Today News
کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر مسلح افراد کی بسوں میں لوٹ مار، درجنوں مسافر قیمتی سامان سے محروم
عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق رات گئے کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کے خضدار اور سوراب کے درمیان حصے پر نامعلوم مسلح افراد نے متعدد مسافر کوچز کو روک کر لوٹ لیا۔
واقعے میں سوار درجنوں مسافروں کو نقدی، موبائل فونز، زیورات اور دیگر قیمتی اشیاء سے محروم کر دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے رات کے اوقات میں سڑک پر رکاوٹ کھڑی کر کے کوچز کو روکا اور مسافروں کی تلاشی لے کر ان کا قیمتی سامان چھین لیا۔
ایک مسافر نے بتایا کہ ڈاکو منظم تھے اور جدید ہتھیاروں سے لیس تھے۔ خواتین اور بچوں سمیت کسی کو بھی نہیں بخشا گیا۔
یہ واقعہ اسی شاہراہ کے اس حصے پر پیش آیا جہاں گزشتہ چند ماہ کے دوران لوٹ مار کی متعدد شکایات سامنے آ چکی ہیں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سوراب تا خضدار سیکشن رات کے اوقات میں شدید غیر محفوظ ہو چکا ہے اور مسافر ٹرانسپورٹ کے ڈرائیورز بھی اس روٹ پر رات کے سفر سے گریز کر رہے ہیں۔
بلوچستان پولیس کے ترجمان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی،تاہم اب تک کوئی آفیشل بیان یا تصدیق حاصل نہیں ہو سکی۔
تاہم متاثرہ مسافروں نے پولیس میں شکایات درج کرانے کا ذکر کیا ہےمسافر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قومی شاہراہ پر سیکورٹی کے فقدان کی وجہ سے مسافروں کی جان و مال کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
حکومت کو فوری طور پر اضافی فورسز تعینات کرنی چاہییں اور باقاعدہ گشت یقینی بنانا چاہیےبلوچستان میں قومی شاہراہوں پر لوٹ مار کے واقعات میں اضافے نے عوام میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
متاثرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے اور لوٹا گیا سامان واپس دلایا جائے
Today News
میٹا کا انسٹاگرام کے لیے اہم فیچر پر کام جاری
ٹیکنالوجی کمپنی میٹا ایک نئی پریمیم سبسکرپشن سروس پر کام کر رہی ہے جو فوٹو شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام کے صارفین کو یہ سہولت دے گی کہ وہ دوسروں کی اسٹوریز کو گمنام طریقے سے دیکھ سکیں۔
انسٹاگرام پلس ممبرشپ کے لیے ابتدائی طور پر صرف میکسیکو، جاپان اور فلپائنز کے صارفین سائن اپ کر سکیں گے۔
یہ سروس مقامی طور پر تقریباً 1سے 2 ڈالر ماہانہ میں دستیاب ہوگی اور اس کے تحت صارفین یہ بھی دیکھ سکیں گے کہ ان کی اسٹوریز کو کتنے لوگوں نے ایک سے زیادہ بار دیکھا۔
دیگر فیچرز میں اسٹوریز کے لیے ایک اینیمیٹڈ ’سپر لائک‘ ری ایکشن شامل ہے، جبکہ صارفین اپنی اسٹوریز کی رسائی بڑھانے کے لیے انہیں زیادہ دیر تک دستیاب بھی رکھ سکیں گے۔
مزید بر آں میٹا (جو فیس بک اور واٹس ایپ کی بھی مالک ہے) اپنی دیگر ایپس کے لیے بھی پے وال فیچرز آزما رہا ہے۔
Source link
Today News
ایرانی وزیرخارجہ کی امریکی نمائندے سے رابطے کی تصدیق، مذاکرات سے انکار
ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نمائندے سے براہ راست یا دوسرے ممالک کے ذریعے رابطہ ہوا ہے تاہم امریکا اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے حوالے سے مذاکرات نہیں ہوئے۔
