Today News
کل نہ تم رہو گے نہ آبنائے ہرمز
اٹھائیس فروری کے دن اچانک دو بڑی وارداتیں ہوئیں۔اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے سپریم لیڈر آئیت اللہ علی خامنہ ای کو بیشتر اہلِ خانہ سمیت تہران میں قتل کر دیا اور تہران سے ساڑھے تیرہ سو کلومیٹر پرے جنوب مغرب میں آبنائے ہرمز کے ساحل سے پچیس کلومیٹر اندر قائم مناب قصبے کے شجرِ طیبہ گرلز پرائمری اسکول کی ایک سو ستر بچیوں کو یکے بعد دیگرے دو امریکی میزائلوں نے ختم کر دیا۔
تب سے اب تک کے پانچ ہفتے میں آبنائے ہرمز کا نام کرہِ ارض کے لگ بھگ ہر انسان کے کانوں تک شائد پہنچ چکا ہو۔خلیجِ فارس کو براستہ خلیجِ اومان بحرِ ہند سے ملانے والی انتالیس کلومیٹر چوڑی آبنائیِ ہرمز کو گذشتہ ڈیڑھ ہزار برس میں کئی لقب ملے۔
مثلاً عربوں نے جب ایران پر قبضہ کیا تو اس آبنائے کو دو نام عطا ہوئے۔باب السلام ( درِ امن ) اور باب الحدید ( درِ آہن )۔خلیج میں داخلے اور واپسی کے اس دروازے کے نزدیک ایرانی ساحل سے آٹھ سے تیس کلومیٹر کے فاصلے پر تین اہم جزیرے ہیں۔ان میں سب سے بڑا جزیرہ کیشم ہے۔اس کی آبادی ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ ہے اور یہاں کی پتھریلی زمین پر جس قدر رنگ بکھرے ہوئے ہیں کرہِ ارض پر شائد ہی کوئی ایسا ارضیاتی نمونہ ملے۔ایک جزیرے کا نام لرک ہے اور ایک جزیرہ ہرمز ہے ( ویسے تو ابو موسی ، تمبِ اکبر و اصغر اور جزیرہ خرگ بھی ہیں مگر وہ آبنائے ہرمز سے فاصلے پر ہیں )۔
جزیرہ ہرمز ایک ایسی ساحلی سلطنت کا تجارتی مرکز رہا ہے جہاں فارس اور میسوپوٹیمیا سے گذرنے والی مقامی اور یورپی و ایشیائی و افریقی مصنوعات کو گوداموں میں رکھا جاتا تھا ( کھجور ، مصالحے ، قیمتی پتھر ، کپڑا ، خوشبویات ، خوراک ، لکڑی ، موتی وغیرہ )۔
ان مصنوعات کی بولی لگتی تھی اور تجارتی کشتیوں میں یہ سامان تمام معلوم دنیا میں آتا جاتا تھا ( تب تلک معلوم دنیا میں کسی شخص نے امریکا کا نام بھی نہیں سنا تھا )۔
ہرمز جزیرے پر سہولہویں صدی میں ( پندرہ سو پندرہ ) پرتگیزیوں نے قبضہ کر کے یہاں قلعہ تعمیر کیا۔سولہ سو بائیس میں ایرانی صفوی بادشاہت نے جزیرہ واپس لے کر ایسٹ انڈیا کمپنی کو پٹے پر دے دیا۔یہاں سے گذرنے والے مال پر محصولات میں بھی فریقین کے مابین شراکت داری قرار پائی ( آج ایران اور اومان ہرمز پر محصول لگا کر دراصل صدیوں پرانا آمدنی نظام بحال کرنے کے لیے کوشاں ہیں )۔
آبنائے ہرمز کے دوسری جانب صحراِ عرب یا چٹیل علاقہ ہے۔ ان دنوں جہاں کویت ، قطر ، بحرین ، اور امارات قائم ہیں۔یہ چھوٹی چھوٹی ساحلی بستیاں ہوا کرتی تھیں۔ ماہی گیری اور سمندر سے موتی نکالنے کی صنعت ہی روزگار کا بنیادی وسیلہ تھا۔ پورے خطے میں انیسویں صدی کے وسط کے بعد انگریزی سامراجی اثر و رسوخ کے سبب تیل کی دریافت بھی برٹش پٹرولیم کمپنی نے کی تھی۔( ایران خطے کا پہلا ملک تھا جہاں انیس سو آٹھ میں تیل کی پیداوار شروع ہوئی )۔
دوسری عالمی جنگ کے نتیجے میں سلطنتِ برطانیہ کے زوال کے بعد اس علاقے میں آزادی حاصل کرنے والی قوم پرست حکومتوں نے پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں تیل کو قومی ملکیت میں لینا شروع کیا۔کوڑیوں کے مول وسائل سمیٹنے والی مغربی و امریکی تیل کمپنیوں نے اپنی اپنی حکومتوں کی حمائیت سے نیشنلائزیشن کے مقامی رجحان کی خاصی مزاحمت کی۔اس کش مکش کے دوران متعدد حکومتوں کے تختے الٹے گئے۔
تاہم اکتوبر انیس سو تہتر کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد خلیجی ممالک کی جانب سے اسرائیل نواز مغربی ممالک کو تین ماہ تک تیل کی رسد منقطع ہونے سے جہاں پہلی بار یہ احساس ہوا کہ اب یہاں کی حکومتیں اپنے مفاداتی فیصلے خود کرنے کے قابل ہو گئی ہیں۔وہیں امریکا اور یورپ نے بھی آیندہ ایسے کسی بھی بحران سے بچنے کے لیے اس علاقے میں مغرب نواز حکومتوں کو مستحکم کرنا شروع کیا۔یوں تیل کی آمدنی کو پیٹرو ڈالر اور مغربی معیشت سے جوڑ کے ایک نیا کولونیل مالیاتی ڈھانچہ قائم کیا گیا۔
اسرائیل کو عسکری اعتبار سے پہلے سے زیادہ مستحکم کرنے کی کوشش کی گئی اور عرب ممالک سے تمام تر معاشی فوائد سمیٹنے کے باوجود یہ اہتمام برقرار رکھا گیا کہ مغربی اسلحہ ساز کمپنیوں کو بھاری ٹھیکے بھی ملتے رہیں مگر کسی علاقائی ملک کو ایسا اسلحہ ، مہارت یا طاقت حاصل نہ ہو سکے جس سے اسرائیل کی عسکری برتری چیلنج ہو جائے۔ایران نے چونکہ انیس سو اناسی کے بعد اس نئی گیم کے قوانین ماننے سے انکار کر دیا لہذا اس کے گرد سرخ حصار کھینچ دیا گیا۔
آبنائے ہرمز کی ایرانی سائیڈ پر کوہ ِزاغروس کی چٹانیں ہیں جب کہ اومان کی سائیڈ پر سمندر میں جو نوک سی نکلی ہوئی ہے اسے جزیرہ نما مسندم کہا جاتا ہے۔
جیالوجی کے علم کے مطابق آبنائے ہرمز کی موجودہ شکل ساڑھے تین کروڑ برس قبل یوریشین اور عربین ارضیاتی پلیٹوں کے تصادم کے نتیجے میں ہونے والی توڑ پھوڑ کے نتیجے میں تشکیل پائی۔ ایرانی سمت میں کوہِ زاغروس اور اومانی سمت میں کوہِ الہجر وجود میں آیا اور اس اتھل پتھل کے نتیجے میں وجود پذیر نئے ارضیاتی نظام میں جو نشیب پیدا ہوا اسے ہم خلیج کے طور پر جانتے ہیں۔اب سے بیس ہزار برس قبل آخری برفانی دور کے اختتام تک خلیج میں پانی کی مقدار ( برف بتدریج پگھلنے کے سبب ) اتنی اتھلی تھی کہ کئی مقامات پر آرپار چل کے جایا جا سکتا تھا۔
آبنائے ہرمز کی اومانی سائیڈ پر جزیرہ نما مسندم اب بھی حرکت میں ہے یعنی وہ سال بہ سال ایرانی سائیڈ کی جانب کھسک رہا ہے۔ماہرینِ ارضیات کا اندازہ ہے کہ ایک کروڑ برس بعد ہرمز کی اومانی اور ایرانی سائیڈ ملنے سے آبنائے کا وجود ہی ختم ہو جائے گا اور خلیج ایک خالص جھیل کی شکل اختیار کر لے گی۔
اچھی بات یہ ہے کہ انسان یہ نوبت آنے سے لاکھوں برس پہلے ہی معدوم ہو چکا ہو گا۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔لہٰذا کرہِ ارض کی ان تمام نعمتوں پر جو تم سے پہلے بھی تھیں اور تمہارے بعد بھی رہیں گی جتنا لڑ سکتے ہو ابھی لڑ لو۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
Today News
کراچی، خمیسو گوٹھ میں گھر سے نوجوان لڑکی کی گلے میں پھندا لگی لاش برآمد
کراچی:
شہر قائد میں نیو کراچی صنعتی ایریا کے علاقے خمیسو گوٹھ میں گھر سے نوجوان لڑکی کی گلے میں پھندا لگی لاش ملی جسے ایدھی کے رضا کاروں عباسی شہید اسپتال پہنچائی۔
اس حوالے سے ایس ایچ او نیو کراچی صنعتی ایریا رضوان قریشی نے بتایا کہ متوفیہ کی شناخت 22 سالہ مسکان کے نام سے کی گئی۔
ابتدائی معلومات کے مطابق متوفیہ کی لاش اس کا بھائی اور والدہ اسپتال لیکر گئے تھے جبکہ پولیس کو اسپتال سے ہی واقعے کی اطلاع ملی تھی۔
تاہم شواہد حاصل کرنے کے لیے متوفیہ کی رہائش گاہ پر کرائم سین یونٹ کو روانہ کیا ہے جبکہ اہلخانہ نے ابتدائی طور پر پولیس کو بیان دیا ہے کہ مسکان نفسیاتی مسائل کا شکار تھی جبکہ واقعہ گلے میں خود کو پھندا لگا کر خودکشی کا بتا رہے۔
جس وقت واقعہ پیش آیا متوفیہ گھر میں اکیلی تھی تاہم پولیس اس حوالے سے مزید معلومات حاصل کر رہی ہے ۔
Today News
احسن تقویم ، اسفلہ سافلین
یہ جو حضرت انسان ہے جس نے خود کو طرح طرح کے القابات وخطابات سے لادا ہوا ہے ، خودکو حیوان اعلیٰ، حیوان ناطق ،حیوان عاقل اور نہ جانے کیا کیاکہتا رہتا ہے اورطرح طرح کے مناصب ومراتب سے خود کو خود ہی سرفرازکرتا رہتا ہے، انسان ہوں، اشرف المخلوقات ہوں، ما بدولت ہوں لیکن اسے اگر اپنے اعمال کے ترازو میں تولا جائے تو کم بہت کم بہت ہی کم نکلے گا ، پرکاہ کے برابر بھی نہیں ۔ حیوان اعلیٰ تو کیا حیوان ادنیٰ بلکہ حیوان صفر بھی نہیں نکلے گا اوراگر باقی سارے حیوان کو زبان مل جائے اوراسے کسی غیر جانب دار عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیاجائے تو عدالت پہلی ہی سنوائی میں سوبار پھانسی، سو بار گولی مارنے، سو بار صلیب کرنے اورسوبار گلوٹین کے نیچے رکھنے کی سزا دے دے گی۔
ہوسکتا ہے کہ اس موقع پر کوئی مذہب کا راگ الاپے تو وہاں تو پہلے ہی اسے سارے اعزازات و خطابات سے معزول کیا جا چکا ہے وہاں تو صاف صاف فیصلہ دیا جاچکا ہے کہ اسے تو ’’احسن تقویم‘‘ پر بنایا گیا تھا لیکن اس نے خود کو ’’اسفلہ سافلین‘‘ میں گرا دیا، بات ختم۔ وہ اعزاز تو یہ کھو چکا ہے اور ہم اسی انسان کی بات کر رہے ہیں جو ’’احسن تقویم‘‘ میں ہوا کرتا تھا ۔ ہاں تو اگر اسے غیرجانب دار عدالت میں کھڑا کردیاجائے اور سارے جانوروں کو زبان دے دی جائے، گواہی لی جائے تو وہ اس اشرف المخلوقات کو کیا ثابت کردیں گے، وہ نام آپ خود ہی تجویز کریں کہ خود کوخود ہی مراتب ومناصب پر فائز کرنے کی بری عادت تو آپ کی واحد صفت ہے بلکہ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی، پیدائشی خاندانی اور جدی پشتی ’’میاں مٹھو‘‘ جو ہے بیچارے جانوروں کو زبان تو نہیں ملنے والی، چلئیے ہم ہی اس کی کچھ مدح سرائی کرتے ہیں ۔
آپ نے کبھی کسی حیوان کو پیٹ بھرنے کے بعد کھاتے ہوئے دیکھا ہے ، آپ نے کسی بھی جانور کو منافقت کرتے دیکھا ، جھوٹ بولنے کی بات تو نہیں کرسکتے کہ وہ بول ہی نہیں سکتے ۔
اب ذرا اس کے کارناموں کا اسکوردیکھتے ہیں،اعدادوشمار کے مطابق ہرسال لگ بھگ ڈھائی ہزار انسان درندوں کاشکار ہوکرمرتے ہیں، تقریباً اتنے بلکہ اس سے بہت کم ، زہریلے جانوروں ، سانپوں وغیرہ کے کاٹے سے مرتے ہیں،ایک ہزار کے قریب ہاتھیوں یا اوربڑے جانوروں کے ہاتھوں مرتے ہیں، اس سلسلے میں سب سے زیادہ اسکورمچھروں کاہے ، شاید انسان کے قرب اورنیک صحبت کی وجہ سے۔ چنانچہ مچھروں کے ہاتھوں تقریباً پندرہ ہزار انسان مرتے ہیں اورخود انسان کے ہاتھوں؟ یہ آٹھ دس منشی یاکمپیوٹر ہی آپ کو بتا سکتا ہے کیوں کہ اس میں براہ راست مارنے کے ساتھ ساتھ وہ تعداد بھی شامل ہے جو اس کے ہاتھوں بالواسطہ یعنی ہر ہر چیز یہاں تک کہ دواؤں میں ملاوٹ کی وجہ سے بیمار ہوکرمرتے ہیں یا مضرصحت چیزوں کی وجہ سے بیمار ہوکر مرتے ہیں۔ یہ تو آپ مانیں گے بلکہ دل وجان سے مان چکے ہیں کہ امریکا ’’مہذب ترین‘‘ انسانوں کا ملک ہے اوریہ بھی سنا ہے کہ وہاں ہم جنس پرست آپس میں قانونی طورپر شادی کرسکتے ہیں ۔
چلئے ہم یہ رونا رورہے تھے کہ انسان اپنی مادہ کو تشدد کا نشانہ بناتا ہے جب کہ جانور ایسا نہیں کرتا۔ اسی پرامن عمل کی بدولت جانور یہاں مہذب ترین انسان سے آگے نکل گئے ہیں ۔
زندگی کو آگے بڑھانا انسان اور جانور دونوں میں یکساں ہے لیکن آخر انسان اشرف المخلوقات ہے کوئی جانور تو نہیں کہ فطرت کی پابندی کر ے، حیوان اعلیٰ ہے کوئی ادنیٰ سا حیوان نہیں ، حیوان عاقل ہے، کوئی عام حیوان نہیں جو عام حیوانوں کی طرح جبلت یا فطرت کاغلام بنا رہے چنانچہ اس نے وہ وہ ایجادیں کرلیں کہ فاتح عالم بن گیا ۔ یوں کہیے کہ اس نے زندگی گزارنے کے طور طریقوں کو ایک ہنر ایک آرٹ اورایک مثالی کام بنا دیا ہے۔ انسان نے وہ وہ کارنامے سرانجام دیے ہیں کہ کسی اورحیوان کے تصور میں بھی ایسے کارنامے نہیں آئے بلکہ حیوان تو کیا شیطان کے ذہن میں بھی نہیں آئے اوراس کا اعتراف شیطان نے خود کیا ہے کہ میں انسان کا عشر عشیربھی نہیں ۔
جب ایک اشرف المخلوقات سکنہ اسفلہ سافلین نے ایک اونٹنی کے ساتھ زبردست فنی مظاہرہ کرتے ہوئے سیڑھی سے کام لیا بلکہ کھیت میں پڑے ہوئے ’’جوے‘‘ وہ جو ہل چلاتے ہوئے دوبیلوں کی گردنوں میں ڈالنے کے لیے بنا ہوتا ہے اس نے بطورنئی ایجاد کے یہ کام لیا تھا، پھر دیگر جانوروں پر قبضہ کرنے کے بعد وہ خود بھی حیوان بن گیا۔برے کاموں میں وہ شیطان سے آگے نکل گیا۔ اس پر شیطان بھی انسان کے سامنے گویا ہوا۔ حضور جناب عالی آج سے میں آپ کے آگے ’’زانوئے تلمذ‘‘ کرتا ہوں مجھے اپنی شاگردی میں قبول فرما لئیجے ۔ گر قبول افتد زہے غوشرف۔
چنانچہ انسان نے اپنی موجدانہ اور’’اسفلہ سافلینانہ ‘‘صلاحیتوں سے کام لے کر جانوروں پر بھی برتری حاصل کر لی ۔
