Today News
گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں 5.3 شدت کا زلزلہ
گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں 5.3 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق زلزلے کے جھٹکے گلگت، اسکردو، پتن، بالاکوٹ اور قرب و جوار میں محسوس کیے گئے۔
ریکٹر اسکیل پر زلزلے کے جھٹکوں کی شدت 5.3 جبکہ زیر زمین گہرائی 12 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی۔
زلزلے کا مرکز شمال مغربی کشمیر، گلگت بلتستان سے 84 کلومیٹر شمال مشرق میں تھا تاہم زلزلے کے باعث کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
Source link
Today News
پاکستان کی ثالثی کی کوششیں
مشرق وسطیٰ کے حوالے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے یہ ایک نازک اور حساس مرحلہ ہے۔ ایک طرف پاکستان کے ایران کے ساتھ قریبی جغرافیائی‘تجارتی اور ثقافتی تعلقات ہیں، جب کہ دوسری طرف امریکا کے ساتھ تجارتی اور اسٹریٹیجک تعلقات بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
پاکستان میں ان دونوں پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے اب تک اپنی خارجہ پالیسی کو انتہائی متوازن انداز میں آگے بڑھایا ہے۔موجودہ حالات میں کیونکہ جنگ کا ماحول ہے لہٰذا اس توازن کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان کو نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ ایوانِ صدر میں ہونے والا اعلیٰ سطح اجلاس اسی تناظر میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ سیاسی اور عسکری قیادت کا ایک میز پر بیٹھ کر اس صورتحال کا جائزہ لینا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اس بحران کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ اس اجلاس میں نہ صرف موجودہ صورتحال کا تجزیہ کیا جائے گا بلکہ مستقبل کے لیے حکمت عملی بھی طے کی جائے گی۔
دوسری جانب واشنگٹن سے آنے والے حالیہ بیانات نے ایک بار پھر عالمی سیاست کے اس پیچیدہ اور حساس چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے جہاں الفاظ محض الفاظ نہیں ہوتے بلکہ طاقت، حکمت عملی اور مستقبل کے ممکنہ اقدامات کا پیش خیمہ ہوتے ہیں۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے تیل ذخائر پر قبضے اور اس کی اہم تنصیبات کو بآسانی اپنے کنٹرول میں لینے کے دعوے نے نہ صرف عالمی سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ جیسے پہلے ہی کشیدہ خطے میں ایک نئی بے چینی کو جنم دیا ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ ہورہی ہے،اس انتہائی اہم اور نازک مرحلے کے دوران کسی بھی غلط قدم کے نتیجے میں جنگ کا دائرہ پھیلنے کے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا بلکہ قیام امن کے لیے جو کوشیں ہو رہی ہیں ‘انھیں بھی نقصان پہنچنے کے اندیشہ ہو سکتا ہے کیونکہ ایران کی وہ قیادت جو جنگ بندی کے لیے تیار ہے‘ وہ بھی مشکل سے دوچار ہو جائے گی۔ آج امریکی صدر ایران کے تیل پر قبضے کی بات کرتے ہیں تو یہ محض ایک وقتی بیان نہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے جاری کشمکش کا تسلسل محسوس ہوتا ہے۔ ایران دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس کے توانائی کے ذخائر عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم ہیں۔
ایسے میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت یا قبضے کی کوشش نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک سنگین بحران کا باعث بن سکتی ہے۔ خارگ جزیرہ، جسے ایران کی تیل برآمدات کا اہم ترین مرکز سمجھا جاتا ہے، اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ اگر اس تنصیب کو نشانہ بنایا جاتا ہے یا اس پر قبضے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ ایران کے لیے ایک بڑا معاشی دھچکا ہوگا، مگر اس کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی کی سپلائی بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ، عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال اور توانائی کے بحران جیسے مسائل فوری طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔
یہ صورتحال ترقی پذیر ممالک کے لیے خاص طور پر تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔آبنائے ہرمز کی اہمیت بھی اس تناظر میں مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہ تنگ آبی گزرگاہ دنیا کے تقریباً ایک تہائی تیل کی ترسیل کا راستہ ہے۔ اگر یہاں کسی قسم کی کشیدگی یا فوجی کارروائی ہوتی ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔ امریکی صدر کی جانب سے اس خطے میں اپنی برتری کا دعویٰ اور ایران کی جانب سے دفاعی تیاریوں کے اشارے، دونوں مل کر ایک خطرناک صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔
دوسری جانب ایران کا ردعمل بھی کسی طور کم اہم نہیں۔ ایران نے نہ صرف امریکی بیانات کو مسترد کیا ہے بلکہ امریکا پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ اس طرح کے الزامات اور جوابی بیانات صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ جب دونوں فریق ایک دوسرے پر الزامات لگاتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ مذاکرات کی بات بھی کرتے ہیں تو یہ تضاد عالمی برادری کے لیے ایک الجھن پیدا کرتا ہے۔
کیا واقعی مذاکرات کی کوئی سنجیدہ کوشش ہو رہی ہے یا یہ محض وقت حاصل کرنے کی حکمت عملی ہے؟عالمی سطح پر اس صورتحال پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم کی جانب سے امریکی صدر سے جنگ کے مقاصد کے بارے میں وضاحت طلب کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حتیٰ کہ امریکا کے قریبی اتحادی بھی اس پالیسی سے مطمئن نہیں ہیں۔ یورپی ممالک بھی اس کشیدگی پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور وہ کسی بھی قسم کے فوجی تصادم سے بچنے کے خواہاں ہیں۔ چین اور روس جیسے ممالک بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور وہ خطے میں اپنی سفارتی اور اسٹریٹجک پوزیشن کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کا یہ بحران محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ اگر اس کشیدگی کو بروقت قابو نہ کیا گیا تو یہ ایک بڑے عالمی تصادم کی شکل اختیار کر سکتا ہے جس میں کئی طاقتیں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر شامل ہو سکتی ہیں۔معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس بحران کے اثرات انتہائی گہرے ہو سکتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف صنعتی ممالک بلکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی مشکلات پیدا کرے گا۔ مہنگائی میں اضافہ، کرنسی کی قدر میں کمی اور تجارتی خسارے میں اضافہ جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔ عالمی سرمایہ کاری بھی متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیتی ہے۔
اسی تناظر میں اسلام آباد میں ہونے والی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ پاکستان ایک بار پھر خطے میں امن کے قیام کے لیے فعال اور مؤثر کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش نہ صرف ایک اہم پیش رفت ہے بلکہ یہ پاکستان کی سفارتی اہمیت اور عالمی سطح پر اس کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے، پاکستان کا یہ اقدام ایک مثبت اور بروقت پیشکش کے طور پر سامنے آیا ہے۔
چار فریقی اجلاس میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم دنیا کے اہم ممالک خطے کی صورت حال پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ جاری جنگ نہ صرف انسانی المیے کو جنم دے رہی ہے بلکہ اس کے معاشی اثرات بھی پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ اس تناظر میں مسلم امہ کے اتحاد پر زور دینا ایک حقیقت پسندانہ اور ضروری مؤقف ہے۔ عالمی سطح پر توانائی کے شعبے میں بھی غیر یقینی صورتحال بڑھتی جا رہی ہے۔ روس کی جانب سے پیٹرول کی برآمدات پر عارضی پابندی نے عالمی منڈیوں میں مزید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اس فیصلے کے اثرات خاص طور پر چین، برازیل اور دیگر درآمدی ممالک پر مرتب ہوں گے، جب کہ پہلے سے جاری مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نے تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ توانائی کی یہ غیر مستحکم صورتحال ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک نئے معاشی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
ممکنہ مستقبل کے منظرناموں پر غور کیا جائے تو کئی امکانات سامنے آتے ہیں۔ ایک امکان یہ ہے کہ سفارتی کوششیں کامیاب ہو جائیں اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی آ جائے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ محدود پیمانے پر فوجی جھڑپیں ہوں جو بعد میں کسی سمجھوتے پر ختم ہو جائیں۔ تاہم سب سے خطرناک امکان ایک مکمل جنگ کا ہے جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ سفارتکاری، مکالمہ اور باہمی احترام ہی وہ راستے ہیں جو اس طرح کے تنازعات کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ موجودہ صورتحال ایک آزمائش ہے، نہ صرف امریکا اور ایران کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا عالمی قیادت اس بحران کو دانش مندی سے سنبھالتی ہے یا یہ ایک بڑے تصادم کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں بلکہ نئے مسائل کو جنم دیتی ہیں، اگر دنیا نے اس سبق کو نظر انداز کیا تو اس کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔
Today News
افغانستان، دہشت گردی اور عالمی ضمیر
تاریخ اقوام عالم شاہد ہے کہ جب کوئی ملک اپنی انتظامی اور سفارتی حکمت عملی کھو بیٹھتا ہے تو اس کا بین الاقوامی تشخص دنیا کے سامنے سوالیہ نشان بن کر رہ جاتا ہے۔اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ قرارداد 2818 محض ایک سفارتی دستاویز نہیں بلکہ عالمی ضمیر کی ایک بار پھر گونجتی ہوئی صدا ہے۔
ایک ایسی صدا جو تقریباً تین دہائیوں سے مسلسل دہرائی جا رہی ہے، مگر جس کا عملی اثر اب تک محدود ہی دکھائی دیتا ہے۔ 1999 میں منظور ہونے والی قرارداد 1267 سے لے کر آج تک، افغانستان کے حوالے سے بین الاقوامی تشویش کی نوعیت میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ کیا مسئلہ صرف جغرافیہ کا ہے، یا پھر حکمرانی، نظریات اور عالمی سیاست کے پیچیدہ امتزاج نے اس بحران کو مستقل شکل دے دی ہے؟
1999 کی قرارداد 1267 میں طالبان حکومت کو القاعدہ جیسے دہشت گرد نیٹ ورکس کو پناہ دینے پر واضح طور پر موردِ الزام ٹھہرایا گیا تھا۔ اس وقت عالمی برادری نے ایک متفقہ مؤقف اپنایا کہ افغان سرزمین کو بین الاقوامی دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ عزم کمزور پڑتا گیا، یا یوں کہیے کہ زمینی حقائق اس عزم کے برعکس ثابت ہوتے رہے۔ آج 2026 میں، قرارداد 2818 اسی خدشے کو نئے الفاظ میں دہرا رہی ہے کہ داعش خراسان، القاعدہ، ای ٹی آئی ایم، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروہ بدستور افغانستان کی سرزمین سے سرگرم ہیں۔
یہ تسلسل کسی ایک واقعے یا پالیسی کی ناکامی نہیں بلکہ ایک گہرے اور مستقل مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ افغانستان، اپنی جغرافیائی حیثیت، تاریخی تناظر اور سیاسی عدم استحکام کے باعث طویل عرصے سے عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز رہا ہے۔ مگر اس سے بھی زیادہ اہم عنصر وہاں کی داخلی حکمرانی کا بحران ہے۔ طالبان کی واپسی کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ وہ عالمی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ذمے دار ریاستی کردار ادا کریں گے، لیکن موجودہ صورتحال اس کے برعکس تصویر پیش کرتی ہے۔
سلامتی کونسل کی قرارداد 2818 دراصل اسی مایوسی کا اظہار ہے۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ افغانستان کو دہشت گردوں کے لیے پناہ گاہ، تربیت گاہ یا معاونت کے مرکز کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ مگر عملی طور پر صورتحال یہ ہے کہ مختلف عسکریت پسند گروہ نہ صرف اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہیں بلکہ بعض رپورٹس کے مطابق وہ اپنی آپریشنل صلاحیت بھی بڑھا رہے ہیں۔
یہ امر نہ صرف خطے کے ممالک کے لیے خطرہ ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا ہے۔مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ طالبان قیادت اس تمام تر صورتحال میں ذمے داری قبول کرنے کے بجائے ایک دفاعی اور بعض اوقات جارحانہ بیانیہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو بیرونی مداخلت یا جارحیت قرار دینا، اور ساتھ ہی شہری نقصانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا، ایک ایسی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کا مقصد اصل مسئلے سے توجہ ہٹانا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف بین الاقوامی اعتماد کو مجروح کرتا ہے بلکہ افغانستان کی داخلی صورتحال کو بھی مزید پیچیدہ بناتا ہے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو حکمرانی کا بھی ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ خواتین کی تعلیم، روزگار اور سماجی شرکت پر عائد پابندیاں نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ اس بات کا بھی اشارہ ہیں کہ طالبان حکومت اب بھی ایک جامع اور شمولیتی نظام قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ عالمی برادری کے لیے یہ عوامل طالبان کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں اور ان کے وعدوں پر شکوک و شبہات کو جنم دیتے ہیں۔
در حقیقت افغانستان کا مسئلہ محض دہشت گردی تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ جہت بحران ہے جس میں سیکیورٹی، حکمرانی، انسانی حقوق اور علاقائی سیاست سب شامل ہیں۔ قرارداد 2818 اس بات کا واضح پیغام دیتی ہے کہ دنیا اب بھی افغانستان کو ایک ممکنہ خطرے کے طور پر دیکھ رہی ہے نہ کہ ایک مستحکم اور ذمے دار ریاست کے طور پر، تاہم یہ تاثر تبدیل کیے بغیر نہ تو افغانستان عالمی برادری کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے اور نہ ہی خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے۔
اب یہاں سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ عالمی برادری کا کردار کیا ہونا چاہیے؟ کیا صرف قراردادیں منظور کرنا کافی ہے یا پھر ایک مؤثر اور مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے؟ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ محض بیانات اور پابندیاں مسئلے کا حل نہیں ہیں۔ اس کے لیے ایک جامع اپروچ درکار ہے جس میں سفارتی دباؤ، اقتصادی مراعات، اور علاقائی تعاون سب شامل ہوں۔ ساتھ ہی، افغانستان کے اندر ایک ایسا سیاسی اور سماجی ڈھانچہ تشکیل دینا بھی ضروری ہے جو تمام طبقات کی نمائندگی کرے اور شدت پسندی کے بیانیے کو کمزور کرے۔
پاکستان جیسے ہمسایہ ممالک کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر اہم ہے۔ سرحد پار دہشت گردی، مہاجرین کا مسئلہ، اور علاقائی استحکام جیسے عوامل براہِ راست پاکستان کی سلامتی اور معیشت کو متاثر کرتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کی پالیسیوں میں توازن، حقیقت پسندی اور دور اندیشی ناگزیر ہے۔ ایک طرف سیکیورٹی خدشات کا مؤثر جواب دینا ضروری ہے، تو دوسری طرف سفارتی سطح پر افغانستان کے ساتھ رابطے کو بھی برقرار رکھنا ہوگا۔
بالآخر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ قرارداد 2818 ایک بار پھر دنیا کو یہ یاد دلاتی ہے کہ افغانستان کا مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا۔ یہ ایک جاری بحران ہے، جو وقتاً فوقتاً نئی شکلوں میں سامنے آتا رہے گا اگر اس کے بنیادی اسباب کو دور نہ کیا گیا۔ طالبان حکومت کے لیے یہ ایک موقع بھی ہے اور ایک امتحان بھی،موقع اس لیے کہ وہ عالمی برادری کا اعتماد بحال کر سکتی ہے، اور امتحان اس لیے کہ اگر وہ اس بار بھی ناکام رہی تو افغانستان ایک بار پھر تنہائی، عدم استحکام اور بداعتمادی کے دائرے میں قید ہو جائے گا۔اب دنیا بدل چکی ہے، مگر افغانستان کے حوالے سے خدشات اب بھی وہی ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا اس بار بھی تاریخ خود کو دہرائے گی، یا پھر کوئی نیا راستہ تلاش کیا جائے گا؟
Today News
سونے کے انڈے دینے والی چڑیا
بائیں شائیں تو ہوتی رہیں گی یہ کشمیر یہ یک جہتی، یہ اسرائیل یہ امریکا بھی چلتے رہیں گے۔یہ بانی، یہ وژن، یہ سیاست ،یہ جمہوریت، یہ وزیر مشیر معاون اور ان کی پیاری خوشخبریاں بھی رہیں گی اور ان پر ہماری دانائی دانشوری کے طومار بھی ایسے چلتے رہیں گے۔
تم شہر میں ہوتے ہو تو کیا غم جب اٹھیں گے
لے آئیں گے بازار سے جاکر دل وجاں اور
آج چلیے تھوڑی بہت قصہ کہانی کرلیتے ہیں۔ ایک بڑی اچھی سی پیاری سی راج دلاری سی کہانی یاد آرہی ہے لیکن کہانی تو کہانی ہوتی ہے کہانی میں تاریخ یا مقام وغیرہ نہیں ڈھونڈے جاتے۔اس میں بادشاہ ہوتے ہیں شہزادے شہزادیاں ہوتی ہیں دیو پریاں بھی ہوتی ہیں، جادوگر اور ساحر بھی ہوتے ہیں لیکن مقامات اور زمانے نہیں ہوتے کہ یہ کب ہوا تھا کہاں ہوا تھا،مثلاً ایک زمانے سے ہم پرستان کی کہانیاں سنتے ہیں لیکن یہ کبھی کسی نے نہیں پوچھا کہ پرستان کہاں ہے، کس طرف ہے، وہاں کیسے آیا جاتا ہے، علی بابا کہاں تھا وہ چالیس چوروں کا غار کہاں تھا اور وہ اس کا کوڈ’’کھل جا سم سم‘‘ کیوں تھا اور اس میں یہ اتنی تاثیر اور حساسیت کیسے تھی۔پھر وہ چالیس چور کیا ہوا ان کا غار کیا ہوا، ٹھیک ہے بعض لوگ بعض کہانیوں میں پوچھ لیتے ہیں کہ گل نے صنوبر کے ساتھ کیا کیا تھا اور صنوبر نے گل کے ساتھ کیا کیا لیکن پھر بھی کہانی کہانی ہوتی ہے۔مطلب یہ کہ آپ کو آم کھانے سے غرض ہونا چاہیے پیڑ گننے سے نہیں۔کہانی سننے والوں کو یہ کہنے کی تو اجازت ہوتی ہے کہ’’پھرکیا ہوا‘‘ لیکن یہ اجازت ہر گز نہیں کہ کیوں ہوا،کیسے ہوا اور کہاں ہوا، کب ہوا کیسے یہ غصب ہوا۔
اب ہم جو کہانی سنانا چاہ رہے ہیں۔اس میں ایک تھی چڑیا۔اب یہ پوچھنا آپ کا کام نہیں کہ وہ چڑیا کہاں تھی۔تو ایک تھی چڑیا جو سونے کے انڈے دیتی تھی اب اگر سننے والا یہ پوچھنا شروع کردے۔کہ کیوں؟ آخر وہ سونے کے انڈے کیوں دیتی تھی کیا اس کے اندر سونے کی کان تھی یا کوئی سنار بیٹھا تھا جو سونے کے انڈے بناتا تھا۔یا یہ کہ وہ انڈے کتنے کتنے گرام یا تولے کے ہوتے تھے یا اس وقت بازار میں سونے کا بھاؤ کیا تھا۔بس اتنا آپ کے لیے کافی ہے کہ وہ جو چڑیا تھی وہ سونے کے انڈے دیتی تھی عام انڈے نہیں۔ظاہر ہے کہ جب وہ سونے کے انڈے دیتی تھی تو شکاری بھی اس کے پیچھے لگے ہوں گے جیسے لیلا کے پیچھے لگے ہوتے تھے اور اس بیچاری کو گانا چڑا تھا کہ
لیلیٰ میں لیلیٰ ایسی ہوں لیلیٰ
ہر کوئی چاہے مجھ سے ملنا اکیلا
تو بہت سے شکاری اس چڑیا کے پیچھے لگے ہوئے تھے اور چاہتے تھے کہ اس چڑیا کو پکڑ کر اپنے پنجرے والی مُنیا میں بندکردیں۔یعنی اسے قفس میں اسیر کرکے اس کے انڈے حاصل کریں۔لیکن ہر مدعی کے واسطے دارورسن کہاں۔
اب اپنے ہاں لیجیے کتنے ہیں جو اس ’’مینڈیٹ‘‘ نام کی چڑیا کو شکار کرنے نکلتے ہیں اور اسے پکڑنے اور اپنے پنجرے کا اسیر کرکے اس کے انڈوں کے املیٹ۔خاگینہ اور برمی کھانا چاہتے ہیں یا ٹوکریوں میں جمع کرکے بچنا چاہتے ہیں لیکن
ساقی سبھی کو ہے غم تشنہ لبی مگر
مے ہے اسی کی نام پہ جس کے اُبل پڑے
ہاں تو اس سونے کے انڈے دینے والی چڑیا کے بھی بہت سارے شکاری تھے لیکن بازی صرف ایک شکاری لے گیا کہ اس نے چڑیا کو شکار کرنے کی بجائے خود کو اس کا شکار بنایا یا ایسا پوز کیا ایک شکاری سب پر حاوی نکلا۔اس نے چڑیا اور اس کی ماں کو یقین دلایا کہ میں تو صرف چڑیا کی چہچہاہٹ کا عاشق ہوں اس کے انڈوں کا نہیں۔چڑیا بے شک اپنے ہی پنجرے میں رہے اور انڈے دیا کرے، میں اس کے انڈوں کی طرف دیکھوں گا بھی نہیں، صرف اس کے ساتھ اس کے پنجرے میں بیٹھا رہوں گا۔اسے دیکھتا رہوں گا اور پیاری پیاری میٹھی میٹھی سریلی چہچہاہٹ سنتا رہوں گا، بس
مرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سر اڑجائے
جلاد کو لیکن وہ کہے جائیں کہ ہاں اور
اس کا یہ پینترہ کامیاب ہوا اور اسے چڑیا کی قربت ہم نشینی ہم نفسی بلکہ ہم قفسی میسر آگئی، ایک شکاری سب پر حاوی ہوگیا۔لیکن یہ بات نہ چڑیا کو معلوم تھی نہ کسی اور کو بلکہ شکاریوں کو بھی نہیں جو اسے اپنے چند خاص نجومیوں سے حاصل ہوئی تھی کہ چڑیا صرف سونے کے انڈے نہیں دیتی بلکہ اس میں ایک اور گُن بھی ہے اور وہ یہ کہ اگر کوئی اس کا‘‘سر‘‘ کھائے تو وہ بادشاہ بنے گا۔اب چڑیا تو اس کے دسترس میں تھی لیکن اگر ایسے ہی پکڑکر ذبح کرتا اور اس کا سر بھون کر یا پکا کر کھاتا تو الزام اس پر آتا۔یعنی وہ ایسا کرنا چاہتا تھا کہ نہ سیخ جلے نہ کباب۔چنانچہ اس نے چند شکاریوں کو گانٹھ لیا اور ان کو یہ جھانسہ دیا کہ تم کو اس کے انڈے دے دوں گا۔
شکاری راضی ہوگئے ان میں بڑے گھاگ شکاری اور نہایت ہی ماہر نشانہ باز تھے، اس لیے انھوں نے بڑی دور سے کسی خفیہ مقام سے ایسا ٹھیک ٹھیک نشانہ لگاکر’’تیر‘‘مارا کہ مہا بھارت کے ارجن اور درون اچاریہ بھی حیران رہ گئے ہوں گے۔ ارجن مہابھارت کا ایک پانڈو تھا اور اسے اس کے استاد درون اچاریہ نے بلا کا ماہر تیرانداز بنایا تھا۔ بیچ میں یہ کہانی آگئی ہے تو اسے بھی سن لیجیے۔جب مشہور و معروف خاتون شہزادی درویدی کا سوئمبر ہورہا تھا تو اس سوئمبر کی شرط یہ تھی کہ نیچے تیل کی کڑاھی میں دیکھ کر اوپر ایک گھومتی ہوئی مچھلی کی آنکھ میں تیر مارا جائے اور ارجن نے یہ کردکھایا یہاں بھی۔ایسے ہی ایک ماہر تیرانداز نے سونے کی چڑیا کو تیرماردیا۔ہاہا کار مچی، بہت شور شرابا ہوا، بہت سارے ماہرین نے تیرانداز کو ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن تیرانداز کا پتہ نہیں چلا۔ یہاں وہاں کچھ زندہ مردہ لوگوں کے نام لیے گئے لیکن پتہ نہیں چلا۔چنانچہ چڑیا کے ہم نشین شکاری نے آنسو بہابہا کر نہایت دکھ کے ساتھ اس کا سربھون کرکھالیا۔اب اگر آگے بھی پوچھیں گے کہ پھر کیا ہوا۔تو آپ سے بڑا سٹوپڈ اور کوئی نہیں۔ وہی ہوا جو شکاری نے چاہا۔اور کیا؟
تلاش منزل جاناں تو اک بہانہ تھا
تمام عمر ’’میں‘‘اپنی طرف’’روانہ‘‘ تھا
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: BUILT FOR ACTION – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Emaan Fatima’s Latest Message after Reconciliation News
-
Entertainment2 weeks ago
Sana Faysal Replies To Saba Faisal’s Viral Statement
-
Sports2 weeks ago
Buttler ready to continue England career despite ‘poor’ T20 World Cup – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Rabeeca Khan’s Father’s Tips For Daughters Marriages
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Turning grief into purpose – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Films Releasing In Cinemas & TV On Eid Ul Fitr 2026
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The woman in the red dress – Newspaper