ نظر آئیں۔ بچت مہم کی دھجیاں اڑائی گئیں اور پٹرول مہنگا ہی ہوا مگر قلت نہیں تھی اور سرکاری گاڑی رکھنے والوں نے پہلی بار اپنی جیب سے پٹرول خریدنے کو عار نہیں سمجھا اور اپنے بچوں کو دل کھول کر تفریح کرائی اور حسب معمول عید منائی۔

پٹرول مہنگا ہونے کا سب سے زیادہ اثر موٹرسائیکلیں استعمال کرنے والوں پر پڑا ہے کیونکہ ان کی آمدنی نہیں بڑھی مگر ان کی جیبوں پر بوجھ بڑھ گیا اور پٹرول مہنگا ہونے سے جو اخراجات بڑھے انھیں پورا کرنے کے لیے انھیں دیگر اخراجات کم کرنا پڑے۔ حکومت نے لگژری گاڑیوں کے لیے استعمال ہونے والے پٹرول پر دو سو روپے لیوی بڑھائی جو پہلے دس روپے تھی اور یہ پٹرول صرف لگژری گاڑیاں رکھنے والے ہی نہیں عام گاڑیاں رکھنے والے اور نئی موٹرسائیکلیں رکھنے والے بھی اس لیے استعمال کرتے ہیں کیونکہ عام پٹرول کے مقابلے میں ہائی اوکٹین پٹرول زیادہ ایورج دیتا ہے اور کسی حد تک بہتر بھی ہوتا ہے جس سے گاڑیاں بھی خراب نہیں ہوتیں جب کہ عام پٹرول میں ملاوٹ ہوتی ہے اور بہت کم ہی پٹرول پمپ ایسے ہیں جہاں پٹرول خالص اور مقدار پوری ملتی ہے اور اکثر پٹرول پمپ غیر معیاری پٹرول کے ساتھ مقدار بھی پوری نہیں دیتے اور صرف گاڑیوں کو معیاری پٹرول دیتے ہیں اور عوام کو لوٹنے والے پمپوں کی چیکنگ بہت کم یا برائے نام ہی ہوتی ہے۔

 حکومت نے کفایت شعاری کے لیے مہمانوں کی تعداد کم اور ون ڈش کی پابندی عائد ضرور کی ہے جس پر میزبانوں نے کسی حد تک عمل ضرور کیا ہے اور اپنے مہمانوں کی تعداد کم کرکے شادیوں میں صرف ضروری عزیزوں کو مدعو کرنا شروع کیا ہے مگر مہمان ون ڈش پابندی میں بھی کھانا ضایع کرنے سے بعض نہیں آرہے جن کا میزبان کچھ بگاڑ سکتا ہے اور نا ہی ایسا کوئی قانون ہے کہ ایسے مہمانوں کو کھانا ضایع کرنے سے روکا جاسکے یا ان پر جرمانے ہوں یہ بھی عام دیکھاگیا ہے کہ تقریبات میں بچے کھانا زیادہ نکال لیتے ہیں جو ان سے کھایا نہیں جاتا اور پلیٹوں میں بچا کر ضایع کیا جاتا ہے مگر خود کھانا ضایع کرنے والے ان بچوں کے بڑے، بچوں کو کیسے سمجھا سکتے ہیں۔

شادیوں میں کھانے کو ضایع ہونے سے بچانے کے لیے حکومت کو اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور شادیوں میں کھانا بند کردینا چاہیے کیونکہ کھانے کو ضایع ہونے سے بچانے کا یہی واحد طریقہ ہے۔ غریبوں کو دو وقت کا مفت کھانا کھلانے والے ادارے ہی کفایت شعاری پر شروع سے ہی عمل کررہے ہیں جو لوگوں کو ان کی پلیٹ میں زیادہ سالن اور چاول دیتے ہی نہیں جس سے کھانا ضایع نہیں ہوتا۔پٹرول کے عالمی بحران میں مہنگا پٹرول برداشت کرنے والے وہ ہی لوگ ہیں جنھیں اوپر کی آمدنی ہے اس لیے انھیں پیسے کی کوئی قدر نہیں کیونکہ یہ ان کی اوپر کی اور ناجائز کمائی ہوتی ہے اس لیے وہ کفایت شعاری ضروری نہیں سمجھتے اور محدود تنخواہ اور آمدنی میں گزارا کرنے والوں کو ہی اپنی کفایت شعاری کی خود ہی ضرورت ہے اور وہ از خود ہی کفایت کررہے ہیں کیونکہ انھیں پیسے کی قدر ہے انھوں نے سفر بھی محدود کردیا ہے۔ صرف ناجائز کمائی والے ہی کفایت شعاری کا مذاق اڑاتے ہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

متشدد افغان طالبان سے پاکستان کی کیسے نبھے؟

Published

on


’’افغانستان بطورِ ہمسایہ ملک چاہتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مسائل کو بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جائے۔ کسی کو بھی اجازت نہیں دی جائے گی کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرے ۔اِس سلسلے میں سنجیدہ اقدامات بھی کیے جا چکے ہیں ۔‘‘یہ الفاظ افغان طالبان رجیم کے عبوری وزیر خارجہ،مولوی امیر خان متقی، کے ہیں ۔ اگلے روز یہ الفاظ موصوف نے اُس وقت کہے جب وہ قطری وزیر خارجہ (عبداللہ بن زاید النہیان) سے فون پر بات چیت کررہے تھے ۔

امیر خان متقی کے مذکورہ بیان کے دو روز بعد ( یکم اپریل2026 کو)خبر آئی ہے کہ چین کے شمال مغرب میں واقع (اور پاکستان سے متصل) چین کے مشہور صوبے( سنکیانگ) کے مشہور شہر ’’ارومچی‘‘ میں ، چین کی ثالثی میں، پاک افغان مذاکرات ہُوئے ہیں ۔ اگرچہ یہ مذاکرات ابھی جونیئر لیول کے ہیںکہ پاکستان کی جانب سے وزارتِ خارجہ کے ایک ایڈیشنل سیکریٹری نے اِس میں شرکت کی ہے۔اِن مذاکرات کو خوش آئند کہا جا سکتا ہے ، مگر یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ پاکستان نے افغان دہشت گردوں کے خلاف جس ’’آپریشن غضب للحق‘‘ کو جاری کر رکھا ہے ، اس میں کمی نہیں آئے گی تاآنکہ اپنے متعینہ مقاصد و اہداف حاصل نہ کر لیے جائیں ۔

افغانستان پر مسلّط طالبان رجیم اور اس کے مولوی متقی خان ایسے کئی وزیر پچھلے پانچ برسوں کے دوران ایسے کئی وعدے کئی بار کر چکے ہیں ، مگر ہر بار وعدہ کرکے توڑ دیتے ہیں ۔ یوں پاکستان اور پاکستانی عوام اُن کے کسی وعدے اور عہد پر اب یقین نہیں کرتے ۔پاکستان افغان طالبان رجیم اور اس کے جملہ کارندوں پر اندھا اعتماد و اعتبار کرکے کئی بار ڈسا جا چکا ہے ۔

افغان طالبان اسقدر بد عہد واقع ہُوئے ہیں کہ دوست اسلامی ممالک ( سعودی عرب ، قطر ، ترکیہ) سے پاکستان میں دہشت گردیاں نہ کرنے بارے کیے گئے وعدوں سے بھی مکر گئے ۔ تنگ آکر پاکستان نے اُن افغان دہشت گردوں کے خلاف (افغانستان میں گھس کر) ’’آپریشن غضب للحق‘‘ کا آغازکیا ہے جنہیں کابل و قندھار کی افغان طالبان قیادت کی جانب سے ہر قسم کی اشیرواد بھی حاصل تھی ۔

افغان دہشت گرد طالبان اور طالبان کارندوں کے خلاف پاکستانی کارروائیوں میں اب تک 600 سے زائد افغان دہشت گرد جہنم واصل ہو چکے ہیں ۔ پاک افغان سرحد سے متصل علاقوں میں بسنے والے دہشت گرد افغان طالبان اَب ’’آپریشن غضب للحق‘‘ کے خوف سے تتر بتر ہوکر اور پاکستانی سرحد کے نزدیکی علاقوں سے فرار ہو کر افغانستان کے دُور دراز علاقوں میں جا بسے ہیں ۔ اُن کی چیخیں تا آسمان سنائی دے رہی ہیں۔پاکستان نے عید الفطر سے قبل چار پانچ روز کے لیے افغان دہشت گردوں کے خلاف حملوں میں وقفہ بھی کیا تھا۔ مگر اب یہ وقفہ ختم ہو کر ایک بار پھر بحال ہو چکا ہے ۔طالبان اب صلح کے لیے ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں اور توبہ تائب بھی ہو رہے ہیں ، مگر اُن پر پاکستانی اتھارٹیز یقین کرنے کو قطعی تیار نہیں ہیں ۔

افغان طالبان کی کہہ مکرنیاں ، بے وفائیاں اور عہد شکنیاں اس قدر زیادہ ہو چکی ہیں کہ آج دُنیا بھر میں کوئی ان پر اعتماد اور اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ بھارت کی انگلیوں پر ناچنے والے مقتدر طالبان کی خونی دہشت گردیوں کی لپیٹ میں عام افغان شہری بھی آ چکے ہیں۔ جفا جُو اور دغا باز افغان طالبان نے پچھلے پانچ برسوں کے دوران کسی سے نبھا نہیں کیا ہے ۔یوں لگتا ہے کہ مدتوں قبل خواجہ میر درد نے یہ شعر طالبان ہی کے لیے کہا تھا: نہیں شکوہ مجھے کچھ بے وفائی کا تری ہرگز/ گلا تب ہو اگر تُو نے کسی سے بھی نبھائی ہو۔

ارُومچی میں تازہ مذاکرات سے قبل خبر آئی تھی کہ ایک جوائنٹ پاک ، افغان امن جرگہ 31مارچ  2026 کو پشاور میں منعقد ہوگا تاکہ دونوں ممالک میں مکالمے ، امن اور استحکام کی فضا ہموار کی جا سکے۔ خیبر پختونخوا کے سابق چیف سیکریٹری ( ارباب شہزاد خان) اور ’’قومی اصلاحی تحریک‘‘ کے سربراہ (حاجی سہراب علی خان) اِس جرگے میں مرکزی کردار ادا کرتے نظر آ رہے تھے ۔ مگر یہ جرگہ بھی بے ثمر ہی ثابت ہُوا ۔اِس کی ناکامی میں بھی افغان دہشت گرد طالبان کی دغا بازیوں کا ہاتھ تھا ۔

جس تاریخ کو اِس جرگے نے بیٹھنا تھا، اُسی کے آس پاس مقتدر افغان طالبان نے معروف افغان صوبے ’’خوست‘‘ کے کئی شہروں میں پاکستان کے خلاف مسلح ریلیاں نکالیں۔ اِن ریلیوں میں پاکستان کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے ۔ افغان طالبان نے زبردستی اپنے میڈیا پر اِن ریلیوں کی ویڈیوز بھی چلائیں تاکہ پاکستان کے خلاف افغان ذہن مسموم کیے جا سکیں۔ ریلیوں میں یہ بھی نعرے لگوائے گئے : ’’ہم پاکستان کے خلاف جہاد کے لیے تیار ہیں۔‘‘ افغان میڈیا نے مگر اِن ریلیوں کی حقیقت کا یہ کہہ کر بھانڈا پھوڑ دیا کہ ’’افغان طالبان حکومت نے زبردستی اور جبر یہ طور پر افغان نوجوانوں کو پاکستان مخالف اِن ریلیوں میں شریک کیا تھا۔‘‘

دہشت گرد افغان طالبان بارے، حالیہ ایام میں،افغانستان کے لیے متعین رُوسی ایلچی ( ضمیر کابولوف)نے ایک عجب اقرارو اعتراف کیا ہے۔ 28مارچ 2026ء کو ضمیر کابولوف نے رُوسی خبر رساں ادارے (RIA Novosti)سے بات چیت کرتے ہُوئے کہا: ’’ پاک افغان تعلقات اِس لیے بھی درست نہج پر نہیں آ رہے کیونکہ طالبان کے افغانستان میں کئی دہشتگرد اور شدت پسند گروہ اکٹھے ہو چکے ہیں ۔ یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔‘‘مسئلہ یہ بھی تو ہے کہ افغان سر زمین پر بروئے کار متنوع دہشت گرد گروہوں کو افغان طالبان کی سرپرستی اور اعانت بھی حاصل ہے ۔

یہ سرپرستی ہی درحقیقت افغانستان سے پاکستان پر آئے روز حملوں کا سبب بنا کرتی تھی ۔ پاکستان نے مگر جب سے افغان دہشت گردوں کے خلاف’’آپریشن غضب للحق‘‘ کی شکل میں سخت ائر اسٹرائیکس کا آغاز کیا ہے ، افغان دہشت گردوں کی خونی کارروائیوں میں بڑی حد تک کمی واقع ہو چکی ہے ۔ یوں ثابت ہُوا کہ لاتوں کے بھوت لاتوں ہی سے مانتے ہیں ۔

یکم اپریل 2026کو افغانستان کے لیے رُوسی صدر کے خصوصی ایلچی ، ضمیر کابولوف، نے افغانستان کے لیے ایک حوصلہ افزا خبر بھی دی ہے ۔ موصوف نے کہا تھا: ’’رُوس کو چونکہ آجکل زراعت ، کنسٹرکشن ، ٹرانسپورٹ اورسروسز کے شعبوں میں مزدوروں کی سخت ضرورت ہے ، اس لیے رُوس سوچ رہا ہے کہ اِس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے افغان مزدُوروں کو رُوس لایا جائے۔ یوں افغان طالبان کے عوام کی کچھ مدد بھی ہو جائے گی۔‘‘ مگر اِس اعلان یا تجویز کی رُوسی حکومت کے کئی اعلیٰ عہدیداروں نے سخت مخالفت کی ہے۔ مثال کے طور پر رُوس کی قومی اسمبلی (State Duma)کی کمیٹی برائے ریجنل پالیسی کے معروف رکن Mikhail  Matveyevنے کہا :’’ افغان لیبرکو رُوس میں لانے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہیے۔ افغانیوں کو بطورِ مزدُور رُوس درآمد کیا گیا تو یہ رُوسی سوسائٹی کے لیے سیکیورٹی رسک بن جائیں گے ۔‘‘

