Connect with us

Today News

کیا چین کامیاب ثالثی کا کردار ادا کرسکے گا؟

Published

on


پاکستان اور افغانستان تعلقات کی بہتری محض دو ممالک کے بہتر تعلقات تک محدود کہانی نہیں بلکہ مجموعی طور پر اس میں خطہ کے استحکام کا حل موجود ہے۔اس وقت پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو جنگی کشیدگی ،ٹکراؤ کا ماحول ہے، اس میں بات چیت کے ماحول کے امکانات بھی محدود نظر آتے ہیں ۔

دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی سطح پر بات چیت کے دروازے بند ہونا حالات کی سنگینی کو نمایاں کرتا ہے اور ایسے میں حالات کی بہتر ی کو ممکن بنانے کے لیے یہ ہی راستہ بچتا ہے کہ دوست ممالک کوئی راستہ نکال کر کشیدگی کے خاتمہ میں اپنا کردار ادا کریں ۔سعودی عرب ،قطر اور ترکیہ نے جو مذاکرات کا راستہ نکالا تھا لیکن کوئی بڑا بریک تھرو نہیں ہوسکا تھا۔اس کی ایک بڑی وجہ افغان حکومت کی جانب سے ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستانی سرزمین پردہشت گردی پر مبنی کارروائیوں پر تحریری ضمانت نہ دینا تھا جس سے مسئلہ کا حل نہیں نکل سکا اور افغان حکومت کسی بھی صورت میں تحریری ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں تھی۔اب پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگی کشیدگی کے خاتمہ میں چین کی ثالثی کا کردار کھل کر سامنے آیا ہے۔چین اس علاقائی اور عالمی سطح کی سیاست میں اب ایک بڑا فریق ہے۔

یہ بات پہلے بھی ان ہی صفحات پر لکھی تھی کہ اگر پاکستان اور چین کے درمیان حالات کی بہتری کا کوئی بڑا بریک تھرو ہوگا تو اس میں چین کی ثالثی کا بڑا کردار ہوگا۔کیونکہ پاکستان اور افغانستان دونوں چین کی قیادت پر اعتماد کرتے ہیں۔ ویسے بھی پاکستان کا موقف ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت ٹی ٹی پی کو سہولتیں دے رہی ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کو پروان چڑھا کر بلیک میل کررہی ہے جب کہ افغانستان کی قیادت بھارت کو ساتھ ملا کر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار رکھنا چاہتی ہے۔ ایسے میں پھر چین ہی کردار ادا کرسکتا ہے جو پاکستان یا علاقائی استحکام کی ضرورت ہے ۔چین کے بارے میں عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ ایک غیر جانبدار ملک ہے اور اس کی ثالثی کو کوئی ملک آسانی سے نظرانداز نہیںکرسکتا۔چین اس وقت پاکستان اور افغانستان دونوں کا ہمسایہ ملک ہے اور دونوں ممالک میں چین کی بڑی سرمایہ کاری سی پیک اور دیگر منصوبوں کی صورت میں موجود ہے ۔اسی طرح اس خطہ میں دہشت گردی کا ہونا یا عدم استحکام کی موجودگی یا سرحدی کشیدگی چین کے مفادات کے برعکس ہے ۔

ایسے میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی بہتری اور براہ راست بات چیت چین کے سیاسی اور معاشی مفادات کی عکاسی بھی کرتی ہے ۔چین اس وقت شٹل ڈپلومیسی کے تحت اسلام آباد اور کابل میں بات چیت کے لیے موجود ہے جہاں براہ راست بات چیت اور ایک دوسرے کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو بھی ہورہی ہے اور چین کے نمائندے اس میں کافی متحرک اور فعال نظر آتے ہیں ۔یہ بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ تین فریقی مذاکرات کے مختلف سیشن بھی ہوچکے ہیں جس میں ورکنگ لیول میٹنگز بھی شامل ہیں تاکہ تاکہ سازگار بات چیت کا ماحول پیدا کیا جاسکے ۔

اسی طرح چین کی فعالیت پر مبنی ثالثی اس وقت سامنے آئی جب دونوں ممالک کی جانب سے اوپن وار جیسے الفاظ اور عمل کا آغاز ہوا اور اسی بنیاد پر چین کو ثالثی کے لیے میدان میں آنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ کشیدگی میں کمی بھی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ چین کا فوری مقصد اعتماد سازی،کشیدگی کم کرنا اور تعاون بڑھانے پر زور دینا ہے کیونکہ چین چاہتا ہے کہ ان مذاکرات کی بنیاد پر سرحدی تنازعات کا پرامن حل،دہشت گردی کے خلاف دو طرفہ تعاون جس میں ٹی ٹی پی جیسے مسائل بھی شامل ہیں،اقتصادی روابط کی بحالی ،تجارت اور سی پیک کی افغانستان تک توسیع،علاقائی سطح کا استحکام اور بی آر آئی منصوبوں کی حفاظت،چین کی طاقت اور حدود جیسے امور شامل ہیں ۔اس لیے بہت سے ماہرین کے بقول دیگر ملکوں کے مقابلے میں پاکستان اور افغانستان تعلقات کی بہتری میں چین کی ثالثی کافی اہمیت رکھتی ہے اور دونوں ممالک کا اس ثالثی کو نظرانداز کرنا ان کے مفاد میں نہیں ہوگا۔کیونکہ چین میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے حل کو ون ان ون صورتحال میں لاسکتا ہے اور دونوں ممالک کو ان کے معاملات پر راضی کرسکتا ہے ۔

افغانستان دہشت گردی کے حوالے سے چین کو ضمانت دے سکتا ہے اور ہمیں اس پر اعتماد کرنا ہوگا۔ چین جس وقت ایک بڑے ثالثی کے طور پر اپنا کردار ادا کرے گا تو یہ کردار یک طرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ ہوگا اور دہشت گردی کو باقاعدہ بات چیت کا حصہ بنایا جائے گا اور مشترکہ طور پر ایسی حکمت عملی کو عملا اختیار کیا جائے گا جو دونوں ممالک کے لیے قابل قبول ہوگی ۔ چین کی ثالثی میں جو بھی معاہدہ ہوگا، اس کے تحت چین کو مختلف نوعیت کی ضمانتیں دینی ہوگی ۔اصل میں بنیادی نقطہ دہشت گردی کا ہے اور جب تک دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزم یا فریم ورک نہیں بنیں گے مسائل حل نہیں ہوسکیں گے۔ پاکستان جسے سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے فوری طور پر دہشت گردی جیسے مسئلہ سے باہر نکلنا ہے تو اس کا علاج بھی افغانستان سے دہشت گردی کے خاتمے سے جڑا ہوا ہے ۔خود افغان طالبان کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ اگر وہ یک طرفہ طور پر ٹی ٹی پی کی سرپرستی کو جاری رکھتے ہیں اور پاکستان کے تحفظات کو اہمیت نہیں دیں گے تو پھر ان کے لیے بھی مشکلات بڑھیں گی۔

چین کی ڈپلومیسی کی اہمیت یہ ہوتی ہے کہ وہ بہت زیادہ ان معاملات میں میڈیا کی سطح پر گرم جوشی کو نہیں دکھاتا بلکہ اس کی بیشتر ڈپلومیسی خفیہ ڈپلومیسی یا پس پردہ عمل کی بنیاد پر جاری رہتی ہے ۔خود افغان حکومت میں بھی یہ محسوس کیا جارہا ہے کہ ان کو بھی اب لگتا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان سے مذاکرات اورتعلقات کی بہتری کے سوا کوئی چارہ کار نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے پچھلے کچھ دنوں سے ہمیں افغان حکومت کی جانب سے بھی مذاکرات کے تناظر میں مثبت بیانات دیکھنے کو مل رہے ہیں جو امید کے پہلو کو نمایاں طور پر پیش کرتا ہے ۔ ایک مسئلہ پاکستان اور افغانستان تعلقات کی بہتری میں یہ بھی ہے اگر چین کی ثالثی کی مدد سے دونوں ممالک کی سطح پر کچھ طے ہوتا ہے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اس پر مکمل طور پر عملدرآمد ہوسکے گا۔کیونکہ ماضی میں طالبان حکومت نے پاکستان حکومت سے جو بھی وعدے یا عہد کیے، اس پر شفافیت کے ساتھ عمل درآمد نہیں ہوسکا جس میں بالخصوص ٹی ٹی پی کا معاملہ سرفہرست ہے۔

اس لیے یہ بھی چین کے لیے اہم مسئلہ ہوگا کہ جو کچھ طے ہوتا ہے اس پر عملدرآمد کا میکنزم بھی تیار ہو اور دونوں ممالک اس پر عمل کریں کیونکہ اگر ان پر عملدرآمد نہیں ہونا تو پھر مذاکرات اور مفاہمت کی باتیں بہت پیچھے رہ جائیں گی۔ارومچی میں ہونے والے مذاکرات میں واضح طور پر پاکستان نے افغانستان کے تناظر میں تین مطالبات پیش کردیے ہیں ۔اول کابل باضابطہ طور پر ٹی ٹی پی کو دہشت گرد تنظیم تسلیم یا اس کو قرار دے،دوئم اس کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرے ۔سوئم، اس کارروائی کا قابل قبول ثبوت فراہم کرے ۔اس لیے گیند افغان حکومت کی کورٹ میں ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

احسن تقویم ، اسفلہ سافلین

Published

on


یہ جو حضرت انسان ہے جس نے خود کو طرح طرح کے القابات وخطابات سے لادا ہوا ہے ، خودکو حیوان اعلیٰ، حیوان ناطق ،حیوان عاقل اور نہ جانے کیا کیاکہتا رہتا ہے اورطرح طرح کے مناصب ومراتب سے خود کو خود ہی سرفرازکرتا رہتا ہے، انسان ہوں، اشرف المخلوقات ہوں، ما بدولت ہوں لیکن اسے اگر اپنے اعمال کے ترازو میں تولا جائے تو کم بہت کم بہت ہی کم نکلے گا ، پرکاہ کے برابر بھی نہیں ۔ حیوان اعلیٰ تو کیا حیوان ادنیٰ بلکہ حیوان صفر بھی نہیں نکلے گا اوراگر باقی سارے حیوان کو زبان مل جائے اوراسے کسی غیر جانب دار عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیاجائے تو عدالت پہلی ہی سنوائی میں سوبار پھانسی، سو بار گولی مارنے، سو بار صلیب کرنے اورسوبار گلوٹین کے نیچے رکھنے کی سزا دے دے گی۔

ہوسکتا ہے کہ اس موقع پر کوئی مذہب کا راگ الاپے تو وہاں تو پہلے ہی اسے سارے اعزازات و خطابات سے معزول کیا جا چکا ہے وہاں تو صاف صاف فیصلہ دیا جاچکا ہے کہ اسے تو ’’احسن تقویم‘‘ پر بنایا گیا تھا لیکن اس نے خود کو ’’اسفلہ سافلین‘‘ میں گرا دیا، بات ختم۔ وہ اعزاز تو یہ کھو چکا ہے اور ہم اسی انسان کی بات کر رہے ہیں جو ’’احسن تقویم‘‘ میں ہوا کرتا تھا ۔ ہاں تو اگر اسے غیرجانب دار عدالت میں کھڑا کردیاجائے اور  سارے جانوروں کو زبان دے دی جائے، گواہی لی جائے تو وہ اس اشرف المخلوقات کو کیا ثابت کردیں گے، وہ نام آپ خود ہی تجویز کریں کہ خود کوخود ہی مراتب ومناصب پر فائز کرنے کی بری عادت تو آپ کی واحد صفت ہے بلکہ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی، پیدائشی خاندانی اور جدی پشتی ’’میاں مٹھو‘‘ جو ہے بیچارے جانوروں کو زبان تو نہیں ملنے والی، چلئیے ہم ہی اس کی کچھ مدح سرائی کرتے ہیں ۔

آپ نے کبھی کسی حیوان کو پیٹ بھرنے کے بعد کھاتے ہوئے دیکھا ہے ، آپ نے کسی بھی جانور کو منافقت کرتے دیکھا ، جھوٹ بولنے کی بات تو نہیں کرسکتے کہ وہ بول ہی نہیں سکتے ۔

