Connect with us

Today News

کیا غزہ میں فوج بھیجنی چاہیے ؟

Published

on


غزہ میں امن کے لیے قائم بورڈ آف پیس کے دو سربراہی اجلاس ہو گئے ہیں ۔ پاکستان کے وزیر اعظم میا ں شہباز شریف نے دونوں اجلاس میں شرکت کی ہے۔ پہلے اجلاس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شریک تھے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کو غزہ میں اپنی فوجیں بھیجنی چاہیے۔ انڈونیشیا، مراکش سمیت متعدد مسلم ممالک غزہ میں فوج بھیجنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک انڈونیشیا کو غزہ میں تعینات ہونے والی عالمی فورس کا ڈپٹی کمانڈر بھی بنا دیا گیا ہے۔ پاکستان نے ابھی تک غزہ میں فوج بھیجنے کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا۔

اس لیے جب بھی بورڈ آف پیس کا اجلا س ہو تا ہے، قیاس آرائیاں شروع ہوجاتی ہیں کہ کیا اس اجلاس میں پاکستان فوج بھیجنے کا اعلان کر دے گا۔ کچھ دوست پراپیگنڈا بھی شروع کر دیتے ہیں۔

امریکی دباؤ کی بھی بات کی جاتی ہے۔ میری رائے میں اب یہ بات نہیں ہے کہ ہم پر فوج بھیجنے کا کوئی دباؤ ہے۔ جب سارے مسلم ممالک فوج بھیجنے کے لیے تیار ہیں، وہ اعلان کر رہے ہیں تو دباؤ کیوں ہوگا۔

دباؤ تو تب ہوگا جب کوئی مسلم ملک اس پر تیار نہ ہو جب کہ پاکستان ہی واحد آپشن ہو، اس لیے پاکستان پر دباؤ ڈالا جائے۔ پاکستان کی فوج پر اسرائیل کو تو سخت اعتراض ہے اور وہ تو کبھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان کی فوج اس بین الا قوامی فورس کا حصہ بنے، باقی اسلامی ممالک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کا مفاد کیا ہے؟ دوسر اہم سوال یہ ہے کہ غزہ کے مسلمانوں کا مفاد کیا ہے؟ ہمیں ان دونوں مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔

سب سے پہلے پاکستان کے مفادکی بات کریں، پاکستان کا مفاد اسلامی ممالک کے ساتھ چلنے میں ہے یا ان سے الگ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے میں ہے۔

ہمیں فلسطین کے معاملے میں اسلامی ممالک کے ساتھ چلنا چاہیے، مشترکہ فیصلے کرنے چاہیے۔ اس سے پہلے بھی آٹھ اسلامی ممالک فلسطین پر اکٹھے پریس ریلز جاری کرتے ہیں۔

مشترکہ موقف میں طاقت ہے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں غزہ میں فوج بھیجنے اور مسئلہ فلسطین میں پاکستان کو اسلامی ممالک کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلنا چاہیے ۔

کوئی تنہا پالیسی نہیں بنانی چاہیے۔ جب سب بڑے اسلامی ممالک بورڈ آف پیس میں شامل ہو رہے تھے تو پاکستان کو بلا جھجھک بورڈ آف پیس میں شامل ہونا چاہیے تھا۔

اس کا پاکستان کو فائدہ ہوا ہے۔ ہم سینٹر اسٹیج پر موجود ہیں۔ انکار کرنے کی صورت میں ہم الگ بیٹھے ہوتے اور ہماری آواز کی کوئی اہمیت نہ ہوتی۔

جب پاکستان کے دوست اسلامی ممالک کو غزہ میں فوج بھیجنے پر کوئی ا عتراض نہیں تو ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔ جب وہ وہاں موجود ہوںگے تو مل کر ہی فیصلے ہوںگے۔

ہم کیوں سمجھتے ہیں کہ صرف ہم ہی فلسطین اور غزہ کے مفاد کے چوکیدا رہیں۔ اور باقی اسلامی ممالک غزہ اور فلسطین کے دشمن ہیں۔ ہم کیوں سمجھتے ہیں کہ باقی اسلامی ممالک کی افواج غزہ اور فلسطینیوں کے خلاف کام کریں گی، وہ وہاں اسرائیلی عزئم کی تکمیل کریں گی۔

ایسا نہیں ہے، سب مل کر ایک میز پر موجود ہوںگے تو ایک دوسرے کی طاقت ہوںگے۔ مل کر دباؤ بھی ختم کریں گے۔ مل کر فلسطین کی بہتر خدمت ہو سکتی ہے۔ اکیلا پاکستان فلسطین کی کیا خدمت کر سکتا ہے۔

آج جب پاکستان کوئی فیصلہ نہیں کر رہا توہم دنیا میں پاکستان کا مقام بلند نہیں کر رہے۔ بلکہ یہ سمجھا جا رہاہے کہ ہم فیصلہ سازی میں کمزور ہیں۔ آج دوست اسلامی ممالک دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان ہمارے ساتھ قدم سے قدم ملا کر نہیں چل رہا۔

میں سمجھتا ہوں فلسطینی بھی پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ فیصلے کی اس گھڑی میں ہم کوئی درست فیصلہ نہیں کر رہے ہیں۔ ہم نہ توا سلامی دنیا کے ساتھ چل رہے ہیں اور نہ ہی فلسطینیوں کے ساتھ چل رہے ہیں۔

پاکستان کی فوج کئی شعبوں میں غزہ میں مدد کر سکتی ہے۔ میڈیکل کور کے ڈاکٹر جا سکتے ہیں۔ انجیئرنگ کو ر وہاں کی تعمیر میں مدد کر سکتی ہے۔ کمیونیکیشن کے شعبے میں پاک فوج مدد کر سکتی ہے۔ لیکن جانا تو چاہیے۔

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ نہ جانے سے کیا فائدہ حاصل ہوگا؟ایک لمحہ کے لیے یہ سوچیں کہ غزہ میں تعینات کثیرالملکی فوج نے امن قائم کر دیا۔ غزہ کی تعمیر نو گئی۔ پھر سوچیں پاکستان کہاں کھڑ اہوگا۔

ہم یہی کہیں گے کہ ہم نے بہترین موقع کھو دیا۔ ہمیں اس فورس کا بھی حصہ ہونا چاہیے تھا۔جب فلسطینی سب مسلم ممالک کا شکریہ اد اکر رہے ہوںگے تو پاکستان کا نام نہیں ہوگا۔ یہی کہا جا ئے گا کہ پاکستان فیصلہ نہیں کر سکا۔ ہم خدشات کا شکار رہے۔

اگر فرض کر لیں کہ کچھ غلط ہو جاتا۔ تو ہم اکیلے تھوڑی ہوںگے۔ ایسے میں سب اسلامی ملک جو بھی فیصلہ کریں گے ، ہم بھی وہی فیصلہ کریں گے۔

ہم یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ باقی سب اسلامی ممالک تو فلسطینیوں کے خلاف فیصلہ کر لیں گے، صرف ہم نہیں کریں گے۔ ہمیں یہ یقین کرنا ہوگا کہ سب مسلمان ممالک فلسطین اور فلسطینیوں کے ساتھ اتنے ہی مخلص ہیں جتنے ہم ہیں۔

باقی اسلامی ممالک کو شک سے دیکھنے کی کوئی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اگر دیکھا جائے تو باقی ممالک نے فلسطین کے لیے ماضی میں پاکستان سے زیادہ عملی جدو جہد کی ہے۔ ہم ان کے کردار کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اس لیے کسی بھی مشکل میں مل کر ہی فیصلہ ہوگا۔ سولو فلائٹ میں کوئی فائدہ نہیں ، مل کر چلنے میں ہی فائدہ ہے۔

پاکستان محمود عباس کی فلسطین حکومت کو مانتا ہے۔ یہاں محمود عباس کی حکومت کا سفارتخانہ ہے۔ ہم نے کبھی حماس کا سفارتخانہ نہیں کھولا۔

ہمیں اپنی پالیسی جا ری رکھنی ہے۔ ہم واضح کر رہے ہیں کہ ہم حماس کو غیرمسلح کرنے کے عمل کا حصہ نہیں ہوں گے۔ اس لیے اب وقت فیصلے کا ہے، اب مزید تاخیر درست نہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ماہِ رمضان اور غربت – ایکسپریس اردو

Published

on


رمضان المبارک کا مہینہ پورے عالم اسلام کے لیے خیر و برکت کا پیغام لاتا ہے۔ رمضان المبارک کے متعلق قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں نفس کی تطہیر اور پاکیزگی پر زور دیا گیا ہے۔

روزے کی روح کے مطابق ہمیں اپنے اعمال میں تقویٰ اور مال میں کمزور اور محروم لوگوں کو بھی شامل کرنا چاہیے۔ بھوک اور پیاس کی شدت یہ احساس دلاتی ہے کہ جو لوگ محرومیوں کے سبب اس کشٹ سے گزرتے ہیں ان پر کیا گزرتی ہوگی؟

اس اعتبار سے انفرادی عبادت کے ساتھ ساتھ رمضان المبارک دلوں میں دوسروں کے لیے گداز اور اپنے اعمال میں پاکیزگی کا آفاقی پیغام ہے۔

رمضان المبارک سے کچھ پہلے اور رمضان المبارک کے دوران بہت سے چیرٹی اور فلاحی اداروں کی طرف سے عطیات اور زکوٰۃ کی اپیلیں سامنے آتی ہیں۔

پاکستانی اس اعتبار سے قابل فخر قوم ہیں جس میں نامساعد حالات اور مشکلات کے باوجود بالعموم دوسروں کی مدد کا جذبہ نمایاں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عالمی ورلڈ گیونگ رپورٹ کے مطابق بھی پاکستان ان ممالک میں سر فہرست ہے جو اپنے مال میں سے دوسروں کے لیے عطیات اور خیرات کی صورت حصہ نکالتے رہتے ہیں۔

حسن اتفاق ہے کہ رمضان المبارک کے آغاز پر پلاننگ کمیشن نے ملک میں غربت اور عدم مساوات رپورٹ کے نتائج پیش کیے ہیں، 2018/19 کے بعد کیے گئے ملک بھر میں غربت اور عدم مساوات پر مبنی اس سروے کے نتائج چونکا دینے والے ہیں۔

بظاہر سماجی استحکام کے نیچے عوام کی ایک کثیر تعداد انتہائی مشکل زندگی گزار رہی ہے۔ ستم یہ کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی مشکلات میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت سات کروڑ افراد انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ گزشتہ سات سال کے دوران میں غربت کی شرح میں 32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ غربت کی شرح 21.9 فیصد سے بڑھ کر 28.9 فیصد ہو گئی۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 11 سالوں کے دوران یہ غربت کی بلند ترین شرح ہے۔ سب سے خطرناک صورت حال دولت کی عدم مساوات ہے جو بڑھ کر 32.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

سروے کے مطابق پاکستان کو اس وقت بلند ترین بے روزگاری کی شرح کا بھی سامنا ہے جو 7.1 فیصد ہے۔ یوں غربت بھی 11 برسوں کی بلند ترین سطح پر اور دولت کی عدم مساوات گزشتہ 27 برسوں کی بلند ترین سطح پر ہے۔

غربت، عدم مساوات اور بے روزگاری بڑھنے کی وجوہات جانی پہچانی بتائی گئی ہیں کہ غربت میں اضافہ آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے ہوا کیونکہ اس پروگرام کے سبب حکومت کو بعض شعبوں کو دی جانے والی سبسڈی کو واپس لینا پڑا۔

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی ہوئی۔ کرونا سمیت دیگر قدرتی آفات اور اقتصادی شرح نمو میں کمی نے غربت بڑھنے کی راہ ہموار کی۔

یہ خوفناک اقتصادی منظرنامہ گواہ ہے کہ حکومتوں کے لیے کار سرکار چلانا پہلی ترجیح ہے۔ عوامی فلاح کے لیے درکار پالیسیوں کی راہ میں اکثر آئی ایم کی شرائط سدراہ بن جاتی ہیں یا پھر خالی خزانے کی ویرانی کچھ کرنے نہیں دیتی۔

ایسے میں موجودہ حکومتی سوشل سیفٹی نیٹ پروگرام کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کے نان پرافٹ اور چیرٹی اداروں کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے۔ وہ خلا جسے ریاست مکمل طور پر پْر نہیں کر پاتی، منظم فلاحی ادارے اسے جزوی طور پر پورا کرتے ہیں۔

خاص طور پر صحت کے شعبے میں، جہاں سرکاری اسپتالوں پر بوجھ اور نجی علاج کی مہنگائی نے متوسط اور نچلے طبقے کو بے بس کر رکھا ہے۔

Charities Aid Foundation کی مرتب کردہ World Giving Report کے مطابق پاکستان مسلسل ان ممالک میں شامل ہے جہاں لوگ دل کھول کر عطیات دیتے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 60 فیصد سے زائد افراد نے سال کے دوران کسی نہ کسی صورت خیرات دی، جب کہ بہت نمایاں تعداد اجنبی کی مدد کرنے یا رضاکارانہ خدمات انجام دینے میں بھی پیش پیش رہی۔

اس پس منظر میں ہمارے ہاں وہ بے شمار فلاحی ادارے غنیمت اور قابل قدر ہیں جو زندگی کے مختلف شعبوں میں سالہاسال سے بے لوث خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔

زلزلے ہوں یا سیلاب، تعلیم ہو یا صحت، اپنے اپنے انداز اور بساط کے مطابق لا تعداد ادارے فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔

خوش قسمتی سے ہمارے ہاں درجنوں ایسے ادارے ہیں جنھوں نے اپنے انتظام اور ڈھانچے کو انتہائی منظم انداز میں تشکیل دیا ہے جس کے سبب یہ ادارے تسلسل اور اہتمام کے ساتھ اپنے اپنے شعبے میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

تعلیم کے میدان میں ٹی سی ایف، غزالی ایجوکیشن فاؤنڈیشن، ریڈ فاؤنڈیشن، الخدمت سمیت درجنوں ایسے ادارے ہیں جو لاکھوں بچوں کی تعلیم کا بندوبست کر رہے ہیں۔ صحت کے میدان میں انڈس اسپتال، ایس آئی یو ٹی، شوکت خانم میموریل اسپتال، گھرکی اسپتال، سندس فاؤنڈیشن سمیت بہت سے ادارے قابل قدر کام کر رہے ہیں۔

ایسے اداروں میں ایک قابل قدر نام چوہدری رحمت علی میموریل ٹرسٹ ٹاؤن شپ لاہور کا بھی ہے جس کے پانچ مختلف ادارے چار دہائیوں سے خدمت خلق میں مصروف ہیں۔

چوہدری رحمت علی اسپتال 40 سال سے لاکھوں مریضوں کی خدمت کر رہا ہے جہاں مستحق اور نادار مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔

سال 2025 کے دوران چوہدری رحمت علی اسپتال سے پونے تین لاکھ مریض مستفید ہوئے۔ چوہدری رحمت علی میموریل ٹرسٹ کے تین تعلیمی ادارے ہزاروں طلباء کو انتہائی کم قیمت اور مستحق اور نادار طلبہ کو وظائف کے ساتھ معیاری تعلیم مہیا کر رہے ہیں۔

رمضان کے اس بابرکت مہینے میں اپنی زکات اور عطیات کی تقسیم میں انفرادی مستحقین کے ساتھ ساتھ منظم اداروں کو بھی یاد رکھیے۔ تعیلم، صحت اور دیگر فلاحی کاموں میں مصروف دیگر اداروں کے ہمراہ چوہدری رحمت علی اسپتال ٹاؤن شپ لاہور بھی آپ کی توجہ کا طالب ہے تاکہ کوئی مریض محض وسائل کی کمی کے باعث علاج سے محروم نہ رہے۔

زکوٰۃ اور عطیات کے لیے چوہدری رحمت علی میموریل ٹرسٹ کے بینک اکاؤنٹ:زکوٰۃ: 201139351240202،بینک اسلامی پاکستان ،عطیات:21223312677636،نیشنل بنک پاکستان۔ قومیں صرف معاشی نمو سے نہیں، سماجی ہمدردی سے بھی مستحکم ہوتی ہیں۔

اگر ہم نے اپنی سخاوت کو حکمت کے ساتھ جوڑ لیا تو شاید آیندہ کسی رپورٹ میں غربت اور عدم مساوات کے اعداد و شمار کچھ بہتر دکھائی دیں۔
 





Source link

Continue Reading

Today News

ایک ناقابل فراموش مہمان نوازی

Published

on


مہمان نوازی کے بارے میں آپ نے بہت ساری حکایتیں، کہانیاں اورواقعات سنے ہوں گے، ہم نے بھی پڑھے اورسنے ہیں لیکن ان میں بھی کبھی کبھی محیرالعقول اورمنفرد قسم کے واقعات بھی پیش آجاتے ہیں، مثلاً مشہورسخی اورمہمان نواز حاتم طائی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس مہمان آگئے تھے تو اس کے پاس کچھ بھی ان کی مہمان نوازی کرنے کے لیے نہیں تھا تو اس نے اپنا قیمتی اور واحد اثاثہ چہیتا گھوڑا ذبح کرڈالا تھا ۔

سعادت حسن منٹو نے مشورصحافی دیوان سنگھ مفتون کے بارے میں لکھا ہے کہ دیوان سنگھ مفتون اپنے وقت کا ایک بہت ہی بے باک اورنڈر صحافی تھا۔ ریاست کے نام سے ہفت روزہ نکالتاتھا اورہندوستان کی ریاستوں میں جو مظالم ہوتے تھے، ان پر لکھتا تھا اورہمیشہ مقدمات میں پھنسا رہتا تھا، اس نے اپنی خودنوشت ’’ناقابل فراموش‘‘ میں بڑے دلچسپ واقعات لکھے ہیں۔

منٹو لکھتا ہے کہ میں ایک مرتبہ اس کے پاس اس کے دفتر میں بیٹھا تھا جو اس کی رہائش گاہ بھی تھی اورخود ہی اپنا کھانا پینا تیار کرتا تھا کہ اچانک اس کا ایک مہمان آگیا۔

وہ مجھے الگ لے جاکر بولا، کچھ پیسے جیب میں ہیں؟اتفاقاً میں بھی اس وقت ’’کڑک‘‘ تھا، پھر اس نے اپنے چپراسی کو بلایا اورکہا کہ فلاں دکاندار سے جاکر بئیر کی دس بوتلیں لے آؤ ۔

دکاندار کے پا س اس کا کھاتہ چلتا تھا، چپراسی بوتلیں لے آیا تو دو بوتلیں تو ہم نے پی لیں ، شیشے کی گولی والی بوتلیں تھیں اورباقی غسل خانے میں بہاکر خالی کردیں، پھر چیراسی سے کہا کہ یہ بوتلیں لے جاکر کباڑی کو بیچ آؤ ، چپراسی ایک روپے فی یوتل بیچ کر آیا، تو دس روپے اس وقت بہت تھے، یوں مہمان کی تواضح اس طرح کرلی گئی۔

دوسرا واقعہ سائیں کبیر کا ہے ، سائیں کے بھی مہمان آگئے تھے اورگھر میں کچھ بھی نہ تھا ، سائیں نے بیوی سے کہا کہ فلاں دکاندار کے پاس جا اورکچھ ادھار لے آؤ۔بیوی گئی، سودا لے آئی اوردکاندار سے سائیں کے ساتھ رات کو آنے کا وعدہ کیا۔

مہمان کی تواضع ہوگئی لیکن شام کو سخت بارش ہوگئی، رات کو بارش تو رک گئی لیکن راستوں میں کیچڑ اورپانی بہت کھڑا ہوگیا تھا۔ بیوی جاتے ہوئے ڈر رہی تھی تو کبیر نے کہا جو وعدہ کیا ہے، نبھانا پڑے گا چنانچہ وہ بیوی کو پیٹھ پر دلاکر دکاندار کے گھر پہنچا، بیوی اندر چلی گئی تو دکاندار نے اس کے صاف اورسوکھے پیر دیکھ کر پوچھا، باہرراستوں میں کیچڑ اورپانی ہے، تمہارے پیر صاف کیسے ہیں؟

