Connect with us

Today News

کیا فخر زمان نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کر لیا؟

Published

on



پاکستان کرکٹ ٹیم کے اوپنر فخر زمان نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ نہ لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے مداحوں کو خوشخبری سنا دی ہے۔

فخر زمان کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کے بعد ٹی ٹوئنٹی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا تھا، تاہم اب اس فیصلے پر نظرثانی کرنے کے بعد فی الحال ریٹائرمنٹ کا کوئی ارادہ نہیں۔

بائیں ہاتھ کے جارح مزاج بلے باز نے کہا کہ میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کو اچھے انداز میں ختم کرنا چاہتا ہوں اور اس کے لیے مزید کرکٹ کھیلنے کا ارادہ ہے۔

واضح رہے کہ فخر زمان اب تک پاکستان کی جانب سے 120 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیل چکے ہیں، جن میں انہوں نے 2494 رنز اسکور کیے جبکہ ان کی اننگز میں 14 نصف سنچریاں بھی شامل ہیں۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ملائیشیا: 7000 سے زائد کمروں والا دنیا کا سب سے بڑا ہوٹل

Published

on



دی فرسٹ ورلڈ ہوٹل اینڈ پلازہ اپنے معیار یا ڈیزائن کے اعتبار سے دنیا کا سب سے متاثر کن ہوٹل تو نہیں لیکن کمروں کی تعداد میں دنیا کو کوئی ہوٹل اس کے مقابلے میں نہیں ہے۔

ملائیشیا کے اس ہوٹل کا جب 2006 میں افتتاح ہوا تو اس کے صرف 6118 کمرے تھے اور دو سال بعد ہی اس ہوٹل کو لاس ویگس کے ’وینیٹین ہوٹل‘ (7128 کمرے) کے ہاتھوں ’دنیا کے سب سے بڑے ہوٹل‘ ٹائٹل گنوانا پڑا تھا۔

تاہم، دوسرے ٹاور کی تعمیر کے بعد 2015 میں اس ہوٹل کے کمروں کی تعداد 7351 ہوگئی اور اس نے اپنا ٹائٹل دوبارہ حاصل کر لیا اور تب سے یہ ریکارڈ اسی ریزورٹ کے پاس ہے۔

ملائیشیا کے دارالحکومت سے 50 کلومیٹر شمال میں پیہنگ خطے میں واقع اس ہوٹل 3164 اسٹینڈرڈ، 2922 لگژری، 649 لگژری ٹرپل، 480 سُپیریئر لگژری اور 136 ورلڈ کلب کمرے موجود ہیں۔



Source link

Continue Reading

Today News

’جب تک جرم ثابت نہ ہو، انسان بے گناہ ہے‘، کیس جیتنے کے بعد علی ظفر کا اظہار خیال

Published

on



پاکستانی گلوکار اور اداکار علی ظفر نے اپنے طویل قانونی کیس کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تجربے نے ان کے اندر صبر، استقامت اور انصاف کے تصور کو نئے انداز میں تشکیل دیا۔

ایکسپریس ٹریبیون کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں علی ظفر نے ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اُن لوگوں کا شکر گزار ہوں جو آزمائش کے وقت میں میرے اور سچ کے ساتھ کھڑے رہے۔ جنہوں نے مجھ پر شک کیا، اُن سے کوئی گلہ نہیں، ہم سب سیکھنے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ دنیا کو فیصلوں سے زیادہ ہمدردی کی ضرورت ہے۔

طویل عدالتی کارروائی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس دوران سب سے بڑا سبق انہیں اپنی اندرونی طاقت کا احساس ہوا۔ صبر، اور ایک ایسی طاقت جس کا آپ کو اس وقت تک اندازہ نہیں ہوتا جب تک آپ کو اس کی ضرورت نہ پڑے۔ جب ہر طرف سے فیصلے سنائے جا رہے ہوں تو انسان کو اپنے اندر جھانکنا پڑتا ہے۔ میں نے سیکھا کہ خاموشی کمزوری نہیں ہوتی اور خود کو ثابت قدم رکھنا سب سے مشکل کام ہے۔

علی ظفر کے مطابق عوامی دباؤ اور تنقید کے باوجود خود کو پُرسکون رکھنا اس آزمائش کا سب سے مشکل پہلو تھا، لیکن یہی خاموش استقامت انہیں آگے بڑھنے میں مدد دیتی رہی۔

انہوں نے کہا، ’’آخرکار یہی استقامت آپ کو سنبھالتی ہے۔‘‘

اپنی موجودہ ذہنی کیفیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب وہ ایک طرح کے سکون کا احساس کر رہے ہیں۔
’’میرے لیے اب یہ سب صرف سکون ہے‘‘۔

تاہم انہوں نے جھوٹے الزامات کے وسیع تر اثرات پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس کے ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ جھوٹا الزام کسی شخص کی ساکھ، تعلقات اور زندگی پر حقیقی اثرات ڈالتا ہے، اور انصاف کے تصور میں اس پہلو کو بھی شامل ہونا چاہیے۔‘‘

علی ظفر نے قانونی عمل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پیشہ ورانہ طور پر انصاف کو ثبوت اور قانون پر مبنی ہونا چاہیے، نہ کہ شور شرابے یا دباؤ پر۔ ’جب تک جرم ثابت نہ ہو، انسان بے گناہ ہے‘ یہ صرف قانونی اصول نہیں بلکہ انسانی اصول بھی ہے۔

انہوں نے مستقبل کے حوالے سے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوبارہ تخلیقی کام کی جانب لوٹنے کے لیے پُرامید ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’میں دوبارہ تخلیق اور اُن لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہوں جو ان اصولوں پر یقین رکھتے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ سیشن عدالت نے گزشتہ ہفتے گلوکارہ میشا شفیع کو ہتکِ عزت کے مقدمے میں علی ظفر کو 50 لاکھ روپے ہرجانے کی ادائیگی کا حکم دیا۔ یہ مقدمہ علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کرنے کے بعد دائر کیا گیا تھا۔



Source link

Continue Reading

Today News

مصنوعی ذہانت نے فلم انڈسٹری کا انداز بدل دیا، کیا روایتی فلم سازی ختم ہوجائے گی؟

Published

on



فلم انڈسٹری میں ایک بڑی تبدیلی جنم لے رہی ہے جہاں روایتی فلم سازی کے طریقے تیزی سے بدلتے جا رہے ہیں اور اب کیمرہ، ہدایت کاری اور موسیقی کے کئی پہلوؤں میں مصنوعی ذہانت نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔

نئی ٹیکنالوجی نے نہ صرف فلم بنانے کے انداز کو تبدیل کیا ہے بلکہ اس کے اثرات ناظرین کے تجربے پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق کلیکٹیو آرٹسٹ نیٹ ورک، جو ماضی میں بڑے اداکاروں کے کیریئر مینیج کرنے کےلیے معروف تھی، اب ڈیجیٹل اداکار تخلیق کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ بنگلور میں قائم اس کے اسٹوڈیوز میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہندو مذہبی داستانوں پر مبنی فلمیں اور سیریز تیار کی جا رہی ہیں، جن میں ’رامائن‘ اور ’مہابھارت‘ جیسے موضوعات شامل ہیں۔

بھارت دنیا میں سب سے زیادہ فلمیں بنانے والا ملک ہے، جہاں شاہ رخ خان اور امیتابھ بچن جیسے بڑے ستاروں کے کروڑوں مداح موجود ہیں۔ تاہم آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے رجحان نے سنیما گھروں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2019 میں جہاں ایک ارب سے زائد افراد سنیما گھروں کا رخ کرتے تھے، وہیں 2025 تک یہ تعداد نمایاں طور پر کم ہو چکی ہے۔

اس بدلتی صورتحال میں فلم ساز بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت کا سہارا لے رہے ہیں۔ اب مکمل طور پر اے آئی سے بننے والی فلمیں، مختلف زبانوں میں خودکار ڈبنگ اور حتیٰ کہ پرانی فلموں کے اختتام کو تبدیل کرکے دوبارہ پیش کرنا بھی ممکن ہوگیا ہے۔ اس سے لاگت میں نمایاں کمی اور وقت کی بچت ہو رہی ہے، اگرچہ ناظرین کا ردعمل ہمیشہ یکساں نہیں رہتا۔

مثال کے طور پر ایروس میڈیا ورلڈ نے 2013 کی فلم ’رانجھنا‘ کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے نئے انجام کے ساتھ پیش کیا، جس میں مرکزی کردار کو زندہ دکھایا گیا۔ اس تبدیلی پر فلم کے اداکار دھنوش نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے فلم کی اصل روح متاثر ہوئی، تاہم اس کے باوجود فلم نے تجارتی طور پر کامیابی حاصل کی۔

اسی طرح نیورل گیراج جیسی کمپنیاں ایسی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہیں جس کے ذریعے فلموں کو مختلف زبانوں میں اس انداز سے ڈب کیا جا سکتا ہے کہ ہونٹوں کی حرکت بھی قدرتی محسوس ہو۔ اس میدان میں مائیکروسافٹ، گوگل اور این ویڈیا جیسی عالمی کمپنیاں بھی بھارتی فلم سازوں کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں۔

تاہم اس رجحان پر تنقید بھی سامنے آ رہی ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال سے تخلیقی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ معروف ہدایت کار انوراگ کشیپ کا کہنا ہے کہ بھارت میں فلم سازی اب زیادہ تر کاروباری نقطۂ نظر سے دیکھی جا رہی ہے، جس کے باعث اے آئی کا استعمال بڑھ رہا ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مصنوعی ذہانت فلم انڈسٹری کو تیزی سے ایک نئے دور میں داخل کر رہی ہے، جہاں سہولت اور رفتار تو بڑھ رہی ہے، مگر ساتھ ہی یہ سوال بھی جنم لے رہا ہے کہ کیا اس تبدیلی کے باوجود فلموں کی اصل روح اور تخلیقی معیار برقرار رہ سکے گا یا نہیں۔



Source link

Continue Reading

Trending