اپنا ملک چونکہ ہرلحاظ سے مثالی اورہمہ صفت موصوف ہے اس لیے اسے استثنا دے کر پڑوسی ملک کی بات کرتے ہیں کہ وہاں نئی دریافتوں اورایجادات سے کام لے کر ہزاروں ایسے برے کام ہوتے ہیں کہ انسانیت بھی شرما جائے۔عورتوں پر ظلم کیا جاتا ہے، بیٹے کی خواہش میں اندھا ہو کر بیٹی کو دنیا میں آنے سے قبل ہی مار دیا جاتا ہے۔ ۔ آخر میں ایک پشتو ٹپہ سنئے
ستا دہ خائست گلونہ ڈیر دی
جو لئی مے تنگہ، زہ بہ کوم کوم ٹولومہ
ترجمہ : تمہارے حسن کے پھول بہت ہیں اورمیری جھولی بہت تنگ ہے کس کس پھول کو چنوں گا۔
Today News
آئل انڈسٹری نے حکومت کا گارنٹیڈ ریٹرن ماڈل مسترد کردیا
اسلام آباد:
آئل انڈسٹری نے موجودہ آئل پرائسنگ فارمولے میں مجوزہ تبدیلیوں کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ گارنٹیڈ ریٹرن ماڈل اپنانے کی صورت میں حکومت کو سال بھر سبسڈی دینا پڑے گی، جو مالی طور پر ناقابلِ برداشت ہوگا۔
سابق وزراء اور ماہرین کی جانب سے پاکستان کے ریفائننگ سیکٹر پر جاری بحث نے ایک بار پھر قیمتوں کے نظام کو موضوعِ بحث بنا دیا ہے، تاہم صنعت سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بحث میں ریفائنری معیشت کی پیچیدگیوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
آئل انڈسٹری کے مطابق موجودہ پرائسنگ نظام عالمی معیار کے مطابق ہے اور بین الاقوامی مارکیٹ سے ہم آہنگی کو یقینی بناتا ہے۔
اس کے برعکس گارنٹیڈ ریٹرن ماڈل کا مطلب حکومت پر مسلسل سبسڈی کا بوجھ ڈالنا ہوگا، جس سے مالی خسارہ بڑھ سکتا ہے۔
انڈسٹری کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کی لسٹڈ ریفائنریز کو 100 ارب روپے سے زائد کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ اس شعبے میں سرمایہ کاری پر منافع دیگر صنعتوں کے مقابلے میں کم ترین سطح پر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ریفائننگ مارجنز فطری طور پر غیر مستقل ہوتے ہیں اور عموماً جغرافیائی و سیاسی حالات سے متاثر ہوتے ہیں، ایسے مواقع کم ہوتے ہیں جب منافع زیادہ ہو، جبکہ اکثر اوقات ریفائنریز کو دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ریفائنری مصنوعات جیسے فرنس آئل، پٹرول اکثر خام تیل کی قیمت سے کم نرخوں پر فروخت ہوتے ہیں، جس سے مجموعی منافع متاثر ہوتا ہے۔
انڈسٹری کا مؤقف ہے کہ اگر کم منافع کے دوران مارکیٹ بیسڈ نظام برقرار رکھا جاتا ہے تو وقتی منافع کے دوران حکومتی مداخلت کا مطالبہ پالیسی میں عدم تسلسل پیدا کرے گا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر کرے گا۔
-
Sports2 weeks ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Sports1 week ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Magazines1 week ago
The secret life of insects in the urban world
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go
-
Sports1 week ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Today News2 weeks ago
ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز