Today News
گورنر سندھ کی تبدیلی کے بعد ایم کیو ایم سربراہ کی صدر آصف زرداری سے ملاقات
صدر مملکت آصف علی زرداری اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے گورنر سندھ کی تبدیلی سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا اور تمام مسائل بات چیت کے ذریعے طے کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کو پی پی پی ذرائع نے بتایا کہ بلاول ہاؤس کراچی میں اہم غیر رسمی سیاسی بیٹھک ہو ئی جہاں صدر مملکت آصف علی زرداری سے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ملاقات کی، جس میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر بھی موجود تھے۔
ذرائع پی پی پی نے بتایا کہ ملاقات میں سیاسی صورت حال، ترقیاقی منصوبوں، پی پی پی اور ایم کیو ایم کے درمیان سیاسی تعلقات، گورنر سندھ کی تبدیلی اور دیگر امور پر غور کیا گیا اور تمام امور بات چیت سے طے کرنے پر اتفاق ہوا۔
مزید بتایا گیا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم پاکستان میں ورکنگ ریلشن شپ جاری رکھنے اور مزید ملاقاتوں پر اتفاق کیا گیا اور صوبے میں عوامی مسائل کے حل کے لیے مزید رابطے جاری رکھے جائیں گے۔
Source link
Today News
کفایت شعاری مہم، کس کی تنخوا سے کتنی کٹوتی ہوگی؟ نوٹی فکیشن جاری
وفاقی حکومت نے ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری پالیسی کے تحت مزید اقدامات نافذ کرتے ہوئے آئندہ دو ماہ کے لیے تمام سرکاری غیر ملکی دوروں پر مکمل پابندی عائد کردی۔
تفصیلات کے مطابق حکومت نے سرکاری کارپوریشنز، خودمختار اداروں، ریگولیٹری اتھارٹیز اور سرکاری ملکیتی اداروں کے اعلیٰ افسران کی تنخواہوں میں دو ماہ کے لیے کٹوتی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔
نوٹی فکیشن کے مطابق یہ رقم وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ 2026 میں جمع کرائی جائے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر اعظم نے کابینہ ڈویژن کی 9 اور 10 مارچ 2026 کی جاری کردہ ہدایات کے تسلسل میں مانیٹرنگ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں نئے اقدامات کی منظوری دی ہے۔
ان اقدامات کے تحت سرکاری کارپوریشنز، خودمختار اداروں، ریگولیٹری اتھارٹیز اور سرکاری ملکیتی اداروں کے اعلیٰ افسران کی تنخواہوں میں دو ماہ کے لیے کٹوتی کی جائے گی اور یہ رقم وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ 2026 میں جمع کرائی جائے گی۔
کتنی تنخواہ پر کتنی کٹوتی ہوگی؟
نوٹیفکیشن کے مطابق تین لاکھ سے دس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے افسران کی تنخواہ سے 5 فیصد، دس لاکھ سے بیس لاکھ روپے تنخواہ والوں سے 15 فیصد، بیس لاکھ سے تیس لاکھ روپے تنخواہ والوں سے 25 فیصد جبکہ تیس لاکھ روپے سے زائد تنخواہ لینے والوں سے 30 فیصد کٹوتی دو ماہ تک کی جائے گی۔
اسی طرح سرکاری نامزد افراد کو سرکاری و نجی کمپنیوں کے بورڈ اجلاسوں میں ملنے والی 100 فیصد فیس بھی آئندہ دو ماہ کے لیے وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ 2026 میں جمع کرائی جائے گی۔
وزارت خارجہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ 23 مارچ 2026 کو بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں میں تقریبات کے بجائے سادہ پرچم کشائی کی جائے گی، علاوہ ازیں بیرون ملک مشنز کے بجٹ میں بھی چوتھی سہہ ماہی کے لیے 20 فیصد کمی اور افسران کی دو روزہ تنخواہ کی کٹوتی لاگو ہوگی۔
نوٹی فکیشن کے مطابق کرایوں، تعلیمی اخراجات اور طبی سہولیات سے متعلق ادائیگیاں جاری رہیں گی۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور ریونیو ڈویژن پر ورک فرام ہوم اور چار روزہ ورک ویک کی پابندیاں لاگو نہیں ہوں گی تاکہ محصولات کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
اسی طرح کسٹمز انفورسمنٹ اور ان لینڈ ریونیو انفورسمنٹ نیٹ ورک کے آپریشنل گاڑیوں پر ایندھن میں کمی اور گاڑیوں کو بند رکھنے کی پابندی لاگو نہیں ہوگی تاہم مجموعی طور پر ایندھن کی بچت کے اہداف پورے کیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سول آرمڈ فورسز کو بھی سکیورٹی ضروریات کے باعث ورک فرام ہوم اور چار روزہ ورک ویک سے استثنیٰ دیا گیا ہے تاہم وہ شعبے جو براہ راست فیلڈ آپریشنز میں شامل نہیں ہیں ان پر ایندھن میں پچاس فیصد کمی اور ساٹھ فیصد سرکاری گاڑیوں کو بند رکھنے کی پابندی لاگو ہوگی۔
حکومت نے آئندہ دو ماہ کے لیے تمام سرکاری غیر ملکی دوروں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے البتہ ایسے تربیتی پروگرام جو مکمل طور پر بین الاقوامی اداروں کے فنڈ سے ہوں اور جن کے لیے باقاعدہ انتخابی عمل مکمل ہو چکا ہو، انہیں اس پابندی سے استثنی حاصل ہوگا۔
مزید برآں سرکاری گاڑیوں کے استعمال کو صرف سرکاری امور تک محدود کرنے، حساس شخصیات کے سکیورٹی قافلوں کو محدود کرنے اور اجلاسوں کے لیے زیادہ سے زیادہ ویڈیو لنک اور ٹیلی کانفرنسنگ استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے ان اقدامات پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے تمام وفاقی و صوبائی اداروں کو ہفتہ وار رپورٹ ایک ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے جمع کرانے کی ہدایت کی جبکہ انٹیلی جنس بیورو ایندھن میں کمی اور سرکاری گاڑیوں کی بندش کے اقدامات کا آڈٹ کرکے وزیر اعظم کو ہفتہ وار رپورٹ پیش کرے گا۔
اس کے علاوہ کفایت شعاری اقدامات سے حاصل ہونے والی بچت کو وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ 2026 میں منتقل کرنے کے لیے وفاق اور صوبوں کے مالیاتی سیکریٹریز پر مشتمل ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو آئندہ اجلاس میں اپنی سفارشات پیش کرے گی۔
Source link
Today News
لاہور کے ایک گھر میں سحری کے وقت 19 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی ڈکیتی
لاہور کے علاقے ڈیفنس میں 19 کروڑ سے زائد مالیت کی ڈکیتی کی واردات ہوئی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈیفنس اے میں بڑی ڈکیتی کی واردات ہوئی جس میں مسلح افراد 19 کروڑ سے زائد مالیت کا سونا، نقدی اور قیمتی سامان لوٹ لیا گیا۔
پولیس کے مطابق لاہور کے علاقے ڈیفنس اے میں ڈکیتی کی بڑی واردات پیش آئی ہے۔ جس کے بعد متاثرہ شہری عامر سعید کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق واردات اس وقت ہوئی جب گھر کے مکین سحری کر کے گھر واپس آئے، گاڑی میں سوار چار ملزمان موقع دیکھ کر گھر کے اندر داخل ہو گئے۔
ایف آئی آر کے مطابق اہل خانہ کو ٹی وی لاؤنج میں یرغمال بنایا اور مسلح افراد 200 تولے سونا، ایک کروڑ 25 لاکھ روپے مالیت کے ڈائمنڈ جیولری، تقریباً 10 کروڑ روپے مالیت کا قیمتی سامان لوٹ لیا۔
ایف آئی آر کے مطابق گھر کی دوسری منزل سے 3 کروڑ روپے مالیت کا سونا، غیر ملکی کرنسی بھی لوٹ لیا، ملزمان صبح 4 بج کر 22 منٹ پر گھر میں داخل ہوئے۔
پولیس نے مقدمہ اندراج کے بعد واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی۔
Today News
امریکا ویتنام کی طرح ایران میں پھنس سکتا ہے، سابق سیکریٹری خارجہ
سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے پاس اب بھی وقت ہے کہ جیت کا اعلان کرکے جنگ ختم کرے تاکہ بچت ہو ورنہ امریکا ویتنام کی طرح ایران میں پھنس سکتا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام ‘سینٹر اسٹیج’ میں گفتگو کرتے ہوئے سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا کہ امریکا کو تشویش ہے کہ ایران میں حکومت تبدیل کیوں نہیں ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ جب دونوں طرفین ڈٹے ہوں تو پھر سفارت کاری کام نہیں آتی، سفارت کاری اس وقت کامیاب ہو گی جب ایک فریق کمزور ہو۔
اعزاز چوہدری نے کہا کہ امریکا کو اس جنگ کا مقصد ہی واضح نہیں تھا، امریکی جنگ کے مختلف مقاصد بیانات کرتے رہے، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ امریکا کی نہیں بلکہ اسرائیل کی جنگ ہے۔
سابق سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ امریکا کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ جیت کا اعلان کر کے جنگ ختم کرے، اس صورت میں ہی فیس سیونگ رہ جائے گی۔
امریکا، اسرائیل اور ایران جنگ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ ویتنام جیسی صورت حال اختیار کر سکتی ہے، امریکا ویتنام کی طرح ایران میں پھنس سکتا ہے، خلیجی ریاستیں جنگ ختم کرنے کے لیے امریکا پر دباؤ ڈالیں۔
اعزاز چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے اب تک بہت عمدہ سفارت کاری کی ہے، جنگ سے پہلے امریکا نے سفارت کاری صرف دکھاوے کے لیے کی تھی اور اس وقت مجھے سفارت کاری کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔
Source link
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Magazines1 week ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Business2 weeks ago
With presidential ordinance set to lapse, Senate passes bill for regulating virtual assets
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Magazines2 weeks ago
THE ICON INTERVIEW: THE FUTURE’S ALWAYS BRIGHT FOR HIM – Newspaper