Today News
گل پلازہ میں لوگ ڈیڑھ دن تک زندہ رہے مدد کی آوازیں لگائیں مگر ہمیں اندر جانے نہیں دیا گیا، چھیپا ڈرائیورز
کراچی:
سانحہ گل پلازہ کے جوڈیشل کمیشن میں چھیپا کے رضا کاروں نے بیانات قلم بند کرادیے، ایک ڈرائیور نے انکشاف کیا ہے ایک سے ڈیڑھ دن تک لوگ زندہ تھے اور بچاؤ بچاؤ کی آوازیں لگارہے تھے مگر ہمیں اندر نہیں جانے دیا گیا، 26 میں سے صرف دو گیٹ کھلے ہوئے تھے، فائر بریگیڈ کے پاس پانی ختم ہوچکا تھا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق گل پلازہ آتشزدگی کے جوڈیشل کمیشن میں چھیپا ویلفیئر کے رضاکار سندھ ہائی کورٹ میں بیان قلم بند کروانے پہنچے۔
چھیپا رضاکار رئیس نے کہا کہ میں تقریباً پونے 11 بجے وہاں پہنچا تو آگ لگی ہوئی تھی، اس وقت پرائیویٹ لوگ بھی وہاں موجود تھے اور ہمارے لوگ بھی بڑی تعداد میں موجود تھے، اس وقت افراتفری کا ماحول تھا، میں ایم اے جناح روڈ سے گیا تھا مشکل ہوئی تھی لیکن میں پہنچ گیا تھا، پوری رات اس جگہ پر ہی موجود رہے تھے، جس بندے کو میں ایمبولینس میں لے کر گیا اس کی ہلاکت دھویں کی وجہ سے ہوئی، جب پہلے موقع پر پہنچا تو آگ کی شدت اتنی نہیں تھی جب دوبارہ گیا تو آگ کی شدت کافی زیادہ تھی۔
چھیپا رضاکار تنویر نے کہا کہ میں دوسرے دن گل پلازہ گیا تھا، میں نے ایک باڈی شفٹ کی تھی تھرڈ فلور سے جسے سول لے کر گیا تھا، لاش قابل شناخت نہیں تھی، مجھے علم نہیں اس کی ہلاکت کیسے ہوئی؟ کھڑکیوں میں گرل لگی ہوئی تھی جسے کاٹا اور اس میں سے لاش کو نکالا، سیکنڈ تھرڈ فلور پر کھڑکیوں میں گرل لگی ہوئی تھی، صبح کے وقت بھی تینوں فلورز پر آگ لگی ہوئی تھی۔
چھیپا رضاکار نثار محمد نے کہا کہ دوسرے دن صبح گیارہ بجے وہاں پہنچا تھا، دوسرے دن بھی تمام ادارے وہاں موجود تھے، جب آگ بجھ گئی تو اس کے بعد ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا تھا۔
چھیپا ڈرائیور رئیس نے کہا کہ جب میں گل پلازہ پہنچا تو آگ کی شدت زیادہ نہیں تھی، سب سے پہلے ایک شخص کو نکالا توبے ہوش تھا، فائر بریگیڈ اور فائر ٹینڈر موجود تھے، کتنے تھے یہ نہیں پتا، جب اسپتال سے واپس آیا تو آگ شدت اختیار کرچکی تھی، رش بڑھ چکا تھا، ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا تھا۔
چھیپا ایمبولینس ڈرائیور اظہر نے بیان میں کہا کہ رضا کار ہمیں ڈیڈ باڈیز نکال نکال کر دے رہے تھے اور ہم اسپتال منتقل کررہے تھے۔ کمیشن نے ان سے پوچھا کہ جب آپ پہنچے تو کیا دروازے کھلے ہوئے تھے؟ اس پر ڈرائیور نے کہا کہ ہمارے آنے سے پہلے بہت سا کام ہوچکا تھا۔
چھیپا ڈرائیور ایاز نے انکشاف کیا کہ ایک ڈیڑھ دن تک لوگ زندہ تھے چلا رہے تھے بچاؤ بچاؤ مگر ہمیں اندر نہیں جانے دیا گیا، میں نیا نیا بھرتی ہوا ہوں سب سے پہلے ہماری گاڑی پہنچی تھی، مرکز سے ہمیں دس بج کر پانچ منٹ کال آئی تھی کہ آگ لگی ہے اور میں 15 منٹ میں گل پلازہ پہنچ گیا تھا، ریمپ سے گاڑی اوپر لے گیا تھا دو گاڑیاں پہلے سے اوپر تھیں تیسری گاڑی میری تھی، اس وقت چاروں طرف آگ پھیل چکی تھی، فائر بریگیڈ ایک ہی پہنچی تھی اس کا بھی پانی ختم ہوگیا تھا اور دوسری گاڑی ایک گھنٹے بعد آئی تھی۔
ڈرائیور ایاز نے کہا کہ دھواں بہت تھا لوگ تیزی سے باہر نکل رہے تھے، ریسکیو والے ہمیں دھکے دے رہے تھے کہ ہٹ جاؤ تم بھی جل جاؤ گے، آنکھوں میں دھواں بھر جاتا تھا، کسی ریسکیو والوں نے کوئی ماسک نہیں دیا، رمپا پلازہ سے لوگوں کا آنا جانا ہورہا تھا
ایک گھنٹے بعد آگ کی شدت میں اضافہ ہوگیا، کھڑکیاں تو اب بھی لگی ہوئی تھیں ہمیں کھڑکیاں نہیں توڑنے دے رہے تھے، ریسکیو والوں نے کہا یہ ہمارا کام ہے۔
چھیپا ڈرائیور نے مزید کہا کہ فائر بریگیڈ کی ایک گاڑی تھی جس میں آٹھ سے دس افراد تھے، دوسری گاڑی ایک گھنٹے بعد آئی جب تک آگ پورے پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی، لوگ کھڑکیوں میں پھنسے ہوئے تھے ایک ڈیڑھ دن تک لوگ زندہ رہے مگر ہمیں اندر نہیں جانے دیا گیا، 26 میں سے صرف دو گیٹ کھلے ہوئے تھے، میں جب پہنچا صرف پہلی منزل پر آگ لگی ہوئی تھی اور فائر بریگیڈ آگ بھجارہی تھی، اسنارکل بارہ بجے کے بعد آیا تھا۔
Today News
ایران کا جوابی حملہ؛ خلیجِ فارس میں امریکی ٹینکر کو تباہ کردیا
ایران نے امریکا سے اپنے جنگی بحری جہاز کو تباہ حملہ کر کے غرق کرنے کا بدلہ لے لیا۔
ایران کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق ملکی بحریہ کے جنگی دستوں نے آج خلیجِ فارس کے شمالی حصے میں ایک امریکی ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاز کو خلیج فارس کے شمال میں ایک میزائل سے نشانہ بنایا گیا جس امریکی ٹینکر میں لگنے والی آگ اب بھی بھڑک رہی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی کہا کہ انھیں آبنائے ہرمز پر ’مکمل کنٹرول‘ حاصل ہے جو خلیجِ فارس کو بحرِ ہند سے ملاتی ہے۔
تاہم بی بی سی اس واقعے کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
برطانیہ کی یوکے میری ٹائم ٹریڈ آرگنائزیشن نے اس سے قبل کہا تھا کہ جمعرات کی صبح کویت کے ساحل کے قریب خلیجِ فارس کے شمالی حصے میں ایک ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا۔
یوکے میری ٹائم ٹریڈ آرگنائزیشن کے مطابق ’لنگر انداز ایک ٹینکر کے کپتان نے بتایا کہ انھوں نے جہاز کے بائیں جانب ایک زور دار دھماکا سنا جس کے بعد ایک چھوٹی کشتی وہاں سے دور جاتی ہوئی نظر آئی۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ پانی میں کارگو ٹینک سے تیل بہہ رہا ہے جس سے ماحول پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ نشانہ بنائے گئے جہاز میں پانی داخل ہو گیا ہے تاہم آگ لگنے کی کوئی اطلاع نہیں اور عملہ محفوظ اور خیریت سے ہے۔
تاحال امریکا کی جانب سے اس واقعے کی تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی۔ ایران کی جانب سے مزید تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔
Today News
PM Contact Malaysia and Indonesia contact iran situation
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور ایران پر اسرائیلی حملوں کے بعد کی صورت حال پر وزیراعظم کے عالمی رہنماؤں سے رابطے (Contact) جاری ہیں۔
وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نے جمعرات کے روز ملائیشیا اور انڈونیشیا کے سربراہان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔
اعلامیے کے مطابق وزیراعظم محمد شہبازشریف اور ملائیشین ہم منصب داتو سری انور ابراہیم کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں شہباز شریف نے ایران کے خلاف اسرائیل کے حملوں اور برادر خلیجی ممالک کے خلاف حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا۔
شہباز شریف انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون میں درج تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، دشمنی ختم کریں اور اپنے اختلافات کو سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے حل کریں۔
دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ امن کی بحالی اور معاملات کو معمول پر لانا انتہائی ضروری ہے لیکن یہ تمام فریقین کی جانب سے زیادہ سے زیادہ تحمل کے استعمال سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اس سلسلے میں دونوں رہنماؤں نے مل کر کام کرنے اور اپنے مؤقف کو مستقل بنیادوں پر مربوط کرنے پر اتفاق کیا۔