اس پر بیوی نے ساری بات بتائی کہ میرا شوہر مجھے پیٹھ پر بیٹھاکر لایا ہے کیوں کہ اسے وعدہ خلافی پسند نہیں تھی ،دکاندار سخت متاثر ہوگیا۔ بولا ، ایسے شخص کو تکلیف دینا اچھا نہیں ہے اور بغیر پیسے لیے انھیں باعزت رخصت کردیا ۔

لیکن اب جو واقعہ ہم سنانے والے ہیں، اگر وہ خود ہم پر گزرا نہ ہوتا اورکوئی دوسرا سناتا تو ہم ہرگز یقین نہ کرتے کیوں کہ سالہا سال گزرگئے ہیں لیکن اب بھی جب اس بارے میں سوچتے ہیں تو خیال آتا ہے کہ کیا واقعی ایسا ہوا تھا ؟ لیکن واقعی ایسا ہواتھا اورخود ہم پر ہی گزرا تھا اوروں کی روداد نہیں ۔

ریاست ’’دیر‘‘( ضلع دیر) کا ایک نوجوان تھا جو پشاورمیں پڑھتا تھا، دن کو کالج میں پڑھتا تھا اوررات کو ہمارے اخبار میں پروف ریڈنگ کرتا تھا ، ریاست دیر جہاں اردو خال خال کسی کو آتی ہوگی اور وہاں کا نوجوان اردو اخبار میں پروف ریڈنگ ؟

لیکن ہم نے مدد کی خاطر رکھ لیا تھا ، پروف ریڈنگ ہم زیادہ خود کرلیتے تھے،اسے ہمارے’’ دیر‘‘ کے ایک دوست نے ہمارے پاس بھیجا تھا ، پھر وہ تعلیم مکمل کرکے دیر میں کسی سرکاری پوسٹ پر فائز ہوگیا ،کئی سال بعد ہمارے ایک ٹھیکیدار دوست نے دعوت دی کہ میری بنائی ہوئی سڑک کاافتتاح ہورہا ہے ، آجاؤ، ہم گئے ، یہ دراصل دیر کو ایک اورعلاقے میدان سے منسلک کرنے کے لیے پہاڑوں میں ایک راستہ کھودا گیا جو براول بانڈہ سے گزرتی تھی ، سڑک کی پیمائش تو ٹھیکیدار اورسرکاری لوگ کرتے تھے، ہم سیر کی غرض سے ساتھ ہولیے ۔

براول بانڈہ پہنچے توپتہ چلا کہ ہمارا پروف ریڈر وہاں کا تحصیلدارہے ، ریاست دیر تازہ تازہ پاکستان میں ضم ہوکر صوبہ سرحد کا حصہ بنائی گئی تھی، اس لیے وہاں صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقوں اورریاستی دونوں قوانین ساتھ ساتھ چل رہے تھے اورتحصیل دار بہت بڑی چیز ہوا کرتا تھا، وہ ساری تحصیل کی انتطامیہ کاسربراہ ہوتا تھا ۔

ٹھیکیدار، سرکاری لوگ دو دن سڑک کی پیمائش کررہے تھے اورہم سیر میں مصروف تھے کہ بڑا خوبصورت علاقہ تھا۔ واپس آئے تو تحصیل دار نے ہمیں روک لیا کہ دوچار دن میرے ساتھ رہو، ہم پھسل گئے، اتنی بڑی توپ کے مہمان ہونے کے لالچ میں رہ گئے ۔

اورباقی لوگ دیر چلے گئے ،بہت بڑا محل نما بنگلہ تھا ،باغ تھا ، نوکروں اورسرکاری لوگوں کی ریل پیل تھی ، تحصیل دارکے لیے آنے والے تحائف دیکھ کر رشک ہونے لگا ، یہ وہ زمانہ تھا جب امریکا نے نیل آرمسٹرانگ کو چاند پربھیجا تھا، اس کی رننگ کمنٹری ہم نے ریڈیو پر دیرمیں ہی سنی تھی۔

پہلے دن شام کا کھانا ہم نے تحصیل دار کے ساتھ کھایا، دوسرے دن جاگے تو کافی انتظار کے بعدایک نوکر ہمیں ایک کمرے میں لے گیا جس میں ایک میلی دری پر سارے ملازم بیٹھے چائے پی رہے تھے اورسب کے ہاتھ میں ایک سوکھا رسک تھا، ہمیں بھی ایک پیالی کے ساتھ رسک ملا ،پھر باغ میں ایک چارپائی پر لیٹ گئے ۔

دوپہرکو ایک بھونڈے طریقے سے ابالے ہوئے ساگ کے ساتھ ایک روٹی ملی جو ہم نے اسی چارپائی پر بیٹھ کر کھائی ،تحصیل دار کا پوچھا تو دورے پر نکل گئے تھے ، شام کا کھانا بھی ویسے ہی کمرے میں نو کر نے کھلایا ۔

دوسری صبح چائے کے ساتھ رسک بھی نہیں ملا، تحصیل دار اس دن دورے پر نکل گئے ، یہ دن بھی باغ میں اسی چارپائی پر اسی طرح کاکھانا کھا کرگزارا، اس دن بھی تحصیل دار صاحب کاروئے تابان دکھائی نہیں دیا ، سب کچھ حسب معمول تھا ،دوسری صبح وہی ایک پیالی چائے نوش جان کی اورتحصیل دار کا دیدار نہیں ہوپایا تو اپنا بیگ اٹھایا، بس اڈے اورپھر دیر میں اپنے دوستوں کے ہاں پہنچے، اس کے بعد تحصیل دار سے کبھی ملاقلات نہیں ہوئی۔ 

کافی عرصے تک ہم سوچتے رہے کہ جب وہ پشاورمیں تھا تو کہیں ہم نے اسے کوئی آزار تو نہیں پہنچایا تھا جس کا انتقام اس نے اتنی توہین سے بھرپورمہمان نوازی کی صورت میں لیا ، کھانے پینے کی بات تو ایک طرف کردیجیے اگروہ غریب ہوتا تو ہم سوکھی روٹی اورپیاز بھی قبول کرلیتے بلکہ بھوکے رہ کر بھی خوش ہوتے لیکن اس نے تو ہمیں نوکروں کے حوالے کرکے ایک کوڑے لائق چیز سمجھا، کم ازکم رات کوتو دوچارباتیں کرنے کے لیے آسکتا تھا ،کوئی محکوم نہیں بااختیار حاکم تھا ۔

کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ شوگر کے عارضے نے اسے دوسری دنیا پہنچادیا، پھر ہم بھی اسے بھول گئے لیکن اب بھی اس کی وہ مہمان نوازی یاد آتی ہے تو سوچ میں پڑجاتے ہیں کہ کیاواقعی ایسا ہوا تھا؟ ہاں یہ تو میں بتانا بھول گیا کہ اس کاتعلق ایک پیشہ ورجدی پشتی بڑے خاندان سے تھا ۔





Source link

Continue Reading

Today News

افغانستان میں یکے بعد دیگرے فضائی حملے، ننگرہار اور پکتیکا میں شدت پسندوں کے ٹھکانے تباہ

Published

on



کابل:

افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان کے مشرقی صوبوں ننگرہار اور پکتیکا میں دہشت گرد عناصر کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی کارروائیاں کی گئی ہیں، جن کے نتیجے میں اہم انفرااسٹرکچر تباہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں جیٹ طیاروں نے دہشت گرد ٹھکانوں پر حملہ کیا، جہاں زوردار دھماکے کی آوازیں سنی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے استعمال میں آنے والی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔

افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ پکتیکا کے بعد صوبہ ننگرہار کے ضلع خوگیانی میں بھی فضائی کارروائی کی گئی، جہاں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملوں میں ممکنہ جانی نقصان کی معلومات سامنے نہیں آ سکی، تاہم مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کا ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending