Today News
کوسٹ گارڈز اور نیوی کی کارروائی، گوادر میں بڑی مقدار میں چھپائی گئیں منشیات برآمد
پاکستان کوسٹ گارڈز اور پاک نیوی نے گوادر میں چھپائی گئی 1050 کلو چرس اور 200 کلوگرام میتھ (آئس) ضبط کرلیا۔
ترجمان پاکستان کوسٹ گارڈزکے مطابق پاک بحریہ کے ساتھ مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن کے دوران بلوچستان میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کے دوران گوادر کے علاقے جیوانی میں پہاڑوں میں چھپائی گئی منشیات برآمد کرلی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اس کارروائی میں گوادر میں چھپائی گئی 1050 کلو چرس اور 200 کلوگرام میتھ (آئس) ضبط کر لی گئی۔
ترجمان کے مطابق پکڑی جانے والی منشیات کی عالمی مالیت تقریباً110 ملین ڈالر ہے، جسے سمندری راستے سے بیرون ممالک اسمگل کیا جانا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کوسٹ گارڈز منشیات کی اسمگلنگ کے روک تھام اور ملوث نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔
ترجمان نے کہا کہ منشیات اسمگلنگ کے نیٹ ورکس دہشت گردوں کو ایک منظم طریقے سے آمدن فراہم کرتے ہیں جن کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
Source link
Today News
ایران جنگ سے کراچی کی فضا میں زہریلے مواد کی افواہیں بے بنیاد ہیں، ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ موسمیات
محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر انجم نذیرضیغم نے ایران جنگ کی وجہ سے کراچی کی فضا میں زہریلے مواد اور ہوا کا معیار خراب ہونے کی افواہوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا ماحول فی الحال کسی بھی قسم کےخطرے سے باہرہے، ماضی کے مقابلے میں آج جدید آلات کے ذریعے زہریلے مادوں اور دھویں کے بادلوں کا پتا لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر انجم نذیر ضیغم نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کراچی میں کہیں آلودہ اور کہیں کالی بارش جیسی صورت حال پیدا ہونے کے معاملے میں کوئی صداقت نہیں ہے، نئے مغربی سلسلے کے زیراثر بلوچستان کے مختلف مقامات پر بارش ریکارڈ ہو رہی ہے تاہم کسی بھی جگہ سےکوئی غیرمعمولی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بارش کےعلاوہ ایک اور تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ مشرق وسطی اور ایران میں جنگی صورت حال کی وجہ سےکراچی میں ہواؤں کا معیار انتہائی خراب ہوسکتا ہے لیکن یہ تبصرے بھی بے بنیاد ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں داخل ہونے والے مغربی سسٹم کی وجہ سے سمندری ہواؤں کی مختصر وقت کے لیے بندش اور شمال مغربی ہواؤں کے اثرات کی وجہ سے ہواؤں میں معلق گردوغبار کی وجہ سےائیرکوالٹی انڈیکس میں اگر کسی وقت اضافہ محسوس ہوتا ہے، تو وہ معمول کی صورت حال کا نتیجہ ہوگا۔
انجم نذیر ضیغم نے کہا کہ بمباری ایران کے شمال مغربی حصے میں ہو رہی ہے، پاکستان کا بارڈر ایران کے جنوبی حصے سے ملتا ہے جہاں حالات معمول کے مطابق ہیں، ایران کی صورت حال 1992 کی خلیجی جنگ جیسی نہیں ہے جب بڑے پیمانے پر تیل کے کنوؤں کو آگ لگائی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات بلوچستان، پنجاب اور بالائی سندھ میں ہونے والی بارش میں کوئی منفی اثرات نہیں دیکھے گئے تاہم محکمہ موسمیات بارش کے پانی کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہےکہ پانی میں غیرمعمولی ذرات تو شامل نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 1992 کے برعکس آج ہمارے پاس جدید سیٹلائٹ ٹیکنالوجی موجود ہے، سیٹلائٹ فضا میں کسی بھی زہریلے مادے یا دھوئیں کے بادلوں کا فوری پتا لگانےکی صلاحیت رکھتے ہیں، اب تک کی سیٹلائٹ تصاویر پاکستان کی فضائی حدود کو بالکل صاف ظاہر کر رہی ہیں۔
ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ موسمیات نے کہا کہ عوام افواہوں پر کان نہ دھریں، حکومت اور متعلقہ ادارے صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، بارش فضا کو ہر قسم کی گرد اور آلودگی سےصاف کر دیتی ہے۔
Source link
Today News
قطرنے ایرانی سفارتکاروں کو 24 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا
دوحا:
قطر اور ایران کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جہاں دوحہ حکومت نے سخت سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے ایرانی سفارتخانے کے سیکیورٹی اور ملٹری اتاشیوں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے دیا ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق، دوحہ میں موجود ایرانی سفارتخانے کے دونوں اعلیٰ عہدیداروں کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب قطر نے اپنے آئل فیلڈز پر ایرانی حملوں کا الزام عائد کیا۔
ذرائع کے مطابق، اس فیصلے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ خلیجی خطے میں توانائی سیکیورٹی کا بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
Today News
پاک افغان تعلقات اور چین کا کردار
پچھلے کچھ برسوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا ماحول ہے ۔اس ماحول نے اب ایک باقاعدہ کھلی جنگ کی صورتحال اختیار کرلی ہے۔دو طرفہ بات چیت کے جتنے بھی امکانات تھے یا جو بھی بڑی بڑی سیاسی بیٹھکیں سجائی گئیں کہ دو طرفہ مکالمہ کی بنیاد پر مسائل کا حل نکل سکے وہ بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکا ۔
اس وقت جنگ کا ماحول ہے ۔ یہ ماحول پورے خطے کی سیاست کے لیے بھی مستقبل میں اچھے امکانات پیدا نہیں کررہا جو خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے ۔قطر، دوحہ اور سعودی عرب نے جو کوششیں کیں وہ بھی فوری طور پر کوئی بڑا مثبت نتیجہ نہیں دے سکیں اور اس کی بنیادی وجہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان کے تحفظات پر کسی بھی طرز کی تحریری ضمانت نہ دینے کا فیصلہ تھا جو ڈیڈ لاک کو پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔
اب پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہتری میں ایک بڑے موثر کردار ادا کرنے کے لیے فرنٹ فٹ پر ہم چین کے کردار کو دیکھ رہے ہیں ۔یہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمہ میں بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے ۔ موجودہ حالات میں یہ بات سمجھ آرہی تھی کہ امریکا اور چین کی ثالثی کے بغیر پاکستان افغانستان تعلقات میں فوری طور پر بہتری کے امکانات پیدا نہیں ہوسکیں گے۔ آج کی دنیا میں طاقت اور سفارت کاری یا بڑی معیشت کی حکمرانی ہے ۔اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ چین اپنی سیاسی اور معاشی سطح پر موجود طاقت کی بنیاد پر ایک فعالیت پر مبنی کردار ادا کرسکتا ہے ۔
حالیہ کچھ عرصہ میں ہم نے اس کردار کی کچھ اہم جھلکیاں بھی دیکھی ہیں۔ ایک طرف چین کی معاشی طاقت تو دوسری طرف دونوں ممالک کے ساتھ اس کے گہرے تعلقات اور علاقائی استحکام کے لیے اپنی اپنی سطح پر اسٹرٹیجک ضرورت بھی ہے۔چین کی قیادت اس وقت شٹل ڈپلومیسی اور یا پس پردہ ڈپلومیسی کی بنیاد پر دونوںممالک کے درمیان بہتر تعلقات چاہتی ہے اور اسی تعلقات کی بہتری میں چین کے اپنے معاشی مفادات بھی جڑے ہوئے ہیں۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان چین کے خصوصی نمائندے اس وقت دونوں ممالک کی قیادت سے رابطوں میں ہیں اور جو کچھ بات چیت ہو رہی ہے اس میں چین کا کردار ہی شامل ہے۔
چین سمجھتا ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو جہاں چین کے معاشی مفاد کو فائدہ ہوگا وہیں یہ دونوں سطح کے ممالک کو سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹوسے پاکستان کی سیکیورٹی ، افغانستان کو سرمایہ کاری اور معدنیات کی ترقی میں فائدہ پہنچ سکتا ہے جو دونوں ممالک کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔کیونکہ اگر دونوں ممالک بہتر تعلقات کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو اس خطہ میں چین کی سرمایہ کاری بڑھے گی اور اس کا فائدہ دونوں ممالک کو معاشی ترقی کی صورت میں ہوگا۔یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ اگر چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہتر ہیں تو خود افغان حکومت بھی چین کے ساتھ نہ صرف بہتر تعلقات رکھے ہوئے ہے بلکہ افغان حکومت معاشی ترقی کے عمل میں چین پر بڑا انحصار کر رہی ہے۔
اس لیے چین اس پوزیشن میں نظر آتا ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیا ن تعلقات کی خرابی کو کم کرنے میں بہت کچھ کرسکتا ہے۔اسی طرح یہ جو افغان حکومت کا جھکاؤ بھارت کی جانب بڑھ رہا ہے اور جس کی بنیاد پاکستان دشمنی ہے اس کو بھی کم کرنے میں چین کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔ وہ افغانستان کو یہ باور کروا سکتا ہے کہ اس کے بھارت سے تعلقات کی بنیاد پاکستان دشمنی کی بنیاد پر نہیں ہونے چاہیے اور جو پاکستان کے تحفظات ہیں اسے ہر صورت افغان حکومت کو بات چیت کی مدد سے دور کرنا چاہیے۔
چین نے زور دیا ہے کہ موجودہ حالات میں جہاں دونوں ممالک میں سخت کشیدگی ہے تو پہلے مرحلے میں دونوں ممالک ایسے عملی اقدامات اٹھائیں جو ماحول کو ابتدائی طور پر سازگار بنانے میں مدد کرسکیں ۔کیونکہ سخت کشیدگی ، الزامات یا جنگ کے ماحول میں بات چیت کے امکانات کافی حد تک کم ہوجاتے ہیں ۔چین کی ہمیشہ سے یہ پالیسی رہی ہے کہ وہ بہت زیادہ کسی ایک طرف جھکاؤ رکھ کر آگے بڑھنے کا حامی نہیں بلکہ اس کی پالیسی کو توازن کی بنیاد پر دیکھا جاتا ہے اور ان میں معیشت کو اہم حیثیت حاصل ہوتی ہے۔
اسی طرح چین یہ بھی سمجھتا ہے کہ اس خطہ میں اس کی معاشی ترقی کا ایک بڑا انحصار علاقائی بہتر تعلقات اور بالخصوص بہتر سیکیورٹی کے مسائل کی بنیاد سے جڑے ہوئے ہیں۔چین جتنی بھی علاقائی سطح پر دہشت گرد تنظیمیں ہیں چاہے وہ کسی بھی ملک میں بیٹھ کر کام کررہی ہیں ان کو اپنا مشترکہ دشمن سمجھتا ہے۔اسی طرح پاکستان بھی داعش سمیت ٹی ٹی پی کو اس خطہ کی سیاست میں دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے ۔اصولی طور پر تو اس خطہ میں دہشت گردی کے خاتمے میں تمام ممالک کی سطح پر ایک مشترکہ حکمت عملی ،میکنزم اور فریم ورک کی ضرورت ہے اور اس اہم کام میں چین بڑا کردار ادا کرسکتا ہے اور اس کے اس کردار سے انکار کرنا کسی بھی ملک کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔
یہ جو پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افغانستان ہمیں ٹی ٹی پی کی جانب سے ان کی سرزمین دہشت گردی میںاستعمال نہ کرنے کی تحریری ضمانت دے اس میں بھی چین یہ کردار ادا کرسکتا ہے۔اگر افغانستان براہ راست پاکستان کو یہ ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں تو وہ یہ ضمانت چین کو بھی دے سکتا ہے جو پاکستان کے لیے قابل قبول ہوسکتی ہے۔اسی طرح سے افغانستان کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ اگر اسے عالمی سطح پر اپنے کردار کو بڑھانا ہے یا اپنی قبولیت کو ممکن بنانا ہے تو یہ پاکستان کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں اور پاکستان چاہے گا کہ افغانستان اس عمل میں ان کے دشمن ٹی ٹی پی کو ختم کرے اور ان کو ختم کیا جائے ۔چین کی ایک مشکل یہ بھی ہے کہ اسے اس عمل میں بھارت، ایران اور سعودی عرب کی حمایت بھی درکار ہے اور چین کبھی یکطرفہ پالیسی کی بنیاد پر کسی کی حمایت اور مخالفت میں سامنے نہیں آئے گا۔
-
Magazines2 weeks ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Today News2 weeks ago
prime minister contact Lebanon counterpart solidarity against israeli aggression
-
Entertainment2 weeks ago
Muneeb Butt Reveals Reason Of Blessings in His Income
-
Magazines5 days ago
Story time: The price of a typo
-
Sports2 weeks ago
‘There will be nerves’: India face New Zealand for T20 World Cup glory – Sport