Today News
گرلز ایجوکیشن کی بہتری کیلئے پالیسی سازی میں طالبات اور اساتذہ کو شامل کیا جائے!!
لڑکیوں کی تعلیم معاشرتی ترقی، خاندان کی خوشحالی اور نسل نو کی بہتر تربیت کے لیے ناگزیر ہے۔
تعلیم لڑکیوں کو خودمختار بناتی ہے، انہیں اپنے حقوق و فرائض سے آگاہ کرتی ہے اور بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے جس سے ایک مضبوط اور باشعور معاشرہ تشکیل پاتا ہے لہٰذا لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ’’لڑکیوں کی تعلیم اور ٹیچرز ٹریننگ کی اہمیت‘‘ کے موضوع پر ایک خصوصی مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں حکومت اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے خیالات کا اظہارکیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔
ڈاکٹر نشاط ریاض
(چیف ایگزیکٹیو ملالہ فنڈ پاکستان)
آبادی کے لحاظ سے پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے اور یہاں ملک کی 65 فیصد آبادی رہتی ہے۔ ملک میں نوجوانوں خصوصاََ 30 برس سے کم عمر افراد کی شرح زیادہ ہے جس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں۔ یہ نوجوان ہمارا اثاثہ اور بڑی طاقت ہیں۔ ہمارے نوجوانوں کا ٹیلنٹ اور جذبہ کسی بھی ایٹمی طاقت سے زیادہ طاقتور ہے۔ قوموں کو بڑی قوت بننے میں صدیاں لگی ہیں۔ اس سفر میں انہوں نے جس طاقت کا استعمال کیا وہ تعلیم ہے۔ تعلیم میں سب سے اہم لرننگ ہے کہ نوجوانوں کو کیا سکھایا جائے، کس طرھ سکھایا جائے اوراس کیلئے ان سے متعلقہ اداروں کو کس طرح بہتر بنایا جائے۔ اداروں سے مراد صرف سکول، کالج یا یونیورسٹیز ہی نہیں بلکہ لرننگ کے وہ تمام مقامات ہیں جہاں بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت بھی کی جائے اور اس طرح ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو پاکستان کو آگے لے کر جاسکے۔ پنجاب کی بات کریں تو یہ صوبہ بہت ترقی کر رہا ہے۔ میں نے لاہور سے تعلیم حاصل کی اور جب بھی لاہور آتی ہوں تو ہر مرتبہ سرپرائز ملتا ہے۔ اس مرتبہ کا منظر یہ ہے کہ کھلی اور صاف ستھری سڑکیں ہیں، پھل اور سبزیوں کی ریڑھیاں ترتیب سے لگی ہوئی ہیں۔ مجھے سروسز ہسپتال جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی کہ ہسپتال صاف، ڈاکٹرز ڈیوٹی پر موجود اور عام آدمی کو صحت کی بہترین سہولیات دی جا رہی ہیں۔ میں اس حوالے سے پنجاب کے عوام کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ ہمارے ’ڈی این اے‘ میں ٹیلنٹ ہے۔ ہماری بچیاں قابل ہیں لیکن یہاں سکولوں کی تعداد کم ہے۔ ورلڈ بینک کے معیار کے مطابق ایسے علاقے جہاں مسافت مشکل ہے، وہاں ہر 10 کلومیٹر پر ایک سکول ہونا چاہیے۔پنجاب کی تقسیم ود طرح سے ہے، ایک وسطی اور دوسرا جنوبی پنجاب، دونوں کے مسائل، وسائل اور سہولیات الگ الگ ہیں۔ سکول دور ہونے کی وجہ سے پرائمری سے سیکنڈری سطح تک بچیوں کی ڈراپ آؤٹ شرح زیادہ ہے۔ والدین کو یہ تشویش ہوتی ہے کہ راستہ محفوظ ہے یا نہیں، سکول میں خواتین اساتذہ ہیں یا نہیں، وہاں الگ واش رومز ہیں یا نہیں،اس کے علاوہ یونیفارم، کتابیں، ٹرانسپورٹ و دیگر اخراجات ان کی پہنچ میں ہیں یا نہیں۔ اسی طرح اگر سکول میں خاتون ٹیچر ہے تو کیا اس کے لیے ماحول سازگار ہے؟ اسے سہولیات میسر ہیں؟ اسے تحفظ حاصل ہے؟ اس کی ٹریننگ ہوئی ہے یا نہیں؟ میں دوسرے صوبوں میں ایسے ٹیچرز سے بھی ملی ہوں جن کی 20،20 سال سے ٹریننگ نہیں ہوئی۔ پنجاب ان صوبوں میں شامل نہیں ہے، یہاں ٹیچرز ٹریننگ ہو بھی رہی ہے اور بہتری کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ ہمارے سسٹم میں بہتری کی بہت گنجائش موجود ہے۔ صرف عمارت بنا دینا کافی نہیں ہے، اس کی روح تعلیمی نصاب، اساتذہ اور بچے ہیں۔ ہمیں ایجوکیشن ایکوسسٹم کی گروتھ پر کام کرنا ہے،ا س حوالے سے ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ تعلیمی نصاب ایجوکیشن سسٹم کا اہم حصہ ہے، دیکھنا یہ ہے کہ نصاب کن کیلئے بنایا جا رہا ہے؟ جس دور میں ہم نے پڑھا اور جو بچے آج پڑھ رہے ہیں، اس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ دنیا میں چائلڈ سائیکالوجی پر بہت کام ہوتا ہے، جن بچوں کیلئے نصاب بنایا جاتا ہے، ان کی نفسیات کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ کیا سوچتے ہیں، ان کی دلچسپی کیا ہے، ان کو کیا خوف ہے؟ اساتذہ، والدین ، بچے اور معاشرہ اہم سٹیک ہولڈرز ہیں ، تعلیمی نصاب بناتے وقت ان سے لازمی مشاورت کرنی چاہیے۔ عصر حاضر کا طالب علم استاد سے زیادہ ایڈوانس ہے، کیا اس حوالے سے ہمارا نصاب ’اپ گریڈ‘ہو رہا ہے؟ کیا ٹیچرز ٹریننگ ہو رہی ہے؟ کیا امتحانی نظام کو تبدیل کیا گیا؟ کیا اس سسٹم کو چلانے کیلئے گورننس اور جانچ پڑتال کا نظام بنایا گیا؟ افسوس ہے کہ یہ سب نہیں ہوا۔ پاکستان میں بہت زیادہ ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے لیکن اس کا ہوتا کیا ہے کسی کوعلم نہیں۔ میرے نزدیک اس حوالے سے ایک سسٹم بننا چاہیے اور صرف وہ ڈیٹا اکٹھا کرنا چاہیے جس کی ضرورت ہو، یہ کریڈیبل ہو اور پھر اس کی روشنی میں اقدامات کیے جائیں۔ہر بچے کی تعلیم ، صحت اور ذہنی نشونما حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کا تعلیمی بجٹ صرف 4 فیصد ہے، اسے بڑھانا چاہیے۔ افسوس ہے کہ وزیراعظم کی طرف سے ایجوکیشن ایمرجنسی لگانے کے بعد بھی کچھ نہیں ہوا، حکومت کی کوشش کے باوجود معاملات ٹھیک نہیں ہو رہے۔ محکمہ تعلیم اکیلے کچھ نہیں کر سکتا، ادارے نے ایکسی لنس سکول تو بنا دیے لیکن اس کیلئے بڑے فنڈز اور پلاننگ چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ اداروں کے درمیان آپس میں روابط ہیں یا نہیں؟میرے نزدیک اداروں کے درمیان کووارڈینیشن کا بہترین میکنزم بنانا ہوگا۔ سکول صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ بچوں کی کردار سازی کیلئے بھی اہم ہوتے ہیں، وہاں بچوں کی لرننگ ہوتی ہے، سکولوں کو محفوظ بنانا چاہیے۔ بیرون ممالک میں سکولوں میں سائیکالوجسٹ باقاعدہ کام کرتے ہیں، ہمارے سرکاری سکولوں میں اس کا تصور نہیں ہے، تعلیمی نصاب بناتے وقت تمام سٹیک ہولڈرز کو شامل کرنا ہوگا۔
ڈاکٹر نازیہ آصف
(ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لاہور)
لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے جب بات ہوتی ہے تو چند بنیادی مسائل بتائے جاتے ہیں جن میں سب سے بڑا مسئلہ لوگوں کا رویہ ہے وہ لڑکیوں کو پڑھانا نہیں چاہتے۔ غربت بھی ایک مسئلہ ہے جس کا بہانہ بنا کر والدین بچیوں کو سکول نہیں بھیجتے۔ اس کے علاوہ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ سرکاری سکولوں کی تعداد کم ہے۔ میں جب فیروزوالہ، شیخوپورہ میں تعینات تھی تو ایک د ن اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر آیا، اس نے مجھے پانچ برس عمر کی ایک بچی کی تصویر دکھائی جس کا ہاتھ اس کی ماں نے کوئلہ رکھ کر جلا دیا تھا۔ میں نے وجہ پوچھی تو پتا چلا کہ یہ آٹھ بہن بھائی ہیں، ماں کو طلاق ہوگئی، وہ میکے میں آگئی ہے، اس کے والد اپنے بچوں کے ساتھ اب اپنی بیٹی کے بچوں کو بھی پال رہے ہیں ۔ اس مزدور والد پر اب 15بچوں کی پرورش کا بوجھ پڑ گیا ہے۔ اس چھوٹی بچی نے چینی کھائی جس پر غربت اور حالات کی ستائی ماں نے اسے سزا دی ۔ ہم نے اس دن یہ فیصلہ کیا کہ سکول میں ایک بہترین ماحول فراہم کیا جائے تاکہ بچے سکول آئیں، اگر وہ نہیں بھی پڑھتے تو کم از کم یہاں محفوظ تو رہیں گے۔ ہمارے پاس شدید غریب گھرانوں کے بچے تعلیم کے لیے آتے ہیں، ان کے پاس یونیفارم، کتابیں، جوتے خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے، حکومت اور سول سوسائٹی ان کو سہولیات فراہم کرتی ہے۔ ہم تمام سماجی کارکنوں سے یہ گزارش کرتے ہیں کہ اپنے علاقے کے سرکاری سکولوں کا دورہ ضرور کریں۔ ان سکولوں میں وہ غریب بچے جا رہے ہیں جنہیں معاشرے اور ان کے گھر والوں نے رد کر دیا ہے، یہ بچے سکولوں میں وقت گزار رہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے ’مار نہیں پیار‘ کا اقدام اچھا ہے۔ بچوں کو جب سکول میں پیار ملتا ہے تو وہ تعلیم کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ ہمارے اساتذہ صدقہ، زکوٰۃ بھی ان بچوں کو دیتے ہیں۔ یہ غریب بچے سرکاری سکولوں میں پڑھ کر بورڈ میں ٹاپ کرتے ہیں۔ ہمارے اساتذہ بہت محنت کرتے ہیں تاہم جہاں خرابیاں ہیں انہیں دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ایڈمنسٹریشن کی بات کریں تو وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے آنے سے پہلے محکمہ سکولز ایجوکیشن میں لیڈر شپ میں صرف 3 فیصد خواتین تھیں، اس وقت یہ تعداد 30 فیصد ہوگئی، یہ حوصلہ افزاء ہے۔ گجومتہ کے ایک سکول کے حوالے سے بچی نے خدشے کا اظہار کیا کہ پل نہ ہونے کی وجہ سے اس کے والد سکول سے ہٹا لیں گے، وزیراعلیٰ کی ہدایت پر وہاں پل تعمیر کیا جا رہا ہے۔ یہ پرائمری سکول کی بچی کا مطالبہ تھا جو وزیراعلیٰ کی طرف سے پورا کیا جا رہا ہے۔ اس سکول کی بچیاں آگے چل کر مزید پراعتماد ہوں گی اور معاشی مسائل پر آواز بھی اٹھائیں گی۔ گرلز ایجوکیشن کی بات کریں تو یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جنوبی پنجاب کی لڑکیاں محروم ہیں لیکن ہمارے اعداد و شمار اس سے مختلف ہیں۔اس وقت لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد جیسے ترقی یافتہ شہروں کی بچیوں کو سکول جانے میں زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان علاقوں میں کافی عرصے سے سرکاری سکولز نہیں بنائے گئے البتہ نجی سکولز موجود ہیں۔ ان علاقوں کے لوگ اپنی معاشی کمزوری کی وجہ سے لڑکیوں کو سکول نہیں بھیجتے لیکن بہانہ یہ بناتے ہیں کہ ہمارے خاندان میں لڑکیوں کو پڑھانے کا رواج نہیں ہے۔ ہمارے ہاں سرکاری سکولوں کی تعداد کم ہے۔ لاہور کی آبادی کے تناسب سے یہاں 5 ہزار سکولوں کی ضرورت ہے لیکن صرف 1 ہزار سکول موجود ہیں۔نجی سکول بچیوں کو تعلیم دے رہے ہیں لیکن ان کو یہ فائدہ حاصل ہے کہ ان کے مقابلے میں کوئی سرکاری سکول نہیں ہے۔ حکومت پنجاب کا ’زیور تعلیم‘ پروگرام ہے جس میں جنوبی پنجاب کے اضلاع کی بچیوں کو ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے۔ اس وظیفے کا رزلٹ یہ ہے کہ تونسہ، ڈی جی خان کے ٹاپ کرنے والے بچے بڑے میڈکل کالجز، انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ لاہور سب کا ہے لیکن لاہور کا کون ہے؟ لاہور کے بچے ان بہترین یونیورسٹیوں میں نہیں ملتے۔ یہ بچے برسوں سے اچھے سرکاری سکولوں سے محروم ہیں اور والدین نجی سکولوں میں بچے پڑھانے پر مجبور ہیں ۔ لاہور کے ارد گرد بھی بہت غربت ہے، یہاں کی لڑکیوں کو بھی تعلیمی سکالرشپ ملنی چاہیے۔ اسی طرح کے مسائل دیگر ترقی یافتہ شہروںکے بھی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے نت کلاں لاہور، جو نوری نت کا گاؤں ہے ، وہاں سکول تعمیر کروایا ، وہاں کے ایک زمیندار نے کہا کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک، یہ اس گاؤں کا پہلا سکول ہے۔ رحیم یار خان کی آبادی 44لاکھ ہے، وہاں 2700 سرکاری سکولز ہیں لیکن لاہور جس کی آبادی ڈیڑھ کروڑ ہے، یہاں ایک ہزار سکول ہیں۔پرائمری کی سطح پر ڈراپ آؤٹ کی شرح بہت زیادہ ہے، اس کی وجہ مڈل اور سیکنڈری سکولز کی کمی ہے۔ زیور تعلیم پروگرام صوبہ پنجاب کے تمام علاقوں میں ہونا چاہیے۔ حکومت چائلڈ فرینڈلی سکولز بنانے پر کام کر رہی ہے۔ بچے، بچیوں کیلئے علیحدہ ٹائلٹ اورجنسی ہراسمنٹ سے پاک ماحول بنایا فراہم کیا جا رہا ہے۔ سکولوں میں سائیکالوجسٹ کی تعیناتی پر کام جاری ہے، نواز شریف سینٹر آف ایکسی لنس میں تعیناتی ہوچکی ہے۔ سکولوں کے اساتذہ کو لائسنس جاری کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
اقبال حیدر بٹ
(سی ای او یوتھ ٹیوب )
پنجاب میں بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے لوگوں میں رجحان پیدا ہوا ہے لیکن دوسری طرف ان کی تعلیم کا دائرہ کار بہت کم ہے۔ اس میں خط غربت سے نیچے رہنے والے شامل افراد شامل ہی نہیں ہیں جبکہ امراء نجی سکولوں میں اپنی بچیوں کی تعلیم پر خرچ کر رہے ہیں۔ نجی تعلیمی اداروں میں ہونے والے اخراجات مجموعی طور پر حکومت کے تعلیمی بجٹ سے زیادہ ہیں۔ اس وقت سوال یہ ہے کہ غریب بچیوں کی تعلیم کیسے ممکن ہوگی؟ ہمارے نظام تعلیم کے مسائل پیچیدہ ہیں لہٰذا سکولوں کی حالت زار اور ایجوکیشن سسٹم کو بہتر بنانے کیلئے خواتین ہیڈ ٹیچرز کی ایجنسی بنانے اور ان کے آپس کے تعلق کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں پبلک پالیسی بیوروکریٹک ہونے کی وجہ سے سست روی کا شکار ہوتی ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم شدید سست روی کا شکار ہیں۔ آرڈر کے ذریعے جس طرح معاملات چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس کا زیادہ فائدہ نہیں ہوگا۔ اگر ایجنسی بنا کر ہیڈ ٹیچرز کو آپس میں مل بیٹھنے ، بات چیت کرنے اور بہتری لانے کے مواقع ملیں تو اس کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔ ہم ایجوکیشن سیکٹر اور کمیونٹی کے روابط کو بہتر بنانے کیلئے کام کر رہے ہیں۔ہم نے گزشتہ دنوں ایک ڈائیلاگ کا اہتمام کیا تاکہ مسائل کو حل کرنے ایک دوسرے کے تجربے سے سیکھا جاسکے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سکولوں میں پڑھنے والی بچیاں بہت قابل ہیں۔ ہمارا ادارہ بچیوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔ ان کیلئے تقاریر، سوشل میڈیا ریلز اورکوئز مقابلے کروائے گئے جن میں 100 سے زائد سکولوں کی طالبات نے حصہ لیا اور ان کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ ہمارے ملک کی لڑکیوں میں بہت پوٹینشل ہے، اگر انہیں سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو یہ دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کر سکتی ہیں۔
مزمل مجید
(پروگرام آفیسر یوتھ ٹیوب )
یہ عمومی رائے ہے کہ سرکاری سکولوں کی بچیوں میں خود اعتمادی نہیں ہوتی جو بالکل غلط ہے۔ دور جدید میں اس طرح کے تصورات کو توڑنا بہت ضروری ہے۔ اس حوالے سے سرکاری سکولوں کی بچیوں نے خود سوشل میڈا ریلز بنائیں اور بتایا کہ وہ کسی سے کم نہیں ہیں۔ ہم اس پراجیکٹ کے ذریعے سرکاری سکولوں کی طالبات کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ہم انہیں پالیسی ڈائیلاگ کے کیلئے پنجاب اسمبلی بھی لے کر گئے اور وہاں ان کی تجاویز اور آراء سن کر حیرانی ہوئی کہ وہ بچیاں باشعور ہیں، اپنی رائے رکھتی ہیں جو زمینی حقائق اور ان کے تجربے اور مسائل کے حوالے سے ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے تعلیم کو کلاس روم تک محدود کر دیا جس سے ٹیلنٹ ضائع ہو جاتا ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام میں کتاب اور رٹہ پر توجہ دی جاتی ہے، جدید تقاضوں پر عمل نہیں کیا جاتا۔ ہم نے طالبات کا ٹیلنٹ دنیا کے سامنے لانے کیلئے گرلز ایجوکیشن فیسٹیول کروایا۔اس فیسٹیول میں پنجاب بھر سے طالبات نے مختلف مقابلوں میں اتنا شاندار ٹیلنٹ دیکھایا کہ مقابلوں کے ججز کیلئے فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا۔ سرکاری سکولوں کی بچیوں میں بہت پوٹینشل موجود ہے،اگر انہیں آگے بڑھنے کیلئے سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو وہ بہت آگے جاسکتی ہیں۔ بدقسمتی سے یہاں عملی طور پر جدید طریقے استعمال نہیں کیے جاتے، عصر حاضر میں سوشل میڈیا کا کردار بہت اہم ہے، اگر اس کا مثبت استعمال کیا جائے تو بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز ہیں جن میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ٹک ٹاک ہے۔ پاکستان میں 25 ملین سے زائد ٹک ٹاک صارفین ہیں لیکن وہاں تعلیم کے حوالے سے مواد بہت کم ہے، ہمیں اس پر کام کرنا چاہیے تاکہ دیہی علاقوں کے لوگوں کو بھی شعور اور آگاہی مل سکے، خصوصاََ لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے آگاہی اورذہن سازی کیلئے سوشل میڈیا کو استعمال کیا جائے۔ ڈیجیٹل میڈیا وقت کی ضرورت ہے، یہ طلبہ اور اساتذہ دونوں کیلئے ہی اہم ہے لہٰذا ٹیچرز کی سوشل میڈیا ٹریننگ لازمی کروائی جائے۔ n
Today News
قرضوں، ٹیکسوں کا بوجھ، پاکستانی معیشت شدید دباؤ کا شکار
پاکستان کی معیشت ایک بار پھر شدید دباؤ کا شکار ہے، جہاں بڑھتے ہوئے قرضوں اور ٹیکسوں کا بوجھ اقتصادی سرگرمیوں کو سست کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ملک کی مسلسل مالی بے ضابطگیاں اسے بار بار عالمی مالیاتی اداروں، خصوصاً آئی ایم ایف کے پاس جانے پر مجبورکردیتی ہیں، جہاں وقتی ریلیف تو ملتا ہے، بنیادی مسائل جوں کے توں ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں پاکستان کا مجموعی سرکاری قرضہ جی ڈی پی کے 70 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ مالی خسارہ 6 فیصد کی بلند سطح پر ہے، جو تقریباً مکمل طور پر سودی ادائیگیوں پر مشتمل ہے۔
صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ خالص سودی ادائیگیاں حکومتی ٹیکس آمدن سے بھی تجاوز کر گئی ہیں، جس سے ماہرین ایک ممکنہ مالیاتی بحران کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس آمدن بڑھانے کے دو ہی ذرائع ہیں، ٹیکس اور قرضہ، تاہم پاکستان ٹیکس وصولیوں میں مسلسل ناکام رہا ہے، جبکہ قرض لینے میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث ملک قرضوں کے جال میں پھنستا چلا گیا ہے۔
بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کا حجم نئی بیرونی فنانسنگ سے زیادہ ہو چکا ہے، جو تشویشناک امر ہے، گزشتہ دو بجٹ میں ٹیکسوں میں اضافے نے کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے، صنعتیں بند ہو رہی ہیں، غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی آ رہی ہے اور ہنر مند افراد بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ٹیکس پالیسی ایسی ہونا چاہیے جو کام اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے، نہ کہ انہیں دبا دے، تجاویز میں سادہ اورکم شرح والے ٹیکس نظام، وسیع ٹیکس بنیاد، غیرضروری چھوٹ اور استثنیٰ کے خاتمے، آزادتجارت کے فروغ، سرکاری اخراجات میں کمی، مستحکم مالیاتی پالیسی اور نجکاری شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق ریاستی ادارے قومی خزانے پر بوجھ بن چکے ہیں اور انہیں شفاف طریقے سے نجی شعبے کے حوالے کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پائیدار اور تیزرفتار معاشی ترقی ہی واحد حل ہے، جس کیلیے مقامی سطح پر تیارکردہ اصلاحات ناگزیر ہیں، ان کے مطابق بیرونی سہاروں پر انحصار کے بجائے اصلاحات کے ذریعے ہی ملک کو معاشی بحالی کی راہ پرگامزن کیا جا سکتا ہے۔
Today News
نظام شمسی – ایکسپریس اردو
نظام شمسی کے چار سیارے چٹانوں سے بنے ہوئے ہیں ۔ اُن کے سائز چھوٹے ہیں لیکن اُن کی سطح سخت ہے ۔ اگر نظام شمسی کی بیرونی سائیڈ پر چلے جائیں تو یہاں پر جو سیارے نظر آئیں گے وہ گیسز سے بنے ہوئے ہیں اور بڑے بڑے سائز کے ہیں ۔ سب کے گرد رنگز ہیں ۔
ان کے چاند بہت کم ہیں ۔ اور ان کا سورج سے فاصلہ بہت زیادہ ہے ۔ ہمارا سورج 4.5 بلین سال پہلے جب پیدا ہوا تو اس وقت سورج کی حرارت اتنی زیادہ تھی کہ تمام چیزیں گیسوں کی شکل اختیار کر گئیں، سورج بنا تو اس کے گرد درجہ حرارت بہت زیادہ تھا ۔ میٹلز سب سے پہلے لیکوڈ فارم میں آئے اس طرح دوسرے سیاروں کی شکل میں بھی آنا شروع ہو گئے ۔ یہ سارے سیارے میٹلز اور ڈسٹ کی شکل میں وجود میں آئے ۔
اگر ان چٹانوں کو دیکھا جائے تو پہلے دو سیارے مرکری اور وینس سورج کے بہت قریب ہیں ۔ اس لیے ان کا ٹمپریچر بہت زیادہ ہے ۔لیکن زمین کے ساتھ ایک اور سیارے مریخ پر بھی پانی پایا جاتا ہے ۔ یہ جگہ انسان کے لیے بہت موزوں ہے ۔ جب کہ وینس اور مرکری میں پانی اسٹیم کی شکل میں پایا جاتا ہے ۔ لیکن سورج کا ایریا آہستہ آہستہ جب پھیلے گا تو گولڈن کور آہستہ آہستہ دور ہوجائے گا۔ یہاں تک کہ ایک وقت میں زمین کا پانی بھی بھاپ بن جائے گا۔
جب یہ سارے سیارے معرض وجود میں آرہے تھے تو اس وقت ابتداء میں ہماری کائنات بہت زیادہ تباہی کا شکار تھی اور چیزیں ایک دوسرے سے ٹکر ا رہی تھیں اور اس کی وجہ ہمیں چاند سے معلوم ہوتی ہے ۔ جب اپالو مشن چاند پر گیا اور وہاں سے 380کلو گرام راک اٹھا کر لایا تو چاند کے کئی چٹانی حصے ایسے تھے جو زمین کی چٹانوں جیسے تھے ۔سائنسدانوں نے اس پہلو پر بہت زیادہ غور کیا تو اس نتیجے پر پہنچے ۔سورج جب وجود میں آیا تھا تو ابتداء میں اس کے گرد بیس سیارے چکر لگا رہے تھے ان میں ایک سیارہ جو مریخ جتنا تھا اور اس کا نام ہے تھیا وہ زمین سے آکر ٹکرایا تو بہت تباہی ہوئی۔ چٹانیں آہستہ آہستہ جو زمین اور سیارے سے نکلی تھیں وہ زمین کے گرد چکر لگانا شروع ہو گئیں اور اکٹھی بھی ہوتی چلی گئیں ۔
اس طرح سے چاند معرض وجود میں آیا ۔ آج ہم ان ساری چٹانوں کو چاند کی شکل میں دیکھتے ہیں اور یہ نظریہ غلط ثابت ہوا کہ چاند ابتداء ہی سے وجود میں آگیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ چاند سورج بننے کے کچھ عرصہ بعد وجود میں آیا جب دوسیارے آپس میں ٹکرائے ۔ ایسٹرائیڈ بھی نظام شمسی میں پائے جاتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد دس ہزار اور لمبائی ایک میل ہے ۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایسٹرائیڈ ہمارے بہت قریب ہیں جب کہ یہ ہم سے دس لاکھ میل دور واقع ہیں ۔
نظام شمسی کی بیرونی سائیڈ پر جائیں گے تو وہاں پانی مائع شکل میں نہیں ملے گا بلکہ آئسی شکل میں ملے گا۔ ٹمپریچر یہاں پر بہت کم ہے ۔ یعنی مائنس 70سینٹی گریڈ ہے ۔ یہ وہ ٹمپریچر ہے جس میں گیسز ہائیڈروجن میتھین اور ایمونیا کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ جب ان گیسز کا سائز زمین سے 10گنا بڑھ جاتا ہے تو اس کا ایک اثر ہوتا ہے جسے سونا بال اثر کہتے ہیں ۔ یہاں پر جیوپیٹر اور Saturnموجود ہیں جن کے سائز بھی بہت بڑے ہیں ۔ جیو پیٹر 90فیصد گیسز سے بنا ہوا ہے ۔ لیکن اس کا ہمیں فائدہ بھی بہت ہے کیونکہ یہ زمین کے لیے بڑے بھائی کا کردار ادا کرتا ہے ۔یعنی جب بھی زمین کی طرف کوئی ایسٹرائڈ اور کومٹ آنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ سب سے پہلے اس کے سامنے دیوار بن کر کھڑا ہوجاتا ہے اور اس طرح سے زمین اوراس کے باسی محفوظ رہتے ہیں ۔ چنانچہ جیوپیٹر سیارہ ہمیں باہر کے خطرات سے محفوظ رکھتا ہے ۔
Saturn کے رنگز بہت زیادہ مشہور ہیں ۔ اگر Saturnذراسا بھی بڑا ہوتا یعنی جیوپیٹر کے سائز کا تو پھر یہ دونوں دیو مل کر باقی تمام سیاروں کو کھا جاتے اس لیے اس کا سائز جیو پیٹر سے چھوٹا ہونا نظام شمسی کی بقاء اور زمین پر انسانی حیات کا باعث ہے ۔ جب ہم سورج سے چالیس بلین میل فاصلے پر جاتے ہیں تو ہم کو ایک ایسی بیلٹ ملتی ہے جس کو کوپر بیلٹ کہا جاتا ہے ۔ اس میں بہت سے اسٹرائڈ موجود ہوتے ہیں اور یہ ہمارے سولر سسٹم کی بیرونی باؤنڈری بناتے ہیں اگر اس سے ہم آگے جائیں تو اوٹ کلاؤڈ ہے جس نے ہر طرف سے ہمارے نظام شمسی کو کور کیا ہوا ہے جس طرح مثال کے طور پر چھلکے نے کینو کو کور کیا ہوتا ہے ۔ یہاں تک پہنچنے کے لیے ہمیں ایک نوری سال کا سفر کرنا پڑے گا اور یہ ہے ہمارے نظام شمسی کی آخری حد ۔اس کے بعد ہمارے سولر سسٹم کا باقاعدہ اختتام ہو جاتا ہے ۔
کائنات کا آخری سچ جاننے کے لیے نہ جانے انسان کو کتنے نوری سال کا انتظار کرنا پڑے گا ۔ جب کہ تازہ ترین ریسرچ کے مطابق کائنات ایک نہیں ایک سے زیادہ ہیں۔
Today News
کمزور ٹیموں کیخلاف بریڈ مین مگر؟
اگر میچ سے چند گھنٹے قبل تیز بارش ہو چکی اور آغاز کے بعد بھی امکان ہو تو آپ ٹاس جیت کر پہلے کیا کریں گے؟
اگر آپ کا کوئی بولر حریف ٹیم کے اعصاب پر سوار ہو تو آپ اسے جلد بولنگ دیں گے یا آدھی اننگز ختم ہونے کا انتظار کریں گے؟
اگر آپ کا اہم ترین فاسٹ بولر آؤٹ آف فارم ہو اور دوسرے بولر کو پہلے ہی اوور میں وکٹ مل جائے تو اہم پیسر کو دوسرا اوور دیں گے یا مومینٹم برقرار رکھنے کیلیے اسپنر کو لائیں گے؟
پہلے اوور میں اسٹار بولر نے زیادہ رنز دے دیے اب آخری اوور اسے دیں گے یا کسی اور کو گیند تھمائیں گے؟
آپ اپنے سب سے بڑے بیٹر کی خامیاں میڈیا کے سامنے بیان کریں گے یا ڈریسنگ روم میں بات ہو گی؟
ایک سینئر بیٹر جس کا بڑا نام ہے آپ اسے مسلسل باہر بٹھائیں گے یا کھلائیں گے؟
اگر آپ میں تھوڑی سی بھی کرکٹ کی سمجھ ہے تو ان سوالات کے جواب مشکل نہیں لگیں گے، ظاہر ہے آپ کو اس کے پیسے بھی نہیں مل رہے لیکن اگر کوئی کروڑوں روپے معاوضہ لینے کے باوجود الٹ فیصلے کررہا ہے تو اس کو کیا کہیں؟
بدقسمتی سے ورلڈکپ میں اب تک ایسا ہی ہو رہا ہے، پاکستانی ٹیم مینجمنٹ نے ایسے عجیب وغریب فیصلے کیے جس پر لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جائیں، شاید وہ خود کو عقل کل اور دوسروں کو اپنے سامنے کچھ نہیں سمجھتے۔
اگر ہم دوسرے راؤنڈ میں پہنچے تو اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں، آئی سی سی کو دعائیں دیں، چونکہ پاکستان اور انڈیا میں میچ دیکھنے والے کروڑوں شائقین ہیں اس لیے مالی نقصان سے بچنے کیلیے دونوں ٹیموں کو ایسے گروپس میں رکھا جاتا ہے جہاں کمزور حریفوں کی موجودگی میں باآسانی دوسرے مرحلے میں پہنچ جائیں۔
ماضی میں جب دونوں سائیڈز آغاز میں ہی باہر ہو گئی تھیں تو کونسل کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا تھا، گوکہ انڈین ٹیم اب بہت آگے نکل گئی لیکن گرین شرٹس کے گروپ میں اگر آپ یوگینڈا، نیپال اور یو اے ای کو بھی رکھ دیں تب بھی کوئی جیت کی ضمانت نہیں دے سکتا۔
امریکا کا ورلڈکپ یاد کریں جہاں ہم نوآموز میزبان ٹیم سے ہی ہار گئے تھے، اس بار تو نیدرلینڈز سے پہلے ہی مقابلے میں تقریبا شکست ہو ہی گئی تھی وہ تو فہیم اشرف نے غیرمعمولی بیٹنگ کر کے لاج رکھ لی،امریکا اور پھر نمیبیا کو ہرا کر ٹیم سپر8 میں تو پہنچ گئی۔
لیکن انڈیا سے ناکامی بھلائی نہیں جا سکتی، اب نیوزی لینڈ سے مقابلہ بارش کی نذر ہو گیا تو سیمی فائنل میں رسائی کا سفر بیحد دشوار بن چکا۔
انگلینڈ نے گوکہ بہترین بولنگ کی بدولت سری لنکا کو تو زیر کر لیا لیکن اس کی بیٹنگ لائن فلاپ ہے، یہاں بھی قسمت ہمارا ساتھ دے سکتی ہے، انہی دونوں ٹیموں کو اگلے میچز میں ہرا دیا تو فائنل فور میں جگہ مل جائے گی۔
البتہ پھر اگلے دونوں مقابلے مضبوط ترین حریفوں سے ہوں گے، اگر ہم اب تک کی کارکردگی کی جائزہ لیں تو اسے کسی صورت بہترین قرار نہیں دیا جا سکتا ، یہاں تک لانے میں بھی اہم ترین کردار صاحبزادہ فرحان کا ہے جنھوں نے نمیبیا کیخلاف سنچری بھی بنائی،اس سے پہلے وہ 50،60 رنز کو ہی کافی سمجھ کر آؤٹ ہو جاتے تھے لیکن اب اننگز کو آگے بڑھانے میں کامیاب رہے ہیں۔
دوسرے اوپنر صائم ایوب کو ہم نے بہت جلدی آسمان پر چڑھا دیا،بظاہر وہ نمبر ون آل راؤنڈر ہیں لیکن کارکردگی کسی صورت اس کی عکاسی نہیں کرتی، ان کا اصل کام بیٹنگ ہے لیکن5 میچز میں 15 کی اوسط سے 63 رنز ہی بنا سکے ہیں۔
آج کل کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں تو کسی ٹیل اینڈر کے اعدادوشمار بھی اس سے بہتر ہوں گے،جتنے مواقع صائم کو ملے شاید ہی چند برسوں میں کسی اور کو ملے ہوں لیکن وہ پھر بھی اپنی کارکردگی میں تسلسل نہ لا سکے اور ’’نولک شاٹ‘‘ کے سحر میں ہی پھنسے رہے۔
پاکستان میں کپتان بننے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ من مانیوں کا موقع مل جاتا ہے، ٹی ٹوئنٹی میں نمبر 3 اہم ترین پوزیشن ہوتی ہے، سلمان علی آغا نے اس پر قبضہ کر لیا لیکن ورلڈکپ کے 5 میچز میں 13 کی اوسط سے55 رنز ہی بنا سکے ہیں، بطور کپتان بھی ان کے فیصلے درست نہیں لگ رہے۔
بابر اعظم کو ورلڈکپ اسکواڈ میں شامل کرنے کی ہم سب نے حمایت کی تھی لیکن وہ مایوس کر رہے ہیں، اب تک صرف 66 رنز ہی ان کے نام پر درج ہیں.
چوتھے نمبر پر کھیلنے سے وہ مطمئن نہیں لگتے لیکن آغاز میں بیٹنگ کرانا پاور پلے کے اوورزضائع کرنے کا سبب بنے گا، اگر بقیہ میچز میں بابر کچھ نہ کر سکے تو انھیں اپنے مستقبل کے حوالے سے کوئی فیصلہ کر لینا چاہیے۔
عثمان خان اس ٹیم کی سب سے کمزور کڑی ہیں، انڈیا کیخلاف جب میچ ہاتھ سے نکل گیا تو انھوں نے تھوڑے رنز بنا لیے لیکن مجموعی طور پر مسلسل ناکام ہیں۔
انھوں نے یو اے ای کی کرکٹ کو چھوڑنے کا جو ’’احسان ‘‘ کیا اب تک اس کا پھل کھا رہے ہیں، کئی بیٹرز کمزور ٹیموں کے خلاف تو بریڈمین لگتے ہیں لیکن بڑے حریفوں کے سامنے کچھ نہیں کر پاتے۔
شاداب جیسے پلیئرز پر سابق کرکٹرز تنقید کریں تو وہ برا مان کر جواب دے دیتے ہیں، حالانکہ ان کے پاس تو بیٹ اور بال موجود ہے، زبان کے بجائے اس سے اچھا پرفارم کر کے جواب دیں، آپ سوچیں کہ اس بیٹنگ لائن کے ساتھ ہم انڈیا کو ہرانے کا خواب دیکھ رہے تھے؟
فخر زمان کو ساتھ لے کر تو گئے ہیں مگر کھلایا نہیں جا رہا، بولنگ میں ہمارے اہم ترین پیسر شاہین آفریدی آؤٹ آف فارم ہیں، فہیم اشرف پر تو ٹیم مینجمنٹ کو ہی بھروسہ نہیں لہذا بہت کم گیند تھمائی جاتی ہے، محمد نواز اور ابرار احمد کی اسپن بولنگ کا جادو بھی نہیں چل پا رہا۔
البتہ عثمان طارق کے حوالے سے جتنی ہائپ بنی تھی وہ ویسا پرفارم کرنے میں کامیاب بھی رہے ہیں، اگر انڈیا کیخلاف ان کا درست وقت پراستعمال کیا جاتا تو شاید وکٹیں اڑا دیتے، سلمان کی قیادت اور مائیک ہیسن کی کوچنگ پر سوال اٹھنے لگے ہیں، دونوں نے کئی بنیادی غلطیاں کی ہیں۔
اب وقت کم ہے، انگلینڈ اور سری لنکا کو کسی صورت آسان نہیں سمجھا جا سکتا، پیش قدمی جاری رہی تو آگے مزید مضبوط حریف ملیں گے، لہذا ٹیم کو کمر کس لینی چاہیے، جس طرح کھلاڑی پی ایس ایل کی نیلامی میں اپنے ریٹ کی فکرمیں ہلکان ہوئے جا رہے تھے کاش کارکردگی کے حوالے سے بھی کچھ فکر کر لیں۔
ابھی تک تو ٹیم نے مایوس ہی کیا ، اب دعا کی جا سکتی ہے کہ بقیہ میچز میں کچھ بہتر پرفارمنس سامنے آئے ورنہ پی ایس ایل سے ہی دل بہلا لیں گے جس کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ اس میں پاکستانی ٹیم نہیں ہارتی لہذا کوئی ٹینشن نہیں ہوتی۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment1 week ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Tech6 days ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Business2 weeks ago
Pre-Ramazan hikes in essential commodities’ prices pinching consumers
-
Tech2 weeks ago
5 Satellite Internet Firms Are Ready, But Pakistan’s Regulators Are Not