الجزیرہ کو انٹرویو میں ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا سے رابطوں کو یہ مطلب نہیں ہے کہ تہران کی جانب سے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے امریکا کے نمائندہ خصوصی اسٹیو ویٹکوف کے پیغامات پہلے کی طرح موصول ہوئے اور اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے ہم مذاکرات کر رہے ہیں، ایران میں کسی بھی فریق سے مذاکرات کے دعوے میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام پیغامات وزارت خارجہ کے ذریعے دیے یا وصول کیے جاتے ہیں اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے درمیان رابطے ہیں، تہران نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے کیونکہ ان پر تحفظات ہیں۔
ایرانی وزیرخارجہ نے واضح کیا کہ امریکا کی جانب سے بھیجے گئے 15 نکاتی تجاویز پر تاحال کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے، نہ ہی کسی قسم تجاویز یا شرائط رکھی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھلا ہونا چاہیے، صرف ان جہازوں کے لیے آبنائے بند ہے جو ہمارے ساتھ جنگ کر رہے ہیں، جو جنگ کے دوران معمولی بات ہے، ہم اپنے دشمنوں کو تجارت کے لیے اپنی سمندر حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایرانی وزیرخارجہ کی اکثر باتیں کوئی نیا مؤقف نہیں ہے لیکن اہم خبر یہ ہے کہ اسٹیو ویٹکوف سے رابطہ ہوا ہے اور نیا معلومات یہی ہیں کہ ویٹکوف کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہیں اور سیکیورٹی تبادلہ خیال بھی ہو رہا ہے۔
قبل ازیں میڈیا رپورٹس میں سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ ایران کو امریکا کی جانب سے 15 نکاتی منصوبہ موصول ہوگیا ہے جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ ہے۔
امریکی منصوبے میں ایران سے جوہری ہتھیار کے حصول سے باز رہنے اور اپنے میزائلوں کی صلاحیت کو رینج اور تعداد دونوں میں کمی لانے کا وعدہ بھی شامل ہے لیکن ایرانی وزیرخارجہ تاحال اس مؤقف پر قائم ہیں کہ ایران خطے میں جنگ بندی کے بجائے جنگ کے خاتمے کے حوالے سے تجویز کو تسلیم کرے گا۔
Source link
Today News
پنجاب میں گندم خریداری نظام کا آغاز ہو گیا
پنجاب کے1 کروڑ 64 لاکھ ایکڑ رقبے پر کاشت کی جانے والی گندم کی سبز بالیوں نے سنہری زیور پہننا شروع کردیا ہے ،موسم میں کوئی غیر معمولی اتار چڑھاو نہ آیا تو انشاء اللہ رواں ماہ کے وسط سے گندم کی بالیاں مکمل سنہری ہو جائیں گی۔
محکمہ زراعت پنجاب کے ابتدائی تخمینہ کے مطابق رواں برس صوبے میں2 کروڑ20 لاکھ ٹن گندم کی پیداوار متوقع ہے جو گزشتہ سال کی پیداوار کے تقریبا برابر ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گندم کاشتکاروں کے معاشی تحفظ کے لیے رواں برس غیر معمولی اقدامات کیے ہیں ۔ حکومت زمینداروں سے براہ راست گندم خریداری تو نہیں کررہی لیکن نجی شعبے سے منتخب اعلی معیار اور مضبوط مالی ساکھ کی ٹریڈنگ کمپنیوں کے ذریعے30 لاکھ ٹن گندم خریداری کا نظام تیار کرلیا گیا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹریڈنگ کمپنیوں کو کسانوں سے مکمل نیک نیتی اور دیانت داری سے گندم خریداری کرنے کو یقینی بنانے کے لیے وزیر اعلی مریم نواز نے منظوری دے دی ہے کہ محکمہ خوراک کے پاس موجود20 لاکھ ٹن گندم کے مساوی باردانہ منتخب ٹریڈنگ کمپنیوں کے ذریعے کسانوں کو بلا معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔
اگلے روز سے پنجاب میں گندم خریداری مہم کے پہلے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے،محکمہ خوراک نے 11 ٹریڈنگ کمپنیوں کی جانب سے گندم خریداری کے لیے جمع کروائی فنانشل بڈ کھول دی ہے جن میں سے کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک کمپنی کو انتہائی بلند شرح مارک اپ کی پیشکش کی وجہ سے ڈس کوالیفائی کردیا گیا ہے ۔
حتمی منتخب نجی ٹریڈنگ کمپنیوں کو آج سے محکمہ خوراک کے سرکاری گوداموں کی الاٹمنٹ شروع کردی جائے گی اور آیندہ چند روز میںٹریڈنگ کمپنیاں الاٹ کردہ خریداری مراکز پر اپنا عملہ تعینات کریں گی۔
ڈی جی فوڈ پنجاب امجد حفیظ کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوں نے غیر معمولی رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود اس نظام کو راستے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اس کے سفر کا آغاز ہو گیا ہے، منزل کٹھن ہے مگر ہر نئے نظام کو پہلی مرتبہ خامیوں، تنقید اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے اس میں مستقبل کے لیے اصلاح کرنے میں مدد ملتی ہے۔
ڈی جی فوڈ امجد حفیظ کا کہنا ہے کہ10منتخب ٹریڈنگ کمپنیوں میں گرین پاکستان انیشی ایٹو جیسا اہم ترین وفاقی ادارہ بھی شامل ہے جب کہ تین اہم ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی خریداری اسکیم میں حصہ لے رہی ہیں۔
محکمہ خوراک کے سرکاری خریداری مراکز پر گندم کاشتکاروں کی آن لائن رجسٹریشن کا آغاز آیندہ چند روز میں کردیا جائے گا۔ٹریڈنگ کمپنیاں براہ راست کسانوں سے گندم خریداری کریں گی،مڈل مین آڑھتی سے خریداری پر پابندی عائد ہو گی۔
کسانوں کو گندم فروخت کے لیے ٹریڈنگ کمپنیاں محکمہ خوراک سے ملنے والا باردانہ بلا معاوضہ فراہم کریں گی۔ خریداری مہم میں کسی قسم کی سفارش یا رشوت نہیں چلنے دی جائے گی اورحکومتی پالیسی کے تحت چھوٹے گندم کاشتکار کو خریداری مہم میں اولین ترجیح دی جائے گی۔
اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو مگر فی الوقت تو کسانوں میں بہت سے خدشات اور تحفظات پائے جاتے ہیں جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ کیا منتخب کمپنی کسان کے کھیت میں سے واقعی 3500 روپے قیمت پر گندم خریدے گی ؟
کیونکہ ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ بعض ٹریڈنگ کمپنیوں نے آڑھتیوں کے ساتھ گندم فراہمی کے معاملات طے کرنا شروع کر دیے ہیں، اگر آڑھتی کسان سے سستے داموں گندم خرید کر کمپنی کو اپنے کمیشن سمیت فروخت کرے گا تو پھر حقیقی کسان کو3500 کی جگہ3 ہزار تا3200 روپے قیمت ہی مل پائے گی۔
منتخب کمپنیاں کس ضلع سے کتنی مقدار میں گندم خریدیں گی، کسانوں کی رجسٹریشن اگر چھوٹے کاشتکار کی بنیاد پر ہونا ہے تو اچھی بات مگر اگر بڑے کسان اکاموڈیٹ ہو ئے تو کیا بنے گا۔اس قسم کے بہت سے سوالات موجود ہیں جنھیں دور کرنے کے لیے حکومت کو آگاہی مہم فی الفور شروع کردینی چاہیے۔
حکومتی پالیسی کے تحت منتخب ایگریگیٹر(ٹریڈنگ کمپنی) کسانوں سے گندم خریداری کے لیے بینکوں سے جو قرض حاصل کرے گا اس کے مارک اپ کا70 فیصد حکومت ادا کرے گی جب کہ جو گندم خریدی جائے گی اس پر ستمبر2026 تک زیادہ سے زیادہ10 فیصد یعنی 3500 روپے میں خریدی گئی ہر ایک من گندم پر350 روپے بطور منافع حکومت ادا کرے گی ۔
ستمبر کے بعد حکومت ایگریگیٹر کی خرید کردہ گندم(جو باقی پڑی ہو) پر زیادہ سے زیادہ35 روپے فی من منافع ادا کرنے کی پابند ہوگی جب کہ کسانوں سے گندم خریداری کے لیے باردانہ بھی محکمہ خوراک فراہم کرے گا اور ٹریڈنگ کمپنیاں خریدی گئی گندم ی کی اسٹوریج کے لیے محکمہ خوراک کے گودام ہی استعمال کریں گی۔
ان فوائد کو دیکھ کر پہلا خیال یہی ذہن میں آتا ہے کہ اگر سب کچھ حکومت نے ہی برداشت کرنا ہے تو پھر بہتر ہوتا کہ ماضی کی طرح حکومت ہی کسانوں سے براہ راست گندم خرید لیتی لیکن حکومت کی مجبوری ہے کہ وہ عالمی اداروں کی شرائط کے سبب براہ راست خریداری نہیں کر سکتی اور پنجاب میں آٹا روٹی کی قیمت کو بھی کنٹرول میں رکھنا لازم ہے تو پھر حکومتی نگرانی میں نجی شعبہ کی خریداری کا نظام ہی راستہ بنتا تھا جسے اپنایا گیا ہے۔
اس نظام کی خوبیاں جانچی جائیں تو ماضی میں محکمہ خوراک کی گندم خریداری میں کسانوں کا جس طرح معاشی استحصال کیا جاتا تھا، سرکاری اسٹاک میں چوری کی جاتی تھی، ملاوٹ کی جاتی تھی، پانی لگایا جاتا تھا اب ویسا نہیں ہوگا کیونکہ کوئی بھی ایگریگیٹر ایسا رسک نہیں لے گا جس سے اس کی حکومت کی جانب واجب الادا رقم خطرے میں پڑ جائے۔
ایگریگیٹر کسانوں سے کمزور گندم بھی نہیں خریدے گا جو پہلے فوڈ اسٹاف خرید لیتا تھا۔ حکومتی اسکیم کی ممکنہ خامیوں کا ذکر کیا جائے تو نجی خریداروں کے لیے اتنی بڑی مقدار میں یکمشت خریداری آپریشنل چیلنج کے طور پر بہت مشکل ہوگی، یہ کمپنیاں اور فلورملز ماضی میں گندم خرید کر اسٹاک کرتی رہی ہیں مگر اتنی بڑی مقدار ان میں سے کسی نے نہ خریدی اور نہ ہی سنبھالی ہے۔
ایگریگیٹرز کو غیر معمولی مالی رعایات سے حکومت پر معاشی دباو موجود رہے گا۔ سب سے بڑا چلنج یہ ہوگا کہ کسانوں کی خواہش ہوگی کہ جس طرح ماضی میں فوڈ اور پاسکو ان سے گندم خریدتا تھا یعنی ہر قسم کی گندم بک جاتی تھی ایک مخصوص نذرانہ دیکر اب وہ ممکن نہیں ہوگا جس سے ممکن ہے کہ بڑے زمینداروں کی جانب سے نئے نظام پر تنقید بھی کی جائے اوراس تنقید کو سرکاری اہلکاروں کی حمایت بھی حاصل ہو۔
شنید ہے کہ حکومت 3500 روپے میں خریدی گندم ریلیز سیزن میں فعال فلورملز کو3500 روپے فی من قیمت پر ہی فروخت کرے گا یعنی تمام انسیڈنٹل چارجز حکومت خود برداشت کرے گی جس کے ذریعے سادہ روٹی کی نئی قیمت15 روپے اور بیس کلو آٹا تھیلا قیمت 2180 روپے کے لگ بھگ مستحکم رکھنا آسان ہوجائے گا۔
وزیر اعلی مریم نواز گندم کاشتکاروں اور شہری صارفین کو یکساں ریلیف اور معاشی تحفظ دینے کے لیے تمام اقدامات کر رہی ہیں، سیکریٹری فوڈ ڈاکٹر کرن خورشید اور ڈی جی فوڈ امجد حفیظ اس مشکل مشن کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن جدوجہد کر رہے ہیں،ڈویژنل سطح پر کمشنرز کی سربراہی میں قائم کمیٹیاں شکایات کا بروقت ازالہ کریں گی اس لیے امید رکھنا ہوگی کہ گندم کاشتکار اس بار خسارے کا شکار نہیں ہوں گے۔
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: BUILT FOR ACTION – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Buttler ready to continue England career despite ‘poor’ T20 World Cup – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Turning grief into purpose – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Rabeeca Khan’s Father’s Tips For Daughters Marriages
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The woman in the red dress – Newspaper
-
Today News2 weeks ago
رمضان، عید اور پٹرول بم
-
Sports2 weeks ago
Pakistan, India in same Hockey World Cup pool – Sport
-
Today News2 weeks ago
وزیراعظم کا ملائیشین ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، عید کی مبارکباد، ملکر کام جاری رکھنے پر اتفاق