اب ذرا اس کے کارناموں کا اسکوردیکھتے ہیں،اعدادوشمار کے مطابق ہرسال لگ بھگ ڈھائی ہزار انسان درندوں کاشکار ہوکرمرتے ہیں، تقریباً اتنے بلکہ اس سے بہت کم ، زہریلے جانوروں ، سانپوں وغیرہ کے کاٹے سے مرتے ہیں،ایک ہزار کے قریب ہاتھیوں یا اوربڑے جانوروں کے ہاتھوں مرتے ہیں، اس سلسلے میں سب سے زیادہ اسکورمچھروں کاہے ، شاید انسان کے قرب اورنیک صحبت کی وجہ سے۔ چنانچہ مچھروں کے ہاتھوں تقریباً پندرہ ہزار انسان مرتے ہیں اورخود انسان کے ہاتھوں؟ یہ آٹھ دس منشی یاکمپیوٹر ہی آپ کو بتا سکتا ہے کیوں کہ اس میں براہ راست مارنے کے ساتھ ساتھ وہ تعداد بھی شامل ہے جو اس کے ہاتھوں بالواسطہ یعنی ہر ہر چیز یہاں تک کہ دواؤں میں ملاوٹ کی وجہ سے بیمار ہوکرمرتے ہیں یا مضرصحت چیزوں کی وجہ سے بیمار ہوکر مرتے ہیں۔ یہ تو آپ مانیں گے بلکہ دل وجان سے مان چکے ہیں کہ امریکا ’’مہذب ترین‘‘ انسانوں کا ملک ہے اوریہ بھی سنا ہے کہ وہاں ہم جنس پرست آپس میں قانونی طورپر شادی کرسکتے ہیں ۔

چلئے ہم یہ رونا رورہے تھے کہ انسان اپنی مادہ کو تشدد کا نشانہ بناتا ہے جب کہ جانور ایسا نہیں کرتا۔ اسی پرامن عمل کی بدولت جانور یہاں مہذب ترین انسان سے آگے نکل گئے ہیں ۔

زندگی کو آگے بڑھانا انسان اور جانور دونوں میں یکساں ہے لیکن آخر انسان اشرف المخلوقات ہے کوئی جانور تو نہیں کہ فطرت کی پابندی کر ے، حیوان اعلیٰ ہے کوئی ادنیٰ سا حیوان نہیں ، حیوان عاقل ہے، کوئی عام حیوان نہیں جو عام حیوانوں کی طرح جبلت یا فطرت کاغلام بنا رہے چنانچہ اس نے وہ وہ ایجادیں کرلیں کہ فاتح عالم بن گیا ۔ یوں کہیے کہ اس نے زندگی گزارنے کے طور طریقوں کو ایک ہنر ایک آرٹ اورایک مثالی کام بنا دیا ہے۔ انسان نے وہ وہ کارنامے سرانجام دیے ہیں کہ کسی اورحیوان کے تصور میں بھی ایسے کارنامے نہیں آئے بلکہ حیوان تو کیا شیطان کے ذہن میں بھی نہیں آئے اوراس کا اعتراف شیطان نے خود کیا ہے کہ میں انسان کا عشر عشیربھی نہیں ۔

جب ایک اشرف المخلوقات سکنہ اسفلہ سافلین نے ایک اونٹنی کے ساتھ زبردست فنی مظاہرہ کرتے ہوئے سیڑھی سے کام لیا بلکہ کھیت میں پڑے ہوئے ’’جوے‘‘ وہ جو ہل چلاتے ہوئے دوبیلوں کی گردنوں میں ڈالنے کے لیے بنا ہوتا ہے اس نے بطورنئی ایجاد کے یہ کام لیا تھا، پھر دیگر جانوروں پر قبضہ کرنے کے بعد وہ خود بھی حیوان بن گیا۔برے کاموں میں وہ شیطان سے آگے نکل گیا۔ اس پر شیطان بھی انسان کے سامنے گویا ہوا۔ حضور جناب عالی آج سے میں آپ کے آگے ’’زانوئے تلمذ‘‘ کرتا ہوں مجھے اپنی شاگردی میں قبول فرما لئیجے ۔ گر قبول افتد زہے غوشرف۔

چنانچہ انسان نے اپنی موجدانہ اور’’اسفلہ سافلینانہ ‘‘صلاحیتوں سے کام لے کر جانوروں پر بھی برتری حاصل کر لی ۔

اپنا ملک چونکہ ہرلحاظ سے مثالی اورہمہ صفت موصوف ہے اس لیے اسے استثنا دے کر پڑوسی ملک کی بات کرتے ہیں کہ وہاں نئی دریافتوں اورایجادات سے کام لے کر ہزاروں ایسے برے کام ہوتے ہیں کہ انسانیت بھی شرما جائے۔عورتوں پر ظلم کیا جاتا ہے، بیٹے کی خواہش میں اندھا ہو کر بیٹی کو دنیا میں آنے سے قبل ہی مار دیا جاتا ہے۔ ۔ آخر میں ایک پشتو ٹپہ سنئے

ستا دہ خائست گلونہ ڈیر دی

جو لئی مے تنگہ، زہ بہ کوم کوم ٹولومہ

 ترجمہ : تمہارے حسن کے پھول بہت ہیں اورمیری جھولی بہت تنگ ہے کس کس پھول کو چنوں گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

آئل انڈسٹری نے حکومت کا گارنٹیڈ ریٹرن ماڈل مسترد کردیا

Published

on



اسلام آباد:

آئل انڈسٹری نے موجودہ آئل پرائسنگ فارمولے میں مجوزہ تبدیلیوں کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ گارنٹیڈ ریٹرن ماڈل اپنانے کی صورت میں حکومت کو سال بھر سبسڈی دینا پڑے گی، جو مالی طور پر ناقابلِ برداشت ہوگا۔

سابق وزراء اور ماہرین کی جانب سے پاکستان کے ریفائننگ سیکٹر پر جاری بحث نے ایک بار پھر قیمتوں کے نظام کو موضوعِ بحث بنا دیا ہے، تاہم صنعت سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بحث میں ریفائنری معیشت کی پیچیدگیوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

آئل انڈسٹری کے مطابق موجودہ پرائسنگ نظام عالمی معیار کے مطابق ہے اور بین الاقوامی مارکیٹ سے ہم آہنگی کو یقینی بناتا ہے۔

اس کے برعکس گارنٹیڈ ریٹرن ماڈل کا مطلب حکومت پر مسلسل سبسڈی کا بوجھ ڈالنا ہوگا، جس سے مالی خسارہ بڑھ سکتا ہے۔

انڈسٹری کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کی لسٹڈ ریفائنریز کو 100 ارب روپے سے زائد کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ اس شعبے میں سرمایہ کاری پر منافع دیگر صنعتوں کے مقابلے میں کم ترین سطح پر ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ریفائننگ مارجنز فطری طور پر غیر مستقل ہوتے ہیں اور عموماً جغرافیائی و سیاسی حالات سے متاثر ہوتے ہیں، ایسے مواقع کم ہوتے ہیں جب منافع زیادہ ہو، جبکہ اکثر اوقات ریفائنریز کو دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ریفائنری مصنوعات جیسے فرنس آئل، پٹرول اکثر خام تیل کی قیمت سے کم نرخوں پر فروخت ہوتے ہیں، جس سے مجموعی منافع متاثر ہوتا ہے۔

انڈسٹری کا مؤقف ہے کہ اگر کم منافع کے دوران مارکیٹ بیسڈ نظام برقرار رکھا جاتا ہے تو وقتی منافع کے دوران حکومتی مداخلت کا مطالبہ پالیسی میں عدم تسلسل پیدا کرے گا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر کرے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی کے مسائل پر سیاست

Published

on


میئرکراچی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کو کراچی میں جاری میرے کام نظر نہیں آرہے، یہ دونوں جماعتیں کہیں نظر نہیں آتی ہیں ۔ انھیں کراچی کے مسائل سے کوئی دلچسپی ہے نہ یہ کام کرتے ہیں ، صرف مجھ پر تنقید کرتے آرہے ہیں۔

 ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت بلدیاتی حلقوں کی تشکیل کے وعدے سے انحراف کی مرتکب ہوئی ہے۔ نئی مردم شماری میں 70لاکھ نفوس کا اضافہ ایم کیو ایم کی جدوجہد کا ثمر ہے۔ پیپلزپارٹی بلدیاتی اداروں کو آئین کے مطابق اختیارات دے رہی ہے اور نہ ہی کراچی کی درست مردم شماری ہونے دیتی ہے تاکہ آبادی کے مطابق کراچی کو فنڈز اور اس کے جائز حقوق نہ مل سکیں۔ سندھ حکومت کو کراچی کے مسائل کی فکر ہے نا حل کرنا چاہتی ہے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا ہے کہ بارشوں نے کراچی میں سندھ حکومت اور بلدیہ کراچی کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ کمزور کارکردگی کی سزا عوام کو دی جارہی ہے۔ سندھ سالڈ ویسٹ بورڈ بروقت کچرا نہ اٹھانے اور شہر میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیروں کا ذمے دار ہے جس کی وجہ سے کراچی کے شہری عذاب میں مبتلا ہیں۔

 پیپلزپارٹی پہلی بار بلدیہ عظمیٰ کراچی کے لیے اپنا میئر منتخب کرانے میں کامیاب ہوئی ہے جب کہ جماعت اسلامی کے یو سی ناظمین کی تعداد زیادہ ہے، جماعت اسلامی پی ٹی آئی کی مدد سے اپنا میئر لاسکتی تھی مگر تحریک انصاف کے کئی یوسی چیئرمینز پیپلزپارٹی سے جا ملے اور یوں جماعت اسلامی کا میئر نہیں آسکا حالانکہ جماعت اسلامی سنگل لارجسٹ پارٹی تھی لیکن پی ٹی آئی کے لوگ دوسری طرف چلے گئے اور بلدیہ عظمیٰ پر جیالے میئرکو اکثریت دلا دی تھی جو کام تو کرتے آئے ہیں مگر ان کے سیاسی مخالفین الزام تراشیاں کرتے آ رہے ہیں اور کراچی کے نو ٹاؤنز میں جماعت اسلامی کے چیئرمینوں نے جو کام کیے ہیں، وہ بھی عیاں ہیں اور پیپلزپارٹی کے بلدیاتی ادارے جماعت اسلامی کے ٹاؤنز میں ترقیاتی کاموں کے مقابلے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے، یہ جماعت کا موقف ہے۔

کراچی میں ایم کیو ایم کا ایک بھی یوسی چیئرمین نہیں ہے۔ اس کے باوجود ایم کیو ایم کراچی میں بااختیار شہری حکومت کے قیام کی حامی ہے اور اسی لیے جدوجہد کررہی اور بااختیار شہری حکومت ہی کراچی کے مسائل حل کراسکتی ہے مگر سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی ایسا نہیں ہونے دے رہی اور نا بلدیاتی اختیارات دے رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ اور وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی اور وفاقی وزیر اور سابق سٹی ناظم کراچی مصطفیٰ کمال اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں کرچکے ہیں اور یہ بات درست ہے کہ کراچی میں ایم کیو ایم کے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی ہیں اور ایم کیو ایم نے گزشتہ بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اور ماضی میں جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان اور عبدالستار افغانی اور ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق سربراہ رہے ہیں اور جنرل پرویز کے با اختیار ضلعی حکومتوں کے نظام میں ایک بار جماعت اسلامی اور بعد میں ایم کیو ایم کے کراچی کے بااختیار سٹی ناظمین رہے جن کے دور میں زبردست تعمیری و ترقیاتی کام ہوئے تھے اور مصطفی کمال نے کراچی کو دنیا کے 13میگا سٹیز میں شامل ہونے کا اعزاز دلایا تھا جب کہ سندھ حکومت کے 18سالوں میں کراچی کچرے کا شہر کہلایا اور پورے شہر میں نکاسی آب سسٹم تباہ اور سڑکیں زیر آب رہنا معمول ہے اور کراچی کے پی پی پی کے میئر عوام کی توقعات پر پورے اتر سکے جب کہ سندھ حکومت کراچی میں فراہمی آب کا مسئلہ حل اور شہری مسائل حل کرانے میں ناکام رہی ہے۔ پی پی کے کراچی کے پہلے میئر جنھیں سندھ حکومت نے منتخب کرایا شہریوں کو بڑی توقعات تھیں مگر کراچی سے تعلق کے باوجود وہ کراچی کے مسائل حل کرانے میں ناکام رہے حالانکہ انھیں کراچی میں کام کرکے اور شہری مسائل حل کرکے دکھانے چاہئیں اور ایسی اچھی کارکردگی دکھانا چاہیے جیسی دو سابق بااختیار سٹی ناظمین نعمت اللہ خان اور سید مصطفیٰ کمال نے اپنے دور میں دکھائی تھی جسے شہریوں نے ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں تسلیم کیاگیا تھا ۔

سندھ حکومت میئر کراچی ہی نہیں جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کراچی مسائل پر ایک ہوکر مسائل حل کرانے کی بجائے منفی سیاست کررہے ہیں اور ایک دوسرے پر الزام تراشی ہی میں پورے ہیں۔ کراچی کے مسائل کے حل کی ذمے داری جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم سے زیادہ سندھ حکومت اور میئر کراچی پر عائد ہوتی ہے ۔





Source link

Continue Reading

Trending