شہباز شریف نے وزیر اعظم انور ابراہیم کو افغانستان کے تناظر میں حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے خاص طور پر خطے اور اس سے باہر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کو دہشت گرد عناصر کے خلاف محفوظ بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں سے آگاہ کیا۔
دونوں رہنمائوں نے باہمی دلچسپی کے تمام امور پر قریبی روابط برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
بعد ازاں وزیراعظم اور انڈونیشیا کے صدر ابوو سوبیانتو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
وزیر اعظم نے ایران پر اسرائیل کے حملوں کے ساتھ ساتھ دوسرے برادر خلیجی ممالک پر بعد میں ہونے والے افسوسناک حملوں کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے انڈونیشیا کے صدر کو بحران کے تناظر میں تمام خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کی سفارتی رابطے کی کوششوں سے آگاہ کیا۔
دونوں رہنماؤں نے تمام فریقین پر زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دینے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا، جبکہ تمام معاملات کو تعمیری بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کے لیے مخلصانہ اور سنجیدہ اقدامات پر زور دیا۔
ٹیلی فون کال کے دوران وزیراعظم نے صدر پرابوو سوبیانتو کو افغانستان کے حوالے سے حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آنے والے دنوں میں قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
Today News
شادی سے متعلق وائرل انٹرویو پر علی رحمان خان کو پچھتاوا کیوں ہے؟
پاکستانی اداکار علی رحمان خان نے اعتراف کیا ہے کہ شادی سے متعلق ان کا ایک پرانا انٹرویو وائرل ہونے کے بعد انہیں افسوس محسوس ہوا۔
علی رحمان خان نے اپنے کیریئر کا آغاز تھیٹر سے کیا اور بعد ازاں فلموں اور ڈراموں میں بھی کام کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اداکاری کے ساتھ ساتھ وہ اقوامِ متحدہ میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
پاکستانی شوبز انڈسٹری کے نمایاں اور کنوارے اداکاروں میں شمار ہونے والے علی رحمان سے اکثر ان کی شادی کے منصوبوں کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، جس کا وہ کھل کر جواب دیتے رہے ہیں۔
حال ہی میں نجی چینل کے پروگرام میں علی رحمان نے اپنی شادی سے متعلق ایک وائرل انٹرویو پر بات کی۔ اس سے قبل اداکار نے کہا تھا کہ ان کے نزدیک شادی ایک خوبصورت رشتہ ہے اور وہ جیسے ہی اپنی سچی محبت سے ملیں گے، شادی کے لیے تیار ہیں۔
View this post on Instagram
اس بیان کے بعد مداحوں نے قیاس آرائیاں شروع کر دی تھیں کہ آیا وہ لڑکی ان کی قریبی دوست نصرت ہدایت اللہ تو نہیں، جن کے ساتھ ان کی تصاویر بھی متعدد بار سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے علی رحمان خان نے مسکراتے ہوئے کہا کہ کاش وہ انٹرویو انٹرنیٹ سے ڈیلیٹ ہوجائے۔ ان کے مطابق انہوں نے وہ بات ہلکے پھلکے انداز میں کہی تھی، مگر وہ غیر متوقع طور پر وائرل ہو گئی۔ اداکار نے وضاحت کی کہ وہ اس وقت خوشگوار موڈ میں تھے اور صرف اتنا کہا تھا کہ جب مناسب وقت آئے گا تو وہ شادی کر لیں گے۔
علی رحمان خان کی اس وضاحت کے بعد مداحوں کی دلچسپی ایک بار پھر ان کی نجی زندگی کی جانب بڑھ گئی ہے، تاہم اداکار نے واضح کیا ہے کہ وہ صحیح وقت اور صحیح انسان کے انتظار میں ہیں۔
Source link
-
Entertainment2 weeks ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Tech1 week ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Trouble in the streets of Kuala Lumpur
-
Tech2 weeks ago
Apple Set to Manufacture iPhones in Pakistan: Report
-
Tech2 weeks ago
New Details Confirm Samsung Galaxy S26 Ultra’s Powerful Upgrade