مذکورہ بالا الفاظ ہی بتا رہے ہیں کہ مقتدر افغان طالبان کے اقدامات اور حرکتوں نے اپنے عوام کو بھی دُنیا میں بے اعتبار بنا دیا ہے ۔ اگرچہ حالیہ کئی مثالیں ایسی بھی سامنے آئی ہیں کہ رُوس اور افغانستان میں تعلقات بڑھ رہے ہیں ( مثلاً رُوس میں افغان سفیر، مولوی گل حسن، کی تعیناتی)، مگر ساتھ ہی افغان طالبان نے پاکستان میں جس طرح دہشت گردی کی وارداتوں کو فروغ دیا ہے ، اِس نے اِنہیں بے حد بدنام بھی کررکھا ہے ۔

پاکستان کے لاتعداد احسانات کو فراموش کرنا اور بھارت سے پینگیں بڑھانا بھی افغان طالبان کی بے قدری اور بے اعتباری میں اضافے کا سبب بنا ہے ۔ پچھلے پانچ برسوں کے دوران افغان طالبان نے افغان بچیوں پر جس طرح تعلیم کے دروازے مقفّل کررکھے ہیں اور افغان خواتین کے لیے ہر قسم کی ملازمتیں بھی ممنوع قرار دے ڈالی ہیں ، یہ متشددانہ فیصلے بھی عالمی سطح پر افغان طالبان کے استرداد کا موجب بن رہے ہیں ۔

پچھلے ماہ کے دوران افغانستان کی سپریم کورٹ کے حکم سے کابل ، فاریاب، بلخ، ننگرہار اور ہرات کے صوبوں میں 46افراد کو کھلے عام38/38کوڑے مارے گئے۔ کوڑے کھانے والوں میں دس ، دس سال کے کمسن لڑکے بھی شامل تھے ۔ افغان طالبان نے خود تسلیم کیا ہے کہ 2025 میں افغانستان میں 6افراد کو سرِ عام پھانسیاں دی گئیں اور ملک بھر میں 1118 افراد کو کوڑے مارے گئے ۔ یوں تشدد پسند مقتدر افغان طالبان کی دُنیا سے نبھے تو کیسے نبھے؟؟





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی، بارش کے پانی میں چھپے کرنٹ نے پولیس اہلکار کی جان لے لی

Published

on



کراچی:

شہر قائد کے علاقے گلستانِ جوہر بلاک 7 میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں جوہر کمپلیکس میں جمع بارش کے پانی میں کرنٹ آنے سے ایک پولیس اہلکار جاں بحق ہو گیا۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق جاں بحق اہلکار کی لاش فوری طور پر قریبی نجی اسپتال منتقل کی گئی جہاں موت کی تصدیق کے بعد لاش کو سردخانے منتقل کر دیا گیا۔

اہلِ خانہ کے مطابق جاں بحق ہونے والے اہلکار وسیع اللہ ایک بیٹے کے باپ تھے اور ان کا آبائی تعلق روہڑی سے تھا۔

سسر عبدالوہاب نے بتایا کہ وہ جوہر کمپلیکس میں سسرال آئے ہوئے تھے اور واپسی کے دوران یہ حادثہ پیش آیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ عمارت کے اطراف میں بارش کا پانی جمع تھا جس میں کرنٹ ہونے کے باعث وسیع اللہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی، کیبل فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی، پورا کمپاؤنڈ لپیٹ میں، فائر بریگیڈ کی جدوجہد جاری

Published

on



کراچی:

شہر قائد کے علاقے سائٹ انڈسٹریل ایریا میں واقع ایک کیبل فیکٹری میں لگنے والی خوفناک آگ نے پورے کمپاؤنڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کی ٹیمیں مسلسل کوششوں میں مصروف ہیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ پر اب تک تقریباً 40 فیصد قابو پا لیا گیا ہے تاہم کمپاؤنڈ کے 60 فیصد حصے میں ابھی بھی شعلے بھڑک رہے ہیں جس کے باعث صورتحال تاحال تشویشناک ہے۔

فائر بریگیڈ کی 5 گاڑیاں موقع پر موجود ہیں اور آگ بجھانے کے عمل میں حصہ لے رہی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ آگ کی شدت کے باعث کارروائی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں تاہم اسے جلد مکمل طور پر قابو میں لانے کی کوششیں جاری ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ لگنے کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آ سکیں جبکہ کسی جانی نقصان کی فوری طور پر اطلاع نہیں ملی۔





Source link

Continue Reading

Trending