Connect with us

Today News

کینسر کے مریضوں کیلیے جعلی دوا بنانے والی فیکٹری پر چھاپا،  بڑی کھیپ پکڑی گئی

Published

on



کراچی:

شہر قائد میں کینسر کے مریضوں کے لیے جعلی دوا بنانے والی فیکٹری پر چھاپے میں ادویہ کی بڑی کھیپ پکڑی گئی۔

ذرائع ایف آئی اے کے مطابق اینٹی کرپشن سرکل نے شہر کے مضافاتی علاقے احسن آباد میں کارروائی  کرتے ہوئے   جعلی اور غیر رجسٹرڈ ادویات بنانے والی فیکٹری پر چھاپا مارا، جہاں سے  کینسر کے مریضوں کے لیے تجویز کردہ  درد کش دوا کی بہت بڑی کھیپ تحویل میں لے لی  گئی۔

فیکٹری میں دوا کی  قانونی ڈوز زیادہ سے زیادہ 50 ملی گرام ہے مگرفیکٹری میں 225 ایم جی دوا تیار کی جارہی تھی ، جو بہت خطرناک اور بعض صورتوں میں جان لیوا ہے۔  تیار ہونے والی دوا پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک کو بھی غیر قانونی چینلز کے ذریعے سپلائی کی جاتی رہی  ہے۔

ایف آئی اے کی  کارروائی کے دوران  اس دوا کی ایک کھیپ کو منڈیوں کے لیے بھی روک دیا گیا۔  غیر قانونی جعلی ادویات،(خام مال) اور پکڑی گئی مشینری  کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جاتی ہے۔

ذرائع کے مطابق  کارروائی کے دوران متعدد گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں جب کہ مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پنجاب میں خسرے کے مشتبہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

Published

on


پنجاب میں سال 2026 کے پہلے چار ہفتوں میں خسرے کے 1695 مشتبہ مریض سامنے آگئے۔

تفصیلات کے مطابق خسرے کے لیبارٹری ٹیسٹ سے کنفرم مریضوں کی تعداد 330 ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق صوبے میں خسرے کے 40 آؤٹ بریک الرٹس جاری کیے گئے۔

ڈی جی ہیلتھ سروسز پنجاب نے خسرے سے متعلق تفصیلی رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرا دی۔ سال 2024 میں پنجاب میں خسرے کے 23 ہزار 680 مشتبہ مریض رپورٹ ہوئے تھے۔

سال 2025 میں خسرے کے مشتبہ مریضوں کی تعداد 19 ہزار 913 رہی جبکہ سال 2024 میں خسرے کے 6 ہزار 747 کیسز لیب سے کنفرم ہوئے تھے۔ سال 2025 میں خسرے کے کنفرم مریضوں کی تعداد 4 ہزار رہی۔

سال 2024 میں خسرے سے 16 اموات جبکہ 2025 میں 4 اموات رپورٹ ہوئیں۔ رواں سال خسرے کی صورتحال پر محکمہ صحت کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

چیف سیکرٹری اور وزیر صحت کی سربراہی میں متعدد اجلاس ہوئے ہیں۔ خسرے کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے متعلقہ اضلاع میں سرویلنس تیز کر دی گئی ہیں جبکہ ڈسٹرکٹ اور اسپتالوں کی سطح پر مانیٹرنگ کا نظام مزید سخت کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: کم ترین اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنانے والوں میں بابر اعظم سرفہرست

Published

on


ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں کم ترین اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنانے والوں میں بابر اعظم سرفہرست ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے دوران بابر اعظم کی پریکٹس سیشن اور میچ میں مختلف مائنڈ سیٹ سے بیٹنگ نے بحث چھیڑ دی ہے۔

ایک نیٹ سیشن کے دوران نسیم شاہ کی شارٹ گیند کو انہوں نے مڈوکٹ کے اوپر سے کھیلا، جبکہ سلمان مرزا کی آف اسٹمپ سے باہر شارٹ ڈلیوری پر زوردار اپر کٹ لگایا۔

شاداب خان اور ابرار احمد کی لیگ اسپن کے خلاف بھی وہ قدموں کا استعمال کرتے ہوئے شاٹس کھیلتے دکھائی دیے۔

تاہم ایک موقع پر نسیم کی لیگ کٹر پر وہ شاٹ غلط ٹائم کر بیٹھے اور خود پر برہم بھی نظر آئے۔

یہ 20 سے 25 منٹ کا سیشن بابر اعظم کے دو رخ دکھاتا ہے۔

ایک طرف جارحانہ ارادے کی جھلک جبکہ دوسری جانب کسی میچ میں بھی نیٹ جیسی روانی نظر نہیں آئی اور وہی گیندیں میچ میں محتاط انداز سے کھیلی گئیں۔

اپنا چوتھا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کھیلنے والے بابر اعظم کے اعداد و شمار ان کے حق میں نہیں ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں کم از کم 500 رنز بنانے والوں میں بابر اعظم کا اسٹرائیک ریٹ 111.81 ہے، جو سب سے کم اور سابق کپتان محمد حفیظ کے اسٹرائیک ریٹ کے برابر ہے۔

کپتان سلمان آغا اور کوچ مائیک ہیسن نے تجربے کی بنیاد پر ان پر اعتماد کیا ہے، مگر اب بابر کو میدان میں کارکردگی سے جواب دینا ہوگا۔





Source link

Continue Reading

Today News

مقبوضہ کشمیر کے فنڈز اترپردیش منتقل؟ بی جے پی پر بڑا الزام

Published

on


مقبوضہ جموں و کشمیر کے ترقیاتی فنڈز کو بھارتی ریاست اترپردیش منتقل کرنے کے معاملے پر سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ غلام علی کھٹانہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے لیے مختص ترقیاتی فنڈز کا بڑا حصہ اترپردیش منتقل کر دیا۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس اقدام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کشمیری عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 11 کروڑ 52 لاکھ روپے میں سے 10 کروڑ 58 لاکھ روپے اترپردیش میں خرچ کیے گئے، جبکہ خطے کو خود شدید اقتصادی اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل کا سامنا ہے۔

عمر عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی یہاں سے منتخب ہو کر بھی دیگر ریاستوں کو ترجیح دے رہی ہے، جس سے اس کے دعووں اور عملی اقدامات میں تضاد ظاہر ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کو پہلے ہی معاشی مشکلات اور ترقیاتی چیلنجز درپیش ہیں، ایسے میں فنڈز کی منتقلی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے نے ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر کی ترقی اور وسائل کی تقسیم کے حوالے سے بحث کو جنم دے دیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending