Connect with us

Today News

کیا جنگیں مسائل کا حل ہوسکتی ہیں ؟

Published

on


امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے بعد اس وقت عالمی اور مشرق وسطی میں صورتحال ہمیں کافی پیچیدہ نظر آرہی ہے ۔جو معاملات امریکا ،اسرائیل کے ایران کے ساتھ مذاکرات کی بنیاد پر حل ہونے چاہیے تھے اس پر جنگ کا ہونا کسی بھی حوالے سے دنیا کے امن کے مفاد میں نہیں ہے ۔ جنگ کی بنیاد دشمنی، بدلے کی آگ یا کسی پر برتری حاصل کرنے کی صورت میں ہوتی ہے۔جنگ سے پہلے امن کا راستہ تلاش کیا جاتا ہے اور ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ کسی بھی طریقے سے جنگ کے حالات سے بچا جائے۔

اس کا سفارت کاری کی بنیاد پر ہی نتیجہ نکالا جاتا ہے ۔سفارت کاری میں ایک مشہور جملہ یہ ہی کہا جاتا ہے کہ ایک سفارت کاری کی ناکامی کے بعد دوسری سفارت کاری کا راستہ تلاش کرنا ہی ملکوںکی سیاست میں دانش مندی کا تقاضہ ہوتا ہے۔لیکن ہمیں جو کام سب سے آخری آپشن کے طور پر کرنا چاہیے ہم اس کو مذاکرات سے پہلے اختیار کرکے جنگ کو ہی مسائل کا حل سمجھتے ہیں۔

بدقسمتی یہ ہے کہ دنیا امن اور جمہوری روایات یا ایک دوسرے ممالک کی خود مختاری کو نظر انداز کرکے یہ سمجھتی ہے کہ مخالف کے خلاف طاقت کا استعمال ہی واحد آپشن ہے ۔اس حالیہ امریکا اور اسرائیل باہمی گٹھ جوڑ بالخصوص امریکی صدر کی جانب سے یہ کہنا کہ وہ کسی قانون،قائدے اور ضابطوں کو نہیں مانتے اور جو ان کو مناسب لگتا ہے وہ اسی پر عمل کرتے ہیں ۔امریکی صدر کے اس طرز عمل نے دنیا کے ممالک کی داخلی سلامتی اور خود مختاری کو چیلنج کردیا ہے ۔

امریکا کی جانب سے یہ تاثر دینا کہ انصاف کے تقاضوں کی جگہ طاقت کے اصول اہمیت رکھتے ہیں عالمی سیاست میں نئے خطرناک رجحانات کی نشاندہی کرتے ہیں ۔ایک طرف امریکا بار بار ایران کے ساتھ مذاکرات کی بات کرتا رہا اور مذاکرات کا سیاسی دربار سجا کر یہ ہی پیغام دیتا رہا کہ وہ معاملات کا حل ہر صورت میں مذاکرات کی مدد سے ہی چاہتاہے ۔خود ایران کا اپنا طرز عمل مزاکرات میں کافی مثبت رہا مگر اچانک مزاکرات کو نظر انداز کرکے جنگ کا راستہ اختیار کرنا بہت زیادہ غیر معمولی بات ہے ۔ایسے لگتا ہے امریکا اور اسرائیل مذاکرات سے پہلے ہی جنگ کا فیصلہ کرچکے تھے اور مذاکرات کا عمل محض دنیا کو دکھاوے کا ایجنڈا تھا۔

 جنگ کی حمایت اس لیے نہیں کی جاسکتی کیونکہ جنگیںدنیا میں سوائے انسانی اور انتظامی تباہی کے سوا کچھ نہیں لاتیں۔ جو لوگ بھی جنگوں یا تنازعات کی حمایت کرتے ہیں وہ انسان دشمن ہوتے ہیں۔ان کا یہ طرزعمل ریاستی نظام میں انسانوں پر سرمایہ کاری اور ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کی بجائے اپنی ریاستوں کو جنگ کی بنیاد پر سیکیورٹی ریاست کے طور پر مضبوط کرتے ہیں۔اسی بنیاد پر جو سرمایہ کاری انسانی ترقی پر ہونی چاہیے وہ جنگوںکی سیاست یا کاروبار پر کرتے ہیں ۔

اس وقت دنیا کی سیاست میں بڑے اور چھوٹے ممالک جس تیز رفتاری سے اسلحہ پر سرمایہ کاری کررہے ہیں، وہ مستقبل کی دنیا کے لیے کوئی مثبت پہلوؤں کی نشاندہی نہیں کررہے۔غزہ میں جو کچھ اسرائیل نے کیا اس پر صرف ماتم ہی کیا جاسکتا ہے یا وہ لوگ یا بڑے ممالک جو ان تمام معاملات پر خاموش رہے ان کی بے بسی پر بھی دکھ ہوتا ہے ۔سوال یہ ہوتا ہے کیا کوئی جنگ کی جیت مرنے والوں کا متبادل ہوسکتی ہے اور کیا جنگ میں انسانوں کے قتل پر جیت کا جشن جائز ہے ۔

 اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی فورمز امن اور تنازعات کے حل کے لیے بنے ہوئے ہیں مگر ان کی کمزوریوں کی موجودگی میں جنگ کا ہونا اور مذاکرات سے انکار خود ان عالمی فورمز کی بے بسی کو ظاہر کرتا ہے،ایسے لگتا ہے کہ اقوام متحدہ جیسے بڑے ادارے عالمی طاقتوں کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے اور نہ ہی یہ بڑے ممالک کی جنگ یا جنگی پالیسیوں پر کوئی جوابدہی کا نظام رکھتے ہیں ۔اسی طرح کی حیثیت ہمیں اسلامی دنیا میں بھی او آئی سی کی نظر آتی ہے۔حالیہ امریکا اسرائیل ایران مخالف جنگ پر ہمیںکوئی بڑا کردار اقوام متحدہ اور اوآئی سی کا نظر نہیں آیا اور اسی وجہ سے دنیا کی سیاست میں یہ عالمی سطح کے فورمز اپنی سیاسی،اخلاقی اور قانونی حیثیت کھوچکے ہیں۔دوسری طرف جنگ کی سیاست دنیا میں سب سے زیادہ معیشت کو متاثر کرتی ہے۔

حالیہ جنگ میں جو کچھ پاکستان سمیت دنیا کے ممالک میں اس جنگ کی بنیاد پر پٹرول،ڈیزل اور تیل یا توانائی کا بحران پیدا ہوا اور جس طرح سے ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اس نے جہاں ہم جیسے ملکوں کی پہلے سے موجود کمزور معیشت کو مزید کمزور کردیا اور دوسرا اس کا سارا بوجھ کمزورسطح کے لوگوں پر مہنگائی کی صورت میں پیدا ہوا ہے۔اس وقت امریکا کے ٹیکس دہندگان کا اربوںڈالر، ایران کی معیشت پر پابندیاں،اسرائیل کی دفاعی لاگت یہ سب کچھ جنگوں کی نذر ہو رہے ہیں۔اگر یہ ہی رقم اس خطہ میں انسانی ترقی اور تعلیم وصحت پر خرچ ہو تو یہ جنگوں کی سیاست سے بہتر کام ہے لیکن ہم جنگوںاور تنازعات کو اپنی ترجیحات کا حصہ بنا کر دنیا کی معاشی ترقی کو پیچھے کی طرف دھکیل رہے ہیں اور اس کا نتیجہ مزید غربت اور محرومی کے طور پر سامنے آرہا ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ حالیہ جنگ علاقائی اور عالمی عدم استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے اور اس کی قیمت بھی بہت بھاری ہے ۔کیونکہ خطرہ یہ ہے کہ اگر اس جنگ کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو یہ جنگ کئی اور ممالک کو نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔یہ جنگ اور تنازعہ مشرق وسطی کو اور زیادہ غیر محفوظ بنا رہا ہے۔اصولی طور پر دنیا میں کئی ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ تنازعات کا حصہ بننا ہوتا ہے۔مگر ان تنازعات کا اول مقصد جنگ کرنا نہیں بلکہ ان کا باہمی حل نکال کر ایک دوسرے کے ساتھ امن اور بہتر تعلقات کا درمیانی راستہ رکھنا پڑتا ہے۔

اسی وجہ سے سفارت کاری کے محاذ پر کہا جاتا ہے کہ تنازعات کتنے بھی آگے چلے جائیں ہمیں سفارت کاری اور مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنا چاہیے۔ماضی میں ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی سطح پر بات چیت، معاہدے،اسرائیل عرب ممالک کے معاہدے اور امریکا کی ثالثی ظاہر کرتے ہیں کہ مسائل کا حل بات چیت کی مدد سے بھی نکالا جاسکتا ہے۔اقوام متحدہ،یورپی یونین اور دیگر غیر جانبدار ممالک اگر واقعی خود مختار ہوں تو وہ بھی جنگوں کے خاتمے میں اپنا مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں یا جنگ کرنے والے ممالک کے خلاف بڑا دباؤ پیدا کرسکتے ہیں۔لیکن یہ سب کچھ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب جنگوں پر عالمی دنیا میں ایک مضبوط بیداری کی لہر پیدا ہو اور یہ لہر ہر اس ملک کے خلاف ہو جو جنگوں میں مذاکرات اور سفارت کاری کو نظر انداز کرکے دنیا میں تباہی پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

