Connect with us

Today News

کیا ایران کو غزہ بنایا جا سکتا ہے؟

Published

on


ایران قطعاً ایک چھوٹا ملک نہیں۔ دس کروڑ کی آبادی پر محیط جغرافیائی لحاظ سے ایک اہم ترین جگہ پر واقع ہے۔ جہاں تک ‘تہذیب کا تعلق ہے، ہزاروں برس پرانے تمدن کا امین ہے۔

کسی بھی لحاظ سے دیکھ لیجیے، ایران ایک غیر معمولی ریاست ہے۔ نسلی فخر اور عصیبت کا معاملہ بھی سب کے سامنے ہے۔

درست ہے کہ مذہبی رہنماؤں نے اپنے ملک کو حکومتی جبر کے ذریعہ کنٹرول کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ نوجوان طبقے میں اس کا شدید ردعمل موجود ہے۔

موجودہ حالات جس میں اسرائیل نے ایران پر یک طرفہ جنگ مسلط کر ڈالی ہے۔ نیتن یاہو کے حکم پر‘ ٹرمپ بغیر سوچے سمجھے ‘ اس قتال کا حصہ بن چکا ہے۔

ایرانی قوم کو داخلی طور پر بہت مخدوش کر دیا ہے۔ انھیں اپنے دوست اور دشمن کا بھی بخوبی معلوم ہو چکا ہے۔ یہ معاملہ بذات خود ایران کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ سب کو معلوم تھا کہ ایران کے پاس جدید طیارے اور بحری جہاز موجود نہیں ہیں۔

اقتصادی پابندیوں کے تسلسل نے معیشت کو حد درجہ نقصان پہنچایا ہے۔ معروضی حالات میں‘ ایران‘ صرف میزائل اور ڈرون کے سہارے جنگ لڑ رہا ہے۔

مگر یہ معاملہ زیادہ طول نہیں پکڑ سکتا ۔ اسرائیل کے پیچھے‘ امریکا کی پوری عسکری قوت‘ پوری بربریت سے کھڑی ہوئی ہے۔امریکا فخریہ اعلان کررہا ہے کہ ایران ‘ امریکا کی قوت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

ہمارے ملک میں کیونکہ جذباتیت ‘ دلیل پر بھاری ہے۔ لہٰذا اکثر دانشور اس معاملے پر کم سچ بولتے نظر آتے ہیں۔بلکہ اکثر اوقات ‘ تو وہ عام لوگوں کو یہ فرما رہے ہوتے ہیں کہ اسرائیل یہ جنگ ہار چکا ہے۔ اور ایران‘ اپنا دفاع‘ درست انداز میں کر رہا ہے۔

اس عنصر کو غور سے پرکھنا چاہیے۔ آٹھ دن کے مسلسل فضائی حملوں نے ایران کو حد درجہ نقصان پہنچایا ہے۔ ایران نے جو میزائل زیر زمین رکھے ہوئے تھے، گزشتہ دو دنوں میں‘ امریکا نے ایک خاص فضائی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے‘ ایسے بم استعمال کیے ہیں جو زیر زمین بنکرزاور میزائلز کو تباہ کر سکتے ہیں۔ اس جدید ترین بم کا مقابلہ فی الحال ممکن نظر نہیں آ رہا۔

مگر میرا نظریہ بالکل مختلف ہے ۔ دلیل سے ثابت کر سکتا ہوں کہ ایران کو غزہ بنانا ناممکن ہے؟ کیوں۔ ایک پہلو جو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے ، وہ یہ کہ ایران کے پاس چھ لاکھ کی مستند فوج موجود ہے۔

اس کے علاوہ ریزرو میں ساڑھے تین لاکھ‘ تربیت یافتہ افرادی قوت بھی ہے۔ مجموعی طور پر اس ملک کے پاس‘ ساڑھے نو لاکھ کی ہتھیاروں سے لیس عسکری طاقت آج بھی موجودہے اور مکمل محفوظ بھی ہے۔

معاملے کو دوبارہ دیکھئے ۔ ایرانی وزیرخارجہ نے بین الاقوامی میڈیا پر پر اعتماد لہجے سے کہا ہے کہ ہم لوگ‘ تو امریکا اور اسرائیل کی فوج کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ کب ہماری سرزمین پر زمینی حملہ کرتے ہیں۔

اس بیانیہ سے امریکا اور اسرائیل کی جان جاتی ہے۔ انھیں بخوبی علم ہے کہ ایران کی عسکری طاقت سے مقابلہ کرنا حد درجہ مشکل ہے۔ اس میں حملہ آور فوج کا شدید جانی نقصان ہو گا۔

یہ دونوں ممالک ‘ اپنے سپاہیوں کے مارے جانے کے نقصان کو برداشت نہیں کر سکتے۔ ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ دونوں ممالک کے عوام کا اتنا شدید ردعمل آئے گا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو‘ اس کے سامنے ٹھہر نہیں سکتے۔

وثوق سے عرض کر سکتا ہوں کہ زمینی جنگ میں ایران کو ہرانا قطعاً ممکن نہیں ہے۔ دس لاکھ کے لگ بھگ فوج‘ کسی لحاظ سے بھی معمولی طاقت نہیں ہے اور اس نکتہ پر دونوں ممالک پریشان ہیں۔ ایران کی کروڑوں کی آبادی کو آپ فضائی حملوں سے ختم نہیں کرسکتے ۔

اسی تناظر میں ‘ ایرانی وزیر خارجہ کا بیان بالکل صائب ہے کہ ہم امریکی اور اسرائیلی فوج کو خوش آمدید کہنے کے لیے بالکل تیار بیٹھے ہیں۔

یہی وہ مرحلہ ہے جس کے بل بوتے پر ایران مکمل فتح حاصل کر سکتا ہے۔ یہاں جنگ کا ایک اور رخ بھی پیش کرنا چاہتا ہوں۔ غاصبانہ حملہ کرنے والوں کی افواج ‘ بھرپور طریقہ سے ایک امر میں خوف زدہ ہیں۔

اور وہ ہے جنگ میں موت کا خوف۔ ابھی صرف امریکا کے چھ فوجی مارے گئے ہیں۔ وہاں کہرام مچ گیا ہے۔ ان کی لاشیں وصول کرنے کے لیے ٹرمپ خود ‘ ائیرپورٹ تک گیا ہے۔

یہی معاملہ اسرائیلی فوج کا ہے۔ وہ تو ٹیکنالوجی کے سہارے لڑنے والے جنگجو ہیں۔ گولی کا آمنے سامنے مقابلہ کرنا‘ ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ غزہ میں‘ اس لیے کامیاب ہوئے کہ سامنے کوئی تربیت یافتہ فوج موجود نہیں تھی۔

حماس ایک تنظیم ہے اور ان کی جنگی استطاعت‘ ایک ریگولر آرمی کے حساب سے بہت کم تھی۔ مگر ایران کے پاس تو تربیت یافتہ دس لاکھ کی افرادی طاقت قائم و دائم ہے۔ اور ہاں! یہ بالکل نہ بھولیے کہ ایران کا ہر سپاہی‘ شہادت کو اپنا منصب اعلیٰ سمجھتا ہے۔

وہ زندگی اور موت کا کھیل متعدد بار دیکھ چکے ہیں۔ مذہبی جذبہ اور شوق شہادت وہ حقائق ہیں جن کے سامنے‘ امریکا اور اسرائیل کی فوج تو کیا ‘ دنیا کی کوئی طاقت ان کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے۔

یہاں گزارش کروں گا کہ اپنے ملک کی حفاظت کرتے ہوئے شہادت کسی بھی مسلمان کے لیے باعث فخر ہے۔ اس میں فوجی یا شہری کی تفریق بھی نہیں ہے۔ دھرتی ماں پر اپنی جان وار دینا‘ کمزور سے کمزور مسلمان کے لیے بھی اعزاز کی بات ہے۔

یہ وہ جذبہ ہے جو ایران پر ناجائز حملہ کرنے والوں کے پاس نہیں ہے۔ ان کے عوام اور خواص‘ بار بار کہہ رہے ہیں کہ ایران پر حملہ کرنا ایک غیر قانونی عمل ہے اور اس کا کوئی جواز نہیں تھا۔

اگر امریکی صدر کے حالیہ بیانات پڑھیں تو بار بار فرما رہے ہیں کہ ایران کو مکمل طور پر ہتھیار ڈال دینے چاہیں۔ اگر وہ نہیں کرے گا‘ تو اس کے سپاہ کے لیے موت یقینی ہے۔ مگر یہ ایک نفسیاتی حربہ ہے۔

دس لاکھ مسلح فوج کیونکر ہتھیار ڈالے گی؟ اور اس وقت ‘ جب کہ زمینی لڑائی تو شروع ہی نہیں ہو پائی؟ سپریم لیڈر اور سرکردہ قیادت کو دھوکے سے شہید کیاگیا۔ یہ ایک مجرمانہ فعل تھا۔ ایران کو اس کا بہت نقصان ہوا ہے۔

مگر اس شدید نقصان کے باوجود‘ ایران کی دوسری سطح کی قیادت نہ صرف موجود ہے بلکہ مکمل طور پر فعال ہے۔ مطلب بالکل صاف ہے۔ ایران کی مسلح افواج کی قیادت‘ تمام نقصانات جھیل کر بھی‘ مستند طریقے سے موجود ہے اور زمینی حملے کی صورت میںدشمن کو ناکوں چنے چبوا سکتی ہے۔

یہی وہ نکتہ ہے جس کا امریکا اور اسرائیل کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ ساتھ ساتھ انھیں اپنے متوقع جانی نقصان سے بھی شدید خوف ہے۔ ایران کی دفاعی زمینی قوت‘ ان ملکوں کے لیے ڈراؤنا خواب ہے اور ان کے پاس آج کی تاریخ تک اس کا کوئی توڑ نہیں ہے۔

موجودہ حالات میں‘ مختلف وجوہات کے باعث ‘ ایرانی قوم بھی متحد ہے۔ امریکا کی ایک اور حکمت عملی بھی شروع ہی میں ناکام ہو تی نظر آ رہی ہے۔ کردوں کو ایرانی افواج کے خلاف استعمال کرنے کا منصوبہ بھی ہوا میں معلق معلوم پڑتا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا نے کردوں کے جنگ جو گروہوں کو بہت زیادہ اہمیت دے رکھی ہے۔ مگر ذرائع یہ کہہ رہے ہیں کہ کرد بھی زمینی حملہ کرنے میں ہچکچا رہے ہیں۔ ان کی جانب سے کوئی ایسا فیصلہ نہیں ہو سکا کہ تمام کرد گروہ‘ متحد ہو کر‘ ایرانیوں کے خلاف ہتھیار اٹھا لیں گے۔

یہ تمام غیر معمولی صورت حال بنتی جا رہی ہے۔ جس کا صرف ایک واضح رخ نہیں ہے۔ ابھی تو ایران بڑی جرأت سے اس جارحیت کا مقابلہ کرتا نظر آ رہا ہے۔ ایک اور معاملہ بھی سامنے رکھیے۔ امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی مستقبل کی قیادت کا چناؤ وہ خود کرے گا۔

اور اسے‘ آیت اللہ خامنائی کے بیٹے بطوررہبر قبول نہیں ہے۔ مگر یہاں‘ ٹرمپ ‘ اس امر کا ادراک ہی نہیں کر سکا کہ ایران میں ایک تین رکنی کونسل ملک چلا رہی ہے ۔

رہبر کے انتخاب کے لیے پورا معاملہ ملکی آئین کے مطابق طے ہو رہاہے۔ بہت تھوڑے عرصے میں رہبر اعلیٰ کا اعلان بھی کر دیا جائے گا۔ اب مجموعی صورتحال کو اکٹھاکر کے پوری تصویر کو دیکھئے ۔

امریکا اور اسرائیل آج تک مکمل طور پر ایران کی ڈرون اور میزائل کی طاقت کو ختم نہیں کر پائے۔ ایران کی قیادت آج بھی فعال ہے اور ملکی معاملات کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔ عسکری طاقت بھرپور انداز میں پہاڑ کی طرح کھڑی نظر آتی ہے۔

یہ درست ہے ‘ کہ ایران‘ فضائی حملوں کا جواب نہیں دے رہا ‘ کیونکہ اس کی فضائی اور بحری طاقت حد درجہ محدود ہے ۔مگر اصل مقابلہ تو زمین پر ہو گا۔ سب کے علم میں ہے کہ وہاں امریکی اور اسرائیلی فوج کا پلڑا بھاری نہیں ہے۔

جب پنجے سے پنجہ لڑے گا تو حقیقت سامنے آ جائے گی۔ پھر فیصلہ بھی ہو جائے گا۔ امریکا کے لیے‘ اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانا بالکل آسان نہیں ہے۔ اور جہاں تک ایران کی لڑنے کی تاریخ کا تعلق ہے تو وہ بھی بڑی واضح ہے۔

ایران کو ذلیل کر کے ہتھیار ڈالنے کی ترغیب دینا‘ دیوانے کا ایک خواب ہے جو کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ ابھی تو معاملہ شروع ہوا ہے ۔ ذرا ٹھہر کے آگے دیکھئے! آپ کو غیر متوقع حقائق نظر آئیں گے۔ اس لیے ایران کو غزہ نہیں بنایا جا سکتا!
 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

Pakistan exposed another afghan taliban regime propaganda

Published

on


وزارت اطلاعات و نشریات ایک بار پھر افغان طالبان رجیم کے جھوٹ کا پردہ فاش کردیا۔

وزارت اطلاعات و نشریات نے ایک بار پھر افغان طالبان رجیم کے وزارت دفاع کے بے بنیاد جھوٹ اور پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا اور بتایا کہ افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاکستانی پوسٹوں پر قبضوں ے دعوؤں اور نقصانات کے پیش کردہ اعشاریوں میں بالکل بھی صداقت نہیں ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ افغان عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے ایسی جھوٹی کہانیاں پھیلائی جارہی ہیں جبکہ وہاں کے عوام پہلے ہی دہشتگردوں کی پشت پناہی کرنے وال افغان طالبان رجیم کی وجہ سے تکالیف برداشت کررہے ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ وزارت اطلاعات و نشریات افغان طالبان اور ان کی پراکسی فتنہ الخوارج کے نقصانات پر بروقت و باقائدگی سے پیش کر رہی ہے جبکہ ضرورت کے مطابق ساتھ ویڈیوز اور تصاویر بھی جاری کی جارہی ہیں۔

وزارت اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے افغان طالبان رجیم کی طرح جھوٹے پروپیگینڈے کا سہارا نہیں لیا جا رہا، افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی مصدقہ اطلاعات کو میڈیا کو براقت فراہم کیا جارہا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ افغانستان طالبان رجیم کے بار بار کئے جانے والے جھوٹے دعوے ایک دیوانے کا خواب ہیں، جو صرف افغان طالبان رجیم اور بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر موجود ہیں جبکہ حقیقت سے انکا کوئی تعلق نہیں ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

شرجیل میمن کی عید پر زائد کرایے وصول کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف بھرپور مہم کی ہدایت

Published

on



سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے عیدالفطر کے موقع پر زائد کرایے وصول کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف بھرپور مہم شروع کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

سینئر وزیر شرجیل میمن نے پولیس، تمام اضلاع کی انتظامیہ، این ایچ اے، ٹریفک پولیس اور ٹرانسپورٹ سمیت تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ زائد کرایہ وصول کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی یقینی بنائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض ٹرانسپورٹرز کی جانب سے خودساختہ طور پر کرایوں میں اضافہ مسافروں پر اضافی مالی بوجھ ڈال دیتا ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا اور بغیر اجازت کرایوں میں اضافے کو روکنا متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

سینئر وزیر نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں زائد کرایہ وصول کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں اور روزانہ کی بنیاد پر کارروائیوں کی رپورٹ محکمے کو ارسال کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسافروں کو سرکاری مقررہ کرایوں پر محفوظ اور سہل سفر کی سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس لیے تمام متعلقہ ادارے فیلڈ میں متحرک رہیں اور عوامی شکایات کا فوری ازالہ یقینی بنائیں۔



Source link

Continue Reading

Today News

کسی نہ کسی طرح آبنائے ہرمز کھول دیں گے، ٹرمپ کی اتحادی ممالک سے تعاون کی اپیل

Published

on


صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کسی نہ کسی طرح آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول کر اسے محفوظ اور آزاد بنا دے گا تاکہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل متاثر نہ ہو۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کو امید ہے کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ سمیت کئی ممالک اس اہم آبی گزرگاہ کی حفاظت کے لیے اپنے جنگی بحری جہاز بھیجیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کے متعدد ممالک آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھنے کے لیے بحریہ تعینات کرنے پر آمادہ ہیں تاکہ ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ خطرے کو روکا جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس دوران امریکا ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں جاری رکھے گا اور ایرانی کشتیوں یا جنگی جہازوں کو آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

امریکی صدر نے ان اطلاعات کو بھی مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب کے شہزادہ سلطان ایئر بیس پر ایرانی حملے کے نتیجے میں 5 امریکی ٹینکر طیارے تباہ ہو گئے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایئر بیس کو چند روز قبل نشانہ ضرور بنایا گیا تھا تاہم طیارے تباہ نہیں ہوئے۔ پانچ میں سے چار طیاروں کو بہت معمولی یا کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ طیارے دوبارہ آپریشنل سروس میں واپس آ چکے ہیں جبکہ ایک طیارے کو نسبتاً زیادہ نقصان ہوا تھا لیکن اسے بھی جلد مرمت کے بعد دوبارہ استعمال کے قابل بنا لیا جائے گا۔

خیال رہے کہ آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کو ملانے والی دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Trending