دنیا کی سول سوسائٹی اور نئی نسل جو اب ڈیجیٹل میڈیا کی دنیا ہے اس کو جنگوں کے خلاف ایک بڑا عالمی بیانیہ بنانا ہے کہ بڑی طاقتیں دنیا کو تباہ کرنے کی بجائے اسے لوگوں کے لیے محفوظ بنائیں اور معاشی ترقی کو بنیاد بنا کر لوگوں کی عملی زندگیوں میں بہتری پیدا کریں کیونکہ لوگ جنگ نہیں امن اور معاشی ترقی دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ ہی ان کی ترجیحات ہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

لاریجانی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر نوٹ شائع، امریکی حملوں میں شہید فوجیوں کو خراج عقیدت

Published

on


تہران: ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک ہاتھ سے لکھا ہوا نوٹ شائع کیا گیا ہے، جس میں حالیہ امریکی حملوں میں شہید ہونے والے ایرانی بحریہ کے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔

یہ نوٹ ایرانی ریاستی میڈیا نے بھی شیئر کیا ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ شہید اہلکاروں کی یاد ہمیشہ ایرانی عوام کے دلوں میں رہے گی، اور ان کے قربانیوں سے ایرانی فوج کی بنیادیں مضبوط ہوں گی۔

نوٹ میں دعا بھی کی گئی کہ خدا ان شہداء کو اعلیٰ درجے عطا فرمائے۔

اس واقعے پر اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ علی لاریجانی شہید ہو گئے ہیں، تاہم تاحال تہران کی جانب سے اس کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔





Source link

Continue Reading

Today News

پی ایس ایل: حیدرآباد کنگزمین نے کپتان کا اعلان کردیا

Published

on


پی ایس ایل کی نئی فرنچائز حیدرآباد کنگزمین نے آسٹریلوی کھلاڑی کو کپتان بنادیا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن میں شامل ہونے والی ٹیم حیدرآباد کنگزمین نے مارنس لبوشین کو قیادت سونپ دی ہے۔

حیدرآباد کنگزمین نے ایکس پر جاری ایک اینیمیٹد ویڈیو کے ذریعے لبوشین کو کپتان بنائے جانے کا اعلان کیا۔

شائقین کرکٹ غیر ملکی کپتان بنائے جانے پر حیدرآباد کنگزمین کی ٹیم انتظامیہ سے ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ مارنس لبوشین پی ایس ایل 11 میں کپتان بننے والے تیسرے آسٹریلین کھلاڑی ہیں۔

کراچی کنگز کی قیادت ڈیوڈ وارنر اور ملتان سلطانز کی قیادت اسٹیو اسمتھ کریں گے۔





Source link

Continue Reading

Today News

عمان: انسانی اسمگلنگ و استحصال کا شکار  کمسن پاکستانی بچی کو بازیاب کرکے بحفاظت پاکستان منتقل کردیا۔

Published

on


ایف آئی اے لنک آفس عمان نے  بڑی کارروائی  کرتے ہوئے عمان میں انسانی اسمگلنگ و استحصال کا شکار  کمسن پاکستانی بچی کو بازیاب کرکے بحفاظت پاکستان منتقل کردیا۔

حکام  کے مطابق ایف آئی اے لنک آفس عمان کو  مسقط میں  انسانی اسمگلنگ اور  استحصال کا شکار پاکستانی بچی کی موجودگی کی اطلاع ملی جس پر  ایف آئی اے ٹیم نے عمان کی پولیس کی معاونت سے کامیاب کارروائی  کرکے بچی کو باحفاظت بازیاب کرلیا۔

معصوم بچی کو دھوکہ دہی کے ذریعے عمان لے جا کر استحصال کا نشانہ بنایا گیا، ایف آئی اے حکام کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے لنک آفس عمان اور عمانی حکام کے باہمی تعاون سے متاثرہ بچی کی بحفاظت  بازیابی و وطن واپسی ممکن ہوئی تمام قانونی مراحل مکمل ہونے کے بعد متاثرہ لڑکی کو عمان سے سیالکوٹ ائرپورٹ منتقل کر دیا گیا

بعدازاں ایف آئی اے امیگرشن سیالکوٹ نے بچی کو پاکستان پہنچنے پر والد کے حوالے کر دیا

حکام کا کہنا تھا کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہےکمسن بچوں کی اسمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد جاری رھے گا۔





Source link

Continue Reading

Trending